ننگے پاؤں
شیر کے کرتبوں کے بعد تھائی لینڈ کا ایک نوجوان جوڑا سرکس کے ایرینا میں داخل ہوا
سرکس کا وسیع خیمہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور اسی ہجوم میں، میں بھی محو تماشا تھا۔
دونوں نے پاؤں میں سکیٹس باندھے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں ہاتھ دیے گول ایرینا کا چکر لگا رہے تھے۔ پھر انہوں نے اس طرح ہاتھ تھام لئے جیسے ہمارے پنجاب میں لڑکیاں ککلی ڈالتے ہوئے پکڑتی ہیں اور سکیٹس پر ایک دائرے میں تیزی سے گھومنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد رکے اور تماشائیوں کی طرف اشارہ کر تے ہوئے دعوت دی کہ کوئی آئے اور شریک ہو جائے۔
ہجوم میں سے ایک دیوانہ اٹھا اور ایرینا میں داخل ہو گیا۔ وہ میں تھا۔
انہوں نے پھر ایک دوسرے کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھاما اور مجھے ان پر لٹایا۔ یوں کہ میری کمر کے درمیان ان کے بازو تھے، میں آدھا ایک طر ف اور آدھا دوسری طرف تھا اور میرا چہرہ خیمے کی چھت کی طرف تھا۔
اس حالت میں وہ اپنے پاؤں کے مرکزوں پر تیزی سے اسکیٹنگ کرنے لگے اور اپنی رفتار بڑھاتے چلے گئے۔ ابتدا میں تماشائی اور سرکس کا خیمہ مخالف سمت میں گھومتے نظر آئے مگر جب ان کی رفتار بہت بڑھ گئی تو سب کچھ رنگ برنگے دائروں میں ڈھل گیا۔ میں نہ جانے کہاں چلا گیا؟ ہوا میں، خلا میں یا کسی بلیک ہول میں۔ میں چیخ بھی نہیں سکا۔ انہوں نے مجھے کچھ دیر اسی کیفیت میں رکھا۔ پھر انہوں نے اپنی رفتار کم کی اور اور آہستہ آہستہ رک کر مجھے زمین پر اتار دیا۔ کچھ دیر میں زمین پر بیٹھا رہا، پھر اٹھا۔ ہجوم تالیاں بجا رہا تھا اور میں ایرینا سے باہر آ رہا تھا۔
قالین پہ اڑا ہوں ترے ساتھ بہت میں
اب تھک گیا ہوں مجھ کو مرے گھر اتار دے
مجھے اپنی زندگی اسی سرکس کی طرح لگتی ہے جس میں وقت سکیٹس باندھے مجھے اپنے بازؤں پر لٹائے تیزی سے گھوم رہا ہے۔
۔
پیدائش سے پہلے ہجرت
”تمہارے نانا عبدالعزیز بچی ونڈ امرتسر کی ایک چھوٹی سی مسجد میں امام تھے جب میری ماں مری تو میں چھوٹی سی بچی تھی۔
لوگوں نے تمہارے نانا کو سمجھایا بجھایا کہ بچی ابھی چھوٹی ہے تم دوبارہ شادی کر لو۔ اسے پالنے اور بڑی ہونے پر اس کا بیاہ کرنے میں آسانی ہو گی۔ اس پر وہ میرے لئے سوتیلی ماں لے آئے۔ تم جانتے ہو تمہاری نانی مہراں غصے کی کتنی تیز ہے۔ اس کی میری کبھی نہیں بنی۔
تمہارے نانا زمین میں وائی بیجی کرتے تھے، گھر سوکھا تھا، اپنی گائے تھی۔ میں جلدی سے جوان ہو گئی اور اتنی طاقت والی کہ ڈھائی من کی گندم کی بوری اٹھا کر گودام میں رکھ آتی۔
سکھ زیادہ تھے بچی ونڈ میں اور میرے تایا کے بیٹے خالق کی بڑی یاریاں تھیں ان کے ساتھ۔ سب مل جل کر رہتے۔ پھر نظر لگ گئی۔ لے کے رہیں گے پاکستان کے نعرے لگنے لگے۔ تارا سنگھ کہیں سے آ گیا اور سکھوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دشمنی جاگ اٹھی۔
میرے لئے رشتہ آیا تمہارے ابا کا۔ تمہارے ابا کی پہلی بیوی جوانی ہی میں مر گئی تھی۔ دواجو تھا مگر اولاد کوئی نہیں تھی۔ روزگار پہ تھا، جوان تھا اور شریف۔ میرے میاں جی نے ہاں کر دی اور وہ لوگ جلد ہی جنج لے کر آ گئے۔ اور میں لاہور آ گئی اسی گھر میں، میاں میر پنڈ میں۔
کوئی سات ماہ ہو گئے تھے تمہارا بوجھ اٹھائے ہوئے کہ تمہارے ابا مجھے میاں جی کے پاس چھوڑ آئے۔ ان دنوں رواج تھا کہ بیٹیاں اپنا بچہ زیادہ تر اپنے والدین کے ہاں پیدا کرتی تھیں۔ مجھے ابھی ایک ہی ماہ ہوا تھا کہ شور شرابا زور پکڑ گیا اور سکھ سب سے زیادہ ہمارے گھر کے دشمن ہو گئے۔
میاں جی نے تمہارے ابا کو پیغام بھیجا۔ وہ سائیکل پر آئے اور مجھے اس کے کیرئیر پر بٹھا کر راتوں رات بچی ونڈ سے لاہور لے آئے۔ پھر کچھ ہی دن ہوئے کہ پاکستان بن گیا۔ میں بہت روتی تھی اپنے میاں جی اور بھائیوں کو یاد کرتے۔
پر بھلا ہو رشتے میں میرے بھائی سراج دین کا۔ اس کی فوج میں واقفیت تھی۔ اس نے فوجی ٹرک کا بندو بست کرایا اور سب کو لینے انڈیا بھیج دیا۔ مگر جب ٹرک واپس آیا تو سب تھے پر میاں جی نہیں تھے۔ بڑے بھائی نے بتا یا کہ ٹرک چلنے لگا تو میاں جی اتر گئے کہ میری لوئی گھر رہ گئی ہے لے آؤں۔ سب نے روکا مگر نہیں رکے۔ ٹرک نے آدھا گھنٹہ انتظار کیا مگر وہ نہ آئے۔ سکھ وحشی ہو رہے تھے اس لئے ٹرک کو جلد آنا پڑا۔ کیا پتہ کیا ہوا ان کے ساتھ۔ ”
ماں کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ میں ان کے گلے سے لپٹ گیا۔ چھوٹا سا بچہ اور کیا کرتا۔ وہ اکثر یہ واقعات سناتیں اور ضرور روتیں۔
اچانک زمین سے دھمک سی آنے لگی۔ یہ اس امر کی نشانی تھی کہ ریل آ رہی ہے۔ ریلوے لائن ہمارے کچے گھر کے بہت قریب سے گزرتی تھی اور مجھے ریل دیکھنے کا بے حد شوق تھا۔ جوں ہی دھمک بڑھتی میں بھاگ کر چھت پر چلا جاتا اور آتی ہوئی اور پھر جاتی ہوئی ریل کو دیکھتا رہتا اور سوچتا کہ کیا میں بھی کسی دن اس میں سفر کروں گا۔ اور یہ تو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک دن منیر نیازی جیسا شاعر میری زندگی میں آئے گا اور وہ یہ دل دوز شعر کہے گا
صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا
اس دن بھی میں ماں کے سینے سے پیچھے ہٹا اور بھاگتا ہوا بانس کی سیڑھی چڑھنے لگا۔ اوپر سے تین ڈنڈے نیچے میرا پاؤں پھسلا اور میں سیڑھیوں کے نیچے رکھی سرخ پتھر کی سل پر سر کے بل آ گرا۔ جب دوسرے دن بھی ہوش نہ آیا تو تایا فیروز دین میرے بڑے ماموں حکیم عبد الحکیم کو بلا لائے جنہوں نے کچھ دوائیں میرے حلق میں چمچے سے انڈیلیں اور کچھ پڑھ کر دم کیا تو میں ہوش میں آیا۔ ان کے چھوٹے بھائی ماموں عبدالکریم بوائلر ٹیکنیشن ریٹائر ہوئے تو پرچون کی دکان کھول لی۔ ہم جب بھی انہیں ملنے جاتے وہ ہمیں رنگ برنگی میٹھی گولیاں کھانے کو دیتے۔ ہم بچوں نے ان کا نام ہی گولیاں والے ماموں رکھ دیا تھا۔ ان دنوں برانڈڈ گولیاں اور چاکلیٹ نہیں ہوتے تھے۔
۔
میں وہی ہوں مومن مبتلا
موسیقی کی لہریں مجھے بچپن سے گھیر لیتی ہیں اور ان کے سحر میں گم میں اس گراموفون کی یاد دل میں جگاتا ہوں جو ہماری ایک ہمسائی کے پاس تھا۔ سہ پہر کے وقت کسی پرانی گلو کارہ کی آواز ہماری نیچی کچی دیوار کو پھاند کر مجھے اپنے پاس بلاتی اور میرا جی چاہتا کہ کوئی مجھے دیوار پر بٹھا دے اور میں اس آواز کو اچھی طرح سنوں اور سوئی کو اس کی گرووز میں سے سر تلاش کرتے ہوئے دیکھوں (یہ میرا اب کا ایکسپریشن ہے ورنہ اس وقت تو حیرت ہی کم نہ ہوتی تھی کہ ایک سوئی کالے توے سے مل کر آواز کیسے پیدا کرتی ہے )
گلی نمبر 10 کے مکان نمبر 4 کے لکڑی کے دروازے سے بھاگ کر نکلتا۔ یہ دروازہ میرے تایا جی نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا جن کا شمار بہترین ترکھانوں میں ہوتا تھا اور وہ فوج کے مینٹنس ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔ بھاگتا ہوا میں گلی نمبر 10 کے دائیں جانب کے ڈیڈ اینڈ پر بنے ہمیشہ کھلے ترکھانوں کے دروازے سے داخل ہوتا۔ دوسری طرف سے باہر نکلتا تو سامنے مسجد تھی، ادھر سے دائیں مڑ کر پھر ایک اور دروازے میں داخل ہوتا۔ یہ ایک گلی سی تھی جس میں کچھ کمرے بنے تھے جہاں دو یا تین خاندان رہتے تھے۔ جب میں آخری کمرے تک پہنچتا تو ریکارڈ آدھے سے زیادہ بج چکا ہوتا۔ سانس کو بمشکل قابو میں رکھتے ہوئے خاموشی سے سنتا اور گراموفون سے ذرا ہٹ کر لٹکے ہوئے ایک پنجرے کو تکتا رہتا جس میں ایک باتیں کرنے والا طوطا بھی محو ہو کر اس گانے کو سن رہا ہوتا۔ مکان کی باسی خالہ کبھی مجھے دیکھتی اور کبھی طوطے کو اور پرانے چائے کے کپ سے چائے کی چسکیاں لیتی رہتی۔ بس وہیں سے مجھے موسیقی سے محبت ہوئی۔
آج اگر ذہن پر بہت زور دوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ آواز بیگم اختر کی تھی اور وہ غزل تھی مومن خان مومن کی جس کا مقطع مجھے اکثر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومن مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
میری تائی جی نور بیگم کے بہنوئی کبھی کبھی ان کے گھر رہنے آ جاتے۔ میں نے ان جیسا خوش پوش شخص اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ غلام حیدر نام تھا ان کا۔ ترنگ میں آتے تو اپنے بالوں کی لٹ اپنے ماتھے پر گرا کر گانے لگتے
اک پردیسی میرا دل لے گیا
جاتے جاتے میٹھا میٹھا غم دے گیا
اور جب میں پی ٹی وی سے منسلک ہوا تو کیسے کیسے پر بہار گانے والوں سے رفاقت رہی۔ (جاری ہے )


