مخالفین میں گھری بہادر شیرنی: شیما کرمانی


کئی سال قبل کراچی میں شیما کرمانی سے میری پہلی ملاقات دو دوستوں کی مہربانی کا ثمر تھی۔ ایک تو عزیز دوست ڈاکٹر شیرشاہ سید، جنہوں نے پہلے ہی شیما سے میرا غائبانہ مختصر تعارف کروا دیا تھا کہ میری دوست گوہر تاج اردو ٹائمز کے لیے آپ کا انٹرویو کرنا چاہتی ہیں۔ اس زمانے میں امریکہ کا مشہور اخبار اردو ٹائمز میری قلمی مشق کا ہفتہ وار شکار تھا۔ دوسری میری بہت مہربان دوست مہناز رحمان۔ جن کا ہمیشہ میرے ساتھ وہی سلوک رہا ہے جو کسی بہن نما دوست کا ہو سکتا ہے۔ اس موقع پہ احفاظ بھائی، ان کے مرحوم شوہر کا یادگار جملہ لکھنا چاہوں گی۔ جب میں امریکہ سے ان سے ملنے گئی تھی۔ اور وہ طبیعت خرابی کے سبب گھر پہ ہی تھے۔ دوپہر کے کھانے کا اہتمام تھا اور پھر مجھے مہناز کے ساتھ معاشیات کے موضوع پہ قیصر بنگالی کے ساتھ ہونے والے پروگرام کے لیے پریس کلب جانا تھا۔ احفاظ بھائی مجھ سے کہنے لگے۔ ”آپ بہت خوش نصیب ہیں۔“ میں نے حیرت سے سوالیہ انداز میں انہیں دیکھا۔ وہ کہنے لگے۔ ”مہناز نے آج تک کبھی ملازمت سے چھٹی نہیں لی۔ آج پہلی بار آپ کے لیے لی ہے۔“ تو یہ یقیناً مہناز کی ایک اور مہربانی تھی کہ پہلے تو مجھے اپنے ساتھ عورت فاونڈیشن کے آفس لے گئیں اور پھر اپنی کار اور ڈرائیور کے ہمراہ شیما کرمانی کے گھر انٹرویو کے لیے بھیجا۔

کلاسیکی رقص کی گرو، بہترین فنکارہ، ہدایت کارہ اور انسانی حقوق بالخصوص عورتوں، بچوں اور کمزوروں کے حقوق پہ ہمہ وقت آواز اٹھانے والی شیما سے اس بھرپور اور طویل انٹرویو میں مجھے ان کی مضبوط، بھرپور اور شاندار شخصیت کا شدت سے احساس ہوا۔ معمولی کپڑوں میں ملبوس، میک آپ سے عاری، اپنے دلکش سراپے کے حسن سے بے نیاز، با اعتماد شیما کرمانی۔ حالانکہ ان کے سادہ سے کتابوں اور تصویری آرٹ سے مزین مختصر گھر کا ایک کمرہ جہاں وہ ڈانس سیکھنے والی شاگردوں کو تربیت دیتی ہیں، کی ایک دیوار، قد آدم آئینہ سے آراستہ ہے۔ آئینہ جو یقیناً ان کی کلاسیکی رقص کی شاگردوں کی معاونت کرتا ہو گا۔ خود شیما کو کسی آئینہ کی ضرورت نہیں۔ ان کی شخصیت اتنی بھرپور ہے انہیں خود ستائی اور دنیا کو اپنے درپن دکھانے کے لیے ذات کے کسی آئینے کی طمع نہیں۔ اور نہ ہی اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پہ بیانات داغنے اور فیس بک پہ مداحوں کی فوج کھڑی کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ کہ شور مچانے کا کام تو خالی برتنوں کا ہوتا ہے۔

دنیا کی شو شا سے پرے اپنی ذات میں مطمئن لیکن اپنے فن کے حوالے سے سماجی بہتری کے کاموں کے لیے بے چین شیما نے پہلی ملاقات میں ہی میرا دل لے لیا اور ہم نظریاتی سطح پہ دوستی کے ایک ایسے بندھن میں بندھ گیے کہ ہمیں بار بار ایک دوسرے کو اس کا یقین دلانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ہم دوست ہیں۔

پانچ سال قبل شیما نے میری معذوری پہ لکھی کتاب ”اجالوں کے سفیر“ میں شرکت کے لیے بہت محبت اور خوشی سے حامی بھری تو ہماری ایک عزیزہ نے اپنے اعتماد سے بھرپور لہجے میں کہا ”یہ لوگ (بڑے فنکار) وعدہ کرلیتے ہیں مگر آتے واتے نہیں۔“ جانے کیوں انہیں یقین تھا کہ شیما نہیں آئیں گی۔ میں نے کہا کہ ”اگر وعدے کے باوجود نہ آئیں تو ان کی مرضی۔ مجھے کوئی افسوس نہیں ہو گا۔“ گو یہ کہتے ہوئے مجھے پورا یقین تھا کہ میری دوستی کبھی بھی ان ”بڑے لوگوں“ سے نہیں ہو سکی ہے نہ ہوگی جن کا ذکر وہ اپنی گفتگو میں کر رہی تھیں۔ میری دوستی صرف خالص، اور سچے انسانوں سے ہی ممکن ہے۔ ایسے بڑے لوگ جن کا باطن اور ظاہر ایک ہوتا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں مگر اس تقریب میں آنے والی سب سے پہلی مہمان شیما تھیں جو آخری وقت تک بیٹھی رہیں اور بھرپور تقریر بھی کی۔

شیما کے آدرشوں نے انہیں عوام سے اس حد تک جوڑ رکھا ہے کہ دوسرے نعرے باز لیڈران ان کی سطح پہ کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ کس طرح ایک مشہور اسلامی جماعت کے مسلسل دھمکی آمیز نوٹ ان کے گھر آتے رہے ہیں جو ان کی جان کے درپے ہیں کیونکہ وہ رقص کرتی اور سکھاتی ہیں۔ جو اسلامی شرع کے خلاف ہے۔ غالباً اسی سوچ نے اس اسلامی جماعت کے پیروکاروں کو یہ حق بھی دے دیا کہ وہ شیما کی جان لے لیں۔ ان کے مخالف وہ بھی ہیں جو شیما کے سماجی تبدیلی کے نظریات سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اس طرح شیما اپنے ہی ملک میں اپنے نظریاتی دشمنوں میں گھری شیرنی کی مانند بہادر عورت ہیں۔ جو مسکراتی ہوئی اپنے نظریات پہ چٹان کی طرح کھڑی، سچائی اور حق گوئی کی پازیب پہنے رقصاں، فلک شگاف آواز میں نعرے لگاتی ہیں۔

ایسا ہی نعرہ انہوں نے حال میں جاری اسرائیل فلسطینی جنگ کے خلاف لگایا۔ شیما کو برطانوی ڈپٹی ہائی کمیشن میں منعقد ہونے والے ایک پروگرام سے اس وقت نکال دیا گیا جب انہوں نے غزہ، فلسطین کے متاثرین کی حمایت میں ایک اس وقت نعرہ بلند کیا جب شرکائے محفل ماحولیات میں تبدیلی کے بابت تقریر کر رہے تھے۔ انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے شیما نے کہا ”میرے دل میں آیا کہ اتنا بڑا جینوسائیڈ (قتل عام) ہو رہا ہے، دو منٹ کی سائیلنس (خاموشی) کال کر لی جاتی تو کیا فرق پڑ جاتا۔ آپ کلائیمٹ چینج (ماحولیاتی تبدیلی ) کی بات کرتے ہیں تو اس بات کا تو کوئی سینس نہیں بنتا کہ آپ اتنے بڑے قتل عام کو نہیں روک سکتے ہیں۔“ احتجاجاً شیما نے سلوگن اٹھایا۔ اور نعرے لگائے۔ جب ان کو گرفتار کرنے والا عملہ قریب آیا تو انہوں نے کہا ”مجھے ہاتھ مت لگانا۔ میں خود چلی جاؤں گی۔“

شیما نے نعرے لگائے وہ بھی عین ان مخالفین کے سامنے جو اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف سفاک جنگ کو جاری رکھنے کے حامی ہیں۔ حالانکہ اس وقت فلسطین کی آزادی اور اس قتل عام پہ تقریباً پوری دنیا سراپا احتجاج ہے۔ ماسوا سامراجی طاقتوں کے۔

ملک میں فوجی آمریت اور طبقاتی، مذہبی، اور جنسی تفریق کے خلاف نعرے اور احتجاج تو شیما نے ہمیشہ ہی کیا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے اپنے فن کو اپنی مزاحمت اور احتجاج کا ذریعہ بنایا ہے۔ رقص، شاعری، ڈرامہ، آرٹ، مصوری غرض وہ آرٹ سے ذاتی کمائی کے بجائے انسانیت کی بہتری کو اپنے دولت سمجھتی ہیں۔ ان کے مخالفین اور جانی دشمن وہ لوگ ہیں جو سماجی تبدیلی کے مخالف ہیں اور انسانیت کے بجائے محض اپنی ذات کا سوچتے ہیں۔ لیکن شیما بہادری سے اپنے فن کے اظہار میں مصروف ہیں۔ بقول ان کے ”فن جس کی کوئی زبان نہیں لیکن سب کو پہنچتا ہے۔“

Facebook Comments HS