لاہور کا سقراط : ایک کتاب، ایک سفر


ستر کی دہائی میں جب میں لاہور کے قدیم علاقہ مزنگ کی ٹیڑھی میڑھی گلیوں اور بازاروں میں اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ مل کر کھیلنے کے لیے سگریٹ کی خالی ڈبیاں اکٹھا کرنے میں مگن ہوتا تھا۔ مجھے کہاں پتہ تھا کہ ان دنوں اسی شہر کے دانش کدوں، چائے خانوں اور ترقی پسندی کے مراکز پر لاہور کے سقراط علم و دانش، بیداری اور شعور کی کرنیں بانٹنے میں مصروف ہیں۔ وہ اپنے ہم نفسوں کو بامعنی سوچنے کے اور انسانی شخصیت میں در آنے والی توڑ پھوڑ پر نظر رکھنے کے مشورے دے رہے تھے۔

افتراق کی بنیادوں پر استوار تہذیب کو شکست دے کر ایک نئی انسانی تہذیب کی داغ بیل ڈالنے کی ضرورت پر زور دے رہے تھے کیوں کہ ان کے نزدیک موجودہ تہذیب اپنی رسومات و عقائد کے سبب بامعنی اور نئی گفتگو کو ہلاک کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اسی لیے وہ پکار رہے تھے کہ روایتی تہذیبی دیواروں کو توڑ کر نئے عہد میں داخل ہونا ضروری ہے۔ وہ کہہ رہے تھے :

ترقی پسند گفتگو کو چائے خانوں تک محدود نہ کرو۔ ان کی خوشبو کو آزاد کر دو اور ٹی ہاؤسوں کی دیواروں کو اتنا دور لے جاؤ کہ گھروں کے دیوان خانے اور خواب گاہیں اور دفتروں کی کال کوٹھڑیاں ان ہی دیواروں کی زد میں آجائیں۔ (شخصیت، ذات اور ادب۔ مقالہ از: عزیز الحق) ۔

جی، یہی تھے ”لاہور کے سقراط“ یعنی۔ ڈاکٹر عزیز الحق۔

عزیز الحق کو یہ خطاب اردو کے معروف ترقی پسند شاعر اور صحافی ظہیر کاشمیری نے اپنے ایک اخباری کالم میں دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان اخبار (روزنامہ) مساوات میں یہ کالم عزیز الحق کی ناگہانی موت کے حوالہ سے تحریر کیا گیا تھا۔

عزیز الحق کی افسوس ناک اور اچانک موت کے محرکات سے قطع نظر ان کی زندگی کے مختلف پہلووں پر غور کریں تو ہم پر واضح ہوجاتا ہے کہ یہ عظیم استاد، لکھاری، دانش ور اور فلسفی اپنی زندگی کے ابتدائی ایام ہی سے ایک انقلاب آفرین منزل کو پانے کا تہیہ کیے ہوئے تھے۔ اور دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ خود غرض قطعی نہیں تھے۔ وہ ذہنی آسودگی اور سماجی اور معاشی خوش حالی کی منزل کو اکیلے ہی نہیں پا لینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے اس تاریخی سفر میں سبھی کو اپنا ہم سفر بنانے کا خواب اپنی آنکھوں میں بسائے ہوئے تھے۔

خواب تو شاید ہم سبھی دیکھتے ہیں مگر ہمارے اور عزیز الحق کی خواب بینی میں واضح فرق ہے۔ اور وہ یہ کہ ہم تصوراتی یا تخلیاتی خواب دیکھتے ہیں جبکہ عزیزالحق عملی خواب دیکھنے کے عادی تھے ؛ ایسے خواب جو ابتدا ہی سے تعبیر کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتے ہیں۔ حتٰی کہ وہ تخلیق، مثال کے طور پر ، شاعری کے بارے میں بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ:

”شاعری خواب کا سا انداز کار اپنا کر ادب نہیں بن سکتی۔“ (خواب اور شاعری۔ مقالہ از عزیزالحق) ۔

گویا وہ معیاری ادب کو شعور کے میزان میں رکھ کر تولتے ہیں اور ادب کی وجودی تشریحات اور عملی کارگزاری اور اثرات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے قائل ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ادب برائے زندگی کے نظریہ کو ادب برائے ادب کے نقطہ نظر پر ترجیح دیتے ہیں۔

ان کی زندگی پر سرسری نگاہ کرنے اور ان کے مقالوں کا مطالعہ کرنے سے ہمیں بآسانی معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ ادب کو فکر سے مربوط کر کے دیکھتے ہیں اور فکر کو عمل کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ ان کی فکر ترقی پسند فلسفہ وجودیت پر استوار دکھائی دیتی ہے۔ وہ سماجی طبقات میں بٹے معاشروں کو ”ظالم اور مظلوم“ زندگیوں سے عبارت کر کے وسائل کی منصفانہ تقسیم یعنی مساوات کی بنیاد پر مثالی معاشرہ کی اساس رکھنے کے خواہاں ہیں۔ اور انفرادی کام یابی کے بجائے داخلی اور خارجی انقلابی عمل اور اجتماعی انسانی فتح کے علم بردار دکھائی دیتے ہیں۔ (مردہ معاشرے کی زندگی۔ مقالہ از:عزیز الحق) ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ یہ باشعور دانش ور معاشرے میں، اپنے اردگرد پھیلی ہوئی، لمحہ لمحہ بدلتی زندگی کی کشا کش کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے کہیں یونگ کے نفسیاتی دبستان کو متعارف کرواتے ہیں اور کہیں رسل کے ”فری تھاٹ“ کا حوالہ دیتے ہیں۔ کہیں کارل مارکس، جان ڈیوی، ارسطو، افلاطون، آئن سٹائن، اور برکلے کے افکار کا تجزیہ پیش کرتے ہیں اور ہر سچے فلسفی کو آزاد خیال قرار دیتے ہیں۔ (آزاد خیالی کیا ہے؟ مقالہ از: عزیزالحق) ۔

اب یہاں ایک اور دل چسپ امر میرے سامنے ہے۔
سنہ 1939 میں پیدا ہونے والے اس عظیم دانش ور اور فلسفی کے پچاسویں یوم وفات پر کینیڈا میں مقیم ایک خوش فکر اور حقیقی آزاد خیال، انسان دوست دانش ور اور لکھاری ڈاکٹر خالد سہیل نے مرحوم عزیزالحق کی باشعور اور ہنر آشنا صاحب زادی عظمیٰ عزیز صاحبہ کے اشتراک سے ایک قابل توجہ کتاب شائع کی ہے۔ جس کا نام انھوں نے رکھا ہے :

عزیزالحق۔ لاہور کا سقراط۔

سرورق پر عزیز الحق کا نام شفاف سفیدی سے نمایاں ہے جبکہ لاہور کا سقراط کے الفاظ سرخی سے دمک رہے ہیں۔ سرخ رنگ جو خون ناحق کا اعلان بھی کرتا ہے اور عزیز صاحب کے سیاسی و فکری رخ کا اظہار بھی۔

سنہ 2022 میں گرین زون پبلیکیشن کی طرف سے اشاعت پذیر ہونے والی اس اہم کتاب کا یہ بامعنی سرورق معروف آرٹسٹ شاہد شفیق نے بنایا ہے جس پر اوپر کی طرف عزیز الحق صاحب کی تصویر چمک رہی ہے اور نیچے بائیں کونے میں مرتب جوڑے یعنی ڈاکٹر خالد سہیل اور عظمٰی عزیز کی تصاویر آویزاں ہیں۔ پس منظر میں شہر لاہور کے تاریخی جھروکے بھی روشن ہیں اور پھر ڈھلکا ہوا ایک جام بھی جو سقراط کی علامت کو واضح کرتا ہے۔

جہاں تک عزیز الحق صاحب کے حرف و فکر سے میری آشنائی کا تعلق ہے یہ چند برس پہلے کی بات ہے جب انٹرنیٹ پر ان کے مضامین ایک ویب سائٹ کی وساطت سے میری نظر سے گزرے مگر اس نابغہ روزگار مفکر سے قدرے تفصیلی تعارف مجھے زیر نظر کتاب ہی کے مطالعہ سے نصیب ہوا۔

کتاب کیا ہے، ایک گل دستہ ہے فکر کی خوشبو میں ڈوبا ہوا اور محبت کے رنگوں سے دمکتا ہوا۔ جس میں ایک طرف ادبی خطوط کے پھول مہک رہے ہیں اور دوسری طرف سوچ کی کلیاں مسکرا رہی ہیں۔ ایک جانب اردو تحریریں جلوہ نما ہیں اور دوسری طرف انگریزی مضامین دعوت مطالعہ دے رہے ہیں۔ نایاب تصاویر کا خزانہ اس پر مستزاد۔

کتاب مرتبین کی تحریروں تک ہی محدود نہیں۔ اس میں ہمیں عزیز صاحب کے بھائی انوارالحق کی یادیں بھی ملتی ہیں اور فیاض باقر کا مکتوب بھی۔ ہارون الرشید اورکزئی کے مشاہدات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں اور ہمراز احسن کا اقتباس بھی۔

یہ کتاب اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں ذاتی، خانگی، سماجی، نفسیاتی، انفرادی اور اجتماعی، غرض ہر رخ اور پر پہلو سے تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور محض یادیں ہی سانجھی نہیں کی گئیں بلکہ زندگی کی طرح صفحہ صفحہ اور قدم قدم ایک فکری ارتقا کی صورت پذیری بھی ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اور ان جذبات و احساسات کو کسی ملمع کاری اور تصنع کے بغیر نہایت دیانت داری سے ہمارے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ قبولیت کا جبر نافذ کیے بغیر اور رد سے اظہار ناپسندیدگی کیے بغیر۔

یوں تو یہ کتاب ہم پر ڈاکٹر عزیز الحق کی شخصیت اور فکر و فلسفہ کے در بھی وا کرتی ہے اور ڈاکٹر خالد سہیل کی فکر و دانش کے دریچے بھی کھولتی ہے مگر اس کی ایک منفرد جہت یہ ہے کہ یہ تالیف عظمیٰ عزیز صاحبہ کی شخصیت اور سوچ کے تدریجی ارتقا کی بھی زندہ داستان ہمیں سناتی ہے۔ ان کا سفر طبعی جھجک سے آغاز ہوتا ہے اور ادبی خطوط کے مکالمہ سے گزرتا ہوا زندگی کی مقصدیت پر انجام پذیر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل کے ساتھ ان کا یہ فکری سفر تاب دار بھی ہے اور فکر آفرین بھی۔

جس کے دوران میں قدم قدم ان کی زندگی، ان کے والد کی جھلکیاں، والدہ کی یادیں، حالات و خیالات میں رد و قبول کے مراحل، عزیز صاحب کا فلسفہ حیات، ان کے دوست، ان کی زندگی اور ان کی موت سبھی منظر ابھرتے ڈوبتے دکھائی دیتے ہیں اور دو صاحبان نظر کے اس مکتوباتی مکالمہ میں ہم ایک عہد کی داخلی اور خارجی تصویر دیکھ لیتے ہیں۔

یہ کتاب مجھے ایسا آئینہ لگتی ہے جس میں ہم ایک صاحب نظر کی عمیق فکر اور ایک سراپا اخلاص بیٹی کی آنکھ کے فاصلاتی لینز سے زندگی کے رنگا رنگ عکس دیکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہ عکس کہیں ہمیں عزیز الحق کا زمانہ دکھاتے ہیں اور کہیں ہمارا دور۔ کبھی ہم خود کو ان دنوں کے بہت قریب دیکھتے اور کبھی بہت دور۔ ایک سفر ہے، زندگی کی طرح رواں دواں۔ سوچنے پر مجبور کرتا ہوا، طمانیت دیتا ہوا، اداس کرتا ہوا، ٹھہرنے کا اشارہ دیتا ہوا۔ چلنے پر آمادہ کرتا ہوا۔

یہ کتاب، میرے نزدیک، فاصلوں کو مٹانے والی تصنیف ہے۔

ویسے بھی زندگی اور کتاب میں فاصلہ ہی کتنا ہوتا ہے! ؟ شاید اتنا ہی جتنا ایتھنز کے سقراط اور لاہور کے سقراط میں ہے۔ دیکھیں تو صدیوں کی دوری اور سوچیں تو بس دو قدم یا شاید اس سے بھی کم۔ ساری بات احساس کی ہے۔ محترم بدھا بھی تو فرما گئے ہیں :

”فاصلہ میلوں سے نہیں بلکہ مسافر کی تھکن سے ماپا جاتا ہے۔“

Facebook Comments HS