عبدالرزاق کی یاوہ گوئی، شرکا کی بدنما ہنسی اور تحسین بھری تالیاں


عموماً ‎ کھلاڑی زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔ کیونکہ ایک تو ان کا رجحان بھی زیادہ کھیل کی طرف ہوتا ہے۔ دوسرا ان کو پڑھائی کا وقت بھی کم ہی ملتا ہے۔ تاہم جب وہ ستارے بن جاتے ہیں۔ اسفار کرتے ہیں، دنیا دیکھتے ہیں، دوسرے معاشروں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مختلف ثقافتوں کے لوگوں سے میل ملاقات کرتے ہیں، تو بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں۔ ان کے علم، مشاہدے اور تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور یہ سب چیزیں مل کر ان کا آئی کیو بڑھاتی ہیں اور ان کے دماغ کو جلا بخشتی ہیں۔

یا یوں کہنا چاہیے کہ ایسا ہونا چاہیے۔

تاہم پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ایسے ہیں جن کا شہرت، دولت اور پیسہ، بھی کچھ نہیں بگاڑ پاتا۔ یہ جیسے خام آئے ہوتے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ویسے ہی رہتے ہیں۔ رتی برابر بھی ان میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ بس زیادہ سے زیادہ حلیہ بدل جاتا ہے۔

‎ ان کا آئی کیو لیول وہی رہتا ہے جو ٹیم میں آنے سے پہلے ہوتا ہے۔ اتنے سال ٹیم میں گزارنے، نگر نگر گھومنے، مختلف تہذیب و تمدن کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی ان میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ پہلے دن بھی جو نسا جو نسا کرتے ہیں جبکہ آخری دن بھی جو نسا جو نسا ہی کر رہے ہوتے ہیں۔

‎ہندوستان کے کھلاڑی دیکھیں دو تین سال ٹیم میں رہنے کے بعد ان کی بول چال اور اٹھنے بیٹھنے میں متانت، پختگی اور سنجیدگی در آتی ہے۔ بولتے ہیں تو لگتا ہے کہ کوئی متین آدمی کوئی معقول بات کر رہا ہے۔ اپنے کھلاڑیوں کو سن لیں۔

‎قدرت کا نظام۔
‎اللہ جس کو چاہیں جتوا دیں۔
‎معجزہ۔
‎کھیل میں ہار جیت۔
‎دعا کریں۔ وغیرہ وغیرہ۔

‎پھر ان جیسے لو آئی کیو لیول کو ٹی وی پر بٹھا دیتے ہیں وہ جو منہ میں آئے بکتے چلے جاتے ہیں۔ یہ جو ایک درمیانے درجے کے کرکٹر عبدالرزاق نے یاوہ گوئی کی ہے اس پر پوری دنیا میں بھد اڑ رہی ہے۔ اس سے کوئی پوچھے تمہیں کرکٹ پر رائے دینے کے لئے بٹھایا گیا ہے یا کسی مذہبی پروگرام میں مدعو کیا گیا ہے، یا کسی سماجی مسئلے پر لیکچر دینے کے لئے بلایا گیا ہے؟

‎ویسے بھی خدا لگتی کہیے کہاں تم کہاں ایشوریا رائے۔ کہاں راجہ بھوج کہاں گنگوا تیلی۔ اس کو پوری دنیا جانتی ہے۔ جبکہ تم آٹھ ممالک میں ایک اوسط درجے کے کرکٹر کے طور پر پہچانے جاتے ہو۔ اس سے دنیا کے شاندار، کامیاب ترین اور نامور مرد شادی کرنے کے لئے مرے جاتے تھے۔ جب کہ سنا ہے تم ایک رقاصہ سے شادی کرنا چاہتے تھے جس نے تمہیں درخور اعتنا نہیں جانا۔

‎بہرحال کیا کہیے، یہ عبدالرزاق کی سوچ پورے معاشرے کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں آرٹ کو کنجر خانہ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں فنون لطیفہ کو حرام کہا جاتا ہے۔ اسی لئے ہمارے گلوکار، اداکار، مصور بھارت میں پرفارم کرنے کو مرے جاتے ہیں۔ کیونکہ وہاں ان کو بھگوان سمجھا جاتا ہے۔ قابل عزت گردانا جاتا ہے۔

‎اگر بھارت پاکستانی گلوکاروں، اداکاروں، مصوروں، مجسمہ سازوں کے لئے شہریت کا اعلان کردے تو یقین جانیں پاکستان میں کوئی فنکار دستیاب نہ ہو۔ یہاں کا میراثی وہاں کا بھگوان ہے۔

‎عبدالرزاق کی یاوہ گوئی اور شاہد آفریدی، عمر گل اور سعید اجمل کی اس پر تحسین بھری تالیاں اور بد نما ہنسی معاشرے کی میسوجنسٹ (عورت دشمن) سوچ کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ اولاد کی گمراہی اور تمام تر گناہوں کی ذمہ دار عورت ہے۔ اور مرد تو ہوتے ہی نیک ہیں۔ یعنی اگر باپ عبدالرزاق جیسا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ باپ اگر کوئی اداکار ہے تو کوئی برائی نہیں۔ بس ماں کو ستی ساوتری اور پوتر ہونا چاہیے تا کہ نیک پرہیز گار اولاد پیدا ہو۔

‎حیران ہوں کہ ٹی وی چینل نے بھی اس کو آن ائر جانے دیا۔ بس ریٹنگ ملنی چاہیے چاہے وہ جیسے بھی آئے۔ درست کہتے ہیں کہ زوال ہمہ جہت ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم، کوئی معاشرہ زوال کا شکار ہوتا ہے تو ہر شعبے اور ہر سمت سے اس پر زوال آتا ہے۔ اور پاکستانی معاشرہ زوال کا شکار ہے۔ پستی کا سفر ہے۔ اور سرعت سے جاری ہے۔ اس کا کوئی انت ہے بھی یا نہیں۔

نہیں معلوم!

Facebook Comments HS