سندھ کی سیاسی انگڑائی۔۔۔


شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری میں گوندھی ہوئی سندھ دھرتی سراپا سحر ہے، یہاں قدم رکھیں تو یوں لگے جیسے آپ کسی خانقاہ کی روح میں اترتے چلے جا رہے ہیں، جیسے ایک تسکین بخش گہرائی ہو جس میں انسان اپنے تمام احساسات کے ساتھ چلا جا رہا ہو، صوفی ازم، نیشنل ازم اور وفاقیت کا حسین امتزاج لیے سندھ وسیع کائنات ہے، عاجزی یہاں کے مزاجوں کا خاصہ ہے، جو صدیوں سے موجود صوفی ازم سے مستعار ہے۔

یہاں سسی ہے، یہاں سچل ہے، یہاں کی فضا محبت کے نغموں سے معمور ہے اور مٹی سے وفا کی بھینی بھینی خوشبو پھوٹتی ہے۔

مگر صوفی ازم، شاعری اور مہر و وفا کی اس دھرتی کو سیاسی دیمک چاٹ گئی ہے، سیاسی نعروں کی چاشنی کو جاگیردارانہ نظام میں گھول گھول کر معصوم لوگوں کو پلایا گیا ہے جس کا خمار دہائیوں بعد بھی اترتا نہیں ہے۔

سندھ کی سیاست کا ذکر بھٹو کے بغیر ادھورا ہے، بھٹو کی سیاست اگرچہ پورے ملک پر اثر انداز تھی اور اس نے ہر قوم اور ہر صوبے پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے تاہم سندھ ہی بھٹو کی پہچان رہا، اور دور حاضر میں اس کے پیروکاروں نے سندھ میں اسے زندہ رکھا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد ملک میں کوئی آئین نہیں تھا، لیاقت علی خان کی ہلاکت کے بعد 1958 تک وزرا عظمی کی مسند پر بیٹھنے والوں کی لائن لگ گئی، جسے بالآخر جنرل ایوب نے 1958 کو مارشل لا لگا کر ختم کر دیا، جنرل ایوب خان نے اپنے لیے جو کابینہ چنا ذوالفقار علی بھٹو بطور وزیر تجارت اس کابینہ کا حصہ بنے، 1966 کو جب بھٹو نے ایوب خان سے راہیں جدا کیں تو اس وقت وہ وزیر خارجہ کے منصب پر فائز تھے، بھٹو 1967 کو پاکستان پیپلز پارٹی بنا کر روٹی کپڑا اور مکان کے دلکش نعرے کے ساتھ عوامی سیاست کے میدان میں اترے، اور ساتھ اسلامی سوشلزم کا تصور بھی پیش کرتے رہے۔

سندھ میں جی ایم سید کے نیشنلزم کے فلسفے کو بھی بہت پذیرائی ملی، جی ایم سید ایک دانشور، اور فلسفی تھے اور صوفی ازم اس کے مکتب کی شناخت تھا، معیشت میں مارکسزم اور سیاست میں گاندھی کے فلسفہ عدم تشدد کے قائل جی ایم سید نے سندھو دیش کا تصور ہیش کیا، مگر جس دور میں جی ایم سید نے سندھو دیش کا فلسفہ دیا اس وقت تک بھٹو کا سحر قائم ہو چکا تھا، بھٹو وفاقیت کی علامت اور جی ایم سید علیحدہ سندھ کے استعارے تھے، بھٹو کا جادو جی ایم سید کے فلسفے کو کھا گیا، نہ صرف جی ایم سید بلکہ بھٹو کی اٹھان نے سندھ میں نیشنلزم کو عملی سیاست سے دیس نکالا کیا، جی ایم سید کے علاوہ رسول بخش پلیجو نے بھی سندھی نیشنلزم کی بنیاد پر سیاسی جدوجہد کی، قومی عوامی تحریک کے نام پر سیاسی جماعت بنا کر سندھ میں قوم پرستی کی سیاست کی احیا کی جدوجہد میں مصروف رہے، لیکن ان سب کے سامنے قدآور بھٹو کھڑا تھا اور بھٹو سے گزر کر آگے جانا کسی کے لیے ممکن نہیں رہا، جی ایم سید ہوں یا رسول بخش پلیجو ان کے فلسفے یا تو کتابوں میں رہے، یا ان کے پیروکاروں کے اذہان تک محدود رہے، عوامی پذیرائی حاصل نہ کرسکے۔

بھٹو نہ ہوتے تو اس وقت سندھ نیشنلزم کی سیاست کا گڑھ ہوتا اور جی ایم سید کا فلسفہ ہر سینے پر نقش ہوتا۔

بھٹو بہت بڑے لیڈر تھے، قومی سطح کے راہنما تھے، ذہین سیاستدان تھے، ملک بھر کو چھوڑیں سوال یہ ہے کہ جس سندھ نے خود کو بھٹو پر نچھاور کر دیا، بھٹو کی ذہانت، لیڈرشپ اور ان کے فلسفہ سیاست نے عام سندھی کو کیا دیا، 1970 سے لے کر اب تک فلسفہ بھٹو نے ایک عام ہاری کی زندگی میں کیا تبدیلی رونما کی، بھٹو فکری طور پر سوشلسٹ تھے، لیکن اس کے دور میں اور آج تک سندھ میں فیوڈلزم کی سیاست مضبوط ہوئی ہے، بھٹو کے جوشیلے خطابات نے عام لوگوں کو متاثر کیا لیکن عام لوگ اس کی سیاست کے وارث نہ بن سکے، آج بھی پیپلز پارٹی کی سیاست جاگیردار کی حویلی کے گرد گھومتی ہے۔

اندرون سندھ میں پیپلز پارٹی کی سیاست کو چیلنج کرنے کی بہت کوشش کی گئی، جو اب تک کامیاب نہ ہو سکی ہے، قوم پرستانہ سیاست سے لے کر ممتاز بھٹو تک اور سیاسی اتحادوں سے لے کر پیر پگارو تک، بہت ساری کوششیں کی گئیں لیکن بھٹو کے بعد بے نظیر کے سیاسی قد نے پیپلز پارٹی اور فلسفہ بھٹو کو زندہ کیے رکھا، بھٹو کی پھانسی و آمریت کے جبر کے مقابلے نے بھی پیپلز پارٹی کو سہارا دیا، محترمہ کے بعد پنجاب سے پیپلز پارٹی عملاً ختم ہو چکی ہے اور سندھ میں بھی سرگوشیاں شروع ہو گئی ہیں، پیپلز پارٹی کی بقا کی وجہ یہ ہے کہ اب تک اندرون سندھ میں ایسی کوئی قوت ابھر کر سامنے نہیں آ سکی ہے جو پیپلز پارٹی کے لیے عملاً سیاسی چیلنج بن سکے۔

اندرون سندھ کی سیاست میں اس وقت اگر کوئی جماعت متحرک ہے تو وہ جمعیت علما اسلام ہے، سندھ میں جمعیت علما کی سیاسی قیادت جواں عزم مولانا راشد سومرو کے ہاتھ میں ہے، چند دن قبل سندھ امن مارچ کے عنوان سے سندھ کے درجنوں شہروں سے ہوتے ہوئے یہ قافلہ کراچی پہنچا اور وہاں طوفان اقصی کے نام پر تاریخی کانفرنس ہوئی، سندھ امن مارچ کا دورانیہ کم و بیش دو ہفتہ رہا، سندھ کی جاگیردارانہ سیاست میں اس طرح کی کامیاب سیاسی سرگرمیاں کرنا اور ان میں عام لوگوں کی شمولیت کو سندھ کی نئی سیاسی انگڑائی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، مولانا راشد سومرو گزشتہ ایک عشرے سے سندھ کی سیاست کا حصہ ہیں جبکہ چار پانچ سالوں میں وہ سندھ کی سیاسی فضا پر چھائے ہوئے ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں بھی جمعیت علما اسلام پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابی اتحاد کا حصہ بنی تھی، لیکن اس بار ماحول ماضی کے برعکس بہت زیادہ بہتر ہے اور گزشتہ پانچ سال میں جے یو آئی نے اندرون سندھ کی سیاست میں کامیاب عوامی انٹری کی ہے۔

پیپلز پارٹی جو برسوں اقتدار پر براجمان رہی ہے، اس کے پاس بے شمار وسائل ہیں، انتخابات میں وہ ان وسائل کا بے دریغ استعمال کرے گی، پی پی کے پاس پیسہ ہے، تعلقات ہیں، دھونس دھمکیاں ہیں، خوف و ہراس ہے، ان سب کا استعمال کر کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے، سندھ کی سیاست کو اب متبادل قیادت کی ضرورت ہے، فلسفہ بھٹو اپنی طبعی عمر پوری کرچکا ہے، جمعیت علما اسلام بہترین نعم البدل ہو سکتی ہے، مولانا راشد سومرو متبادل قیادت بن کر ابھر سکتے ہیں، بلکہ ابھر رہے ہیں۔

یوں بھی نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی کے قلعے پر جلدی شگاف ڈالا جا سکے گا اور عشروں پر محیط جاگیردارانہ سیاست کی نفسیات پر چند سالوں کی جدوجہد سے نقب لگائی جا سکے گی، عام لوگوں کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے کہ ہم ان قوتوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں اس کے لیے جہد مسلسل کی ضرورت ہے، سندھ امن مارچ بہت بڑی سیاسی سرگرمی ہے، یہ عام لوگوں کا مارچ تھا، جس میں سندھ کے لیے نیا بیانیہ تشکیل دیا گیا ہے، سندھ کو نئے بیانیے کی ضرورت ہے، ایسا بیانیہ جس کے فریم ورک میں عام ہاری کا مسکراتا چہرہ نظر آئے، آنے والے انتخابات میں اگر موثر الائنس بن جائے اور یہ چند نشستیں نکالنے میں کامیاب ہو سکے تو سمجھ لیں کہ سندھ کے گونگے پن کو زبان مل گئی ہے اور صحرا سندھ کی سکوت میں پہلی صدا کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

 

Facebook Comments HS