ایک اسٹوڈنٹ جو ”اوبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر“ کا شکار ہے
مختلف ذہنی سطح کے طلباء و طالبات کا میرے پاس آنا جانا لگا رہتا ہے اور بطور استاد مجھے ان کے ذہنوں میں جھانکنے کا موقع میسر رہتا ہے۔
ایسے اسٹوڈنٹس بہت کم ہوتے ہیں جو ذرا ہٹ کے اور غیر روایتی انداز میں یا مختلف سوچتے ہیں۔ زیادہ تر تو لکیر کے فقیر ہی ہوتے ہیں اور اتنے گاؤدی یا غائب الدماغ ہوتے ہیں کہ جو کچھ بھی کتاب میں درج ہوتا ہے اسے حرف بہ حرف رٹ لیتے ہیں، اتنا سا جاننے کا تکلف بھی نہیں کرتے کہ جن الفاظ کے انہوں نے سپیلنگ یاد کیے ہیں وہ کتاب میں ہی غلط لکھے ہوئے ہیں۔ لیکن سالوں میں ایک یا دو اسٹوڈنٹس ایسے مل ہی جاتے ہیں جو سوال کرتے ہیں، صدیوں کی درج شدہ روایتی سی معلومات پر جنہیں رٹ رٹا کے لوگ بڑے بڑے عہدوں پر جا پہنچتے ہیں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ ”یار اس میں کچھ تو ایسا ہے جو مسنگ ہے“
اسی تجسس اور ٹوہ میں ان کے ہاتھ کچھ ایسا لگ جاتا ہے کہ انہیں دھیرے دھیرے سمجھ آنے لگتی ہے۔ اس طرح کے متجسس طالب علم روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی فکر کو غیر روایتی ادب سے بھی جوڑ لیتے ہیں اور اس میں نکھار پیدا کرنے کی سعی کرنے لگتے ہیں۔
حال ہی میں میرے پاس ایک اسٹوڈنٹ کوچنگ کے لیے آیا جو کہ فرسٹ ائر ایف ایس سی کا طالب علم ہے، حافظ قرآن اور صوم و صلاۃ کا پابند ہونے کے ساتھ ساتھ تقوی و طہارت کو بھی اولین فوقیت دیتا ہے، لیکن اس بیچارے کے ساتھ جو سب سے بڑا المیہ جڑا ہوا ہے وہ اس کی وجہ سے کوئی نارمل اسٹوڈنٹ نہیں لگتا بلکہ وہ ایک ایسے روپ میں ڈھل چکا ہے کہ جس کو صرف ایک ہی فکر لگی رہتی ہے کہ کیسے عبادت و ریاضت اور تقوی و طہارت کے ذریعے سے ایک کامل و اکمل شخصیت بنا جائے؟
وہ تقوی و طہارت میں پرفیکشن لانے کے لیے روزانہ تین بار کئی کئی گھنٹے غسل کرتا ہے۔ وضو کرتے وقت خاصا وقت صرف کر دیتا ہے اور وہم یا شک کا اس قدر شکار ہو چکا ہے کہ کہیں کوئی عضو خشک نہ رہ جائے اور انہی چکروں میں خاصا پانی ضائع کر دیتا ہے۔ اکثر اکیڈمی میں دیر سے آنے کا معمول ہے، پوچھنے پر ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ نہا دھو کر نماز پڑھنے میں مشغول تھا۔
جہاں تک سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کا تعلق ہے اس حساب سے وہ فرسٹ ائر میں تو ضرور پہنچ چکا ہے مگر ذہنی عمر یا سطح ابھی تک ایک پرائمری لیول کے بچے کی طرح ہے، سوال پوچھنے پر بہت کم بولتا ہے لیکن بولنے سے پتا لگ جاتا ہے کہ وہ ابھی ذہنی پختگی سے کوسوں دور ہے۔ اس بچے کی اس قابل رحم حالت کو کچھ دنوں تک تو برداشت کیا لیکن آخر کب تک؟
اندر کا نفسیات دان جاگا تو میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ ”بیٹا آپ مذہبی معاملات میں اس قدر محتاط، کیئرفل اور نپے تلے سے کیوں ہیں اور اس قدر بے چین کیوں رہتے ہیں“ ؟
سہمے اور ڈرتے ہوئے لیکن مؤدب انداز میں کہنے لگا کہ میرے ابو جی مرحوم ایسا چاہتے تھے کہ میں اسی قسم کا انسان بنوں۔
” اس نے کہا کہ میرے ابو ایک استاد تھے اور وہ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے بچپن سے ہی مجھے ایک مدرسے کے حوالے کر دیا تھا جہاں سے میں نے حفظ کیا اور اس کے بعد میرے ابو نے مجھے ڈائریکٹ نویں جماعت میں داخل کروا کر سائنس کے مضامین رکھوا دیے، ابتدائی اسکولنگ نا ہونے کی وجہ سے مجھے میٹرک میں تین سال لگانا پڑے۔ چونکہ والد صاحب مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے اور اچھے مارکس لینے کے چکروں میں مجھے بار بار امتحان میں بیٹھنا پڑا، سکول کی تیاری کے ساتھ ساتھ حفظ کی دہرائی کا بھی معمول جاری رہا لیکن میٹرک میں 940 سے زیادہ نمبر حاصل نہیں کر پایا اور اسی دوران میرے والد انتقال کر گئے۔ اب ایف ایس سی والدہ کی خواہش پر کر رہا ہوں میری کوئی دلچسپی نہیں ہے میں تو صرف ایک کامل و اکمل انسان بننا چاہتا ہوں اسی لیے اسکول و کالج کی تعلیم کی بجائے دعا و مناجات میں مشغول رہنا زیادہ پسند کرتا ہوں“
میں نے پلٹ کر پوچھا تو پھر غسل اور وضو میں اتنا پانی ضائع کرنے کے پیچھے کیا منطق ہے اور تم بار بار اپنے کپڑوں کو دیکھتے رہتے ہو اس کی کیا وجہ ہے؟
کہنے لگا کہ مجھے وہم رہتا ہے کہ کہیں غسل یا وضو کے دوران کوئی عضو خشک نہ رہ جائے اور بے دھیانی میں کپڑوں کو گندگی نا لگ جائے اس وجہ سے محتاط رویہ اختیار کرتا ہوں۔
اس بچے کی یہ کہانی سن کر سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ کیسے ایک بچہ ماں باپ کے تجربات کی نذر ہو گیا، انہوں نے اپنی محرومیوں کا مداوا کرنے کے لیے اپنے ہی بچے کو لیبارٹری میں بدل ڈالا اور کچھ اس قسم کے تجربات کیے کہ وہ ”اوبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر“ کا شکار ہو گیا۔
اب اس کو اپنی تعلیم یا انسانی رشتوں سے زیادہ یہ فکر لاحق رہتی ہے
کہ اس سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو جائے۔
کپڑوں پر کوئی غلاظت نہ لگ جائے۔
کئی گھنٹے نہانے کے بعد بھی دھڑکا لگا رہنا کہ کوئی عضو خشک نہ رہ گیا ہو۔
کامل وضو بنانے کے چکروں میں اکثر جماعت کی نماز سے محروم رہ جانا۔
اور ہر وقت ایک ہی خبط یا جنون میں مبتلا رہنا کہ کامل انسان کیسے بنا جائے۔
اس قسم کے عارضے کو روایتی یا مذہبی ”او سی ڈی“ یعنی اوبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر کہتے ہیں۔
یہ ایک طرح سے ذہن پر چھا جانے والا اضطراری سا عارضہ ہوتا ہے جو انسان کو ہر وقت بے چین کیے رکھتا ہے، نفسیات کی زبان میں اس کیفیت کو اوبسیشن کہتے ہیں اور یہ کوئی نارمل رویہ نہیں ہوتا بلکہ ایک طرح کی مریضانہ سی روش یہ رجحان ہوتا ہے جو دھیرے دھیرے خبط، جنون یا وہم میں ڈھل جاتا ہے۔ اس جنون کی علامات کچھ اس طرح کی ہوتی ہیں۔
ہر وقت ذہن پر اس بات کا خوف سوار رہتا ہے کہ کہیں مجھے جہنم کی سزا نہ مل جائے۔
ضرورت سے زیادہ اخلاقی بننے کا شوق۔
ہر وقت گناہ سرزد ہو جانے کا خوف۔
پیور اور خالص بننے کا جنون۔ جنسی ضبط کو کھو دینے کا دھڑکا۔
موت کا خوف۔
دوسرے لوگوں پر خواہ مخواہ کا شک کرنا۔
مذہبی معاملات میں پرفیکشن کا جنون۔
یہ تو مذہب کے حوالے سے ہو گیا لیکن جنون کسی بھی چیز کا ہو سکتا ہے اور اوبسیشن کسی بھی فکر و فلسفے کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اوبسیشن ایک ابنارمل رویہ ہوتا ہے جو ایک انسان سے اس کی کامن سینس تک چھین لیتا ہے۔ اور ایک انسان اکملیت کے زعم یا سراب میں زندگی بسر کرنے لگتا ہے، خود کی ذات کے علاوہ کسی اور کو فوقیت نہیں دیتا۔ خدارا اپنے بچوں کو اپنی محرومیوں کا مداوا کرنے کے لیے استعمال نہ کریں، وہ انسان ہیں آپ کی خواہشات کا ڈسٹ بن نہیں۔
انہیں اپنی خواہشات کا روبوٹ مت بنائیں، جو آپ گزار چکے اسے اپنے تئیں رکھیں اور اسے اپنے بچوں پر زبردستی نافذ کرنے کی کوشش مت کریں۔
اپنے بچوں کو اپنے حصے کا سچ خود کھوجنے اور تراشنے دیں، انہیں کسی بھی مخصوص فکری دڑبے میں زبردستی قید کرنے کی کوشش مت کریں۔
ایک بچہ لا تعداد صلاحیتیں لے کر پیدا ہوتا ہے اور انہیں انہی کی صلاحیتوں کے ساتھ جینے کا موقع فراہم کرنا ان کا فطری حق ہوتا ہے۔
نجانے کتنے بچے ماں باپ کی خواہشات پر قربان ہو جاتے ہیں۔ یہ تو میں نے ایک مثال پیش کی ہے نجانے کتنے بچے اوبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر کا شکار ہو جاتے ہیں اور چار و ناچار ایک ابنارمل سی زندگی جینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
بہت سے بچوں کا حلیہ تو روایتی تقاضوں کے عین مطابق ہوتا ہے لیکن اندر سے وہ پورے رنگین مزاج ہوتے ہیں، کیونکہ فطرت کی منہ زور جبلتوں کے آگے تمام تر پارسائیاں ناکام ثابت ہو جاتی ہیں، فطرت کے تقاضوں کو وقتی طور ٹالا تو ضرور جا سکتا ہے مگر نجات ممکن نہیں ہے۔
ہمارے بچوں کو معاشرتی جبر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انہیں ایک منافقانہ سی زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ پارسائی کے وقتی بندوبست زیادہ موثر اور کار آمد نہیں ہوتے بلکہ یہ ہمارا وہم ہوتا ہے کہ ہمارے بچے نیک و پارسا بن چکے ہیں، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا صرف شکل و صورت تبدیل ہوتی ہے چلن وہی رہتا ہے۔


