جنریشن۔ زی اقدار سے عاری یا اقدار ڈھب بدل رہیں : فاصلے کم کیونکر ہوں گے


اک سائکاٹرسٹ کی اک شاعرہ سے گفتگو
ڈاکٹر اسامہ بن زبیر اور زہرہ نگاہ

ولایت سے آ کر جب میں نے وطن عزیز میں سائیکاٹری کی پریکٹس شروع کی تو بطور مریض نوجوان میرے پاس زیادہ آنے لگے۔ ڈی بی ٹی (برتاؤ کی تھراپی ( سروسز دینے کی وجہ سے بھی 14 سے 30 سال تک کے جذباتی خلفشار کا شکار لوگ میرے زیر علاج رہنے لگے۔ خود مجھے بھی لگتا تھا کہ اس عمر میں ذہنی صحت پر کام ہو جاوے تو بے چینی اور جذباتی خلفشار کو مثبت راستے دے کر نوجوانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی بہتر کی جا سکتی ہے اور ان کو معاشرے کے لئے بھی کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔

والدین یہ سمجھ کر جوان ہوتے ہوئے یا ہو چکے ہوئے بچے لاتے ہیں کہ سائیکاٹرسٹ کوئی پزا بنانے کی مشین ہے کہ ایک طرف سے بچہ ڈالو، اوپر سے کچھ مصالحے ڈالو تو دوسری طرف سے بچہ مرضی کے مطابق نکلے گا۔ مائیں ہر عمر کے بچوں کو کلینک میں لاتے ہی سلام دعا کے بغیر موبائل فون فضا میں لہراتیں اور شروع ہو جاتیں کہ ڈاکٹر صاحب تمام مسائل کی جڑ یہی ہے۔ بیچارے ڈاکٹر صاحب کو ابھی مسائل کی خبر چنداں نہیں ہوتی۔ یہ فرکشن تو ازل سے، پرانی نسل کو نئی نسل تنزلی کا شکار اور ابنارمل لگتی اور آج کے بچے ماضی کی اقدار کے بوجھ سے نالاں نظر آتے اور اپنا نیو نارمل بنانا اور منوانا چاہتے۔

زیادہ فرکشن دونوں پارٹیوں میں ذہنی و جذباتی مسائل کا سبب بننے لگتی۔ ایک اور دلچسپ طبقہ یہاں قابل ذکر ہے۔ دیار غیر سے واپس آ کر بسنے والوں کا ۔ پہلے روزگار کی دوڑ ہجرت کرواتی، پھر اولاد کو جڑوں سے جوڑنے اور ”سدھانے“ کا خیال واپس لے آتا۔ سدھانے کا لفظ ماں باپ کے منہ سے سن کر میں چیں بجیں ہوتا جس کی والدین بالکل پرواہ نہیں کرتے۔ ہجرت در ہجرت اور اس کی خوفناکیاں اٹھانے کو اولاد۔ ڈاکٹر حسن منظر نے دھنی بخش کے بیٹے میں اس کیفیت کو لے پالک بچوں کی کیفیت سے ملایا جب ان کو پتا چلتا کہ جنہیں وہ ماں باپ کہتے آئے، وہ ان کے اصل ماں باپ نہیں اور اصل ماں باپ اب اجنبی، اگر مل بھی جائیں۔

ایک اور بار بھی ڈالتے ہجرت زدہ والدین پہلے اولاد پر اور پھر مجھ پر ، کہ بچہ نماز بھی پڑھے، روزہ بھی رکھے اور دینی حلیہ بنا کر خود کو اچھا بھی ثابت کرے۔ اس طرف سے آنکھیں بند کر لیتے کہ غیر ہجرت زدہ اور خالص پاکی بچوں میں بھی اب یہ صفات ندارد ہیں۔ یہ کلیہ خود کو اچھا ثابت کرنے کا شاید اب پرانا ہو چلا ہے۔ مذہب کے معنی سسٹم کے ہیں، اس پر کوئی توجہ نہیں ہاں ریچوئل اہم ہیں۔ پھر اک اور چیز جو تین سے سینتیس سال تک کے بچوں سے ماں باپ چاہتے۔

ہر چیز ان سے پوچھ کر اور ان کے طریقے سے کی جائے۔ اک 25 سال کے نوجوان کے والد کو میں نے مشورہ دیا کہ اس کو تھوڑا انڈیپینڈنٹ کریں اور گھومنے پھرنے دیں۔ جواب ملا میں ابھی اسے مری گھمانے لے کر جاتا ہوں۔ ان کو سمجھانا بیکار لگا کہ 18 سال کے بعد انسانوں کو قانوناً بھی ”لے کر “ نہیں جایا جاسکتا۔ انہوں نے خود جانا ہوتا ہے۔

بزرگ اور پھر ان کے بزرگ۔ ہمارے ہاں اسی کے پیٹے میں جانے کا رواج کم ہی ہے۔ جو پہنچ بھی جاتے اس عمر کو ، ان کی یادداشت اور حواس پیچھے رہ جاتے۔ جو بزرگ ایک نسل سے زیادہ کے بزرگ ہوتے ہیں اور دانشمندی سے بوڑھے ہوتے ان کے ساتھ بات چیت کر کے بہت سی گتھیاں سلجھ سکتیں ہیں۔ شرط وہی، تارڑ صاحب کے الفاظ میں کہ وہ پڑے پڑے بزرگ نہ ہوئے ہوں اور زندگی برت کے بوڑھے ہوئے ہوں۔ نہ کہ نپٹا کر۔ زہرہ نگاہ، گزری روڈ کراچی پر علم و ادب اور تہذیب کی مجسم تصویر ہیں۔

اس بار کراچی کے دورے میں ملنا طے پایا تو ایجنڈا یہی فکس کیا کہ نسلوں کی فرکشن اور اس کے نتیجے میں آنے والی نفسیاتی الجھنوں پر بات کی جائے۔ تہذیب مٹ رہی ہے؟ معاشرہ تنزلی کا شکار ہے؟ یہ گول چکر ہے یا کوئی ڈھلوان۔ زہرہ آپا کا جواب تھا کہ تنزلی تو ہے مگر ازل سے تہذیب میں بننے سنورنے اور بگڑنے کا عمل جاری ہے اور دنیا کے ہر خطے میں جاری ہے اور شاید ابد تک رہے گا۔ جو آج جدید ہے کل روایت گردانا جائے گا۔

بات تہذیب کی ہو، رکھ رکھاؤ کی ہو تو زہرہ آپا کی اپنی مثال سب سے بڑھ کر ہے۔ پچھلی دفعہ کی ملاقات اب تک نہ بھولی تھی جب اسی کا پیٹہ نپٹاتی زہرہ آپا میرے تمام تر منع کرنے کے باوجود طویل راہداری پہ ساتھ چل کر گیٹ تک چھوڑنے آئی تھیں۔ میزبان کے کچھ عمل مہمان کو مرید بنا ڈالتے۔ یہ عمل بھی شاید ایسا ہی تھا۔ اس ملاقات میں چھوٹتے ہی پوچھ لیا کہ مجسم تہذیب ہونے کے پیچھے اردو سپیکنگ ہونا ہے یا شاعر ہونا۔ بولیں ایسا کچھ نہیں، صرف بچپن کی تربیت۔ والدین ہی نہیں، ان کے والدین بھی تربیت میں شامل رہے تھے۔ اسی بات نے بنیاد رکھ دی میرے ایجنڈے کے لئے بھی۔

بات نیو نارمل سے شروع کی کہ پرانی نسل نئے کو ابنارمل گردانتی جبکہ وہ نیو نارمل کی تشکیل ہو رہی ہوتی۔ معاشرہ اس نئے نارمل کی تخلیق کے لئے لیبر پین سے گزر رہا ہوتا۔ ہمارے سے گھٹے ہوئے معاشرے میں یہ لیبر ہمیشہ مشکل ہی ہوتی اور بہت دفعہ بڑا آپریشن درکار ہوتا اس عمل سے گزرنے کے لئے۔ زہرہ آپا کی اوائل جوانی اس کی اچھی مثال ہے۔ عورتوں اور شریف عورتوں کا پچاس کی دہائی میں مشاعرے میں جا کر پڑھنا ابنارمل سمجھا گیا مگر زہرہ آپا اور ان کے زمانے کے معاملہ فہم بزرگوں نے اس کو نیو نارمل کے طور پر مانا بھی اور معاشرے سے منوایا بھی۔

وہ ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے گویا تھیں، ”سب سے بڑے سپورٹر میرے والد تھے“ ۔ والد کی ہی سپورٹ انھیں مشاعروں میں لے آئی۔ ساتھیوں اور بڑے شاعروں نے بھی انھیں عزت سے ویلکم کیا۔ کچھ لوگوں کی معاملہ فہمی اور کچھ زہرہ آپا کی زیرک طبیعت، ابنارمل نیو نارمل بن گیا۔ سفید، سادے کپڑے اور بناؤ سنگھار سے عاری چہرہ، یہ سمجھوتا، اگر اسے سمجھوتا کہیں، زہرہ آپا کی طرف سے تھا، اپنی اور اپنے نیو نارمل کی جگہ بنانے کے لئے۔

زہرہ آپا اپنی مرصع آواز میں اس روز اپنے ڈرائنگ روم میں بھی ذہانت کے موتی بکھیرتی جا رہی تھیں۔ کہنے لگیں، ہر پرانے کو تبدیلی پر اعتراض ہوتا ہے، اسے اپنا زمانہ اچھا لگتا ہے اور 15 16 سال کے جوان ہوتے ہوئے بچوں کو اپنا۔ زمانہ دبل رہا ہے اور بدلنا چاہیے۔ اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اس میں اچھائیاں بھی ہوتی ہیں اور بھلائیاں بھی۔ ایجادات کے فائدے بھی گنے ہم دونوں نے اس نشست میں اور نقصان بھی۔ بولیں کہ ”مجھے نہیں معلوم کہ یہ ایجادات قاتل ہیں یا تریاق“ ۔

زہرہ آپا مصر تھیں کہ اس ناگزیر سائنسی انقلاب کے نقصان زیادہ ہیں، خاص کر ہمارے جیسے کم پڑھے لکھے معاشرے میں۔ گیجٹس کے استعمال نے گھریلو ملازمین تک کی ایفیشنسی کم کردی ہے۔ وقت اور پیسہ اچھے موبائل پیکج کی کھوج میں ضائع ہوتا رہتا ہے۔ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ اخلاقی کرپشن اس سے سوا ہے۔ گوگل نے دماغ کے استعمال کو قریباً ختم کر دیا ہے اور سب کچھ انگلیوں کی پوروں تک آ پہنچا ہے۔ لفظ اور معنی کی کھوج میں لغت دیکھنے کا عمل جو دماغ کو فعال تر کرتا تھا، ناپید ہو چلا ہے۔

یہاں میرا زہرہ آپا سے اختلاف تھا کہ اس عمل میں لگنے والا وقت گوگل بچا لیتا ہے اور نتائج بھی بہتر دیتا ہے۔ ہماری نسل کا نیو نارمل گوگل ہے، اسے کچھ مت کہیں زہرہ آپا۔ اتفاق اسی بات پہ ہوا کہ زندگی ایسے ہی آگے بڑھتی ہے اور آج کے دور میں ہمہ وقت کچھ نئے کے لئے تیار رہنے میں ہی پرانی نسل کی عافیت ہے۔ بیچ میں تقسیم ہند کا ذکر آیا تو بات پھر گھوم پھر کر نئی نسل تک آئی۔ 75 سال پہلے جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ ٹھیک ہوا یا غلط، یہ بات اب بے معنی ہے۔

امید اب نئی نسل سے ہے کہ وہ چیزوں کو درست سمت میں لے جائیں اور امید پہ دنیا قائم ہے۔ زہرہ آپا کو کیسے بتاتے کہ نئی نسل کو اول تو ذہنی نشو نما کے لئے یہاں کچھ میسر ہی نہیں اور اگر ہے تو نفرتوں کے غلاف میں لپٹا ہوا۔ اپنے ملک سے باہر کوئی قدم نکالے تو عموماً منزل سعودیہ، گلف ممالک، برطانیہ یا امریکہ ہوتی، وہ بھی زیادہ تر پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے۔ میں نے خود ہمسایوں اور اپنے ٹوٹے انگوں کو دنیا دیکھنے کے بعد کھنگالا۔

نفرتوں کا طویل اور مضبوط سلسلہ مروجہ تعلیمی نظم، میڈیا اور بزرگ نئی نسل کو دیتے ہیں۔ بھارت سے دشمنی کہ مذہب مختلف، ایران سے حالات ٹائٹ کہ فرقہ مختلف، افغانستان سے تعلقات کشیدہ کہ عالمی دباؤ اور بنگالی ان کی تو زبان اور نسل ہی مختلف تھی سو موئے الگ ہو گئے۔ زہرہ آپا، اس ان پٹ پہ اچھی آؤٹ پٹ کی متلاشی ہے، آپ کی نسل۔

پہلے بات ہوئی ان کی نظم سمجھوتے کی چادر پر ، کہنے لگیں کہ اس پہ اعتراض بھی بہت ہوا کہ سمجھوتا کوئی اچھی بات نہیں ہے مگر زندگی اسی سے چلتی ہے۔ نیرہ نور نے کیا خوب نبھایا اس نظم کو ۔ میں نے ذاتی قصہ چھیڑا اس نظم سے متعلق۔ میڈیکل کالج کے سالوں میں میرا خیال تھا کہ یہ نظم خالصتاً خواتین کے متعلق ہے۔ جب ینگ کپتان ڈاکٹر کی نوکری پر لگا تو کھلا کہ مجھ سمیت تمام جونیر افسران کی زندگی اس نظم کی تشریح ہے۔ مگر عمر کے چھتیسویں سال میں یہ عقدہ کھلا کہ زہرہ آپا نے کسی خاص طبقہ یا جنس کو نہیں بلکہ زندگی کو نظم کی شکل دی ہے۔

نرم ملائم سمجھوتے کی چادر۔ چونکہ جب ہم جنریشن ذی کا عمومی اور ان میں برتاؤ اور شخصیت کے عارضوں میں مبتلا بچوں کا خصوصی ذکر کرتے تو سٹریس کو سنبھالنے کے طریقوں اور لاشعوری ذہنی ڈیفنسز کا بہت چرچا کرتے۔ زہرہ آپا کہتیں زندگی اسی سے چلتی۔ نجانے یہ نرم ملائم چادر میچور ڈیفنس یا کمزور۔ نجانے یہ عارضی طور پر بے چینی کم کرتا اور عمومی ذہنی صحت تباہ کرتا یا واقعی مجموعی زندگی بہتر ہوتی۔ اگر برسوں میں چیزوں کو پروسیس کر کے بنی ہو تو یہ چادر میچور ڈیدینس ہوتی۔

زہرہ آپا نے پروست کی بات سنائی کہ ”ہر انسان کہ ذہن میں ایک کتاب چھپی ہوتی ہے جسے وہ کبھی پڑھنا نہیں چاہتا“ ۔ اس لیے کہ شاید اس میں سچ لکھا ہوتا ہے۔ ”کہیں بھی سچ کے گل بوٹے نہیں ہیں، کسی بھی جھوٹ کا ٹانکا نہیں ہے“ ۔ زہرہ آپا مجھ سے گویا ہوئیں کہ سچ سپانٹئنیئس ہوتا، اس کے گل بوٹے نہیں ہوتے اور ایسا سچ سمجھوتے کا حصہ ہوتا۔ ”نہ خوش ہو گے نہ پژمردہ رہو گے“ ۔ زہرہ آپا کی برسوں پرانی سوچ آج بھی ہماری جنریشن ذی کی سمت بہتر کرنے کا پیش خیمہ بنتی۔ ہم انھیں اسی بات پر لاتے کہ زندگی سچ اور جھوٹ کے درمیان، خوشی اور پژمردگی کے درمیان ہوتی اور گزرتی۔

زہرہ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا۔ زہرہ آپا نے اس نظم کو اک ساگا کہا، اک پورے زمانے کا ۔ زہرہ آپا کو میں نے کہا کہ مجھے لگتا اور میں غلط بھی ہو سکتا کہ اس نظم میں آپ نے اس امر کی نفی کہ ہے کہ ہمیں اپنی ویل بینگ اپنے رشتوں اور ارد گرد کے لوگوں میں ڈھونڈنی چاہیے۔ سیلف ریلائنس اور اپنی ذات کے اندر اپنی ویل بینگ ڈھونڈنے پر اصرار لگتا۔ اور یہی بریک اپ کے بعد کلائیاں کاٹ کر آنے والے نوجوانوں سے میری بات چیت کا محور بھی ہوتا۔

”اب جان کے اس نے یہ انداز بنایا ہے، ہر چیز بھلاوے کے صندوق میں رکھ دی، اور آسانی سے جینے کا اچھا یہ طریقہ ہے۔“ کمزور نفسیاتی ڈیفنسز، اپنی بے چینی کم کرنے کا غیر صحت مند طریقہ۔ بھلاوے کے صندوق میں پڑی ان پروسیسڈ یادیں اور ٹراما ربڑ کی گیند کی طرح ذہن کی دیواروں سے ٹکراتی رہتی ہیں اور نفسیاتی عارضوں کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ میچور ڈیفنسز اور زندگی کے مسائل کی طرف بہتر اور سائنٹفک اپروچ ہی مسائل کو محدود کر سکتی، حل تو خیر وہ کیا ہی ہوتے۔

یہی بات نئی نسل کو بھی ہم سکھاتے۔ کمزور ڈیفنسز کا بے جا استعمال اور اپنی اور ارد گرد کے لوگوں کی زندگی مشکل میں رکھنا ہرگز نیو نارمل نہیں۔ اس نظم سے دو سبق میں نے لئے۔ پہلا یہ کہ نئی نسل کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ شوہر، بیٹے، بھائی بہن اور ماں سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اپنے کھلائے ہوئے پھول ہی کئی دفعہ باتیں کرنے کے کام آتے ہیں۔ آپ اپنی ذات میں مطمئن تو ہی دوسروں کے کام کے ہیں۔ لہذا اپنے اوپر کام کریں۔ پہلے آپ کی ویل بینگ اور پھر باقی سب کچھ۔ دوسرا سبق ماں، باپ اور اساتذہ کے لئے۔ ”بڑھتے ہوئے بچوں پر کھلتی ہوئی دنیا ہے، اور کھلتی ہوئی دنیا کا ہر باب تماشا ہے، ماں باپ کی صورت تو دیکھا ہوا نقشہ ہے، اور دیکھے ہوئے نقشے کا ہر رنگ پرانا ہے“ ۔

جنگلوں کا دستور، اشرف المخلوقات اپنے نیچے والوں سے بھی نیچے چلا گیا ہے۔ زہرہ آپا نے بتلایا کہ جنگلوں کے قانون والا محاورہ ان کے مشاہدے اور پھر نظم کا سبب بنا۔ انہوں نے وہ ساری باتیں جو نظم میں لکھیں جانوروں اور پرندوں کے متعلق، دراصل ان کا مشاہدہ اور اس میں سے پھوٹنے والی امیجری ہے۔ ایک بزرگ شکاری نے انہیں آنکھوں دیکھا حال بتایا کہ بھرے پیٹ والے شیر کے سامنے سے ہرن گزر جاتا ہے اور وہ نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔

مچھلیوں میں ریسزم نہیں ہوتا۔ وہ پانی میں آ جانے والی کسی بھی شے کو دوست ماننے میں دیر نہیں لگاتیں۔ طوفان مختلف سرشت کے جانوروں کو تو ایک تختے پر لے آتا مگر انسانوں کو نہیں۔ اس رویے کے جینز اور عملی مظاہرے نئی نسل میں بہم منتقل ہو رہے ہیں اور ان کی انفرادی اور اجتماعی بے چینی کا سبب بن رہے ہیں۔ اسی لئے زہرہ آپا خداوند سے دعا کرتیں کہ جنگلوں کا قانون نافذ ہو جائے تو شاید جنریشن ذی کو بہتر سمت مل جائے۔

حقیقت مگر اس کے برعکس 88 برس سے اوپر معاشرے کا چلن دیکھنے کے بعد زہرہ آپا کو یہی لگتا کہ معاشرے کا چلن یونہی رہے گا بلکہ مروجہ اخلاق کے معیار پہ پرکھیں تو اور تنزلی ہی آئے گی۔ فراوانیاں اور آئیں گی مگر انسان فکری طور پر نیچے گرتا چلا جائے گا۔ ایک دوسرے کو نہ جاننا اور نہ ملنا نارملائز ہوتا چلا جائے گا۔ انحطاط کی انتہا یہ ہے کہ اب بھی ایک کمرے میں بیٹھے کئی لوگ گھنٹوں بات نہیں کرتے۔ رابطے ٹیلیفون تک محدود ہو گئے ہیں۔

زہرہ آپا نے اپنے گرینڈ چلڈرن سے اپنے رابطے کو بھی بیشتر فون تک ہی محدود بتایا۔ ”سب گڑبڑ ہو گئی۔ احساس مروت کو کچل دیا آلات نے۔ چاند پہ پہنچ کر بھی کیا ہو گا۔ وہاں بھی پلاٹنگ ہو گی؟ لڑائی جھگڑے ہوں گے“ ؟ سفید بالوں والی دانا و بینا خاتون مجھ کم عقل سے کیسے سوال کر رہی تھی؟ مجھ تک ان کی نسل نے یہ گرتی ہوئی اقدار ہی پہنچائیں اور میری نسل بھی اس انحطاط میں اپنا حصہ ڈال کر آگے پہنچا رہی ہے۔ زہرہ آپا نظم کے آخر تک آتے آتے غیر سائنسی ہو گئیں۔ دیکھی ہوئی مخلوق سے اتنی مایوس کہ ان دیکھے سے فریاد کر رہیں کہ وہ دستور و قانون کو الٹ ڈالے۔

اگر تم کہو تو میں وہ ساری باتیں ہواؤں سے کہہ دوں۔ مہناز نے امر کردی یہ نظم۔ بات پھر جنریشن ذی پہ آئی جن کو مائنڈفلنس سکھاتے ہوئے فطرت کی ہیلنگ پاور پہ میں زور دیتا۔ زہرہ آپا سے یہی پوچھا کہ اس نظم کے پہلے دو بند پڑھ کر لگتا کہ فطرت انسان سے بڑھ کر انسان کی دوست ہو سکتی ہے۔ کیا ایسا ہے؟ جواب آیا کہ انسان کی انسان کے لئے اہمیت مسلم، مگر فطرت بھی اس کی بہترین دوست ہو سکتی ہے۔ اگلے وقتوں میں پریشانی کے وقت اور ذہنی بوجھ میں، کھلی ہوا میں سانس لینا ہی علاج ہوتا تھا۔

اب عمارات؛ دریا، بادل، ہوا سب کھانے لگی ہیں اور فطرت سے گفتگو رکنے لگی ہے۔ پھر بات آئی ”سمندر ہمارے جنوں کی علامت، سمندر ہمارے سکوں کا نشاں بھی“ ۔ یا یہ یا وہ نہیں بلکہ یہ بھی اور یہ بھی۔ اس بلیک اینڈ وائٹ جنریشن ذی کو ہم یہی سکھاتے۔ ”سمندر کہ طاقت بھی، وسعت بھی، ماں بھی“ ۔ بیک وقت تخلیق کی علامت بھی اور تخریب بھی۔ ایک تصویر کے کئی رخ ہوتے اور زندگی اسی تخلیق و تخریب کے درمیاں ہوتی ہے۔ زہرہ آپا کی جوانی کے زمانے کو یاد کیا۔

جوش صاحب کا بھی ذکر چھیڑا کہ اس عہد میں لوگ سیاہ و سفید کم سوچتے تھے اور درمیان کے رنگوں میں زندگی ڈھونڈتے تھے۔ اب کیا ہوا کہ ہمارے عہد کے جوان ”یا یہ یا وہ“ میں پھنس گئے ہیں۔ زہرہ آپا کے خیال میں وجہ وہی۔ ماں باپ کی تربیت کا انداز۔ دونوں کام کرتے ہیں، پیسے والوں کے ہاں نینی ہوتی ہے جو وقت تو ٹپا دیتی، تربیت رہ جاتی ہے۔ وہ گرے کے شیڈ جو ماں باپ دے سکتے ہیں وہ نینی نہیں۔ اگلے وقتوں میں ماں باپ سے بھی زیادہ ان کے ماں باپ یہ بیڑہ اٹھاتے تھے۔

اپنے نانا کے مغرب کی نماز کے بعد نیچے اتر کر دن کے اچھے کام کے استفسار کرنے کا اچھا قصہ سنایا زہرہ آپا نے۔ کہ جس کے پاس دن میں کوئی اچھا کام بتلانے کو نہیں ہوتا تھا، نانا کہتے تھے کہ ابھی جھارے میں پانی بھرو اور ایک پودے کو دے آؤ تو تمھارے دن کا ایک اچھا کام ہو گیا۔ ماضی کو یاد کر کے آپا کہنے لگیں کہ میری عمر میں مستقبل نہیں ہوتا، حال ”ڈانواں ڈول“ ہوتا ہے اور صرف ماضی ہوتا ہے۔ اب یہ چلن نہیں رہے۔ میں بہ حیثیت سائیکاٹرسٹ جتنا بھی جنریشن ذی کی اقدار کو نیو نارمل کہوں مگر اس سے مسائل بہرحال آرہے۔ نفسیاتی بھی اور معاشرتی بھی۔ لڑکے لڑکیاں کلائیاں کاٹ رہے، گولیوں کی اوور ڈوز کر رہے۔ گڑبڑ تو ہے۔ کہنے لگیں، ”بالکل ہے بلکہ بہت گڑبڑ ہے“ ۔

زہرہ آپا کا بہت وقت لیا مگر میری پسندیدہ نظم ابھی باقی تھی جو مجھ پر عمر کے کئی ادوار میں پرت در پرت کھلی۔ یو ٹیوب پہ مشاعرے کی ریکارڈنگ موجود ہے۔ بیسیوں بار سنا زہرہ آپا کے منفرد انداز میں۔ آخری سمجھ جو آئی تو اس پر زہرہ آپا سے اپنے تحفظات بھی شیئر کرنے تھے۔ نظم کا عنوان ہے ڈاکو۔ آپا نے بتایا کہ ان کے ساتھ پیش آنے والا سچا واقعہ اس نظم کا محرک بنا۔ واقعہ کراچی کے مکینوں کے لئے گو روٹین ہے۔ حسن سکوائر کے پاس موبائل سنیچنگ۔

لڑکوں نے ڈرائیور کو باہر نکالا اور زہرہ آپا کے کندھے پر پستول رکھ دیا۔ سترہ اٹھارہ سال کے بچے واردات میں مشغول اور ارد گرد کے لوگ اور چوکیدار دیکھ رہے۔ گاڑی، موبائیل، چوڑیاں اور پرس گیا۔ رکشے میں بیٹھ کر زہرہ آپا گھر آ گئیں۔ خوف سے نکلنے کے بعد زہرہ آپا نے یاد کیا کہ واردات کرنے والے بہت خوبصورت جوان تھے اور ان کے اپنے بچوں کی عمر کے تھے۔ سانحہ یاد کرتے کرتے زہرہ آپا نے نظم پڑھنی شروع کردی۔ ”کل رات میرا بیٹا میرے گھر، چہرے پہ منڈھے خاکی کپڑا بندوق اٹھائے آ پہنچا، نوعمری کی سرخی سے رچی اس کی آنکھیں میں جان گئی، اور بچپن کے صندل سے منڈھا اس کا چہرہ پہچان گئی۔ اور لے بھی گیا ہے تو وہ کیا، لوہے کی بدصورت گاڑی، پیٹرول کی بو بھی آئے گی، جس کے پہیے بھی ربڑ کے ہیں، جو بات نہیں کر پائے گی، بچہ پھر آخر بچہ ہے ”۔ میں نے اپنی کم فہمی میں بڑا ڈائریکٹ سوال داغا،“ زہرہ آپا آپ لوگ پھر نئی نسل کو ڈاکو سمجھتے ہیں؟ جواب آیا، ”نہیں ڈاکو نہیں سمجھتے، نئی نسل کو جو ڈاکو بنانے پر مصر ہیں، ان سے بات کرنی چاہیے۔ کیوں بنیں وہ ڈاکو؟ اور اگر وہ بن بھی رہے ہیں تو کیا کریں، مقابلے زندگی میں اتنے ہو گئے ہیں، شرافت کا معیار اشیاء ہو گئی ہیں۔”

میں نے پھر لقمہ دیا کہ مجھے جو سمجھ آئی ہے کہ جنریشن ذی پرانی نسل سے اقدار نہیں لینا چاہتی، صرف اشیاء لینا چاہتی ہے۔ جواب آیا،“ ایگزیکٹلی ”۔ پھر میں نے اس نظم کا اپنا پسندیدہ حصہ پڑھنا شروع کیا تو زہرہ آپا بھی ساتھ پڑھنے لگیں۔ “ جو کچھ بھی سینت کے رکھا تھا میں ساری چیزیں لے آئی، اک لعل بدخشاں کی چڑیا، سونے کا ہاتھی چھوٹا سا، چاندی کی اک ننھی تختی، ریشم کی پھول بھری ٹوپی، اطلس کا نام لکھا جزدان، جزدان میں لپٹا اک قرآن، پر وہ کیسا دیوانہ تھا، کچھ توڑ گیا کچھ چھوڑ گیا ”۔

ساتھ ہی گویا ہوئیں کہ ”اسے تہذیب نہیں چاہیے تھی، اسے اپنے بچپن کی باتیں نہیں چاہیے تھیں، اسے مذہب نہیں چاہیے تھا، اسے خوش نمائی نہیں چاہیے تھی۔ اسے تو گاڑی چاہیے تھی، طاقت کا سمبل۔“ بچہ پھر آخر بچہ ہے۔ ”اس مصرعے میں زہرہ آپا نے کہا کہ ان کی مامتا ہے جبکہ مجھے مثبت پہلو نظر آیا کہ ابھی جو بچہ ہے، شاید آگے چل کر سمجھدار ہو تو ترجیحات پر غور کرے۔ آخری بات زہرہ آپا سے یہی کی اس نظم سے متعلق اور جنریشن ذی سے متعلق جو میں سب والدین سے بھی کرتا۔

آپ اس نسل کی گاڑی، ربڑ کے پہیوں اور پیٹرول کی ضرورت کو سمجھیں اور ان کے حصول کو اس معاشرے میں یقینی بنائیں تو وہ لعل بدخشاں کی چڑیا، سونے کا ہاتھی، چاندی کی تختی، ریشم کی ٹوپی اور جزدان میں لپٹی کتب میں بھی دلچسپی لیں گے۔ ان کے نیو نارمل کو کچھ جگہ دیں تو وہ آپ کی اقدار کی جگہ بھی اپنی زندگی میں بنائیں گے۔ اس فرکشن کو بڑھانے کے بجائے بڑے پل بنیں گے تو ہی نئی نسل اور معاشرے میں ٹھہراؤ آئے گا۔

Facebook Comments HS