ڈھلتی عمر کی اداسی
حامد یزدانی
خالد سہیل
حامد یزدانی کا خط
! ڈیئر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب
امید کہ آپ بخیر ہوں گے۔ یوں تو آپ کی علم و تجربہ سے بالواسطہ اور بلا واسطہ مسلسل ہی استفادہ کرتا رہتا ہوں اور آپ کی شخصیت کی ہمہ جہتی کے بدولت یہ استفادہ کئی ایک شعبوں میں ہوتا ہے۔ ان شعبوں کا دائرہ کار شعر و ادب سے فکر و فلسفہ تک اور روزمرہ زندگی کے معاملات سے تاریخی، سماجی اور نفسیاتی موضوعات تک پھیلا ہوا ہے۔ آپ سے تبادلہ خیال کر کے طمانیت اس لیے بھی حاصل ہوتی ہے کہ آپ کی رائے کے پس منظر میں موضوع کا گہرا مطالعہ اور غیر معروضی سائنسی نکتہ نظر موجود ہوتا ہے اور اس لیے بھی کہ آپ ایک معالج، دانش ور اور نفسیات دان ہونے ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے صاحب الرائے فرد ہیں جو اپنی رائے دوسروں پر ٹھونستے نہیں بلکہ فیصلہ کا اختیار سوال کرنے والے پر چھوڑ دیتے ہیں اور پھر مکالمہ کا دریچہ کبھی بند نہیں کرتے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میں آپ سے متعارف ہوں۔
ڈاکٹر صاحب، جیسا کہ آپ جانتے ہیں ایم اے سوشیالوجی اور پھر ماسٹر آف سوشل ورک کی پیشہ ورانہ تعلیمی اسناد حاصل کرنے کے بعد پہلے تو کئی برس پاکستان اور جرمنی میں تدریس و صحافت کے شعبوں سے منسلک رہا۔ اب گزشتہ پندرہ برس سے ادھر کینیڈا میں سوشل سروسز کے شعبہ سے متعلق ہوں اور اس شعبہ کی اہمیت آپ خوب جانتے ہیں۔ اس کا دائرہ کار اور اہمیت پاکستان، بھارت اور دیگر ترقی پذیر معاشروں سے بے حد مختلف ہے کہ یہاں شعبہ کی پیشہ ورانہ قومی یا صوبائی تنظیم سے وابستگی اور صوبائی کالج میں رجسٹریشن کے بغیر سوشل ورکر کا ٹائٹل استعمال نہیں کر سکتے جیسے ڈاکٹر، انجنیئر اور دیگر پیشے ہیں۔
یہ پس منظر بیان کر کے عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس شعبہ میں خدمات کی ادائی کے دوران میں نے بچوں اور خاندانوں کے لیے مختص اداروں میں بھی کام کیا ہے اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے ضمن میں بھی۔ انفرادی طور پربھی خدمات انجام دی ہیں اور گروپ کی صورت میں بھی۔ اور اب کینیڈا میں نئے آنے والوں کے لیے قائم ایک ایسے فعال ادارے سے وابستہ ہوں جو وفاقی اور صوبائی حکومت کی مالی اعانت سے چلتا ہے۔ ہر روز ہی نت نئے افراد اور خاندانوں کا استقبال کرتا ہوں اور انھیں ان کے نئے دیس کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہوں۔ یہ افراد اور خاندان متنوع وجوہ سے دنیا کے مختلف بر اعظموں سے سفر کر کے کینیڈا کو اپنا وطن بنانے کے لیے یہاں آتے ہیں۔
میرا مشاہدہ یہ ہے کہ مختلف معاشروں اور ثقافتوں میں مرد اور عورت کے مقام اور ان کی حیثیت و کردار کے حوالہ سے جو تفاوت اور تقسیم مروج ہے ان کے اثرات ان نوواردان پر بہت گہرے ہوتے ہیں اور اسی باعث انھیں بسا اوقات شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً جب میں انھیں کینیڈا میں بچوں اور عورتوں کے حقوق کے لیے موجود کڑے قوانین کا بتاتا ہوں تو اکثر مرد حضرات کسمسانے لگتے ہیں اور کچھ تو برہمی کا بھی اظہار کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی بیویوں اور بچوں پر اپنے امتیازی اختیار کے قائل ہوتے ہیں۔
اور دوسری جانب خواتین بھی اظہار میں مخصوص جھجک محسوس کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے میں بچوں کی بے یقینی کی کیفیت کو سمجھنا قطعی آسان ہے۔ حیرت کا امر یہ ہے کہ یہ صنفی تفریق برس ہا برس یہاں گزارنے کے بعد بھی خاص کر امیگرنٹ خاندانوں میں موجود رہتی ہے۔ اس میں عورتوں کی ملازمت، بچوں کی شادیوں میں ان کی مرضی، اہل خانہ اور ہم۔ کاروں کے درمیان اختلاف رائے پر عدم برداشت، ذہنی اور نفسیاتی صحت پر گفتگو، پھر گزرتے وقت اور ڈھلتی عمر کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ خیالات اور معاملات زندگی کی عدم مطابقت جیسے مسائل شامل ہیں۔
اچھا، ایک بات اور میرے مشاہدے میں آئی کہ ترقی پذیر اور روایت پسند معاشروں کے افراد غیر رسمی مدد کے ذریعہ ہی مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ غیررسمی وسائل کا استعمال بھی مستحسن ہی ہے مگر معاملہ کی نوعیت کی سنگینی اور قانونی حدود کی موجودگی میں یہ غیررسمی ذرائع ہر بار یا پورے طور پر موثر اور نتیجہ خیز نہیں ٹھہرتے۔ اور مشکل یہ ہے کہ روایتی معاشروں میں پرورش پانے والے بہت سے افراد رسمی اور پروفیشنل مدد سے یا تو ناواقف ہوتے ہیں یا اس طرف قدم بڑھانے سے خائف ہوتے ہیں۔ اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قابل حل خانگی مسائل گمبھیر اور ناقابل واپسی موڑ تک پہنچ جاتے ہیں۔
ایسا ہی معاملہ حال ہی میں میری پہچان کے ایک پاکستانی خاندان کے ساتھ پیش آیا۔ ان کے حالات اور کیفیات پر نظر کریں تو مڈ لائف کرایسز یا ادھیڑ عمری کے بحران کی جانب واضح اشارہ ملتا ہے مگر لاعلمی اور غیر رسمی امدادی کارروائیوں کے سبب یہ ایسا بگڑا کہ نوبت طلاق تک جا پہنچی۔ اس سفر میں دونوں طرف ذہنی اذیت اور رشتوں کی توڑ پھوڑ سے جنم لینے والی داخلی اور خارجی تکالیف کا ذکر ایک کہی اور ان کہی طویل داستان ہے جس کے اثرات سے ایک سے زیادہ نسلیں متاثر ہوئیں۔
ڈاکٹر خالد سہیل صاحب، یوں تو ایسے کئی مسائل ہیں جن پر آئندہ خطوط میں بات ہوگی، سردست اگر اسی موضوع یعنی مڈ لائف کرائسز، جسے مڈل ایج کرائسز بھی کہا جاتا رہا ہے، پر ہی رہیں تو یہ فرمائیے کہ بطور ایک نفسیات دان آپ اس کی کیا تعریف کریں گے اور اس کے اسباب و علل کو کیسے واضح کریں گے؟
کیا واقعی ایسا کوئی بحران زندگی میں بپا ہوتا ہے یا یہ محض خیالی یا پھر مغربی معاشروں کی وضع کردہ بس ایک اصطلاح ہے؟ کیا یہ ہر معاشرے میں ہوتا ہے؟
یہ بھی بتا سکیں تو ممنون ہوں گا کہ اس مسئلہ سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے اور یہ کہ اس ضمن میں مرد اور عورت کے کردار کی اہمیت میں کیا کوئی فرق بھی ہے؟
ایک عمومی سوال یہ بھی کہ روایتی معاشروں میں پرورش پانے والے افراد جو ترقی یافتہ مغربی سماج میں زندگی گزار رہے ہیں اپنی سوچ اور طرز عمل میں تبدیلی کے لیے آسانی سے تیار کیوں نہیں ہوتے؟
بس دوست خاندان کو درپیش اس حالیہ واقعہ پر غور کرتے ہوئے یہ چند سوالات ذہن میں آئے تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ آپ کی ماہرانہ رائے سے ایک بار پھر استفادہ کیا جائے۔ ہو سکتا ہے آپ کے جوابات کی روشنی سے کئی اور ذہن بھی مستنیر ہوجائیں۔
پیشگی شکریہ کے ساتھ
آپ کا دوست اور مداح
حامد یزدانی
۔ ۔ ۔
خالد سہیل کا جواب
! محترمی و معظمی حامد یزدانی صاحب
آپ کا تفصیلی اور پرمغز ادبی محبت نامہ ملا تو مجھے خوش گوار حیرت ہوئی کیونکہ ماضی میں جب میں نے آپ سے تحریری مکالمے کا ذکر کیا تھا تو آپ خاموش رہے تھے۔ مجھے یوں محسوس ہوا تھا جیسے وہ خاموشی آپ کی ہچکچاہٹ کی آئینہ دار ہو۔ میں انتظار بسیار کے بعد نا امیدی کے کنارے کو چھونے والا ہی تھا کہ آپ کا خط آ گیا اور میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
آپ نے اپنے خط میں میرے لیے جن جذبات کا اظہار کیا ہے وہ میری شخصیت سے زیادہ آپ کی محبت اور اپنائیت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں ایک پاپی ہوں اور آپ ایک پارسا اور کسی پارسا کا کسی پاپی کو دل سے لگانا پارسا کی وسیع القلبی اور فراخدلی کی ترجمانی کرتا ہے۔ آپ کا خط پڑھ کر اب امید بڑھ رہی ہے کہ ہمارے درمیان ایک بامعنی ادبی نفسیاتی اور سماجی مکالمے کے امکانات روشن ہیں۔ آپ ایک عمدہ شاعر اور صاحب طرز افسانہ نگار ہی نہیں ایک مقبول کالم نگار بھی ہیں اور ان تمام ادبی کارناموں پر آپ کا سوشل ورکر ہونا مستزاد ہے۔ یہ میری خوش بختی ہے کہ آپ مجھ سے زندگی کے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں۔
جب میں نے آپ کے خط میں مڈ لائف کرائسز کا ذکر سنا تو مجھے وہ ادھیڑ عمر دوست یاد آ گئے جنہوں نے تیس برس کی
LOVELESS AND SEXLESS MARRIAGE
کے بعد اپنی ازلی و ابدی ناراض بیوی کو خدا حافظ کہا اور جب پچپن برس کی عمر میں ایک پچیس برس کی دختر خوش گل کی زلف کے اسیر ہو گئے تو سب دوستوں نے کہا کہ وہ حضرت مڈ لائف کرائسز کا شکار ہو گئے ہیں۔
میری نگاہ میں مڈ لائف کرائسز ایک مبہم سی مقبول عام اصطلاح ہے جس کے بارے میں سنجیدہ گفتگو کرنا مشکل ہے لیکن ایک اور نفسیاتی اصطلاح ایسی ہے جس کے بارے میں میں اپنے خیالات آپ سے شیر کر سکتا ہوں۔
آج سے بیس برس پیشتر نفسیاتی حلقوں میں بزرگ خواتین و حضرات کے لیے ایک تشخیص بہت مقبول تھی جو
INVOLUTIONAL MELANCHOLIA
کہلاتی تھی۔ یہ تشخیص ان مرد و زن کے لیے استعمال ہوتی تھی جنہیں ساری عمر کوئی نفسیاتی مسئلہ نہ ہونے کے باوجود ادھیڑ عمر میں ایک خاص طرح کی اداسی اور یاسیت نے گھیر لیا تھا۔
مردوں میں یہ نفسیاتی مسئلہ اس وقت آتا تھا جب وہ اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ لے لیتے تھے اور عورتوں کو یہ نفسیاتی مسئلہ اس وقت اپنی آغوش میں لے لیتا تھا جب وہ مینوپوز میں داخل ہوتی تھیں۔
وہ مرد جو ساری عمر اپنی ملازمت سے اپنی زندگی کی معنویت کشید کرتے تھے جب وہ ریٹائر ہو کر گھر بیٹھ جاتے تھے تو ڈپریشن کا شکار ہو جاتے تھے۔
اسی طرح وہ عورتیں جو ماں بننے کے کردار سے زندگی کی مقصدیت حاصل کرتی تھیں جب ان کے بچے جوان ہو کر گھر سے رخصت ہو جاتے تھے اور ان کا گھونسلہ خالی ہو جاتا تھا تو وہ سن یاس میں یاسیت کا شکار ہو جاتی تھیں۔
اس خاص قسم کے مالیخولیا کی ایک نفسیاتی خاصیت یہ تھی کہ ایسے لوگ اپنے حال اور مستقبل کی بجائے اپنے ماضی کی طرف دیکھنے لگتے تھے اور اپنے آپ سے پوچھتے تھے
ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
اور جب انہیں احساس ہوتا تھا کہ انہوں نے اپنی قیمتی زندگی کے بہت سے دن رات اور ماہ و سال ضائع کر دیے تو وہ اداس ہو جاتے تھے۔
میں نے اپنے ایک ہم عمر اور ہم عصر ادیب دوست سے جب پوچھا کہ جب آپ اپنے تیس برس کے ادبی سفر پر نگاہ ڈالتے ہیں تو کیا محسوس کرتے ہیں تو کہنے لگے
اس سفر میں احساس رائیگانی کے سوا کچھ نہیں ملا
ایسا رائیگانی کا احساس کسی بھی شخص کو اداس کر سکتا ہے۔
! حامد یزدانی صاحب
شمالی امریکہ میں ہم اگر اپنے ارد گرد نگاہ ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ بہت سے مشرقی بزرگ مالی طور پر آسودہ حال ہونے کے باوجود ایک بے مقصد زندگی گزار رہے ہیں
نہ کوئی خواہش
نہ کوئی تمنا
نہ کوئی آدرش
نہ کوئی خواب
بس اضطراب ہی اضطراب
اور ایک تضاد
میں ایسے بہت سے مہاجر مردوں اور عورتوں سے مل چکا ہوں جو اس لیے نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہیں کیونکہ وہ جن خوابوں کو لے کر شمالی امریکہ آئے تھے وہ ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر نہ کر سکے بلکہ ان خوابوں کے شیش محل وقت کی سنگباری سے چکنا چور ہو گئے۔
مغربی دنیا میں بسنے والے مشرقی مہاجر جوڑے جس تضاد اور عذاب کا شکار ہیں اسے ڈاکٹر اور شاعر سلمان اختر نے بڑی خوبصورتی سے اپنی ایک غزل میں رقم کیا ہے آپ بھی اس غزل کے اشعار سے محظوظ و مسحور ہوں فرماتے ہیں
لہر کا سر سے گزرنا بھی نہ دیکھا جائے
اور پانی کا اترنا بھی نہ دیکھا جائے
اس کو برداشت نہ تھی ایک خوشی بھی میری
جس سے اب میرا بکھرنا بھی نہ دیکھا جائے
جا بسوں اپنے وطن میں اسے منظور نہیں
میرا پردیس میں مرنا بھی نہ دیکھا جائے
دل پھٹا جاتا ہے جس کا میری بدحالی پر
اس سے ہی میرا سدھرنا بھی نہ دیکھا جائے
حوصلہ میرا بڑھانا نہیں آتا اس کو
میرا حالات سے ڈرنا بھی نہ دیکھا جائے
! حامد یزدانی صاحب
میں جب ایسے اداس و غمگیں مردو زن سے ملتا ہوں تو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ جوانی کے کسی مشغلے کو دوبارہ زندہ کریں اور اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنائیں
چاہے وہ شاعری ہو یا موسیقی
پینٹنگ ہو یا مجسمہ سازی
ڈرامہ ہو یا فلم
فنون لطیفہ میں سے کسی بھی فن سے رغبت پیدا کریں۔ پھر اپنی دلچسپی میں اوروں کو شامل کریں اور اپنے دوستوں کا ایک حلقہ بنائیں جسے میں فیمیلی آف دی ہارٹ کا نام دیتا ہوں اور اگر اپنا حلقہ نہیں بنا سکتے تو ہمارے حلقے میں شامل ہو جائیں۔
میں ان بزرگوں کو یہ بھی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ وولنٹیئر ورک کریں اور اپنے علم تجربے اور دانائی سے اگلی نسلوں کو فیضیاب کریں۔ کیونکہ خدمت خلق انسان کی زندگی میں معنویت اور مقصدیت پیدا کرتا ہے۔
! حامد یزدانی صاحب
میں جو مشورے دوسروں کو دیتا ہوں اس پر خود بھی عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں اسی لیے اکہتر برس کی عمر میں بھی اکتالیس برس کا محسوس کرتا ہوں
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ میں ہر ہفتے ایک کالم لکھتا ہوں
پھر اس کالم کو ’ہم سب‘ پر چھپواتا ہوں
اور فیملی آف دی ہارٹ کے سیمینار منعقد کرتا ہوں
فیمیلی آف دی ہارٹ کے سیمیناروں میں میرے دوست رفیق سلطان ’پرویز صلاح الدین‘ امیر جعفری ’شاہد اختر‘ حسین حیدر ’عظمیٰ عزیز‘ زہرہ نقوی اور آپ میری مدد کرتے ہیں اور ہم سب مل کر بزرگوں کی ادبی خدمت کرتے ہیں۔ یہ تخلیقی کام میری زندگی کو بامقصد بناتے ہیں۔
میرا ارادہ تو تھا کہ آپ کے خط کا مختصر جواب دوں گا لیکن میرا قلم اپنی رو میں بہتا چلا گیا۔ اس لیے طوالت کی معذرت۔
چونکہ آپ نے اپنے خط میں مجھ سے ایک سوال پوچھا تھا اس لیے میرا بھی حق بنتا ہے کہ میں آپ سے ایک سوال پوچھوں تا کہ خطوط کے تبادلے کا یہ سلسلہ جاری رہے۔
آپ مجھے یہ بتائیں کہ کینیڈا میں جو سوشل ورکر چلڈرن ایڈز سوسائٹی میں کام کرتے ہیں وہ بعض دفعہ کیوں ماں باپ سے ان کے بچے چھین کر کسی فوسٹر ہوم میں بھیج دیتے ہیں۔
کیا بچوں کی صحیح نگہداشت ماں باپ کی ذمہ داری ہے یا ریاست کی؟
کینیڈا میں والدین اور ریاست کا جو رشتہ ہے اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ کیا آپ کینیڈا کے قوانین سے اتفاق کرتے ہیں؟
جواب کا منتظر
خالد سہیل


