ھم جو احمد سلیم کو نہیں جانتے

ابھی ملک میں ثقافتی تبدیلی کی شروعات تھیں۔ یعنی فیض صاحب لوک ورثہ اور دیگر اداروں کے ساتھ وابستہ ہوئے تھے۔ احمد سلیم جسے بے تکلفی سے نہایت قریبی دوست خواجہ بھی کہتے تھے۔ وہ بہت پریقین محنتی اور اپنی ہٹ پر قائم رہنے والا شخص تھا۔ ہمارا ایک دوست اسے بے تکلفی سے ادب کا مستری بھی کہتا تھا۔ اخباروں رسالوں اور پرنٹ مارکیٹ کا یہ البیلا کا وبوائے کبھی کھانا کھلانے ہمیں ساتھ گھر بھی لے جاتا تھا۔

Read more

ہم مظلوموں کی تقدیروں کے ہنگامے

میں سٹیڈیم ہوٹل کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا، آج امجد صاحب مین ہال کے دائیں ہاتھ کاؤنٹر کے سامنے والی چوکور میز کے گرد انتہائی آرام دہ بازوؤں والی کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ میں بھی ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ ہم بہت کم ہاتھ ملاتے تھے بس جھک کر ان کو سلام کرتے تو ان کے لبوں پر مسکراہٹ آتی اور وہ دھیمی آواز میں کہتے شاہ صاحب۔ شاہ کا لفظ ذرا

Read more

خواجہ عسکری حسن کی دنیا

ساہیوال میرے لئے شہر طلسمات ہے۔ اس شہر نے میرے شوق شعر و ادب کی آبیاری کی۔ یہاں مجھ پر طلسم سخن کے در وا ہوئے۔ سٹیڈیم ہوٹل اور کیفے ڈی روز کی مسند پر براجمان خدائے سخن مجید امجد کی صحبت کا شرف حاصل ہوا۔ اسی شہر میں میری ایک جائے پناہ بھی تھی جسے بوستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بوستان میرے دوست عسکری حسن کا انار کے درختوں والا گھر ہے جہاں کے درو بام

Read more