کھلی آنکھوں کا خواب (11)


رات گئے نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ اپنے ہوٹل پہنچے تو پہلے سیدھا ڈائننگ ہال کی طرف گئے کہ بوفے کا وقت ختم ہو چلا تھا۔ اندر گئے، جلدی سے کچھ نمکین چیزیں لے کر میز پر آئے اور انہیں کہا کہ میٹھا چھوڑ کر باقی چیزیں اٹھا لیں۔ کھانا کھا کر اوپر آئے تو نماز پڑھ کر جلدی سونے کی کوشش کی کہ کل صبح یہاں سے بغداد جانا تھا۔ صبح روانگی کا وقت بتا کر عائشہ نے مژدہ سنایا۔ کہ کل بغداد جانے سے پہلے ایک بار پھر سلام کرنے روضۂ امام حسین پر جائیں گے۔ یہ سن کر میرے تومن کی مراد بر آئی کیوں کہ میرا دل چاہ رہا تھا کہ کاش ایک بار پھر ان مقدس مقامات کو دیکھ سکوں۔ پہلی دفعہ زیارت تو گنگ کر کے رکھ دیتی ہے۔ شدت جذبات سے دعائیں بھول بھول جاتی ہیں۔

اپنے کمرے کے دریچے سے سامنے شرائن کو دیکھا اور دل سے بے اختیار عائشہ کے لئے دعائیں نکلیں۔ بھئی دعائیں تو قدم قدم پر اپنے بچوں، بچوں کے بچوں، بہن بھائیوں بلکہ تمام دوست احباب کے لئے کرتی رہی ہوں۔ عائشہ کے لئے یوں کہ گزشتہ سال ہم عمرے پر گئے تو مدینہ پاک کے ہوٹل میں بڑے سے دریچے والا کمرہ ہمیں دے کر کہا، مجھے پتہ ہے میری ماں کو بڑی سی کھڑکی والا کمرہ اچھا لگتا ہے۔ اور یہ دیکھیں سامنے مسجد نبوی کا صحن نظر آ رہا ہے۔ پھر اس دریچے کے وہ دل نواز منظر یاد کرتی ہوں تو کیسی طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ کربلائے معلیٰ کے اس ہوٹل میں بھی ہمیں کمرہ پھر یہ کہتے ہوئے دیا، امی آپ کے اس کمرے کی کھڑکی سے سامنے دونوں مزاروں کی بتیاں نظر آ رہی ہیں۔

ہوٹل کی اٹھارہویں منزل سے سارا کربلا اور مزار دکھائی دیتے اور میں کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر دعائیں کرتی۔ چپکے چپکے سرگوشیاں کرتی۔ شکر ادا کرتی اور سوچتی کہ اس صحرا، اس زمین کرب و بلا کو کس نے ایسے آباد کیا۔ جگہ جگہ ہوٹل اور آبادی نظر آتی ہے۔ دنیا بھر سے سال بھر لوگ کربلائے معلیٰ کا سفر کرتے ہیں۔ میں دریچے سے لگی یہ اور بہت کچھ سوچ رہی تھی کہ نسیم نے آواز دی کہ چلو ناشتہ کر آئیں۔ ہم ناشتہ کر کے نیچے آئے۔ احمد منیجر سے باتیں کرنے لگے تو مجھے اس خوبصورت لابی میں بہت بڑی دیواری پینٹنگز کو تسلی اور قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

اللہ کے ننانوے ناموں کو بہت شوخ رنگوں کے ساتھ عمدگی سے لکھا گیا تھا۔ ہم نے اسمائے حسنیٰ کی اس خوب صورت پینٹنگز کے ساتھ تصویریں بنائیں اور کربلا کے اس ہوٹل پر الوداعی نگاہ ڈال کر گاڑی میں آ بیٹھے۔ کربلا کا تصور میرے ذہن میں لق و دق صحرا کا تھا۔ ایسے شاندار ہوٹل، عمارات، دکانیں اور شاپنگ مالز ان تصورات کو پامال کر رہے تھے۔ اہل بیت کے شہیدوں کے پوتر لہو سے اس شہر کی آبیاری ہوئی اور یہ دنیا بھر کے لوگوں کی محبت کا مرکز بنا۔

ہم دو دن پیشتر رات کو آئے تھے۔ اب دن کی روشنی میں تمام اہم تاریخی مقامات کو دیکھ رہے تھے۔ گاڑی کے اندر خنکی تھی مگر باہر تیز چمکیلی سرخ دھوپ دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ باہر کس غضب کی گرمی پڑ رہی ہے۔

قادر ہماری معلومات میں اضافہ کیے جا رہا تھا۔ پہلے دن ہم دوسرے راستے سے اور دوسرے دروازے سے داخل ہوئے۔ ہم پہلے عباس علم دار کے روضے پر گئے۔ پھر صحن عبور کر کے روضہ امام حسین پر گئے اور آج ہم یکسر مختلف راستے سے داخل ہوئے۔ مختلف گلیوں محلوں سے ہوتے ہوئے ایک طرف قادر نے اشارہ کیا کہ اس طرف وہ نہر تھی جہاں حضرت عباس مشکیزہ بھرنے آئے تھے۔ اب یہ نہر خشک ہو چکی ہے۔

جگہ جگہ پولیس کے ناکے لگے ہوئے تھے۔ ان سے گزر کر آگے آئے تو ایک شیڈ کے نیچے قالین بچھے ہوئے تھے اور کالی عباوں میں مستور خواتین نوافل پڑھنے میں مصروف نظر آئیں۔ اس جگہ بی بی زینب نے دعا کی تھی۔ اس سے پیشتر ایک جگہ کے بارے میں بتایا گیا کہ پہلے یہاں پہاڑی تھی جس پر چڑھ کر بی بی زینب نے امام حسین کو پکارا تھا۔ گو اب پہاڑی معدوم ہے۔ ایک اور گلی کا موڑ مڑا تو سامنے اشارہ کیا کہ یہاں امام مہدی آئیں گے۔

باہر شدت کی گرمی تھی اور کھلے شیڈ کے نیچے خواتین بی بی زینب کی یاد میں نوافل پڑھتی اور اشکوں کے نذرانے پیش کر رہی تھیں۔ زینب دختر علی و زہرا بتول کربلا کا مضبوط کردار مشکل ترین حالات میں ہمت و استقامت کا کوہ گراں جس کے نکاح میں حضرت علی نے یہ شرط لکھوائی کہ حسین کو ضرورت ہو تو زینب اس کے ساتھ سفر کرے گی۔ وعدے کے مطابق زینب کو نہیں روکا گیا اور اس نے بھائی کے ساتھ سفر کیا اور کربلا کے مشکل لمحوں میں سب کی ڈھارس سب کی ڈھال بنی رہیں۔

ذہانت، فطانت جرات اور خطابت میں علی کا پرتو۔ محبت، شفقت، قربانی و ایثار میں خاتون جنت کی نظیر۔ ایثار و قربانی اور محبت کی اس سے بڑھ کر کیا مثال ہوگی کہ عون و محمد دو کمسن بیٹے بھائی پر قربان کر دئے اور ایسے کہ پھر ان کا ذکر نہیں کیا۔ ان پر نوحہ نہیں کیا۔ کسی نے پوچھا، ان دو معصوموں کا کوئی وارث نہیں۔ آپ نے جواب دیا، بھائی پر صدقہ کر دئے اور صدقہ کرنے والی چیز کا ذکر نہیں کرتے۔ واقعہ کربلا میں زینب ایک ایسا مضبوط نسائی کردار ہے جس کی کوئی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ نسائیت اس پر جتنا بھی ناز کرے کم ہے۔

میں نے اپنے جذبات و احساسات کو نثری نظم میں کچھ یوں بیان کیا۔
زینب فخرالنسا
واقعہ کربلا نہیں صرف واقعہ
اس کے اندر کئی اسباق، کئی پرتیں
عورت کی تکریم، اس پر اعتماد
اس شہادت کی خبر برسوں پہلے
صاحب نہج البلاغہ نے وقت عقد زینب،
لیا عہد داماد عزیز سے
کہ وقت آزمائش زینب بنے گی دست وبازوئے حسین
شامل ہوگی قافلہ حسین میں
باب علم نے کیا توقیر بخشی دختر فاطمہ کو
کیا عزت دی خواہر حسنین کو
کیسا بھر پور اعتماد اور بھروسا
کہ ہر آزمائش و ابتلا میں پوری اترے گی زینب
زینب محبت، شجاعت، جرات کا استعارہ
حسین کی خواہر گراں مایہ
جس کی فہم و فراست پر بھائی کو بھی اعتماد
جب آیا عطائے وقت علم
سب مشتاق اور بے تاب
کہ کس کے حصے میں آتی ہے یہ سعادت
کہ دیتے ہیں شہ کربلا کس کو علم
اور شہ دیں دیتے ہیں اختیار زینب کو وہ جس کو موزوں سمجھے دے اسے علم
اللہ اللہ ایک مشکل گھڑی میں، اہم فیصلہ
اور دختر علی، خواہر حسین ذہین و فطین
نگاہ انتخاب بردار عباس
جرات و ہمت میں مثل شیر خدا
حسین دیتے ہیں علم عباس کو
یہ کہتے ہوئے کہ یہ فیصلہ بہن کا ہے
یہ افتخار، یہ مسرت و اطمینان
عباس علمدار اور شجاعت بے مثال
تاریخ ثبت کرتی ہے کہ ہے
بے نظیر
زینب کا انتخاب، عباس علمدار
محراب و منبر پر بیٹھنے والو!
کبھی واقعہ کربلا میں عظمت نسا بھی دیکھو
بیٹیو اور بہنو کو کمتر سمجھنے والو!
بیٹی اور بہن کا مقام پہچانو سمجھو
پھر آتی ہے شام غریباں اور ظلم و ستم کی انتہا
پیاروں کی سر بریدہ لاشیں، جلے ہوئے خیمے،
نہتی عورتیں اور کم سن بچے
زینب کے دل پر کتنے پیاروں کے زخم جدائی
دوسری طرف بدمست یزیدی افواج
ایسے میں سینہ سپر زینب
صبر کا کوہ گراں، ہمت و جرات کا نشاں
لٹے ہوئے غمزدہ قافلے کی میر کارواں
صابرہ، مجاہدہ سب کا حوصلہ بڑھاتی ہوئی
بیبیوں کے بے ردا سروں پر اک سائباں کی طرح
سوئے شام ہے رواں
شام کا دربار، یزید اور اس کے کاسہ لیس
پھر جو زینب نے کھولی زباں
دریائے فراست رواں
سب کو یاد آئے شیر خدا
گرجتی برستی للکارتی شیرنی
فتح و شکست کے معنی بدلتی ہوئی
علی کے لہجے، علی کے انداز میں
یزید کی طاقت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے
جو خطبہ زینب نے دیا
وہ جرات اظہار ہے
جرات کردار ہے
زینب فخر النسا
محراب و منبر پر تشریف فرما واعظو!
کبھی خطبہ زینب کی تشریح کرو
بیٹیو، بہنو کی آوازیں دباتے ہوئے
کبھی خطبہ زینب کی صدا سنو
زندگی کا قرینہ، طریقہ بدل جائے گا
دانش فکر، حریت فکر، جرات اظہار کا استعارہ
دختر زہرا و علی، خواہر حسنین
زینب فخر النسا کو پہنچے ہمارا سلام
(جاری ہے )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments