کھلی آنکھوں کا خواب (بارہواں حصہ)


تھوڑا سا آگے گئے تو ایک عالی شان عمارت کے باہر گاڑی کھڑی کر کے اندر داخل ہوئے۔ منتظم مزاحم ہوئے کہ اس وقت ہم اندر نہیں جا سکتے۔ سفارت خانے کے لوگ آگے بڑھے۔ عربی میں انہیں سمجھایا۔ اتنے میں متولی یا مجاور منتظم جو بھی کہہ لیں آگے آئے۔ احمد سے مصافحہ کیا اور اہل کاروں کو اشارہ کیا کہ انہیں اندر جانے دیں۔ حیدر لپک کر وہیل چئیر اٹھا لایا کہ کافی ساری سیڑھیاں تھیں۔ کرسی پر بیٹھ کر نظر دوڑائی تو در و دیوار کی خوبصورتی اور شان و شوکت نے مبہوت کر دیا۔ حیدر تیزی سے وہیل چیئر چلاتا ہوا ہال میں داخل ہوا جو زائرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا مگر کوئی بدنظمی اور شوروغل نہ تھا۔ سب اپنی اپنی عبادت میں مصروف نظر آئے۔ رضا کار ایسے مستعد کہ انھوں نے لپک کر وہیل چئیر پکڑ لی اور آگے مزار کی طرف لے کر چلے۔

مزار کی طرف جاتے ہوئے دل کی حالت مت پوچھیں کہ آج دوبارہ اللہ کے فضل وکرم سے سید الشہدا کی زیارت اور سلام کا موقع مل رہا تھا جو جگر گوشۂ بتول و حیدر کرار اور نور العین خاتم النبین، نانا نے نام اور گھٹی دی۔ اپنی زبان اور لعاب دہن دیا جن کے رونے پر فرمایا کہ ان کے رونے سے میرے دل کو تکلیف ہوتی ہے۔ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ پھر فرمایا کہ یا اللہ جو حسین سے محبت رکھے توبھی انہیں عزیز رکھ۔

دوش محمد ﷺ پر سواری کرنے والے جنہیں دیکھ کر ایک صحابی نے کہا، کیا اچھی سواری ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ بھی تو دیکھو سوار کیسا ہے۔ فاطمہ اور علی کے لخت جگر حسین جنہوں نے نانا کی آغوش رحمت میں پرورش پائی۔ جبرئیل امین کو وحی لاتے دیکھا جو انہیں من و عن یاد ہوجاتی اور جاکر مادر گرامی کو سناتے۔ تو حسین سیرت و کردار میں نانا کا عکس جمیل کیسے نہ ہوتے۔ عبادت، ریاضت، سخاوت، شجاعت، جرات، عفو و درگزر، صبر و استقامت غرض جامع صفات و کمالات تھے۔ جس طرح آپ ﷺ کی رسالت جامع اور آنے والے تمام زمانوں کے لیے ہے، اسی طرح واقعہ کربلا بھی تا قیامت حق کا سچ کا پیام بر رہے گا۔

دوش محمد ﷺ کے سوار کے لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس یزید کی بیعت کر لے جس نے اسلام کا چہرہ مسخ کر کے رکھ دیا تھا۔ ادھر یزید کو ضد کہ امام حسین بیعت کریں۔ امام حسین کیسے بیعت کر سکتے تھے کہ اللہ کے ان عشاق کے قبیلے سے تھے جو بے خطر آتش نمرود میں کود جاتے ہیں کہ عقل محو تماشائے لب بام رہ جاتی ہے۔ مولانا مودودی کا ایک قول نقل کرنا چاہوں گی کہ سوال یہ نہیں کہ امام حسین نے بیعت کیوں نہیں کی، سوال یہ ہے کہ جب حسین نے بیعت نہیں کی تو باقی سب نے کیوں کر لی۔

ظلم و جبر کے خلاف استقامت سے کھڑے رہے۔ مگر آپ کا مقصد بغاوت یا جنگ کرنا نہ تھی۔ آپ بار بار مذاکرات کی دعوت دیتے رہے۔ افواج یزیدی کو یاد دلاتے رہے کہ وہ کون ہیں۔ کس کے نواسے ہیں مگر عہدوں کے پجاری اور مال و زر کی ہوس میں کسی کو کچھ سنائی نہ دیا۔ سوائے حر کے جو یزید کو چھوڑ کر حسینی خیمے میں آئے کہ

بر تر از سود و زیاں ہے زندگی
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل

ابراہیم علیہ السلام اپنا خواب اسماعیل علیہ السلام کو سناتے ہیں تو وہ فوراً جواب دیتے ہیں، آپ کر گزریں۔ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔ پیکر تسلیم و رضا، صابر وہ ایک سجدہ جو سر کٹانے کے لیے اسماعیل نے کیا۔ اس کی انتہا کربلا کے میدان میں امام حسین علیہ السلام کے سجدے پر ہوئی کہ جب وہ نماز پڑھتے ہوئے سجدے میں گئے تو دشمن جو ان کی بہادری اور شجاعت سے خوفزدہ تھے اور انہوں نے مزید فوج منگوا لی تھی، اس وقت انہوں نے پے درپے وار کر کے سر تن سے جدا کر دیا۔

سچ ہے کہ نماز عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے میں۔ یہاں جرات، بہادری و شجاعت کے ساتھ صبر کی بھی انتہا ہے۔ چھ ماہ کے علی اصغر، قاسم و علی اکبر جیسے مہر و ماہ، عباس علمدار کیسے کیسے پیاروں کے لاشے اٹھائے اور پھر بھی کس طرح تلوار کے جوہر دکھائے۔ واقعہ کربلا اپنے اندر ہزارہا سبق رکھتا ہے۔ حق و باطل میں حد فاصل۔ یزیدیت اور حسینیت دو استعارے۔ اپنے خون سے تا قیامت سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر۔ فتح و شکست کے نئے معنی۔

یزید جیت کر بھی ہار گیا۔ گالی بن کر رہ گیا حسین امر ہو گیا۔ تا قیامت حسین کا ذکر رہے گا کہ جس نے نانا کے دین کو بچایا۔ شہید ہو کر زندگی و موت کا ایک نیا فلسفہ دیا کہ جہاں جہاں ظلم اور یزیدیت ہوگی، دنیا بھر کے مظلوموں کے لئے حسینیت ہی مشعل راہ ہوگی۔ اس وقت مجھے استاد محترم شجاعت علی راہی صاحب کا یہ شعر یاد آ رہا ہے :

ہزار معرکے سر کر کے لوگ ہار گئے
حسین ابن علی! فتح تو تمہاری تھی

میں عشرہ محرم کو عشرہ عشق کہتی ہوں کہ امام حسین اور ان کے جاں نثار ساتھیوں نے صبر، تسلیم و رضا اور عشق کی ایک نئی تاریخ رقم کی جس کی نظیر تاریخ عالم میں نہ ہے، نہ ہوگی۔

آشنا بحر صداقت کا حسین ابن علی
مدرسہ درس شہادت کا حسین ابن علی

عشق خدا اور عشق رسول ﷺ سے سرشار وہ حسین جس نے نانا کے دین کو بچانے کے لئے بے مثال قربانیاں دیں۔ جس نے فتح و شکست کے معنی بدل دیے۔ حسین حسینیت اب جدوجہد، حق اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونے کا استعارہ ہے۔

میں دل ہی دل میں سب سوچتی، درود شریف پڑھتی جالیوں کے پاس پہنچا دی گئی۔ میں نے اٹھ کر جالیاں پکڑ کر دیکھا تو امام عالی مقام کا روضہ مبارک سامنے تھا۔ دو دن پہلے جو زیارت کی تھی، وہ جالیوں کے پار جو دیکھا تو مزار اقدس کی پائنتی کی طرف اور سبز کپڑا ہی دکھائی دیا۔ ہوٹل آ کر عائشہ سے پوچھا علی اصغر کا مرقد نور نہیں دیکھا۔ جواب ملا وہیں سید الشہدا کے پہلو میں دونوں شہزادے کڑیل جوان علی اکبر اور معصوم علی اصغر مدفون ہیں۔

آپ نے نہیں دیکھا۔ چلیں کل ویسے بھی کربلا سے نکلتے ہوئے الوداعی سلام کے لئے روضہ مبارک سے ہوتے ہوئے جائیں گے اور آپ کو دوسری طرف سے لے کر جاؤں گی مگر نکلتے نکلتے دیر ہو گئی اور یہاں پہنچے تو ظہر کی اذان کا وقت ہوا چاہتا تھا، اس لیے کچھ پس و پیش کے بعد اجازت ملی۔ عائشہ ہال کے وسط میں رک گئی مگر چند لمحوں بعد دیکھا کہ ایک دوسرا رضا کار عایشہ کو بھی وہیل چئیر پر بٹھا کر بھگائے چلا آ رہا ہے۔ اس کی تیز رفتاری کا ساتھ دیتے ہوئے احمد بھی چلے آرہے ہیں۔

میں کرسی سے اٹھ کر جالیوں سے جا لگی۔ آج منظر واضح اور روشن تھا۔ اس روشن ساعت، پر نور اور جذباتی لمحے کو بیان کرنا مشکل ہے۔ چند گھڑیوں میں وہ کیفیت طاری ہوئی جس کی کمی ہر جگہ شاق گزری۔ آنسو حلق میں اٹک سے جاتے کہ آس پاس لوگوں کی موجودگی کیفیت و محویت کو توڑ دیتی مگر آج کی تو بات ہی اور تھی۔ یہ احساس کہ کہاں کھڑے ہیں۔ خالق کائنات کے محبوب کے محبوب کے در پر ۔

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورالعین ہے
سید الشہدا امام عالی مقام آنسوؤں کے ساتھ سلام قبول فرما۔

یہ علی اصغر ہیں۔ عائشہ نے اشارہ کیا۔ یہ دیکھ کر دل چاہا کہ آس پاس کوئی نہ ہو تو دل کھول کے رؤں کہ اتنے میں رضا کار نے چلنے کا اشارہ کیا۔ وہاں سے نکل کر بھی درود و سلام اور سب کے لیے دعائیں کرتی ہوئی ہال میں آئی۔ حیدر وہیل چئیر لے کر سیڑھیوں تک آئے۔ رضا کار نے دوسری طرف سے پکڑا۔ تیزی سے اوپر آئے۔ نورانی صورت والے منتظم سے احمد نے مصافحہ کیا۔ نکلتے نکلتے پر ضیا اور پر نور روضے پر الوداعی نگاہ ڈال کر باہر آئے، اس دعا کے ساتھ کہ دوبارہ آؤں۔ نہ جانے کیوں تشنگی کا احساس دل کے کسی کونے میں موجود تھا۔

شہادت حسین مدرسہ انسانیت، مودت، محبت، علم و عمل
واقعہ کربلا نہیں ہے صرف واقعہ شہادت
یہ تو کتاب عشق ہے
کتاب علم و عمل
محبت، مودت، نجابت
انسانیت اور خلق عظیم کے کئی باب
عبادت ریاضت جرات عمل
کتنی پرتیں، کتنے اسباق
ہماری توجہ کے منتظر ہمارے عمل کے متقاضی
کردار حسین ایک روشن آئینہ
اس میں خود کو دیکھنا ہے
کہ حسینی ہیں یا یزیدی
حق بات کہنے کی، کھڑے ہونے کی ہمت رکھتے ہیں
یا کوفیوں کی طرح مہر بہ لب
آسائشوں کی زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں
بے خطر راہ پر خار پر چل سکتے ہیں؟
عشق کے امتحان سے گزر سکتے ہیں؟
اسماعیل نے والد گرامی سے فرمایا
آپ نے جو خواب دیکھا، کر گزریے
آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے
حسین بچپنے سے سب جانتے ہیں
کہ کس آزمائش و ابتلا کا سامنا کرنا ہو گا
کس ارض کرب و بلا پر خیمہ زن ہونا ہے
کیسے کیسے آفتاب و ماہتاب قربان کرنے ہیں
اللہ اللہ! صبر کی یہ منزل، یہ وقار و استقامت
واقعہ کربلا صرف واقعہ شہادت نہیں
یہ علم و عمل، ایثار و قربانی، اخلاق کا مدرسہ ہے
جب حسین چراغ بجھا کر ساتھیوں کو جانے کی اجازت دیتے ہیں
جب چراغ جلایا جاتا ہے تو سب عہد وفا کرتے ہیں، سب موجود ہیں
کیا جان نثاران حسین ہیں!
ہوس زر و اقتدار کے شیدائیو!
لوگوں کو خریدنے والو! اور بکنے والو!
کبھی چراغ جلنے اور بجھنے کی اس لو
میں خود کو دیکھو
اس میزان عمل اور کسوٹی پر خود کو پر کھو،
زمین کرب و بلا، قیامت خیز گرمی اور تشنہ لب، جاں بہ لب بچے
جن کے آبا ساقی آب کوثر، خود سردار جنت
دعا کرتے تو قدموں تلے چشمے پھوٹ نکلتے
مگر کمال، بے مثال ہمت و استقامت اور کمال صبر
سے ہر بلا ہر امتحان ہر صدمہ جھیلا
صبر و استقامت کا کوہ گراں
مشکل میں تعویذ گنڈوں اور صرف دعا
کرانے والو!
اس آئینہ جہد و جستجو اور آزمائش کو پیش نظر رکھو
کہ اسلام دین عمل ہے، میدان الفت ہے
عمل کی کسوٹی پر پورا اترنا ہے
تسلیم و رضا اور بندہ مومن کی راہ سہل نہیں
کہ کتاب اللہ میں زبانی دعوے کی پرکاہ برابر حیثیت نہیں
امام عالی مقام نے عمل سے یہ پیغام لکھ دیا
دوستو واقعہ کربلا صرف واقعہ شہادت نہیں
حسن عمل، اور حکم خداوندی کا ہمہ گیر مدرسہ ہے
نماز و قرآن سے غفلت برتنے والو!
تلواروں کے سائے میں نماز کی ادا دیکھو، سیکھو
کہ چاروں اطراف سے تیر و برچھیوں کی بارش ہے
زخموں سے چور چور دشمنوں کے نرغے میں
مگر وقت عصر ادائے نماز کا خیال ہے
سورہ آل عمران میں نماز خوف کے احکام
میدان کربلا میں ان پر عمل پیرا سجدہ ریز حسین اور تلاوت قرآن
نانا کے دین کا احیا اور تجدید ہے
پھر وہ ایک سجدہ جو بے مثال ہے
تیروں کی بارش میں سجدہ ٔنماز
حالت سجدہ میں شہادت عظمیٰ
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
کہ شیخ صاحب پہروں دوگانہ پڑھتے رہیں
تیغ تلے ایک سجدہ ادا کریں تو بات بنے
صبر، عبادت، ریاضت، نانا کے دین کی ہمہ گیریت اور جامعیت کا مظہر حسین
اسوہ حسنہ، اسوہ کامل پر عمل پیرا حسین
تجھ پہ لاکھوں سلام

جاری ہے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments