دہشت گردی کی یلغار: کتنی آنکھوں کے دیے بجھ گئے ہنستے روتے


ہم اس حقیقت سے کتنی بھی آنکھیں چرائیں مگر یہ بات سچ ہے کہ وطن عزیز میں ایک بار پھر تعزیتوں کا موسم لوٹ آ یا ہے۔ کوئی ایک واقعہ ہو تو اس پر خاموش رہا جا سکتا ہے لیکن اب تو واقعات کا تسلسل ہمیں چین سے سونے نہیں دے رہا۔ چند سال پیشتر ہم سمجھ رہے تھے کہ دشمن کی کمر ٹوٹ چکی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس گواہی دے رہے ہیں اور خدشات، خطرات کا روپ دھار چکے ہیں۔

ہم اس مقام پر کیسے پہنچے یہ ایک لمبی داستان ہے۔ ضیاء الحق کے افغان جہاد کو یاد کریں یا افغانستان میں عالمی برادری کا ساتھ دینے کا تذکرہ کریں، طالبان کو بھائی قرار دینے والوں کو الزام دیں یا انہیں دفاتر کی سہولت مہیا کرنے والوں کا گریبان پکڑیں۔ اپنی سپاہ کی بے حرمتی کا ماتم کریں یا حکومتوں کی بے حسی کا رونا روئیں۔ اپنی ناقص خارجہ پالیسی پر نظر ڈالیں یا ”ڈومور“ کے نقصانات حساب کتاب کریں، بہر صورت اب اس حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں، کہ دہشت گردی کے واقعات کسی ایک صوبے فرقے یا فرد تک محدود نہیں رہے۔ وفاقی دارالحکومت سے صوبائی دارالحکومت تک، ائرپورٹ سے ائر بیس تک، پولیس سے فوج کے جوانوں تک سب ہی نشانے پر ہیں۔

ماضی میں رد الفساد سے ضرب عضب تک کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ وہ کامیابیاں عارضی تھیں۔ دہشت گردی کا ناگ پھر پھنکار رہا ہے۔ اب تدبیر اور حکمت کا ہنر اور بروقت فیصلہ ہی اس گرداب سے نکال سکتا ہے۔ نفرتوں کے لاوے کو یک جان ہو کر ضرب کاری سے شکست دینی ہوگی، تاکہ یہ ملک امن کا گہوارہ بن سکے۔

تربت بلوچستان میں، مقتول مزدوروں کا کفن ابھی میلا نہیں ہوا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 2 بم دھماکوں میں 6 افراد شہید جبکہ اہلکاروں سمیت 21 افراد زخمی ہوئے، ابھی قوم آنسو پونچھ رہی تھی کہ پسنی میں دہشت گردوں کے حملے میں 14 فوجی جوان شہید ہو گئے۔ قوم اس صدمے سے نکلی نہ تھی کہ دہشت گردوں نے پاکستان ائر فورس کے میانوالی ٹریننگ ائر بیس پر حملہ کر دیا، خدا کا شکر ہے کہ پاک فوج کی بروقت کارروائی سے یہ حملہ ناکام ہوا اور تمام دہشت گرد مارے گئے۔

گزشتہ دنوں بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے جنوری سے اب تک 24 خودکش حملوں میں سے 14 میں افغان باشندے ملوث تھے۔ عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں 4 لاکھ افغانیوں اور بنگالیوں کو شناختی کارڈ بنا کر دینے کا اعلان کیا ایسے فیصلوں سے ہی ملک میں دہشت گردی کے خطرات بڑھے۔ ان میں سے بیشتر افغان مہاجرین کے دہشت گرد تنظیموں سے روابط کے خدشات ہیں۔ محب وطن حلقوں نے سابقہ دور میں بارہا اس طرف توجہ دلائی کہ امریکی فوج کا چھوڑا ہوا اسلحہ بھی افغانوں کے ہاتھ آیا ہے لہٰذا بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے مگر ان باتوں پر توجہ نہ دی گئی اور آج نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں دہشت گردوں کے حملوں کی تعداد نو سال کے دوران سب سے زیادہ رہی۔ رپورٹ کے مطابق نومبر 2014 ء کے بعد ملک میں ایک مہینے میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ 99 حملے ہوئے۔ عام انتخابات کی تاریخ سامنے آنے کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم شروع کرنے والی ہیں۔ سکیورٹی خطرات کے پیش نظر مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اگرچہ وقت کی ضرورت تھا مگر اس منصوبے پر مرحلہ وار بھی کام کیا جا سکتا تھا جہاں چالیس برس صبر کیا گیا وہاں کچھ عرصہ مزید صبر کر لیا جاتا، تاکہ سکیورٹی اداروں کی تمام تر توجہ عام انتخابات پر مرکوز ہوتی۔ اب کئی محاذ کھل گئے ہیں جن پر قابو پانا سکیورٹی اداروں کے لئے چیلنج ہو گا۔

افغانستان کے وزیر اعظم ملاحسن اخوند نے پاکستان سے افغان مہاجرین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ اگر پاکستان کو افغان حکومت سے شکایات ہیں تو انہیں باہمی مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کرتے ہیں۔ ہماری دانست میں یہ بہترین موقع ہے کہ مہاجرین کی واپسی کا عمل روکے بغیر افغانستان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دیا جائے۔

خطے کے ’امن عمل‘ میں رکاوٹیں ڈالنے کی سازشوں میں بھارت ملوث ہے جو اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کی ناکامی پر سخت اضطراب کا شکار ہے۔ امریکہ، بھارت اور ان کے اتحادیوں میں اقتصادی راہداری کی تعمیر اور گوادر بندرگاہ معاہدوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔ اسی لیے مغربی باڈر کے راستے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا کے عروج نے معلومات کی ترسیل کے منظر نامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ ایک طرف اگر اس نے آزادانہ اظہار اور فعالیت کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں، تو دوسری جانب بدنیتی پر مبنی کرداروں کو پروپیگنڈا، غلط معلومات اور نفرت پھیلانے کا ایک طاقتور ذریعہ بھی فراہم کیا ہے۔ ان مہمات میں اکثر جھوٹی داستانیں، جعلی خبریں، اور آگ بھڑکانے والا مواد شامل ہوتا ہے، جس کا مقصد بداعتمادی اور اختلاف پیدا کرنا ہوتا ہے۔ انتہا پسند گروہوں اور افراد اپنے نظریات کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سیاسی تناؤ کے دور میں، سوشل میڈیا کو اکثر تنازعات بڑھانے اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تفرقہ انگیز بیانیہ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت اور افغانستان کی جانب سے پاکستان کے بارے میں منفی تاثر کو فروغ دینے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال پیچیدہ جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں ایک تشویشناک پیش رفت ہے۔ اس کی ایک مثال بھارت اور افغانستان کی جانب سے مبینہ طور پرایک سوشل میڈیا سائیٹ ”المرصاد“ ہے جو بین الاقوامی میدان میں پاکستان کی منفی شبیہ پھیلا، نے میں مصروف ہے۔

یہ ادارہ وسیع نیٹ ورک کا حامل، اردو، پشتو، عربی اور انگریزی سمیت متعدد زبانوں میں مواد نشر کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس نے افغان مہاجرین کو نکالنے کے پاکستانی فیصلے کے خلاف عالمی برادری سے ہمدردی کے حصول پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ ”المرصاد،“ کو مبینہ طور پر بھارتی حکومت خصوصاً بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (RAW) سے، 20 لاکھ افغانی روپے کا مسلسل بجٹ فراہم ہو رہا ہے۔ ”المرصاد“ بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے گمراہ کن بیانیے بنا کر پاکستان کے عالمی امیج کو خراب کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا مہمات روکنے کے لیے ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ فعال اقدامات کرے۔

امریکی انخلاء کے بعد خیال تھا کہ طالبان حکومت میں افغانستان سے بھارت کا اثر و نفوذ ختم ہو جائے گا، مگر اس کے درجنوں قونصل خانے اب بھی پاک افغان سرحدی علاقوں میں سرگرم ہیں۔ طالبان کا موقف ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے وہ خود اس سے نمٹے۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر نئے چیلنجز کا باعث بن رہی ہے، اس کے لئے ضروری ہے، کہ ڈائیلاگ کا اہتمام کر کے قومی اتفاق رائے قائم کیا جائے تاکہ پاک فوج اور عوام شانہ بشانہ ہوں، دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے ضرب عضب کی طرح ایک اور آ ہنی آپریشن کرنا آسان ہو۔ اور دہشت گردی کی وجہ سے باہمی منافرت، تصادم، بے حسی، حیوانیت، بے بسی، محرومی اور احساس کمتری کا خاتمہ ہو۔ آنکھوں کے دیے بجھیں اور نہ تمناؤں کے پیکر ٹوٹیں۔

Facebook Comments HS