ناول ”جین آئر“ کا تعارف و جائزہ


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

بین الاقوامی کلاسیکی ادب میں ایسے بے شمار ادیب موجود ہیں جو ابھی تک لوگوں کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک شارلٹ برانٹے بھی ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں اور جن کے قلم نے ایسے متاثر کن کام کو تخلیق کیا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ ابھی تک قارئین کے اعصاب پر چھائی ہوئی ہیں۔ ناول نگار و شاعرہ شارلٹ برانٹے ( 21 اپریل 1816۔ 31 مارچ 1855 ) وکٹورین دورحکومت میں یارک شائر شمالی انگلستان میں پیدا ہوئیں۔ والد کا نام پیٹرک برانٹے تھا جو ایک پادری تھے اور والدہ کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ برانٹے سسٹرز تین بہنیں تھیں تینوں ہی لکھتی تھی اور شارلٹ برانٹے سب سے بڑی تھیں۔

’جین آئر‘ شارلٹ برانٹے کا ایسا شاہکار ناول ہے جس نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ شارلٹ برانٹے کی کہانیاں حقیقت نگاری پر مبنی ہیں جن کے ذریعے انیسویں صدی کے انگلستانی معاشرے کی زبردست عکاسی کی گئی ہے۔ شارلٹ برانٹے کا اسلوب سادہ اور دل چسپ ہے جو متاثرکن احساسات کا اظہاریہ ہے۔ وہ مضبوط کردار تخلیق کرتی ہے اور روزمرہ زندگی میں محبت، انصاف، جنسی تحمل اور دیگر معاشرتی مسائل کو موضوع بناتی ہے۔

شارلٹ برانٹے نے ’جین آئر‘ کے علاوہ ’شرلی‘ ، ’ویلیٹ‘ ، ’دی پروفیسر‘ جیسے ناول بھی تحریر کیے۔ اس کے علاوہ ان کا آخری ناول ’ایما‘ ان کی وفات کی وجہ سے مکمل نہ ہو سکا۔ جین آئر کو اردو میں ڈھالنے کے فرائض اردو کے معروف ادیب و مترجم سیف الدین حسام نے ادا کیے ہیں۔ شارلٹ برانٹے نے جس معیار کا لکھا ہے سیف الدین حسام نے بھی ترجمہ کرتے وقت اس میں کوئی کمی نہیں ہونے دی۔

جین آئر پہلی بار 1847 میں انگریزی زبان میں مصنفہ شارلٹ برانٹے کے اصل نام کے بجائے ’کربیل‘ کے قلمی نام سے لندن سے شائع ہوا۔ یہ آٹو بائیو گرافی ناول ہے۔ اس کی کہانی دل چسپ ہے جو ایک ایسی نوجوان لڑکی کی زندگی کی داستان ہے جو اپنے بے خوف کردار کی وجہ سے اپنے حالات بدلنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ناول کا انداز تحریر بیانیہ ہے۔ جین آئر دس سالہ یتیم لڑکی ہے جس کے والدین اس وقت وبا کی وجہ سے وفات پا جاتے ہیں جب وہ ایک سال کی عمر کو پہنچتی ہے۔

اس کا ماموں اسے گود لے لیتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد ماموں بھی انتقال پا جاتا ہے تو اس کی ذمے داری ممانی کے کندھوں پر آ جاتی ہے۔ ممانی اس سے نفرت کرتی ہے اور اس کے کزن بھی اس کے ساتھ کوئی مناسب رویہ نہیں رکھتے۔ ممانی اسے دور دراز قصبے کے ایک خیراتی اسکول میں داخل کروا دیتی ہے۔ وہ وہاں سے تعلیم حاصل کرتی ہے اور پھر وہیں استانی بھرتی ہو جاتی ہے۔ وہ بچپن سے ہی لوگوں کی نفرت کا مقابلہ کرنا سیکھتی ہے جس کی وجہ سے وہ دماغی طور پر مضبوط اور با اعتماد شخصیت کی مالکہ بن جاتی ہے۔

کچھ عرصہ اسکول میں پڑھانے کے بعد جین آئر کو ایک دوسرے قصبے میں مسٹر روچیسٹر کی جاگیر پر گورننس کی نوکری مل جاتی ہے۔ روچیسٹر 40 سالہ امیر، پرجوش اور نک چڑھا شخص ہے۔ جین آئر اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ روچیسٹر بھی اس کی شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا اور اس سے پیار کرنے لگتا ہے۔ پھر شادی کا دن مقرر ہوتا ہے، وہ چرچ پہنچتے ہیں تو جین کو انکشاف ہوتا ہے کہ روچیسٹر پہلے سے ہی شادی شدہ ہے اور اس نے گھر کی تیسری منزل پر اپنی پہلی بیوی کو قید کر رکھا ہے۔

جین کا دل ٹوٹ جاتا ہے اور ایک دن وہ موقع پا کر شکستہ دل کے ساتھ وہاں سے فرار ہو جاتی ہے۔ وہ دور کسی قصبے میں پناہ گزین ہو جاتی ہے۔ پھر اچانک انکشاف ہوتا ہے کہ جس گھر میں وہ رہتی ہے وہ اس کے کزنوں کا ہے۔ وہ دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔ بھائی کا نام سینٹ جان ہے اور بہنوں کے نام ڈائنا اور میریا ہے۔ اسی قصبے میں جین کو خوش خبری ملتی ہے کہ اس کے چچا مرتے وقت اپنی تمام تر دولت اس کے نام پر منتقل کر گئے ہیں۔

اس کا کزن سینٹ جان جین آئر سے اس کا ہاتھ مانگ لیتا ہے۔ وہ وقتی طور پر راضی ہو بھی جاتی ہے لیکن اس کے دل میں ابھی بھی روچیسٹر بسا ہوا ہے۔ وہ روچیسٹر کی طرف نکل کھڑی ہوتی ہے لیکن وہ وہاں پہنچتی ہے تو شدید مایوس ہوتی ہے کیوں کہ روچیسٹر کا وہ عالی شان گھر جل چکا ہوتا ہے۔ لیکن کسی ذرائع سے وہ یہ جان جاتی ہے کہ روچیسٹر اس حادثے میں زندہ بچ گیا ہے۔ بالآخر وہ اسے ڈھونڈ لیتی ہے لیکن وہ اب اندھا ہو چکا ہے اور ایک بازو سے محروم بھی۔ وہ ان معذوریوں کے باوجود اسے اپنا لیتی ہے۔

ناول کا خلاصہ جتنی سادگی سے بیان کیا گیا ہے کہانی اتنی سادہ نہیں بلکہ اس میں کافی اتار چڑھاؤ موجود ہیں جو دل چسپی سے بھرپور ہیں۔ ناول کی ضخامت معمول سے زیادہ ہے لیکن اس میں ایک بھی ایسی سطر موجود نہیں ہے جسے اس تحریر میں فضول تصور کیا جا سکے۔ ناول کے پلاٹ کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ جین آئر کے ماموں کی جاگیر گیٹ شیڈ پر مبنی ہے جہاں وہ اپنا بچپن گزارتی ہے۔ دوسرا حصہ خیراتی اسکول سے متعلق ہے جہاں وہ تعلیم حاصل کرتی ہے اور استانی بھرتی ہو جاتی ہے۔

تیسرا حصہ روچیسٹر کی جاگیر تھارن فیلڈ کے گرد گھومتا ہے جہاں جین گورننس بن کر جاتی ہے اور روچیسٹر کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ چوتھا حصہ قصبہ مور ہیڈ کے بارے میں ہے جہاں وہ روچیسٹر کو چھوڑ کر جاتی ہے اور اس کی ملاقات اپنے کزنوں سے ہوتی ہے۔ پلاٹ کا پانچواں حصہ فرنڈین جنگل کے اس شکاری گھر کے بارے میں ہے جو روچیسٹر کے باپ نے شکار کی غرض سے تعمیر کروایا تھا اور گھر کے جل جانے کے بعد روچیسٹر وہاں منتقل ہو جاتا ہے۔

ناول کے تمام کردار اہم ہیں لیکن یہاں ہم صرف ان تین کرداروں کے بارے میں بات کریں گے جو اہم ترین ہیں۔ شارلٹ برانٹے نے جین آئر کا کردار غیر روایتی طریقے سے تخلیق کیا ہے جو کہ انیسویں صدی کے انگلستان میں دیہی زندگی میں پنپتا ہوا نسوانی کردار ہے۔ یہ کردار آزاد اور خود مختار ہے جس نے برے سے برے حالات اور مشکلات میں بھی اپنے آپ کو سنبھالے رکھا ہے اور مضبوطی سے معاشرتی اصولوں پر قابو پایا ہے۔ جین آئر سادہ سی لڑکی ہے جو زیادہ خوب صورت بھی نہیں لیکن جو کوئی اس سے گفتگو کرتا ہے وہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا۔

کہانی کا دوسرا اہم کردار روچیسٹر ہے۔ روچیسٹر امیر زادہ، خود پرست اور ضدی کردار کا مالک ہے۔ وہ آوارہ مزاج ہے اور غیر ذمہ دار بھی۔ لیکن جب جین آئر سے متاثر ہو کر اس سے محبت کر بیٹھتا ہے تو عشق کی شدت میں آخر تک کمی نہیں آتی۔ اس سے پہلے وہ ملکوں ملکوں گھوما ہے اور کئی لڑکیوں سے بھی ملا ہے لیکن وہ کسی سے بھی محبت نہیں کر پاتا لیکن جین آئر اس کی زندگی میں آتی ہے تو وہ شکست کھا جاتا ہے۔

تیسرا اہم کردار جین آئر کے کزن سینٹ جان کا ہے جو پیشے کے لحاظ سے پادری ہے۔ وہ بھی جین آئر کو دل دے بیٹھتا ہے اور اس سے شادی کر کے تبلیغ  کی غرض سے اسے اپنے ساتھ ہندوستان لے جانا چاہتا ہے۔ وہ مذہبی اور اپنے عقائد کا پکا ہے اور پرعزم بھی۔ اس نے منزل کا تعین کر رکھا ہے اور وہ ہر حال میں وہ مقام پانا چاہتا ہے اور آخر کار وہ ہندوستان پہنچ بھی جاتا ہے اور تبلیغ کرتے ہوئے زندگی بتا دیتا ہے۔

ایک بہترین ناول کے لیے جو منصوبہ بندی اور لوازمات درکار ہوتے ہیں وہ تمام تر اس میں موجود ہیں۔ شروع سے آخر تک کہانی قاری کو اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے جس میں دل چسپی کا عنصر برقرار رہتا ہے۔ مصنفہ نے اس پر کسی بھی لمحے گرفت ڈھیلی نہیں پڑنے دی۔ اس کا پلاٹ، کہانی اور کرداروں میں بہترین ربط موجود ہے اور مکالمے ایسے ہیں کہ کرداروں میں روح پھونک دیتے ہیں۔ بہرحال جین آئر رومانوی فکشن کا شاہکار ناول ہے جو ڈیڑھ صدی سے قارئین میں اپنا مثبت تاثر قائم کیے ہوئے ہے۔

Facebook Comments HS