جنرل الیکشن اور پارٹیوں کی صف بندی


پاکستان میں نئے انتخابات کے لئے آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کی تاریخ سپریم کورٹ کے روبرو طے ہو چکی ہے۔ چیف جسٹس نے اس تاریخ کو لوہے پر لکیر قرار دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے اس تاریخ پر با اثر حلقے بھی متفق ہوئے ہیں تب جا کر الیکشن کمیشن اور صدر پاکستان نے اس تاریخ پر اتفاق کیا۔ چونکہ ریاست کے تمام ادارے پنجاب میں بروقت الیکشن کروانے میں ناکام رہے تھے اس لئے اب عام انتخابات کو بغیر کسی جواز کے التوا میں ڈالنے پر کوئی مصر نہیں ہوا اس کی بجائے سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے علاوہ پی ٹی آئی کہیں بھی اپنی طاقت دکھانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ اصل معرکہ پنجاب میں ہوتا آیا ہے۔ مرکز تک اقتدار میں پہنچنے کی سیڑھی پنجاب ہے۔ جہاں سے پی ٹی آئی کے کثیر تعداد میں لیڈران جماعت چھوڑ کر جوق در جوق استحکام پارٹی میں جا چکے ہیں۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے پاس طاقتور امیدواروں کی کمی دکھائی دے رہی ہے۔ جو بچے کھچے لیڈران ہیں وہ انڈر گراؤنڈ ہیں اور ان کے الیکشن لڑنے کے امکانات بنتے نظر نہیں آتے۔

جنوبی پنجاب کے الیکٹیبلز کی بھاری تعداد دوبارہ نون لیگ میں جانے کے لئے تیار بیٹھی ہے بس نواز شریف کی طرف سے سگنل ملنے کا انتظار ہے۔ نون لیگ اس مخمصے میں ہے کہ وہ اپنے پرانے وفادار ساتھیوں کو ٹکٹ دے یا ان نئے آنے والے الیکٹیبلز کو ٹکٹ دے جو ہمیشہ ہوا کا رخ دیکھ کر مائل بہ پرواز ہوتے ہیں۔ نون لیگ اس حوالے سے اپنے طور پر سرویز کروا رہی ہے اور جہاں اس کو لگے گا اس کے اپنے امیدوار کمزور پوزیشن میں ہیں وہاں اس نے ان الیکٹیبلز کو ٹکٹ تھما دینے ہیں۔

بلوچستان کے الیکٹیبلز بھی اچانک مسلم لیگ نون کے عشق میں مبتلا ہو گئے ہیں اور انھوں نے کوئٹہ میں اپنے نئے لیڈر کی آمد پر اجتماعی شمولیت کی ہے۔ لگتا ہے نون لیگ کم ازکم سادہ اکثریت نکالنے کے لئے کسی حد تک جانے کے لئے تیار ہے۔ نہ صرف اپنے کئی وفادار لیڈروں کو ٹکٹ سے محروم کیا جا سکتا ہے بلکہ سابقہ اتحادیوں سے بھی فاصلے بڑھانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی جا رہی ہے جہاں سندھ میں پیپلز پارٹی کے مخالفین کو گلے لگایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بلاول بھٹو زرداری آگ بگولہ ہیں ایک تو ان کو اگلے وزیراعظم کا اپنا خواب ٹوٹتا نظر آ رہا ہے اور وہ اپنی ہی سابقہ حکومت جس میں وہ وزیر خارجہ تھے اس کی نا اہلی کو سامنے لا رہے ہیں ان کے لب و لہجے سے تو لگتا ہے کہ وہ مسلم لیگ نون کے مقابلے میں تحریک انصاف کو بھی گلے لگانے کو تیار ہیں۔

بلاول بھٹو پنجاب میں تحریک انصاف کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کی بات کر رہے تاکہ مسلم لیگ نون کو میدان صاف نہ ملے۔ خیبر پختونخوا میں جہاں تحریک انصاف کی مقبولیت عروج پر نظر آ رہی ہے اور وہاں اس پرا تنی سختی بھی نظر نہیں آ رہی جس طرح پنجاب میں ہے یا وہاں کا اپنا ایک کلچر ہے اور پولیس بھی ایک حد تک آگے جا سکتی ہے اس لئے وہاں سے نون لیگ جتنا ہاتھ پاؤں مارے۔ کیپٹن صفدر جتنی بھاگ دوڑ کر لیں وہاں سے سیٹیں نکالنا بہت مشکل ہو گا سوائے ہزارہ ڈویژن کے۔

مگر اصل فیصلہ پنجاب میں ہو گا۔ تحریک انصاف کیا حکمت عملی دکھاتی ہے۔ سوشل میڈیا سروے تو جو ہو رہے ہیں اس میں نون لیگ بہت پیچھے نظر آتی ہے مگر پنجاب میں دھڑے برادری پر بہت ووٹ پڑتا ہے اس لئے طاقتور امیدواروں کا ہونا ضروری ہے اس لئے پنجاب میں نون لیگ کے رہنماؤں کے ڈیروں پر رونقیں واپس آ چکی ہیں۔ لوگ اپنے کام کروا رہے ہیں۔ پنجاب میں اگر آپ لوگوں کے تھانے کچہری کے کام کروا سکتے ہیں تو آپ مضبوط پوزیشن میں ہوتے ہیں۔

پی ٹی آئی کا انحصار یوتھ پر ہے مگر ہمارے کلچر میں بزرگوں کی بات مان لی جاتی ہے۔ پیسہ اور طاقت الیکشن میں بھرپور رنگ دکھاتے ہیں۔ بظاہر نون لیگ سادہ اکثریت لینے کی پوزیشن میں آ چکی ہے مگر آخری کردار ووٹر کا ہو گا۔ جنرل ضیا کو پیپلز پارٹی کا توڑ کرنے کے لئے غیر جماعتی الیکشن کروانے پڑے تھے اس وقت یہ ممکن نہیں ہے۔ مشرف کا ماڈل کامیاب ہوا تھا جب مسلم لیگ نون کو توڑ کر کنگز پارٹی بنائی گئی تھی جس نے تھوڑے سے مارجن سے کامیابی حاصل کر لی تھی مگر تحریک انصاف کو توڑ کر استحکام پارٹی بنائی گئی مگر وہ چند سیٹیں لینے کی پوزیشن میں ہیں اس حوالے سے مسلم لیگ نون کو کہا جا رہا ہے کہ وہ استحکام پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرے۔

شاید مسلم لیگ نون کو بھی سادہ اکثریت بھی حاصل نہ ہو اور وہ حکومت بنانے کے لئے چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی مدد لینے پر مجبور ہو جائے۔ اس حوالے سے شاید نواز شریف کو کچھ تحفظات ہیں اور وہ واضح اکثریت لے کر اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف ان انتخابات کو پوری سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ سربراہ و بانی تحریک انصاف نے چیئرمین شپ سے بھی اس لئے اپنے آپ کو الگ کر لیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ان کی جماعت کے خلاف کارروائی کا کوئی بہانہ نہ مل سکے۔ وہ عوامی تائید اور اپنی مقبولیت پر انحصار کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے پی کے بعد پنجاب میں بھی سیاسی کمپین چلانے کے لئے پر تول رہی ہے۔ پنجاب میں اس کو عوامی ریسپانس کیسا ملتا ہے اور انتظامیہ اور پولیس کس طریقے سے پی ٹی آئی کو ہینڈل کرتی ہے۔ اگلے کچھ ہفتوں میں سامنے آ جائے گا۔

Facebook Comments HS