نوکری کرنے والی عورتوں کا جہنم
ٹی وی پر ڈرامہ چل رہا تھا۔ جس میں نوکری کرنے والی لڑکی کا گھر اس لئے خراب ہوتا ہے کہ وہ اپنے کام میں کامیاب ہے مگر مصروفیات کے باعث گھر میں ”وقت“ نہیں دے پاتی۔ پھر ایک عام گھر کی لڑکی جو نوکری کرتی ہے مگر وہ اپنے منگیتر سے شادی دیر سے کرنا چاہ رہی ہے۔
”دیکھا، اپنی مرضی کرنے والی لڑکیوں کا انجام؟“
”ایسی لڑکیوں کو گھر میں باندھ کر رکھنا چاہیے“
”یہ نوکری کرنے سے ان لڑکیوں کے پر پرزے نکل آتے ہیں“
”منہ پر رکھ کر دو لگائی ہوں، ہاتھ پیر توڑ کر پھینکا ہو ایسی لڑکیوں کو“
”یہ مرضی کرنے والی لڑکیاں موقع ملنے پر مردوں کے ساتھ چپک جاتی ہیں“
ایسے کلمات اور اس سے بڑھ کر لڑکیوں کو گھروں میں تب سننے کو ملتے ہیں جب ٹی وی پر ایسا ویسا ڈرامہ چل رہا ہو جس کا مرکز عورت ہو۔
جیو کے ڈرامے جنت سے آگے میں بہت ہی میٹھے انداز میں بتایا جا رہا ہے کہ نوکری کرنے والی لڑکیاں اپنے گھر خراب کرتی ہیں، نوکری کرنے والی لڑکیاں ناخوش رہتی ہیں، نوکری کرنے والی اچھی بیویاں نہیں ہوتی، ان کے بچے ان سے پیار نہیں کرتے، ان کے شوہر مجبور ہو کر دوسری لڑکیوں سے مراسم قائم کرتے ہیں، اپنی مرضی کرنے والی لڑکیاں ہمیشہ غلط ہوتی ہیں۔
اس سوچ کی وجہ سے نوکری کرنے والی لڑکیوں کی زندگی میں جو مشکلات آتی ہیں، اس نقصان کا ازالہ یہی لڑکیاں عمر بھر چکاتی ہیں۔ اپنوں اور غیروں کی حقارت، طعنے، الزام، دوش، کڑوی باتیں انسانوں کے ساتھ ہمیشہ کے لئے چپک کر رہ جاتی ہیں۔ عورتوں کی زندگی گھر میں رہنے سے آسان ہوتی ہے نہ نوکری کرنے سے صرف مشکل، پدرشاہی کی مانگ جب تک عورتیں اور مرد بھرتے رہیں گے، کسی عورت، لڑکی، اور بچی کی زندگی ہرگز آسان نہیں ہوگی۔
شاید بہت سی عورتوں کی زندگی آسان ہو جائے جب ان کی مرضی کو ہدف بنا کر اخلاقیات اور فرمانبرداری کے نمونے کھڑے نہ کیے جائیں۔
کتنے مزے کی بات ہے نا خود دولت اور شہرت کمانے والی خاتون مصنفہ دوسری عورتوں کے دو پیسے کمانے پر بھی اخلاقی اعتراضات کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ ہر عورت گھر بیٹھ کر لکھ کر لاکھوں نہیں کما سکتی۔ ہر عورت گھر بیٹھ کر نوکری نہیں کر سکتی، ہر عورت کا طرز زندگی ان جیسا نہیں ہو سکتا ، ہر شعبے کی اپنی ضروریات اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ عورتیں اسکول کالج میں بھی پڑھاتی ہیں، اسپتال میں بھی علاج کرتی ہیں، دفتر میں استقبالیہ پر بھی بیٹھ کر باعزت روزگار کماتی ہیں، کمپیوٹر کے سامنے اور فون پر بیٹھ کر بھی اپنی آمدن کماتی ہیں۔ چاہے کوئی بھی کام ہو، لڑکی کو بدکردار نہیں بناتا، ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا، ہر کسی کے وسائل اور ذرائع ایک سے نہیں ہوتے، سب کی قسمت ان بڑے بڑے ڈرامے لکھنے اور تخلیق کرنے والوں کی سی نہیں ہوتی۔ اپنے وسائل اور ذرائع کے مطابق کیوں دوسروں کی زندگی کو نشانہ بنایا جائے؟
ہر لڑکی کی مرضی غلط نہیں ہو سکتی، نوکری کرنے والی لڑکیاں چور یا بدکردار نہیں ہوتی، نوکری کرنے والی لڑکیاں خراب بیویاں نہیں ہوتی، ان کے بچے ان سے نفرت نہیں کرتے، نوکری کرنے والے باپ سے بچے نفرت نہیں کرتے تو ماں سے بھی نہیں کر سکتے۔ نوکری کرنے والے مردوں کا گھر بس سکتا ہے تو عورتوں کا بھی بسا ہی رہتا ہے۔ کام کرنے سے لڑکی کے ”پر پرزے“ نہیں نکلتے، پیسہ کمانے والے ہر انسان کی وقعت بڑھ ہی جاتی ہے، مگر اکثریت میں پیسہ کمانے والی عورتوں کو بھی اپنے فیصلے کرنے کی آزادی نہیں ہوتی۔ پیسہ کمانے سے عورت کے پر پرزے اس کی کچھ چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں۔ خوشیوں کا تعلق بھی من پسند اخلاقیات سے جوڑنا ذاتی انا کے علاوہ کچھ نہیں، یہ ایسی دیوار ہے کہ اس کے پار دیکھا نہیں جا سکتا۔
ہر لڑکی کو فاروق نہیں ملتا، فاروق کوئی فرشتہ نہیں ہے، فاروق کے غلط کو بھی ایمان کا درجہ بنا کر پیش کرنا ایمان کے درجے سے گرنا ہی ہے۔ اکثر فاروق کو چابی پر چلنے والی تبسم چاہیے ہوتی ہے مگر عورت چابی سے چلنے والی گڑیا نہیں ہوتی۔ مردوں سے ان بن پر لڑکیاں ان پر جنسی ہراسانی کے الزام نہیں لگاتی، جنسی ہراسانی سہ کر بھی عورتیں چپ کر جاتی ہیں۔ مردوں کے ساتھ کام کرنے والی لڑکیاں ان مردوں کے ساتھ بھاگ کر نہیں جاتی، ان کے ساتھ خراب نہیں ہو جاتی، لڑکیاں دوسروں کی طرح ترسی ہوئی نہیں ہوتی کہ جو ملا اس کے ساتھ مراسم قائم کر لئے، اس کے ساتھ بے معنی تعلق بنا لیا مگر اپنی اخلاقیات کے اعلیٰ درجات تخلیق کرنے کی عار میں لڑکیوں کی مرضی، سوچ، خوابوں، اور صرف کامیاب ہونے کو مطعون اور رسوائی کا باعث نہیں قرار دے سکتے۔ صرف آپ کو کوئی سوچ بری لگتی ہو، اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کو اسی کا محبوس بنا دیا جائے۔
ہر انسان چاہے وہ کہیں بھی ہو، کیسا بھی ہو، نمازی ہو یا بے نمازی پریشان اور الجھنوں کا شکار ہے۔ گھر میں رہ کر گھر کا کام کرنے والی عورتیں بھی ناخوش اور آزردہ دل ہیں جتنی کام کرنے والی۔ نوکری کرنے والی عورتیں ہی نہیں مرد بھی پریشان ہیں۔ ہزاروں کام کرنے والی عورتوں کے لئے ان کا کام ان کے لئے ان تمام الجھنوں میں راہ نجات کا باعث بنتا ہے۔ جس عورت کے ہاتھ میں اس کے کمائے ہوئے پیسے ہوں، اس کے پاس تشدد اور ظلم سے فرار کا ایک راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور شاید یہ لوگ اس ایک راستے میں بھی دہشت گردوں کی طرح رکاوٹیں ڈالنے کی کوششوں میں ہیں۔ آپ خود اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں، آپ کے پاس مناسب آمدن کا ذریعہ ہو مگر آپ کی ایک خاص سوچ ہے جس کو اپنے فن کے ذریعے عام، شکستہ حال عورت پر لاگو کرنا لازم ہے کہ سماج میں ”اخلاق“ بنا رہے؟
ٹی وی پر دکھائے جانے والا یہ مواد ڈرامے کی آخری قسط پر ختم نہیں ہوا کرتا بلکہ اس کے دو رس نتائج انسانوں کو بھگتنا پڑتے ہیں، عورتوں کو ہدف بنانے والا تخلیقی مواد عورتوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کام کرنے والی لڑکیاں سارا سارا دن لگا کر اپنی محنت سے چند روپے کماتی ہیں، عزت بناتی ہیں، اپنے لئے کچھ کرنے کے لئے کوشاں رہتی ہیں۔ شوہروں کا دوسری عورتوں کے ساتھ مراسم قائم کرنے میں قصور نوکری کرنے والی عورتوں کا نہیں، دھوکہ دہی کرنے والے شوہروں کا ہوتا ہے۔ بیویوں کو شرم دلانے والے شوہروں کی دھوکہ دہی کو صرف چھپا ہی نہیں رہے بلکہ اس کو معمولی بھی بنا رہے ہیں۔
یہ ڈرامے عام گھروں میں دیکھے جاتے ہیں، ان کے نفسیاتی اور معاشرتی اثرات سب کے سامنے ہیں۔ عورتوں کے کام، آزادی، اور خواہشوں کو ہدف بنا کر ایسا مواد تخلیق کرنا ان عورتوں کے لئے زبانی اور جسمانی تشدد کا باعث بنتا ہے، اس بات کو ایسا مواد تخلیق کرنے والے تسلیم کریں یا نہ کریں، وہ اس تشدد اور ظلم میں اتنے ہی شریک ہیں جتنا تشدد کرنے والا۔ عورتیں نجانے کیسے کیسے غم پال کر جیتی ہیں، کتنے مظالم سہتی ہیں، گھر اور گھر سے باہر کتنے ہی گرم سرد تھپیڑے قبول کر کے، اپنی عزت اور ذات کی میت اٹھا کر چلتی ہیں۔
ان کے کردار پر شک کرنا بند کریں، ان کے روشن مستقبل کے خوابوں کی بتی نہ بجائیں، ان کے اشجار کی دھوپ اور پانی نہ بند کریں ورنہ آپ اور کسی بڑے سیاسی ظالم اور قابض میں کوئی فرق نہیں ہے۔ صرف سیاسی مغلوب کو ہی آزادی نہیں، ہر مغلوب اور غلام کو آزادی درکار ہے۔ یہ لوگ جنت کی آڑ میں عورتوں کی جہنم کھڑا کر رہے ہیں۔


