ناصر کاظمی کا انتخاب داغؔ اور میرا سفر


(1)

داغؔ کے متعدد اشعار پسند کرنے کے باوجود میں انہیں اپنے پسندیدہ شعرا میں شامل نہیں کرتا تھا۔ ہمارے نصاب پر میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ چھائے ہوئے تھے ؛ کالج میں فیضؔ اور راشدؔ کے چرچے تھے اور گھر میں ناصرؔ استاد کی صورت میں موجود تھے۔ میرے نزدیک بڑی شاعری کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں کہ اسے سن کے منہ سے آہ نکلے یا واہ، اسے سمجھنے کے لیے کوشش کرنا پڑتی ہو اور بعض مقامات پر شارحین کی مدد کے باوجود فہم سے بالا رہے، بلند آہنگ ہو، ترکیبوں اور تمثالوں سے مزین ہو، ایک فکری نظام رکھتی ہو، اس میں مضامین کا تنوع ہو، وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ اوصاف مجھے داغؔ کی شاعری میں نظر نہیں آتے تھے۔ سننے پڑھنے میں آتا کہ وہ زبان کے شاعر ہیں اور ان کی زبان کی دھوم ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں لیکن صرف اس بنا پر کسی کو بڑا شاعر تسلیم کرنا میرے لیے مشکل تھا۔

پاپا کی وفات کے بعد جب ان کی تمام غیر مطبوعہ غزلیں، نظمیں اور منظوم ڈراما اشاعت پذیر ہو چکے تو ان کی نثر شائع ہونے کا مرحلہ آیا۔ ان کے چند ریڈیو فیچر اور رسالوں میں شائع شدہ مضامین ان کی الماریوں میں مل گئے، کچھ کی تلاش میں مجھے پبلک لائبریری اور ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹور میں جانا پڑا۔ گرد و غبار اور مکڑی کے جالوں سے اٹے سٹور میں ناک پہ رومال باندھ کر کھوج کرنا بے سود نہ رہا۔ اردو شاعری اور شاعروں پر پاپا کے فیچر بہت شوق سے سنے جاتے تھے۔

ایک فیچر میں داغ ؔ کا تفصیلی ذکر تھا اور ایک میں مختصراً۔ جب یہ نشر ہوئے تھے، تب بھی سنے تھے، لیکن اب پڑھے تو دیکھا کہ پاپا نے داغؔ کی شاعری کے محاسن بیان کرتے ہوئے بہت تحسین آمیز کلمات کہے ہوئے تھے اور ان کی شاعری کی چند ایسی خصوصیات کو نمایاں کیا تھا جو صرف ان کی شاعری سے مختص ہیں۔ کہتے ہیں : ”داغؔ اردو زبان کا ایک ایسا شاعر ہے جسے لفظوں کا لاثانی جادوگر کہا جاتا ہے اور لب و لہجے کے لحاظ سے داغؔ کی شاعری کی نظیر تو اردو میں مشکل ہی سے ملے گی۔

” ( ’موج خیال‘ ،“ اردو شاعری میں ردیف کی اہمیت، ”4 مئی 1967 ء مشمولہ“ خشک چشمے کے کنارے، ”1982 ) ۔ ایک اور فیچر (“ ایوان سخن، ”14 اکتوبر 1969 ء مشمولہ“ خشک چشمے کے کنارے ”، 1982 ) میں لکھتے ہیں :“ میرؔ کے بعد داغؔ ہی ایک ایسا اہم شاعر ہے جس کے ہاں فارسی تراکیب اور اصطلاحات کے بغیر خالص اردو زبان کا لب و لہجہ نقطۂ عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ داغؔ کی شاعری میں اردو پن ایک ایسی خصوصیت ہے جس نے اردو غزل میں ایک نیا لہجہ اور ایک نیا چٹخارہ پیدا کر دیا۔ داغؔ کی غزل میں ردیف اور قافیے کی ہم آہنگی غزل کو اس الزام سے پاک کر دیتی ہے کہ غزل کی شاعری قافیہ پیمائی ہے۔ ”

نثری مجموعے، ”خشک چشمے کے کنارے،“ کی اشاعت کے بعد باری تھی پاپا کے کیے ہوئے کلاسیکی شعرا کے انتخابوں کی۔ ولیؔ، میرؔ، نظیرؔ اور انشاؔ کے انتخاب 1989۔ 91 میں کتابی شکل میں شائع ہو گئے۔ پاپا کی کتابوں کے ذخیرے سے داغؔ کے دو مجموعے، گلزار داغؔ، مہتاب داغؔ اور احسن مارہروی کا کیا ہوا داغؔ کے چاروں دواوین، گلزار داغؔ، آفتاب داغؔ، مہتاب داغؔ اور یادگار داغؔ کا انتخاب، ”منتخب داغ“ ؔ ملے۔ پاپا کی لکھائی تو خیر واضح طور پر پہچانی جاتی ہے، ان کے زیر مطالعہ رہنے والی کتابوں کو دیکھتے رہنے سے میں ان کے لگائے ہوئے نشانات سے بھی بخوبی واقف ہو گیا تھا۔ میں جب اصلاح کی غرض سے انہیں اپنی کاوشیں دکھاتا تھا اور جب کبھی انہیں میرا کوئی شعر اچھا لگتا تو وہ ایسے ہی نشان (ٹک) لگاتے جو میری ڈائریوں میں محفوظ ہیں۔

مہتاب داغؔ (طبع اول، 1962 ء مجلس ترقی ادب، لاہور) میں کلب علی خان فائق رام پوری کا مقدمہ اور سید عابد علی عابد کا تفصیلی، عمدہ مضمون شامل ہے۔ احسن مارہروی نے ”منتخب داغ“ کے مقدمے میں ”مفروضوں، الزامات اور اعتراضات کے ساتھ ساتھ، مستند اور مشہور پرانے مصنفین کی اور موجودہ زمانے کے ناقدین کی آراء ایک جگہ جمع کر دی“ ہیں۔ ”آفتاب داغؔ“ (مطبوعہ نیا ادارہ، لاہور، 1961 ) ، جو میں نے مشفق و محترم شیخ صلاح الدین سے حاصل کی تھی، میں اختتامیے کے طور پر فراقؔ گورکھپوری کا عمدہ مضمون ’داغؔ۔ زبان کا لاثانی جادوگر‘ شائع ہوا ہے۔ ان تحریروں میں داغؔ کے فن اور ہنر پر سیر حاصل تبصرے کیے گئے تھے۔ انہیں پڑھ کے میری نظر میں داغ کا مقام بہت بلند ہو گیا۔

(2)

مہتاب داغ اپنی اصلی جلد کے ساتھ مکمل حالت میں تھی۔ آغاز کے خالی صفحے پر کسی صاحب نے اپنے خوشنما دستخطوں کے ساتھ لکھا تھا: ”عزیزم سہیل کے لیے۔“ غالباً یہ سہیل احمد خان تھے۔ یہ دیوان انہوں نے ناصر کو دیا تھا یا ناصر نے ان سے مستعار لیا تھا۔ اسے دیکھ کر پتا چلتا تھا کہ ناصر نے اس کا مطالعہ اہتمام کے ساتھ انتخاب کرنے کی غرض سے کیا تھا۔ اسے کلب علی خان کے مقدمے اور سید عابد علی عابد کے مضمون سے لے کر آخری غزل اور متفرق اشعار تک ایک سے زائد بار پڑھا تھا اور نشانات لگائے تھے۔ البتہ خمسہ، سلام، رباعیات، قطعات اور قصائد پر کوئی نشان نہیں تھا۔

مہتاب داغؔ کی 152 اور 153 نمبر غزلیں ایک ہی زمین میں ہیں۔ ناصر نے پہلی غزل کے اختتام (صفحہ 217 ) پر ناشر یا کاتب کے لیے لکھا: ”نوٹ۔ صفحہ 218۔ 219 کے نشان زدہ اشعار اس غزل میں شامل کر لیں۔“ درج ذیل شعر کے ساتھ حاشیے میں ”میرؔ“ لکھا:

نشے کی وجہ سے نہیں آنکھیں مری ہیں سرخ
اے محتسب! یہ خون جگر جم کے رہ گیا
اور اس شعر کے حاشیے میں ”داستان“ لکھا:
جو بیٹھیں آنکھیں تو پلکیں بھی کوئی پل کی ہیں
رہی ہیں بس یہی آنکھوں کی سوئیاں باقی
اس شعر میں ”فتنے کا عطر“ کو انڈر لائن کیا تھا:
زیر زمیں بھی مجھ پہ قیامت بپا رہی
فتنے کا عطر اس نے ملا تھا کفن میں کیا

گلزار داغؔ کا نسخہ بہت پرانی طباعت والا ہے۔ اس کی کتابت پرانی طرز کی ہے، مثلاً، ”آج تک“ کو ”آج تک“ اور ”اس کی“ کو ”اوس کی“ لکھا گیا ہے۔ اشعار کے دونوں مصرعے ایک سطر میں آمنے سامنے لکھے ہوئے ہیں۔ کثرت استعمال کے نتیجے میں کتاب کی اصلی جلد اور پہلے دو صفحات ضائع ہو جانے کے بعد اس کی جلد کرائی گئی۔ چنانچہ سن طباعت اور ناشر کا پتا نہیں چلتا۔ کتاب پرانی کتابوں کی دکان سے خریدی گئی لگتی ہے۔ اس میں پاپا سے پہلے کوئی سادہ پنسل سے کچھ اشعار پر نشان لگا چکا تھا۔

ناصر نے بہت سے اشعار پر سادہ پنسل اور سیاہ روشنائی والے پین سے ٹک لگائے ہوئے ہیں۔ ایک جگہ مجھے ایسا لگا کہ انہوں نے پوری کتاب کا متن انتخاب کرنے کی غرض سے دیکھا تھا۔ ایک زمین میں دو غزلیں ہیں۔ پہلی غزل کے بعد دوسری غزل کے سات اشعار اسی صفحے پر ہیں۔ پہلی غزل کا ایک مطلع ہے اور دوسری کے تین۔ ناصر نے پہلی غزل کا مطلع، تین اشعار اور مقطع منتخب کیے ہیں اور دوسری غزل کے تیسرے مطلعے کے دونوں مصرعوں کے بیچ خالی جگہ میں ٹک لگا کر اس کے نیچے بریکٹ میں ( 1 ) لکھا، پھر شعر کے ساتھ حاشیے میں مطلع لکھ کراس کے ساتھ تیر کا نشان بنایا اور اسے ایک لکیر کے ذریعے پہلی غزل کے مطلع تک لے گئے اور اس کے نیچے تیر کے نشان سے یہ بتایا ہے کہ اس شعر کو یہاں رکھنا ہے۔ گویا ان دو غزلوں کے مشترکہ انتخاب میں دو مطلعے ہیں۔ پہلا مطلع یہ ہے :

دوست خوش ہونے لگے دوست کے مر جانے سے
غم کا یہ کال پڑا ہے مرے غم کھانے سے
مندرجہ ذیل شعر کے ساتھ انہوں نے حاشیے میں ”میر کی زمین ’لکھا ہے :
تلوار تری رواں بہت ہے
تھوڑا بھی تو امتحاں بہت ہے
اور اس شعر کے حاشیے میں ”میرؔ“ لکھا ہے :
ہم آپ چھیڑ چھیڑ کے کھاتے ہیں گالیاں
کانوں کو پڑ گیا ہے مزا کوئی کچھ کہے

احسن مارہروی کا کیا ہوا داغؔ کے چار دواوینؔ کا انتخاب ”منتخب داغ“ ؔ مطبع انوار احمدی کا شائع کردہ ہے۔ جلد کے ساتھ ابری والے خالی صفحے اور پھر کتاب کے پہلے صفحے پر شہرت بخاری صاحب کے دستخط ہیں۔ آغاز میں سعید ابن احسن مارہروی کے تحریر کردہ ”حالات احسن مارہروی“ کے آخر میں 26 فروری 1941 کی تاریخ درج ہے۔ اس کے بعد احسن مارہروی کا تفصیلی مقدمہ ہے۔ قدرے بڑے سائز کی اس کتاب میں منتخب اشعار اس طرح ردیف وار دیے گئے ہیں : ردیف الف۔ گلزار داغؔ، آفتاب داغؔ، مہتاب داغؔ اور یادگار داغ؛ ردیف ب۔ گلزار داغؔ، آفتاب داغؔ، مہتاب داغؔ اور یادگار داغ۔

اس انتخاب میں بھی ناصر سے پہلے کسی اور نے، یا شاید شہرت صاحب نے، چند اشعار، پھر ناصر نے متعدد اشعار نشان زد کیے ہوئے تھے۔ اس میں گلزار داغ ؔ اور مہتاب داغ ؔکے جن اشعار پر ناصر نے ٹک لگائے ہیں وہ تقریباً تمام تر وہی ہیں جو وہ ان دواوین میں لگا چکے تھے۔ وہ اشعار جو انہوں نے صرف اس انتخاب میں نشان زد کیے ہیں، میں نے مذکورہ سیکشن میں الگ سے شامل کیے ہیں۔ ایک دلچسپ بات بیان کرتا چلوں۔ گلزار داغ کی ایک غزل کے چوبیس اشعار میں سے ناصر نے گیارہ اشعار منتخب کیے ہیں۔

”منتخب داغ“ میں اس غزل کے بارہ اشعار شامل ہیں۔ ناصر نے ان میں سے ان چھ اشعار پر ٹک لگائے ہیں جن پر وہ گلزار داغؔ میں لگا چکے تھے۔ لیکن حاشیے میں یہ نوٹ لکھ کر کہ ”افسوس سب سے اچھا شعر چھوڑ دیا ہے،“ اپنے دستخط کیے ہیں اور تاریخ ( 24 / 8 / 68 ) بھی درج کی ہے۔ میرے خیال میں وہ شعر یہ ہے کیونکہ اس پر انہوں نے گلزار داغؔ میں دو ٹک

لگائے ہوئے ہیں :
قمر کو جامۂ شب تو بصر کو پر دۂ چشم
کئی لباس ترے حسن کو سیاہ ملے
(3)

میں نے داغؔ کا انتخاب کتابت کے لیے نقل کرنا شروع کر دیا۔ اسی اثنا میں مجھے برطانیہ میں ماسٹرز کرنے کے لیے برٹش کونسل کا سکالرشپ مل گیا۔ سو میں یہ کاغذات ’داخل دفتر‘ کر کے ستمبر 1990 میں مانچسٹر آ گیا۔ میرا کورس ایک سال کا تھا لیکن یہاں ہمارے قیام میں توسیع ہوتی چلی گئی۔ ہم ہر سال پاکستان جاتے۔ میں ہر بار یہ سوچ کے جاتا کہ انتخاب داغؔ کا مسودہ مکمل کر کے پریس میں دے دوں گا لیکن پاکستان میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلتا۔ پھر یہ بھی سوچا کہ یہ کتابیں مانچسٹر لے جاؤں جہاں میرے پاس زیادہ وقت ہوتا۔ لیکن اس ڈر سے ایسا نہیں کیا کہ اگر سفر میں کسی جگہ میرا ہینڈ بیگ ادھر ادھر ہو گیا تو نقصان ناقابل تلافی ہو گا۔ اسی کشمکش میں پچیس چھبیس برس بیت گئے۔

آخر جی کڑا کر کے داغؔ کی کتابیں اپنے ساتھ مانچسٹر لے آیا۔ پھر مزید دو ڈھائی برس اسی طرح گزر گئے اور فرصت نہ مل سکی۔ بالآخر جب یہ مسودہ تیار کرنے کی مہلت ملی تو اچانک خیال آیا کہ ناصر نے یہ انتخاب نصف صدی قبل کیا تھا۔ میں نے بھی اسے تقریباً تیس برس پہلے دیکھا تھا۔ مجھے کیا یاد رہا ہو گا کہ اس میں کون سے اشعار تھے اور کون سے نہیں تھے۔ اس کا بیشتر حصہ تو میں دیکھ ہی نہیں پایا تھا۔ سوچا کہ کیوں نہ پہلے خود کلیات داغؔ کو پڑھوں اور اپنا انتخاب کروں، پھر ناصر کے انتخاب سے اس کا موازنہ کر کے دیکھوں کہ ان کے منتخب کردہ اشعار میں کتنے ایسے ہیں جو پچاس برس بعد مجھے بھی پسند آئے ہیں۔

میں نے اس عرصے میں تین دہائیاں ایک بہت مختلف دنیا میں گزاری تھیں جہاں کی معاشرت، معیشت، سیاست اور ثقافت بہت مختلف تھیں۔ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ داغؔ کے کلام کا کتنا حصہ ایسا ہے جو میری زندگی سے متعلق (relevant) ہے اور میں نے فن، یعنی کرافٹ کے ضمن میں جو کچھ سیکھا پڑھا تھا اس کی روشنی میں یہ کلام کیا کچھ دکھائے، سکھائے گا۔ داغؔ پر ناصر کی تحریر پڑھ کے اور پھر یہ دیکھ کر کہ انہوں نے داغؔ کو کتنی توجہ اور دلچسپی سے پڑھا تھا، میرے لیے داغؔ کی اہمیت بہت بڑھ چکی تھی۔

میں نے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کا مرتب کردہ ’کلیات داغؔ‘ (مطبوعہ الحمد پبلی کیشنز، 2011 ) کا ایک نسخہ حاصل کر لیا تھا کہ انتخاب کا متن جانچنے میں مدد مل سکے۔ سو میں نے اسے پڑھنا شروع کر دیا۔ مجھے پہلی خوشگوار حیرت اس بات پر ہوئی کہ داغؔ کی وفات کے 106 سال بعد کوئی ناشر اس کی تیرہ سو صفحات کی کلیات شائع کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آج بھی اچھی خاصی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جنہیں کلام داغؔ لبھاتا ہے اور وہ اس پر پیسہ خرچ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔

ناشرین لاکھوں روپے لگا کے کوئی کتاب مفت تقسیم کرنے کے لیے تو نہیں چھاپتے۔ اور مفت تقسیم کرنے کی بھی سن لیجیے۔ ایک سینئر شاعر اور معتبر ادبی شخصیت نے ایک نجی محفل میں کہا کہ ایک نامور شاعر (انہوں نے نام بھی بتایا تھا) ، جن کی زندگی میں ان کا ڈنکا بجتا تھا، کی کلیات کے نسخے تقریب اجرا کے موقع پر حاضرین کو تحفتاً دیے گئے لیکن بیشتر لوگ جاتے وقت کتاب اپنی نشستوں پر یا کسی میز پر رکھ گئے۔

میں دوران مطالعہ طریق ناصرؔ کی پیروی کرتے ہوئے حواشی میں نشانات لگاتا گیا اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی کمنٹ بھی لکھے۔ جو اشعار پہلی ’نظر‘ میں پسند آ گئے ان پر ٹک لگا دیے، جن میں کسی بات نے روکا اور میں نے سوچا کہ انہیں دوبارہ دیکھوں گا، ان کے ساتھ ڈیش (۔ ) یا نقطہ (۔ ) لگا دیا۔ ابھی پہلا دیوان، گلزار داغ، ؔ ہی پڑھا تھا کہ پاکستان جانا ہوا۔ کراچی میں حسب سابق سب سے پہلے بھائی نصیر ترابی اور ڈاکٹر خورشید عبداللہ سے ملاقات ہوئی۔ انہیں انتخاب داغؔ کا بتایا اور کچھ شعر سنائے۔ اس شعر پر ہماری سوئی اٹک گئی اور ایک گھنٹہ اسی پر بات ہوتی رہی:

دیکھ لینے کو ترے سانس لگا رکھا ہے
ورنہ بیمار غم ہجر میں کیا رکھا ہے

زمانۂ جدید میں آخری دموں پر آئے ہوئے مریضوں کو، جنہیں معالج جواب دے چکے ہوں، بعض اوقات صرف اس لیے وینٹی لیٹر پہ رکھا جاتا ہے کہ دور پار سے ان کے کسی عزیز کی آمد متوقع ہوتی ہے کہ وہ مریض کو اور مریض ان کو ایک نظر دیکھ لے۔ لیکن ڈیڑھ سو برس قبل کہے گئے شعر میں یہ بیان ہمیں حیران کر رہا تھا۔ مصرعے کا ٹکڑا ”سانس لگا رکھا ہے“ ہمیں کسی جدید ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں لے جاتا ہے جہاں کسی مریض کو آکسیجن ماسک لگا ہوا ہو۔ اگلے روز نصیر بھائی نے فون کر کے کہا : ”بھائی، یہ کیا شعر سنا گئے آپ۔ ابھی تک اس کا سحر باقی ہے۔“ پھر ڈاکٹر عبداللہ نے فون کیا۔ کہنے لگے کہ قبلہ ( نصیر بھائی) کہہ رہے تھے کہ باصر نے کل داغؔ کا جو شعر سنایا اس نے مار ڈالا۔

یادگار داغؔ کے بارے میں ناقدین کا کہنا درست لگا کہ یہ داغؔ کا نسبتاً کمزور کلام ہے۔ مجھے اس باغ میں اتنی ہریالی نظر نہیں آئی جتنی پہلے تین مجموعوں سے گزرتے ہوئے دیکھنے کو ملی تھی۔ لیکن اس شعر پر آ کر میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا:

جو ملتی مول ہم کو بہر مرقد کوئے جاناں میں
تو اشرفیاں بچھا کر پاٹ دیتے ہم زمیں اتنی

میرے دادا دادی کی قبریں میکلوڈ روڈ لاہور میں واقع قبرستان مومن پورہ میں ہیں۔ والد صاحب کا انتقال 1972 میں ہوا۔ گورکن کو مطلع کیا گیا اور شام کو تدفین ہو گئی۔ دو برس بعد میرے نانا فوت ہوئے۔ ان کی لحد کے لیے پاپا کے بالکل ساتھ جگہ مل گئی۔ 1998 میں والدہ صاحبہ کی رحلت ہوئی۔ ان کے جسد خاکی کو پاپا کے قریب ہی ابدی قیام مل گیا۔ اس وقت تک اس بات کا تصور بھی نہیں تھا کہ بہر مرقد زمین ملنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

موجودہ صدی کے آغاز سے یہ سنا جانے لگا کہ فلاں ادارے نے فلاں جگہ قبرستان کے لیے زمین لی ہے، جگہ الاٹ کرا لو۔ آبادی بڑھتی گئی زمین کم ہوتی گئی۔ پرانے گورستان بھر گئے، نئے گورستان ’آباد‘ ہونے لگے۔ پہلے مکانوں اور پلاٹوں پر جھگڑے ہوتے تھے، اب قبروں کے لیے لڑائی ہونے لگی۔ تلاش معاش، عزت نفس کے حصول اور دیگر وجوہات کی بنا پر لوگ دوسرے ملکوں میں جا کر بسنے لگے۔ لیکن ”لاکھ آسائشیں پردیس مہیا کر دے / ہے غریب الوطنی پھر بھی غریب الوطنی۔

” وطن کی قدر وطن سے دور جا کے زیادہ ہوتی ہے۔ وطن لوٹ جانا تو اکثر اوقات کوشش کے باوجود ممکن نظر نہیں آتا لیکن بیشتر لوگوں کے دل میں یہ خواہش بہر حال رہتی ہے کہ ان کی آخری آرامگاہ ان کے آبائی دیس میں ہو۔ اس کے لیے وہ اپنے عزیزوں کو یہ ذمہ داری سونپتے ہیں کہ ان کے منتخب کردہ یا کسی مناسب قبرستان میں ان کے لیے جگہ مخصوص کرا دیں۔ اس کے لیے وہ رقم یکمشت بھی بھیجتے ہیں اور پھر اپنی ’الاٹمنٹ‘ کو قائم رکھنے کے لیے وقتاً فوقتاً ’سروس چارجز‘ بھی بھیجتے رہتے ہیں۔ داغؔ نے بھی زندگی کے آخری چند برس وطن سے دور گزارے اور وہ اس دوران میں امیر بھی بہت ہو گئے تھے۔ سو ان کے نزدیک ’کوئے جاناں‘ میں مرقد کے حصول کے لیے اشرفیوں کی حیثیت ٹھیکروں جتنی تھی۔ وہ یہ بھی بخوبی جانتے ہوں گے کہ کوئے یار میں دفن کے لیے دو گز زمین بادشاہوں کو بھی نصیب سے ملتی ہے۔

سو میں نے داغ ؔکے چاروں دیوان پڑھ لیے۔ ؔ اس کے بعد ناصرؔ کے انتخاب سے موازنہ کیا تو خوشی بھی ہوئی اور افسوس بھی ہوا؛ خوشی اس بات کی کہ میں نے جو اشعار چنے تھے ان میں سے ساٹھ فیصد ناصر نے بھی پسند کیے ہوئے تھے ؛ افسوس، ظاہر ہے، اس بات کا کہ میرے کیے ہوئے انتخاب کا چالیس فیصد انہوں نے چھوڑ دیا تھا۔ اس حصے کو دوبارہ دیکھا تو بہت سے اشعار کے رہ جانے کی کوئی نہ کوئی وجہ سمجھ میں آ گئی۔ مثلاً گلزار داغؔ کا وہی شعر ( سانس لگا رکھا ہے ) دیکھ لیں۔

یہ مذکورہ بالا ایک ہی زمین میں کہی گئی دو غزلوں سے اگلی غزل کا ہے۔ کلاسیکی شاعری میں متعدد ایسے اشعار ملتے ہیں جن میں عاشق اپنے آخری لمحوں میں محبوب کو یاد کرتا ہے لیکن محبوب ہے کہ آنے ہی میں نہیں آتا اور بعض اوقات آتا بھی ہے تو شاعر بس اپنی روح سے مخاطب ہو سکتا ہے : پشیماں لاش پر آئے ہیں اب وہ/ تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے۔ نصف صدی قبل، ناصر کے زمانے میں، یہ شعر بہت روایتی لگتا ہو گا۔ اس وقت مریض کو وینٹی لیٹر پر رکھنے کا تصور نہیں تھا۔ میں نے جب نصیر بھائی اور ڈاکٹر عبداللہ کو بتایا کہ یہ شعر ناصر کے انتخاب میں شامل نہیں تھا تو ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ اس کی relevance ناصر کے بعد کے زمانے ہی میں نظر آ سکتی تھی۔ داغؔ کا یہ شعر البتہ ناصر نے نشان زد کیا ہوا تھا:

دم مری آنکھوں میں اٹکا ہے کہ دیکھوں تو سہی
کیا مسیحا سے مرے درد کا درماں ہو گا
(4)

میرے نزدیک اعلیٰ ادب کا ایک وصف یہ تھا، اور ہے، کہ وہ معاشرے کے اجتماعی حافظے میں محفوظ ہو کے لوگوں کی زندگی کے تار و پود میں شامل ہو جائے۔ ایک خاتون نے اپنے احباب کے اصرار پر شیکسپئر پڑھنا شروع کیا۔ پوچھا گیا کہ کیسا لگا تو اس نے سٹپٹا کے کہا، ”یہ تو اقوال سے معمور ہے۔ جو اچھی لائن آتی ہے وہ میں نے پہلے سے سنی ہوتی ہے۔ شیکسپئر نے خود کیا لکھا ہے؟“ اگر شیکسپئر کے کلام اور اس کے اثرات کو انگریزی معاشرے سے نکال دیا جائے تو نہ صرف زبان و ادب کی عمارت متزلزل ہو جائے گی بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی میں پر نہ ہو سکنے والا خلا پیدا ہو جائے گا۔ اسی لیے ملکہ وکٹوریہ نے کہا تھا کہ ہم ہندوستان چھوڑ سکتے ہیں شیکسپئر کو نہیں۔

اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بنا پر میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ میرؔ، غالبؔ اور اقبال کے بعد سب سے زیادہ زبان زد عام اشعار داغؔ کے ہیں۔ شاعروں کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے اشعار قبول عام کی سند پائیں، کسی بھی وجہ سے۔ کئی کئی مجموعوں کے خالق شعرا کو ان شعرا پر رشک کرتے دیکھا گیا ہے جو اپنے ایک شعر یا مصرعے کی بدولت زندہ ہیں۔ کوئی ادب پارہ کتنا عرصہ زندہ رہ سکتا ہے، اس کا انحصار ایک تو اس بات پر ہے کہ زندگی میں اس کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔

میں اس نظریے کا قائل رہا ہوں کہ ادب زندگی سے پھوٹتا ہے اور پھر زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ محض ادب پڑھ کر ادب تخلیق نہیں ہو سکتا۔ ناصر نے کہا تھا کہ عطر سے عطر کشید نہیں ہوتا ؛ اس کے لیے ہمیں پھول درکار ہوتے ہیں۔ کیٹس نے کہا تھا کہ شاعری ایسے تخلیق ہوتی ہے جیسے درختوں پر پتے اگتے ہیں۔ زندگی میں ہر لحظہ تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں لیکن کچھ باتیں کبھی نہیں بدلتیں، مثلا، انسانی جذبات، جیسے محبت، نفرت، حسد، رشک، رقابت، دوستی، دشمنی وغیرہ؛ قوانین قدرت، جیسے چاند سورج کا طلوع و غروب ہونا، موسموں کا تغیر وغیرہ؛ اقدار، جیسے سچائی، عدل، نا انصافی وغیرہ۔

اگر کوئی ادب پارہ زندگی سے پھوٹتا ہے تو وہ زمانے کی تبدیلی کے باوجود غیر متعلق (irrelavent) نہیں ہوتا۔ دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ اس ادب پارے کا کرافٹ کتنا مضبوط ہے، یعنی اس کی تخلیق کے وقت اس کا خالق کتنا اور کیسا ہنر سیکھ چکا تھا۔ ادب میں نفس مضمون کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے کہ اسے جو جسم عطا کیا گیا ہے وہ کتنا توانا ہے، اسے جس ہیئت میں سمویا گیا ہے اس کے تقاضے کس حد تک پورے ہوئے ہیں۔

خیال مکین ہوتا ہے اور ہیئت مکان۔ جب ہم اپنے لیے کوئی گھر لیتے یا بنواتے ہیں تو سب سے زیادہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ کتنا پائیدار ثابت ہو گا۔ تزئین و آرائش، داخلی و خارجی خوبصورتی کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ خیالات تو سب کو سوجھتے ہیں، بنیادی بات انہیں ان کی مناسبت سے موزوں ہیئت میں، اس ہیئت کی نزاکتوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، محفوظ کرنا ہے۔ ہیرے جواہرات ہر سنار کو دستیاب ہوتے ہیں لیکن سنار اور سنار میں فرق ہنر کا ہوتا ہے۔ اسی طرح روز لاکھوں گز کپڑا بنتا ہے، لیکن سب خیاط ایک جیسے ملبوسات تیار نہیں کرتے۔ گویا شاعری فن بھی ہے اور ہنر بھی، اور ہنر سیکھنا ہوتا ہے۔

داغؔ کو اردو کا آخری کلاسیکی شاعر کہا جاتا ہے۔ کلاسیکی شعرا ”مضمون تازہ“ (ولیؔ دکنی) اور ”مضامین نو“ (میر انیسؔ) کو اہم جاننے کے ساتھ ساتھ کرافٹ کی مضبوطی کے بھی بہت قائل تھے۔ اس ضمن میں بہت سے عیوب و محاسن ان کے پیش نظر رہتے تھے۔ خوبیوں کی طرح خرابیوں کی فہرست بھی طویل ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ چار خرابیوں سے خاص طور پر گریز کرنے کی کوشش کرنی چاہیے : زائد الفاظ، تعقید لفظی، تنافر اور حروف کا گرنا یا دبنا۔

پاپا کہا کرتے تھے کہ جس شعر میں کوئی لفظ زائد ہو یا پورا صرف نہ ہو رہا ہو، وہ شعر کہلانے کے لائق نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شعر میں ہر لفظ اپنے وہاں ہونے کا مکمل جواز فراہم کرتا ہے اور اسے وہاں سے ہٹانے یا اس کی جگہ کوئی اور لفظ رکھنے سے شعر کے دیگر الفاظ میں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔ پھر الفاظ کی ترتیب کی بھی بہت اہمیت ہے۔ کولرج (Coleridge) کے نزدیک شاعری ”بہترین الفاظ کی بہترین ترتیب (Best words in best order) ہوتی ہے۔

بہترین الفاظ سے اس کی مراد موزوں ترین الفاظ ہیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو مصرعے میں چستی اور روانی پیدا ہو جاتی ہے اور اسے یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو جاتی ہے۔ ہم اپنے حافظے کی سہولت کے لیے باتوں یا واقعات کو ایک ایسی ترتیب دے دیتے ہیں کہ ایک بات اپنے سے اگلی بات کا اشارہ (clue) فراہم کرتی ہے۔ امتحانات میں شریک ہونے والے طلبہ بالخصوص یہ طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ جہاں تک تنافر اور حروف کے گرنے، دبنے کا معاملہ ہے تو ان سے مکمل طور پر بچنا ناممکن ہے۔

میرؔ و غالب ؔسمیت بڑے شاعروں کے ہاں بھی ان کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ بعض معروف و مقبول اشعار میں بھی ان کی موجودگی دیکھی جا سکتی ہے۔ ان سے حتی الوسع گریز کرنے کا مشورہ اس لیے دیا جاتا ہے کہ شاعری، بالخصوص غزل میں، اگر حروف اپنی پوری آواز کے ساتھ شامل ہوں تو ایک ایسی صوتی فضا اور ایسا آہنگ پیدا ہوتا ہے جس سے نہ صرف مفہوم کی وضاحت ہوتی ہے بلکہ شعر کی نئی جہتیں بھی کھلتی ہیں۔ قاری غزل پڑھتے ہوئے اسے سنتا بھی ہے، اور اسے سننا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ ان میں سے کسی ایک ’خرابی‘ کی موجودگی شعر کو اتنا ضرر نہیں پہنچاتی، بلکہ بعض اوقات تو محسوس بھی نہیں ہوتی، لیکن اگر ایک ہی شعر میں دو یا اس سے زیادہ خرابیاں آ جائیں تو معاملہ گڑبڑ ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات کوئی کمزور یا عیب دار شعر بھی زندہ رہتا ہے، لیکن اس کی بھی کوئی وجہ ہوتی ہے۔

عیب تنافر کی سنگینی کا دار و مدار اس بحر پر بھی ہوتا ہے جس میں غزل کہی گئی ہو۔ بعض بحور کے ارکان کے مابین ایسے وقفے ہوتے ہیں کہ حروف ٹکراتے نہیں لیکن بعض بحروں میں یہ سہولت نہ ہونے کے باعث یہ تصادم سماعت پر گراں گزرتا ہے۔ مثلا، بعض بحروں میں ’کو کون، کہ کیا، میں میری‘ ، بالترتیب ککو، ککیا اور ممیری سنائی دیں گے۔ بعض اوقات حروف، بالخصوص الف کا دبنا بلکہ گرنا بھی گوارا ہوتا ہے لیکن اگر قافیے یا ردیف میں ایسا ہو تو اس کی تکرار گراں گزرتی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی بولنا چاہتا ہو لیکن ہر دوسرے لمحے کوئی اس کا گلا دبانے کی کوشش کر رہا ہو۔ اور اگر ضرورت شعری کے تحت کسی شعر میں کوئی اور حرف دب رہا ہو، یا کوئی اور خرابی، مثلاً تنافر وغیرہ ہو تو اس کی تحسین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک بار مجھے یہ مصرع سوجھا: میں نے تیرے لیے کچھ اور ہی سوچا ہوا ہے۔ ’ہوا ہے‘ ردیف رکھتے ہوئے اس زمین میں چھ سات اشعار بھی سر زد ہو گئے۔ چند روز بعد انہیں پڑھا تو دوسرے شعر کے بعد مجھے اشعار ’ہو ہے‘ ، ’ہو ہے‘ پر ختم ہوتے سنائی دیے۔

سوچا کہ اگر ردیف ”گیا ہے“ ہوتی تو ”گی ہے، گی ہے“ سنائی دیتی۔ اب اس مصرعے کو دیکھیں : بلندیوں سے میں ایسے گرایا جا رہا ہوں (یہ میرا مصرع نہیں ؛ کسی جگہ اس سے ملتا جلتا مصرع دیکھا تھا) ۔ بوقت خواندگی اس کا آخری حصہ کچھ یوں سنائی دے گا: گرائے جا را ہوں۔ اسی طرح اگر ردیف ’نہیں ہے‘ یا ’کہیں ہے‘ ہو تو مجھے یہ ’نئیں ہے‘ ’کئیں ہے‘ سنائی دے گی یا ’نہیں اے‘ اور ’کہیں اے‘ ۔ مجھے داغؔ کی صرف ایک غزل کی ردیف میں الف دبتا ہوا محسوس ہوا: لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے ؛ اور صرف ایک ردیف، تنافر کی وجہ سے، سماعت کو بھلی نہ لگی: اپنے دل کا مکان اور ہی ہے۔ ناصر کے سارے کلام میں ایسی مثالیں نہیں ملتیں۔

اس ضمن میں یہ بھی جاننا چاہیے کہ شعر کا مذکورہ خرابیوں سے مبرا ہونا اور نصاب میں بتائی گئی خوبیاں رکھنا کافی نہیں۔ عمدہ اشعار میں شامل ہونے کے لیے لازم ہے کہ اس نے شاعر کے تخلیقی لمحے میں جنم لیا ہو۔ شاعر ہر وقت شاعر نہیں ہوتا۔ کوئی گفتگو، خیال کی رو، تحریر، یاد، خواب یا صورت حال اس کی طبیعت میں ہیجان پیدا کر سکتی ہے، اسے معمول کی زندگی سے اکھاڑ کے الگ کر دیتی ہے۔ وہ زمین پر ہوتے ہوئے بھی زمین پر نہیں ہوتا۔ اسے اپنے جسمانی وجود کا احساس نہیں رہتا۔ اس وقت اسے کوئی مضمون، کوئی مصرع یا مصرعے کا ٹکڑا سوجھتا ہے۔ اسے آمد یا تحریک (inspiration) کہا جاتا ہے۔ یہ تخلیقی عمل کا آغاز ہے، گاڑی کا سٹارٹ ہونا ہے۔ ناصرؔ کا یہ شعر غالباً ایسی ہی کسی کیفیت کو بیان کرتا ہے :

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

اس کیفیت میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ شاعری کی اقبالؔ کی اس تعریف پر پورا اترتا ہے : دل سے نکلے اور دل میں اتر جائے۔ اور اس میں اس شاعری جیسی بے ساختگی بھی ہوتی ہے جسے ورڈزورتھ (Wordsworth) نے قوی احساسات کا بے ساختہ چھلکنا spontaneous overflow of powerful feelings کہا ہے۔ کبھی تو یہ کیفیت صرف چند لمحے برقرار رہتی ہے اور صرف ایک آدھ شعر کا موجب بنتی ہے، کبھی یہ شاعر کے تخیل کے لیے ایسی مہمیز ثابت ہوتی ہے کہ وہ پہروں اس میں مبتلا رہتا ہے۔ بعض اوقات یہ برقی رو کی طرح دنوں، مہینوں آتی جاتی رہتی ہے۔ شاعر کا اس کیفیت پر اختیار تو نہیں ہوتا لیکن اسے اس کا احساس ضرور ہو جاتا ہے۔ اسے ان لمحوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بقول ناصرؔ:

پہلے کھل جائے دل کا کنول پھر لکھیں گے غزل
کوئی دم اے صریر قلم صبر کر صبر کر
اور داغؔ کہتے ہیں :
دیکھیے پھر نزاکت مضموں
جب طبیعت پہ بوجھ پڑتا ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ مصرع یا مصرعے کا وہ ٹکڑا جو تخلیقی عمل کا آغاز کرتا ہے، ضروری نہیں کہ تکمیل شدہ تخلیق کا حصہ بھی بنے۔ ٹی ایس ایلیٹ اسے کیٹلسٹ (catalyst) کہتا ہے۔ کیٹلسٹ ایسے مادے (substance) کو کہتے ہیں جو کسی کیمیائی رد عمل کو ممکن بناتا ہے یا تیز کرتا ہے، خود تبدیل ہوئے بغیر۔ ہم نے سکول میں پڑھا تھا کہ بنولے کے تیل سے بناسپتی گھی بنانے کے لیے نکل (nickel) کو بطور کیٹلسٹ استعمال کیا جاتا ہے۔

میں یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ میں یہ نہیں سمجھتا کہ شاعری آمد ہی آمد ہے اور اس کی تخلیق میں آورد کا کوئی حصہ نہیں۔ شاعر کا مطالعہ، زبان پر عبور، اس کے تجربات، مشاہدات، خیالات و نظریات اور مشق سخن اس کے کلام کی نوعیت اور معیار کا تعین کرتے ہیں۔ لیکن کسی تحریک کے بغیر ان کی حیثیت اس گاڑی کی سی ہے جو سٹارٹ کیے جانے کی منتظر ہو۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی کلام سو فیصد دماغ کی کارفرمائی ہو۔ پر گو اور قادر الکلام شعرا کے مجموعے دیکھتے ہوئے بار بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دو ایک اشعار تو انہوں نے تخلیقی لمحوں میں کہے جبکہ باقی اپنے شعری تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے، ذہن کے بل بوتے پر۔ بقول داغؔ:

نہ فرصت ہے نہ راحت ہے غزل اے داغؔ کیونکر ہو
مگر کیا کیجیے، مجبور، جو ارشاد یاروں کا
غزل کیا خاک لکھیں حضرت داغؔ
ہجوم کار سرکاری تو دیکھو

البتہ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ارادہ کر کے غزل کہنے کا آغاز کیا جائے اور سوچ بچار کے دوران میں تحریک مل جانے پر آمد کا سلسلہ شروع ہو جائے۔

شیکسپئر کے درج ذیل مکالمے سے تخلیقی عمل کے علاوہ شاعر اور قافیہ پیما (versifier) کا فرق سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے :

The poet’s eye, in a fine frenzy rolling,
Doth glance from heaven to earth, from earth to heaven,
And, as imagination bodies forth
The forms of things unknown, the poet’s pen
Turns them to shapes, and gives to airy nothing
A local habitation and a name.
(A Midsummer Night’s Dream, ACT V, Scene 1 )

fine frenzy (جنون لطیف) کو افلاطون نے divine madness کہا ہے اور میرؔ اور اقبالؔ نے باشعور جنون۔ شاعر میکانکی انداز میں شعر نہیں بناتا بلکہ تخلیقی تحریک (inspiration) کے تحت ایک وجدانی کیفیت میں اس کا تخیل انجانی چیزوں کی اشکال سامنے لاتا ہے، پھر قلم انہیں اجسام میں ڈھال دیتا ہے اور غیر مرئی کو مقامی مسکن اور اسم دیتا ہے۔ مقابلے اور موازنے سے قطع نظر، کسی شاعر کے کام کی قدر و منزلت جانچنے کے لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کتنی انجانی چیزوں کی اشکال کو اجسام عطا کیے اور کتنے غیر مرئی تصورات کو مقامی مسکن اور اسم دیے۔

داغؔ کے کلام کا ایک قابل ذکر حصہ ان شرائط کو پورا کرتا ہے جو میری دانست میں کسی کلام کو زندہ رکھتی ہیں۔ اور اس حصے کی بدولت ان کا باقی کلام بھی، اپنی کمزوریوں کے باوجود، قابل قدر ہے۔ اس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے ؛ زبان و بیان، روزمرہ، محاورہ، مصرعے کی بنت جیسے معاملات میں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بڑا شاعر وسیع ذخیرۂ الفاظ رکھتا ہے جبکہ داغؔ کا ذخیرۂ الفاظ محدود ہے۔ ناصرؔ اسے داغؔ کی کمزوری نہیں سمجھتے۔ کہتے ہیں کہ ”داغؔ کی غزل بساط شطرنج کی مثال ہے جس میں گنے چنے مہروں کی طرح چند الفاظ ہیں لیکن شطرنج کی چالوں کی طرح ہر مرتبہ ایک نیا لہجہ اور انداز بیان دیکھ کر پڑھنے والے کا دل پھڑک اٹھتا ہے“ ( ”ایوان سخن،“ 14 اکتوبر 1969 ء مشمولہ ”خشک چشمے کے کنارے“ ، 1982 ) ۔

میں یہاں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ مجھے داغؔ کا ذخیرۂ الفاظ اتنا کم بھی محسوس نہیں ہوتا۔ ان کی شاعری میں بہت کم استعمال کیے گئے متعدد الفاظ کے علاوہ انگریزی کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔

خون دل کا چشم تر ٹھیکا نہ لے
اس سے ہونے کی نہیں تو فیر جمع
تیغ کھینچے ہوئے وہ ترک پھر اس پر یہ غضب
ہم تڑی دیتے ہیں بس آپ سے ہونا کیا ہے
چھپ کے بیٹھا ہے کیا کوئی مے کش
بھر کے جاتا ہے کیوں گلاس کہیں
وہ چشم مست جو گلشن میں گل سے لڑتی ہے
اشارہ کرتی ہے بلبل کہ اک گلاس مجھے
نہیں حیدرآباد پیرس سے کچھ کم
یہاں بھی سجے ہیں مکاں کیسے کیسے

مجھے اس بات سے بھی اتفاق نہیں کہ داغؔ کی شاعری میں فارسی تراکیب بہت کم ہیں۔ احسن مارہروی نے اپنا مذکورہ بالا انتخاب داغؔ دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ؛ حصہ اول جس میں ”بکثرت ایسے اشعار ہیں جو فارسی عطف اور اضافت سے خالی ہیں“ اور حصہ دوم جس میں ”غزلوں کے کئی ہزار ایسے اشعار ہیں جو فارسی عطف اور اضافت سے خالی نہیں۔“ داغؔ کی چند تراکیب دیکھیے جن میں کچھ عطف اور اضافت کے بغیر بھی ہیں : چشم غلط نگر، اسیر قید فرنگ، عینک خورشید و قمر، آرزوئے تازہ، اشتہار عشق، شمع شب افروز، طالع فیروز، کوئے بیت الصنم، بخت واژوں، خدائی خوار، خلوت دوست، شوخ نگاہی، شیریں ادائی، تلخ نگاہی، خار تمنا، دست حنا مالیدہ، دل تفسیدہ، مورد لطف، ترقی پذیر، تار بارش، سیہ بختی عاشق، لب پان خوردہ، دل ناکردہ کار، لعل نمکیں، نرگس جادو، سر باز محبت، دندان مسی آلودہ، ستم شریک فلک، چشم حقیقت نگر، دست رد، خار آرزو، ظالم مظلوم نما، ہرزہ درائی، پائے تلاش، تمغائے عشق یار، بو باس غیر، ناصح بد مغز، بانی بے داد، سوزن عیسیٰ، دنبالۂ چشم سخن گو، پائمال خرام یار، شہ باز نظر، قید تعلق۔

داغؔ نے اگرچہ یہ کہا تھا کہ زبان اردو وہی ہے جس میں فارسی کا رنگ نہ ہو، انہیں فارسی بہت پسند تھی اور وہ فارسی شاعری سے متاثر بھی نظر آتے ہیں :

اے داغؔ مقلد ہیں اسی طرز کے ہم بھی
ہر شعر میں ہو بلبل شیراز کا انداز
اور ان کا یہ شعر حافظؔ شیرازی کی یاد تازہ کرتا ہے :
جذب دل کا ہو برا کھینچ بلایا اس کو
جو نہ در تک کبھی آیا تھا وہ باہر نکلا
(من از آں حسن روز افزوں کہ یوسف داشت دانستم
کہ عشق از پردۂ عصمت بروں آرد زلیخا را)

مجھے داغؔ کے ہاں موضوعات کی کمی محسوس ہوتی تھی۔ عشق و محبت، وصل و فراق، حسد اور رقابت پر مبنی ان کے اشعار عاشق، معشوق اور رقیب کی روایتی تکون تک محدود نظر آتے تھے۔ ایک جگہ تو داغؔ خود یہ کہتے ہیں :

وہی جھگڑا ہے فرقت کا وہی قصہ ہے الفت کا
تجھے اے داغؔ کوئی اور بھی افسانہ آتا ہے

لیکن کلیات داغؔ کے پورے مطالعے نے میری یہ ’شکایت‘ دور کر دی۔ پھر میں نے یہ بھی دیکھا کہ ایک زندہ شعر بظاہر ایک موضوع کا بیان ہوتا ہے لیکن اس کا اطلاق دیگر شعبوں پر بھی ہوتا ہے۔ گویا ایک شعر میں ایک سے زیادہ موضوعات ہوتے ہیں۔ مثلا، سیاست زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میں کارفرما ہوتی ہے، چنانچہ اچھے اشعار اکثر اوقات سیاسی معاملات میں یاد آ جاتے ہیں۔ میرؔ کا یہ شعر سکول کے زمانے میں پڑھا تھا:

زور و زر کچھ نہ تھا تو بارے میرؔ
کس بھروسے پہ آشنائی کی

ہم سمجھتے تھے کہ یہ محض ایک عام مضمون کا عمدہ بیان ہے۔ عاشق اس لیے ناکام ہوا کہ اس کا رقیب با اختیار اور با وسائل تھا۔ لیکن پھر وطن عزیز میں ہونے والے 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں دیکھا گیا کہ وسائل اور اثر رسوخ کے بغیر سیاسی عمل میں کامیابی تو کیا شرکت بھی ممکن نہیں۔ اور یہ صورت حال بعد میں ہونے والے جماعتی انتخابات میں مزید گمبھیر ہو گئی اور آج بھی قائم ہے۔ داغؔ نے اس مضمون میں ایک دلچسپ اور مبنی بر حقیقت اضافہ کیا ہے۔ فی زمانہ زور و زر سیاسی سرگرمیوں میں صرف شرکت کے قابل بناتے ہیں، کامیابی کے لیے فیصلہ کن بات کچھ اور ہے :

زور و زر سے بھی کہیں داغؔ حسیں ملتے ہیں
اپنے نزدیک تو ہے سب سے اطاعت اچھی
داغؔ کے کچھ اور اشعار دیکھیے :
رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے

دوسرا مصرع انتخابات کے دنوں میں ووٹروں، امیدواروں اور جماعتوں پر یکساں صادق آتا ہے۔ جماعتی گٹھ جوڑ کے لیے ہونے والی ملاقاتوں میں ذرا سی پیش رفت بھی امید افزا ہوتی ہے :

راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میں
اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں
بے اعتباری کی فضا میں کی جانے والی پیغام رسانی کا احوال کچھ ایسا ہوتا ہے :
کس کا یقین کیجیے کس کا یقیں نہ کیجئے
لائے ہیں ان کی بزم سے یار خبر الگ الگ
دیر قاصد کو لگی اے دل مشتاق جمال
دیکھیے ہم کو بلاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں
اور اس شعر کا دوسرا مصرع:
نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے
مقبولیت اور پذیرائی عارضی ہوتی ہے :
طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گی
چڑھی ہے یہ آندھی اتر جائے گی
ووٹر جب اپنے منتخب کردہ نمائندوں سے مایوس ہوتے ہیں تو انہیں اس شعر کا پہلا مصرع یاد آتا ہے :
غضب کیا ترے وعدے پر اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا

اور یہ شعر ان قوتوں کے بارے میں ہیں جو ہر شعبے کو متاثر کرتی ہیں ؛ سامنے نہیں آتیں لیکن سب کو نظر آتی ہیں :

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگ بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
آپ کے گھر میں فرشتے تو نہیں تھے نازل
بھیس بدلے ہوئے بیٹھے تھے جو مہماں دو چار
مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپ
جو نہ ملتے تھے، سب ملیں گے آپ
اب کدورت ہوئی مشہور خدا کی قدرت
دھوم تھی جس کی وہ تھا میرا تمہارا اخلاص
کون سے طائر کی ہے صیاد کو ایسی تلاش
ڈھونڈتا پھرتا ہے کیوں گلچیں کے شامل باغ باغ
وہ ہو گئے ہیں طرف دار کیوں نہ اترائیں
غرور کرتے ہیں دشمن پرائے برتے پر

غرض داغؔ کے بے شمار اشعار ایسے ہیں جو تخلیق تو کسی ایک صورت حال میں ہوئے لیکن وہ مختلف مقامات اور صورت ہائے احوال میں زبان پر آ جاتے ہیں۔ اور ان کے ہاں موضوعات کی کمی، کم از کم مجھے تو نظر نہیں آئی۔ چند اشعار پیش خدمت ہیں۔

دنیا بھی اک بہشت ہے اللہ رے کرم
کن نعمتوں کو حکم دیا ہے جواز کا
اللہ شوق دے مجھے نعت شریف کا
شہرہ ہو خوب میرے کلام لطیف کا
ہوش و حواس و تاب و تواں داغؔ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
جھکی ذرا چشم جنگ جو بھی، نکل گئی دل کی آرزو بھی
بڑا مزا اس ملاپ میں ہے جو صلح ہو جائے جنگ ہو کر
دی موذن نے شب وصل اذاں پچھلی رات
ہائے کمبخت کو کس وقت خدا یاد آیا
لیجیے سنیے اب افسانۂ فرقت مجھ سے
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کو کیا کرے کوئی
لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد
ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں
ہوتی ہے جنس مہر و وفا چار سو پسند
آگے تری پسند کرے جس کو تو پسند
خط ان کا بہت خوب عبارت بہت اچھی
االلہ کرے حسن رقم اور زیادہ
(یہ مصرع یوں زیادہ معروف ہے : اللہ کرے زور قلم اور زیادہ)
خبر سن کر مرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سے
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں
اگر نہ آگ لگا دوں تو داغؔ نام نہیں
(یہ مصرع یوں زیادہ معروف ہے : جلا کے خاک نہ کر دوں تو داغؔ نام نہیں )
خط میں لکھے ہوئے رنجش کے کلام آتے ہیں
کس قیامت کے یہ نامے مرے نام آتے ہیں
بتوں کے کوچے سے ہم دل فگار ہو کے چلے
شکار کرنے کو آئے شکار ہو کے چلے
مجرم عشق کے انداز نرالے دیکھے
جرم کا حوصلہ بڑھتا ہے سزا پانے سے
وہی قاتل وہی مخبر ہے وہی منصف ہے
اقربا میرے کریں خون کا دعوی کس پر
رہرو راہ محبت کا خدا حافظ ہے
اس میں دوچار بہت سخت مقام آتے ہیں
کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے
ہزار کام مزے کے ہیں داغؔ الفت میں
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
حضرت داغؔ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے
اور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والے
تم وہی ہو جنہوں نے قتل کیا
نہ جتاؤ سر مزار اخلاص
آغاز کو کون پوچھتا ہے
انجام اچھا ہو آدمی کا
داغؔ کو کون دینے والا تھا
جو دیا اے خدا دیا تو نے
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں
جہاں بجتے ہیں نقارے وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں
تو بھی اے ناصح کسی سے عشق کر
ہاتھ لا استاد کیوں کیسی کہی
شروع عشق میں گستاخ تھے اب ہیں خوشامد گو
سلیقہ بات کرنے کا نہ جب آیا نہ اب آیا
زخم کہن نے آج رلایا بہت لہو
اتری ہوئی بہار سے تازہ چمن ہوا
نشان پائے صنم سنگ راہ ہوتے ہیں
وہ ناتواں ہوں کہ نقش قدم سے کھائی چوٹ
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
(اس مصرعے میں بالعموم ’ہندوستاں‘ کی جگہ ’سارے جہاں۔ ‘ استعمال کیا جاتا ہے )
داغؔ ہر ایک زباں پر ہو فسانہ تیرا
وہ دن آتے ہیں وہ آتا ہے زمانہ تیرا
چند موضوعات:
سفارش، رشوت
یہ نذرانہ عجب شے ہے کہ دشمن دوست بنتے ہیں
سفارش ان سے اب کرنے لگا ہے پاسباں میری
پاسباں لیتا ہے تنخواہ بھی رشوت بھی بہت
دو یہ خدمت ہمیں، دیں مفت میں پہرا چوکی
ان کو پہنچا ہے پیام اچھی طرح
اب نکل آئے گا کام اچھی طرح
لباس
آدمی کے لیے لازم ہے کہ موزوں ہو لباس
قطع بے ڈول ہو انساں کی تو انسان ہے کیا
احتساب
محتسب کا ہو برا پیر مغاں کہتا ہے
اینٹ سے اینٹ بجا دی مرے میخانے کی
میں گنہگار نہ ہوتا جو الٰہی مجھ کو
ہر برس نامہ اعمال دکھایا جاتا
خودکشی کی ناکام کوشش
تنگ آ کے دل کے ہاتھوں چاہا تھا ہم نے مرنا
یہ کیا خبر تھی برسوں یوں جاں کنی رہے گی
تجاوزات
بساؤ نہ غیروں کو یوں رفتہ رفتہ
تمہاری گلی کی زمیں روکتے ہیں
صحت
جب کوئی بیمار ہو بچتا نہیں
دائمی صحت بڑا آزار ہے
بیوٹی پارلر
ایک تو حسن بلا اس پہ بناوٹ آفت
گھر بگاڑیں گے ہزاروں کے، سنورنے والے
عدل
کرتے ہیں یوں بگڑ کے مرے باب میں سوال
جرات جواب کی نہیں رہتی گواہ میں
بات کیا چاہیے جب مفت کی حجت ٹھہری
اس گنہ پر مجھے مارا کہ گنہگار نہ تھا
second opinion
میرے حال زبوں سے گھبرا کر
چارہ گر کو ہے چارہ گر کی تلاش
asthma
بن گئی جی پہ کچھ ایسی کہ الٰہی توبہ
سانس لینے سے بگڑتی ہے طبیعت میری
دل
دل پر خوں مگر ہے جام طلسم
کبھی خالی نہ یہ ایاغ ہوا
heart surgery
جب رکا خون بن گئی دم پر
چاک دل کو رفو کیے نہ بنی
تیر کے بدلے لگا دے کوئی برچھی ظالم
روزن سینہ سے کرنا ہو جو نظارۂ دل
security
ہے اٰن کو وہم داغؔ سے یہ لوگ مل نہ جائیں
ہر روز بدلے جاتے ہیں درباں نئے نئے
(5)

غالبؔ کے کلام کی ایک خصوصیت، جس کا ذکر تو بہت ہوتا ہے لیکن جسے اہمیت نسبتاً کم دی جاتی ہے، شوخی اور شگفتگی ہے، جو کہیں کہیں ظرافت کی حدوں کو چھونے لگتی ہے۔ غالبؔ اس پر فخر کرتے نظر آتے ہیں :

غالبؔ مرے کلام میں کیونکر مزا نہ ہو
پیتا ہوں دھو کے خسرو شیریں سخن کے پاؤں

غالبؔ کے بعد جس شاعر میں یہ بات نمایاں طور پر نظر آتی ہے وہ داغؔ ہے۔ اور داغ ؔکی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ کم و بیش سبھی ناقدین اور مبصرین نے داغؔ کی اس خصوصیت کا ذکر کیا ہے۔ فلپ سڈنی (Philip Sydney) نے کہا تھا کہ شاعری کا کام پر لطف طریقے سے سکھانا (آگاہی دینا) ہے۔ لطف سخن صرف مزاحیہ کلام ہی میں نہیں ہوتا۔ یہ میرؔ کی شاعری، جس پر مولانا آزاد نے ’آہ‘ کا لیبل لگا دیا تھا، میں بھی ہے۔ اور تو اور، میر انیسؔ سانحۂ کربلا پر لکھے گئے اپنے مرثیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں :

بس اے انیسؔ ختم کلام اب ضرور ہے
لطف سخن اٹھاتا ہے جو ذی شعور ہے
داغؔ کو بھی نہ صرف اپنے اس وصف کا شعور ہے بلکہ وہ اس پر خوش بھی ہوتے ہیں :
اللہ اللہ رے تری شوخ بیانی اے داغؔ
سست اک شعر نہ دیکھا ترے دیواں میں کبھی
سن سن کے میری شوخی تقریر یوں کہا
توبہ ہے، یہ زبان رہے گی دہن میں کیا
ختم ہے شوخی الفاظ و تلاش مضموں
ہے تو یوں داغؔ سخنور ہے سخنور پورا
رقیب بھی تو اسے کان رکھ کے سنتے ہیں
عجب طرح کا مزا ہے مرے فسانے میں
(6)

ٹی ایس ایلیٹ کہتا ہے کہ انفرادی صلاحیت کی نشوونما کے لیے روایت کی بھرپور آگہی ضروری ہے۔ داغؔ کے کلام کی عمدگی اور توانائی کا ایک سبب اردو شاعری کی روایت سے ان کی گہری آشنائی بھی ہے۔ کلیات داغؔ سے گزرتے ہوئے مجھے بیسیوں ایسے اشعار ملے جن کا کوئی ٹکڑا، ترکیب یا خیال ان کے پیشرو شعرا کی یاد دلاتا تھا۔ لیکن داغؔ نے انہیں اپنے منفرد انداز میں برتا اور روایت میں اضافہ کیا۔ لانجائنس (Longinus) جس کی کتاب ”On the Sublime“ کو ارسطو کی بوطیقا (Poetics) کے بعد کلاسیکی عہد کا سب سے زیادہ قابل قدر تنقیدی کام سمجھا جاتا ہے، لکھتا ہے کہ اعلیٰ تحریر قاری کو متاثر بھی کرتی ہے اور عام سطح سے بلند (Elevate) بھی، اور اپنی تحریر میں یہ خاصیت پیدا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ادیب کبھی کبھی خود کو عظیم ادیبوں کے سحر کے سپرد کر دے۔

کھیل کے میدان کی بات ہو تو ہمیں معلوم ہے کہ اپنا کھیل بہتر کرنے کے لیے نہ صرف مشق ضروری ہے بلکہ اچھے کھلاڑیوں کا کھیل بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ اور ایک کھلاڑی کو جتنے اچھے کھلاڑی کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملے گا، اس کا کھیل اتنا ہی بہتر ہوتا جائے گا۔ بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے میں یہ مسئلہ تو ہے کہ وہ آپ کو جیتنے نہیں دیتے لیکن وہ آپ کا معیار بلند کر کے بالآخر آپ کو اپنی صف میں ضرور شامل کر لیتے ہیں۔

ناصر کی تحریروں اور مکالموں سے پتا چلتا ہے کہ ان کے نزدیک اساتذہ کا سیر حاصل مطالعہ شاعر کی Originality پر منفی کی بجائے مثبت اثرات ڈالتا ہے، اس کی انفرادی صلاحیت کو جلا بخشتا ہے۔ اردو تنقید کی تاریخ میں ناصر پہلے شخص تھے جنہوں نے میرؔ اور اقبالؔ میں ایک گہرا رشتہ دریافت کیا۔ میر ؔپر اپنے طویل مضمون میں انہوں نے میرؔ اور اقبالؔ کے متعدد اشعار اور مصرعے ساتھ ساتھ رکھ کر یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اقبالؔ اپنے بنیادی فلسفہ ء حیات میں میرؔ سے کس قدر قریب ہیں۔

انہوں نے اقبالؔ کے کلام میں موجود قلندری، درویشی، خودی، اخلاق، انسان اور عشق کے تصورات کی جھلک میر صاحب کے ہاں بھی دکھائی ہے اور دونوں شاعروں میں جہان تازہ، مرد آفاقی، امام بے حضور، عشق یزداں شکار، صدق مقال، باشعور جنوں جیسی متعدد مشترک اقدار کی نشاندہی کی ہے۔ اسی مضمون میں ناصر نے غالب کو ”میر صاحب کا پہلا تخلیقی طالب علم“ قرار دیا ”جس نے میرؔ سے بڑی کاری گری اور کامیابی سے رنگ لیا اور الگ عمارت بنائی۔

” غالب اور اقبال نے فارسی کے اساتذہ سے اور اقبال نے فلسفیوں اور مفکرین سے جو کچھ سیکھا اور لیا وہ سب جانتے ہیں۔ ناصر کی چھوٹی سی ذاتی لائبریری میں تقریباً تمام کلاسیکی اساتذہ، قابل ذکر ہم عصر شعرا اور متعدد مغربی شعرا کی کتابیں موجود تھیں۔ ان میں ان کے لگائے ہوئے نشانات دیکھ کر اندازہ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے کس توجہ سے ان کا مطالعہ کیا تھا۔

داغؔ نے ذوقؔ کی باقاعدہ شاگردی کی۔ غالبؔ، مومن اور ان کے ہم عصر اساتذہ سے ان کی ملاقات رہی۔ ان اساتذہ سے براہ راست اکتساب فن کیا اور اور اپنے پیشرو شعرا کے مطالعے سے اسے جلا بخشی۔ داغؔ کے اشعار پڑھتے ہوئے مجھے سب سے زیادہ غالبؔ یاد آئے۔ ان کی سولہ غزلیں غالبؔ کی زمینوں میں ہیں اور پچاس سے زیادہ اشعار میں غالبؔ کی جھلک واضح طور پر دکھائی دی۔ اس کے بعد میرؔ کا اثر نمایاں تھا۔ مختلف مقامات پر سوداؔ، آتشؔ، ذوق، ؔمومنؔ، بہادر شاہ ظفرؔ کے اشعار بھی ذہن میں آئے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے میرؔ اور غالبؔ کے اشعار شاید اس لیے زیادہ تعداد میں یاد آئے کیونکہ میں ان دو شعرا کے کلام کا مطالعہ تفصیلی اور کئی بار کرچکا تھا، جس کے نتیجے میں یہ میرے حافظے میں تازہ تھا۔ داغؔ پر متقدمین کے اثرات کا سیر حاصل تجزیہ ایک الگ تحقیقی موضوع ہے۔

جس طرح داغؔ کے کلام میں ان کے پیشرو اساتذہ کے کلام کی بازگشت سنائی دیتی ہے، اسی طرح داغؔ کے کلام کی جھلک ان کے بعد میں آنے والے شعرا کی شاعری میں دکھائی دیتی ہے۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ اقبالؔ اور ناصرؔ کے اشعار میرے دھیان میں آئے۔ اس کی وجہ بھی غالباً یہی ہے کہ میں نے ان دو شعرا کا کلام میرؔ و غالبؔ کے کلام کی طرح کئی بار پڑھ چکا تھا۔ البتہ اس ضمن میں ایک بات میرے لیے تعجب کا باعث بنی۔ ناصرؔ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سب سے زیادہ جس شاعر سے متاثر تھے وہ میرؔ ہے۔ انہیں بعض مبصر میرؔ ثانی بھی کہتے رہے۔ لیکن جب ناصرؔ کا کیا ہوا انتخاب میرؔ مرتب کرتے ہوئے مجھے کلیات میرؔ کو بغور دیکھنے کا موقع ملا تو اس وقت ناصرؔ کے اشعار اتنی تعداد میں میرے ذہن میں نہیں آئے تھے جتنے انتخاب داغؔ مرتب کرتے ہوئے آئے۔

داغؔ کو پڑھتے ہوئے، مجھے کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی بات نے ان کے بعد میں آنے والے کم و بیش ہر قابل ذکر شاعر کی یاد دلائی۔ ان کے اشعار /مصرعے پیش خدمت ہیں۔ ساتھ بریکٹوں میں داغؔ کے اشعار / مصرعے درج ہیں۔ ان مماثلتوں کو توارد سے تعبیر کیا جائے یا استفادہ قرار دیا جائے، ان شعراء کے مضامین کا کلی یا جزوی طور پر ان سے پہلے داغؔ کے ہاں موجود ہونا داغؔ کے کریڈٹ میں جاتا ہے۔ لیکن ان شعرا نے جس طرح ان مضامین کو سنوارا، نکھارا اور بڑھایا اس پر انہیں داد دینی چاہیے۔ ان اشعار کا مضبوط کرافٹ بھی قابل توجہ ہے جو میرے خیال میں ان کے زندہ رہنے کی بڑی وجہ ہے۔ روایت اسی طرح آگے بڑھتی ہے۔ نیوٹن نے کہا تھا کہ وہ اس لیے زیادہ دور تک دیکھ سکنے کے قابل ہوا تھا کہ وہ جنات (Giants) کے کاندھوں پر کھڑا تھا۔

اقبالؔ
بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا
تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی
(غش کھا کے داغؔ یار کے قدموں میں گر پڑا
بیہوش نے بھی کام کیا ہوشیار کا )
تو رہ نورد شوق ہے منزل نہ کر قبول
(مزا جو اضطراب شوق سے عاشق کو حاصل ہے
وہ تسلیم و رضا و بندگی سے ہو نہیں سکتا)
ع کوئی دلکشا نوا ہو عجمی ہو یا کہ تازی
(فریاد جگر نغمۂ نے نالۂ بلبل
دلکش ہو کسی طرح کی ہو کوئی صدا ہو)
رنگ ہو یا سنگ و خشت چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمود
(سنگ میں لعل بنا عشق کی نیرنگی سے
خون فرہاد کا تھا کوئی جو قطرہ باقی)
آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر
(شکایتوں کی محبت سے اور کیا حاصل
کچھ انفعال تمہیں ہو کچھ انفعال مجھے )
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
( ہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے )
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
(حاصل اعمال ہیں خلد و سقر
وہ ہی پھل پاتے ہیں جو بوتے ہیں ہم)
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
(تاب نظارۂ انوار تجلی نہ سہی
میری ہمت ہے کہ میں طالب دیدار تو ہوں )
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
(کیونکر رہے ہمیشہ طبیعت میں اعتدال
وہ بحر پھر ہے خاک اگر جزر و مد نہیں )
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
(دل سے وہ کافر صنم نکلے تو سب کچھ ہو قبول
جا کے مسجد میں عبادت، میں کروں تو کیا کروں )
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
(ہمیشہ دیکھتی ہیں دل کی آنکھیں )
ثریا سے زمیں پر آسمان نے ہم کو دے مارا
(نظر پر کیوں چڑھا کر مجھ کو پٹکا
گرایا کیوں زمیں پر آسماں سے )
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر
(اہل اسلام کو آزار ہے کیسا کیسا)
اور داغؔ کے یہ اشعار بھی اقبالؔ کی یاد دلاتے ہیں :
عشق کی عقل سے رہی کشتی
آخر اس نے اسے اٹھا مارا
ناکام جاوداں کی مجھے آرزو پسند
گم کردہ کارواں کی مجھے جستجو پسند
فراقؔ گورکھپوری
تم کہو تم اتنے کیوں پیارے ہوئے
(آ ہی جاتی ہے طبیعت لوٹ ہی جاتا ہے دل
کیوں بنا دی ہے خدا نے تیری صورت پیار کی)
(فراقؔ نے داغؔ کی زمین، جس وقت آئے ہوش میں کچھ بے خودی سے ہم، میں غزل بھی کہی)
ایم ڈی تاثیر
داور حشر مرا نامۂ اعمال نہ پوچھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
(کہے دیتا ہوں جو گزری ہے پر اے داور محشر
نہ آئے تذکرہ مجھ سے کسی کے عشق پنہاں کا )
باقیؔ صدیقی
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے
(بن گیا آہن پیکاں بھی مگر مقناطیس
تیر سے اڑ کے لپٹتا ہے نشانہ تیرا)
فیض احمد فیض
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
(گئی ہے نہ فرقت کی جائے گی رات
سحر کو بھی دھبہ لگائے گی رات)
وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں
( کچھ خیال وصل سے اے دل نہیں ہوتا وصال)
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
(کیوں ناز اٹھاؤں داغؔ کسی پر جفا کے میں
مجھ کو اگر مزا ستم روزگار دے )
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
(تجھ سا اگر نہیں ہے تو مجھ سا کہاں ہے اب)
شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
شکر ہے زندگی تباہ نہ کی
(اے داغؔ شکر کر، نہ رہی ان سے رسم و راہ
تجھ پر خدا کا فضل خدا کا کرم ہوا)
حفیظؔ ہوشیار پوری
زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم
یہ غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہوں گے
( جو عشق ہے تو غم بے شمار باقی ہے )
(حفیظؔ نے داغؔ کی زمین، ملے بہار میں ہر ایک گل بہار سے ہم، میں غزل بھی کہی)
عبدالسلام خیال جے پوری
دل نے کچھ ایسے درد سے فریاد کی کہ بس
ان کو کلیجہ تھام کے کہتے بنی کہ بس
(دونوں ہاتھوں سے جگر تھام لیا ناصح نے
میں نے فریاد جو کی داد جو چاہی تیری)
ناصرؔ کاظمی
یہ شہر دل ہے شوق سے رہیے یہاں مگر
امید انتظام نہیں آپ سے مجھے
(یہ دل ہے آپ کا گھر رہیے شوق سے لیکن
شکیب و راحت و صبر و قرار جاں کی طرح)
مجھ سے باتیں کرتی ہے
خاموشی تصویروں کی
(خاموش سنتی رہتی ہے پہروں شب فراق
تصویر یار کو ہے مری گفتگو پسند)
بس ایک چہرہ کتابی نظر میں ہے ناصرؔ
کسی کتاب سے میں استفادہ کیا کرتا
(رہا نظارہ کسی چہرۂ کتابی کا
مطالعہ نہ مرا اس کتاب سے چھوٹا)
اپنی دھن میں رہتا ہوں
میں بھی تیرے جیسا ہوں
(نازک مزاجیوں نے مجھے تجھ سا کر دیا)
رنگ پیلا ہے تیرا کیوں ناصرؔ
تجھے کیا رنج کھائے جاتا ہے
(غم نے اس کے گھلا دیا دیکھو
مجھ کو مہمان کھائے جاتا ہے)
دل میں اور تو کیا رکھا ہے
تیرا درد چھپا رکھا ہے
(اس قدر تو ہے ترا پردہ نشیں پاس حجاب
کہ ترے درد کو بھی دل میں چھپا رکھا ہے)
شعاع حسن ترے حسن کو چھپاتی تھی
وہ روشنی تھی کہ صورت نظر نہ آتی تھی
(اس روئے بے نقاب کا جلوہ ہوا نقاب
نکلی ہے رنگ رنگ سے صورت حجاب کی)
ایسا گاہک کون ہے جس نے
سکھ دے کر دکھ مول لیا ہے
( درد و غم رنج و الم مول لیے کیا کیا کچھ)
ہم جاگ رہے ہیں ہجر کی شب
تقدیر ہماری سو رہی ہے
( میں جاگتا رہا شب غم، بخت سو گیا)
کیا دن مجھے عشق نے دکھائے
اک بار جو آئے پھر نہ آئے
(ایک دن مل کے پھر نہیں ملتے
کیا قیامت کی یہ جدائی ہے )
دل کے لیے درد بھی روز نیا چاہیے
زندگی تو ہی بتا کیسے جیا چاہیے
( کچھ تازگی ہو لذت آزار کے لیے )
کہاں سے لاؤ گے ناصر وہ چاند سی صورت
(یارب اس چاند کے ٹکڑے کو کہاں سے لاؤں )
بھول بھی جاؤ بیتی باتیں
ان باتوں میں کیا رکھا ہے
( چھوڑیے ان باتوں میں رکھا ہے کیا)
میں تنہا ہوں میں تنہا تھا
(اکیلے رہیں گے اکیلے رہے ہیں )
بجھا نہ دیں یہ مسلسل اداسیاں دل کو
(یاس نے کیا بجھا دیا دل کو )
جو زخم دل کو ملے تھے وہ بھرتے جاتے ہیں
(دل کے کچھ زخم بھرتے جاتے ہیں )
جن میں بوئے وفا نہیں ناصرؔ
ایسے لوگوں سے ہم نہیں ملتے
(ہم نہیں سونگھتے کبھی وہ پھول
جن میں بوئے وفا نہیں ہوتی)
حمایت علی شاعرؔ
شاعرؔ ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ
ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ
( سنا ہے آدمی کچھ ٹھوکریں کھا کر سنبھلتا ہے )
احمد فرازؔ
منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا
بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا
(اس بت پہ احتمال ہے تصویر کا مجھے )
(ان کی خاموشی میں تو عالم ہے اک تصویر کا )
رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی
خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا
(نیند آتی نظر آتی تا حشر نہیں ہم کو
دیکھا ہے پریشاں سا کچھ رات کو خواب ایسا)
احمد مشتاقؔ
گم ہے انہیں گلیوں میں کوئی ہمسفر اپنا
یہ جھانکنا یونہی تو نہیں در بدر اپنا
(شب کو تیری جستجو میں کو بہ کو
کون سا مجھ سے مکاں باقی رہا)
محبوب خزاں ؔ
زیر لب آہ بھی محال ہوئی
درد اتنا نہیں کہ تم سے کہیں
(رنج اتنا نہیں میرا جسے لکھے کوئی)

میں نے زیر نظر تحریر کے شروع میں عرض کیا تھا کہ زمانہ طالب علمی میں داغؔ بوجوہ میرے پسندیدہ شاعر نہیں تھے۔ لیکن داغؔ کے ہمراہ گزشتہ تقریباً نصف صدی کا سفر طے کرنے کے بعد میں بڑے اعتماد کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر مجھ سے اپنے پانچ سات پسندیدہ ترین شعرا کا پوچھا جائے تو داغؔ ان میں شامل ہوں گے۔ اور مجھے یقین ہے کہ جس طرح داغؔ کی وفات کے بعد گزشتہ سو برس سے زیادہ عرصے کے دوران شعرا داغ ؔسے استفادہ کرتے رہے، مستقبل کے شعرا بھی ان سے مستفید ہوتے رہیں گے :

کوئی نہ کوئی ہر اک شعر میں ہے بات ضرور
جناب داغؔ کے اشعار دیکھتے جاؤ

(بشکریہ، کتابی سلسلہ کولاژ۔ 19، کولاژ پبلیکیشنز، کراچی)

Facebook Comments HS