ھم جو احمد سلیم کو نہیں جانتے
ابھی ملک میں ثقافتی تبدیلی کی شروعات تھیں۔ یعنی فیض صاحب لوک ورثہ اور دیگر اداروں کے ساتھ وابستہ ہوئے تھے۔ احمد سلیم جسے بے تکلفی سے نہایت قریبی دوست خواجہ بھی کہتے تھے۔ وہ بہت پریقین محنتی اور اپنی ہٹ پر قائم رہنے والا شخص تھا۔ ہمارا ایک دوست اسے بے تکلفی سے ادب کا مستری بھی کہتا تھا۔ اخباروں رسالوں اور پرنٹ مارکیٹ کا یہ البیلا کا وبوائے کبھی کھانا کھلانے ہمیں ساتھ گھر بھی لے جاتا تھا۔
Read more
