چھ معصوم لاشیں اور لاقانونیت
پچھلے دنوں لاہور ڈیفنس میں ایک گاڑی کی ٹکر سے ایک ہی گھر کے چھ افراد کے قتل کی خبر نے دل دہلا کر رکھ دیا۔ ایک کمسن لڑکے نے پہلے فیملی کو ہراساں کیا اور بعد میں 160 کلومیٹر کی سپیڈ سے اپنی گاڑی سے دوسری گاڑی کو ٹکر مار دی۔
جب قانون کو سرعام پامال کیا جاتا ہے تو قانون اسی طرح سے معاشرے سے بدلہ لیتا ہے۔ جب بھی قانون کو توڑا جائے گا تو اس کا نتیجہ اس طرح کے خطرناک واقعات کی صورت میں نکلے گا۔ قانون ایک معاشرے کی اجتماعی دانش کا مظہر ہوتا ہے جس سے اس معاشرے کو ایک مہذب طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بالکل جائز مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس لڑکے کے والد کو بھی شامل تفتیش کیا جائے جس نے ایک کمسن لونڈے کے ہاتھ میں گاڑی کی چابی دے رکھی تھی۔
یہ بطور معاشرہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کس طرح کی تربیت دے رہے ہیں۔ یہ کیسی تربیت ہے جس میں ایک بچہ فلمی سین کرتے ہوئے اپنی ہیرو پنتی میں ایک خاندان کے چھ معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔
اس سب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھی مکمل طور پر نا اہلی شامل ہے۔ ظاہری بات ہے کہ کم عمر افنان کوئی پہلی دفع تو گاڑی چلا نہیں رہا تھا اور اگر اسے پہلے دن سے ہی کم عمری میں گاڑی چلانے کے جرم میں قانون کا سامنا کرنا پڑتا تو آج چھ معصوم انسانوں کی جان بچ جاتی۔ کیا اس سے پہلے اس لڑکے کو کبھی چالان کیا گیا یا کوئی قانونی ایکشن لیا گیا؟ کیا کم عمر بچے کو گاڑی چلانے پر صرف چالان ہی کرنا چاہیے یا اس سے سخت سزا کے تعین کرنے کی ضرورت ہے؟
کاش کہ جب کبھی کمسن افنان پہلی دفع روڈ پر گاڑی لے کر نکلا ہو گا تو اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے فوراً حرکت میں آئے ہوتے، کاش جب کبھی پولیس نے اسے پہلی دفعہ روڈ پر روکا ہو گا تو اس وقت اس کے والد یا فیملی کے کسی با اثر شخص نے فون پر اس کو نہ چھڑوایا ہوتا اور کاش پولیس نے بھی سفارش کرنے والے شخص کو یہ کہہ کر انکار کیا ہوتا کہ سوری ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے کیو نکہ اس نے قانون کو توڑا ہے اور قانون کو توڑنے والے کے لئے قانون میں کوئی معافی نہیں ہوتی۔ کاش اگر ایسا کیا ہوتا تو آج ہمیں ایسا دن نہ دیکھنا پڑتا۔
بحیثیت ایک قوم ہم حادثات کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں۔ ہم ایک حادثے سے نکل کر دوسرے حادثے تک جا پہنچتے ہیں۔ جب ایک حادثہ وقوعہ پذیر ہو جاتا ہے تو ہم سب تلملا اٹھتے ہیں۔ اب خبر آ رہی ہے کہ لاہور بھر میں کم عمر اور بغیر لائسنس والے ڈرائیوروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور اس ضمن میں ہزاروں چالان کاٹے جا چکے ہیں۔ اب یہ ڈراما رچا کر کیا ہم ان چھ انسانوں کو واپس لا سکتے ہیں؟
ہم بطور معاشرہ اس عمل کے عادی ہو چکے ہیں کہ اس طرح کا کریک ڈاؤن وقتی ہوتا ہے اور چند دنوں کے بعد سب کچھ دوبارہ سے پرانی روٹین پر چلا جائے گا جہاں پھر سے کم عمر ڈرائیو ر، اوور سپیڈ یا بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔ افسوس کی بات ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اتنے کمزور ہیں کہ انہیں بھی یہ کہہ کر سہارا لینا پڑھتا ہے کہ سر کچھ دن گزارا کرو ابھی وہ لاہور ڈیفنس والے وقوعہ کے بعد سے بہت سختی ہوئی ہے، وزیراعلٰی صاحب نے نوٹس لیا ہوا ہے۔
ماضی قریب میں جب انسانیت سوز ساہیوال پولیس انکاؤنٹر وقوعہ پذیر ہوتا ہے تو پولیس ریفارمز کی بات ہوتی ہے لیکن چند دن کے بعد سب بھول گئے اور کوئی اصلاحات نہیں لائیں گئیں، پشاور اے پی ایس اٹیک کے بعد سب ادارے ہائی الرٹ ہوئے اور دہشت گردوں کے خلاف جامع آپریشنز کیے گئے لیکن آج وہ پھرتی نذر نہیں آتی، جب لاہور موٹروے پر ایک ڈکیت ایک عورت کی عصمت کو پامال کرتا ہے تو وقتی شور شرابا ہوتا ہے کہ نئی قانون سازی سے ریپ کرنے والے درندوں سے مردانگی چھین لی جائے گی لیکن آج سب بھول کر نئے حادثے کے انتظار میں ہیں، مینار پاکستان پر جب ہجوم ایک ٹک ٹاکر سے بدتمیزی کرتا ہے تو عورت کے حقوق کے تحفظ کی بات ہوتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ سب بھول جاتے ہیں۔
ہمارے اداروں اور ہم سب کو چاہیے کہ قانون کی پاسداری کو ہر حال میں یقینی بنائیں۔ کسی حادثے کا انتظار کیے بغیر ہمیں عام حالات میں بھی ہر لمحہ قانون پر عمل پیرا رہنا چاہیے۔ اس ضمن میں قانون پر عمل کرنے کے فوائد کے متعلق ایک مضمون ہمارے بچوں کے سلیبس کا پہلی کلاس سے حصہ ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں لیکچرز اور وڈیو گیمز کا بھی احتمام کیا جانا چاہیے۔ ایسا کرنے سے نئی نسل کی قانون سے محبت بڑھے گی۔
جس دن ہم سب اشارے پر اس لئے نہیں کہ پولیس والا کھڑا ہے بلکہ قانون کی پاسداری کے لئے رکنا شروع کر دیں گے اور ہم میں احساس پیدا ہو جائے گا کہ اب دوسری سائیڈ پر کھڑے ہمارے بھائی جن کو گرین سگنل اشارہ دے رہا ہے کہ اب چوک کراس کرنے کا قانونی حق آپ کا ہے تو اس دن ہم قانون کی پاسداری کرنے والا ایک مہذب معاشرہ بن جائیں گے۔ قانون کی عزت کرنے سے قانون ہما ری عزت کرنا شروع کر دے گا اور ہمیں اس طرح کے انسانیت سوز واقعات سے ہمیشہ کے لئے نجات مل جائے گی۔



Mashaa Allah
Very Good
Outstanding