ننگے پاؤں (2)

محبت کا مقناطیس
مگر یہ تو پی ٹی وی سے منسلک ہونے سے بارہ برس پہلے کی بات ہے جب میں استاد امانت علی خاں اور استاد فتح علی خاں کے سحر سے آشنا ہوا۔ میں ان دنوں نیشنل کالج آف آرٹس میں آرکیٹکچر پڑھتا تھا۔
سالانہ ڈنر تھا اور حسین و جمیل استاد امانت علی خاں اور موٹی آنکھوں والے جادوگر استاد فتح علی خاں دلوں کو سروں کی میٹھی آنچ سے گرما رہے تھے۔ وہ رات میری بہترین راتوں میں شمار ہو سکتی ہے۔ میں سٹیج کے بالکل قریب بیٹھا تھا۔ گلوکار گاتے ہوئے عموماً سامعین میں سے کسی نہ کسی کو ہدف بنا لیتے ہیں اور اسے دیوانہ بنائے رکھتے ہیں۔ اس رات میں استاد فتح علی خاں کا ہدف تھا۔ انہیں سنتا تھا اور یاد کرتا تھا کراچی کی ایک یاترا جہاں میں ایک گھر میں کچھ روز کے لئے ٹھہرا تھا۔
ہر صبح میری آنکھ کسی راگ سے کھلتی۔ ایک عمر رسیدہ شخص اپنے بیڈ روم میں ریڈیو پر کلاسیکل میوزک سن رہا ہوتا تھا۔ اس کا بیڈ روم چوبارے پر تھا اور اس کی کھلی کھڑکی اور دروازے سے نکلتے ہوئے سر مجھ تک پہنچتے۔ اس کم عمری میں مجھے موسیقی کے اسرار و رموز سے واقفیت نہیں تھی مگر ایک مقناطیسی کیفیت تھی جو مجھے سر اور لے کی طرف کھینچتی چلی جاتی۔ ایک دن میں ہمت کر کے ان کے پاس چلا گیا اور پوچھ ہی لیا کہ آپ یہ کیا سنتے رہتے ہیں تو کہنے لگے کہ یہ وہ موسیقی ہے کہ ایک بار اس کی سمجھ آ جائے تو اور کوئی موسیقی اچھی نہیں لگتی۔ استاد امانت علی خاں اور استاد فتح علی خاں کی اس وقت کی گائیکی نے اس بزرگ سنویے کی بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

استاد فتح علی خاں کے ساتھ پی ٹی وی کی موسیقی کی سیریز سرگم میں بطور معاون پروڈیوسر کام کرنے کا موقع ملا۔ پروڈیوسر فرخ بشیر صاحب تھے۔ اس پروگرام کا پیٹرن یہ تھا کہ استاد کسی راگ یا راگنی کی شکل دکھاتے اور میں اس کے بول لکھتا۔ پھر اسی راگ اور راگنی پر مبنی نیم کلاسیکل اور ہلکی پھلکی دھنوں میں مختلف گلوکار اپنی آوازوں کے جادو جگاتے۔ یہ فن کاری سفید بالوں والے موسیقار امجد بوبی کے سپرد تھی۔
لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی، یوں تو اہل موسیقی کا شیوہ ہے مگر پٹیالہ گھرانے کی حس مزاح بے مثل ہے۔ سنا ہے کہ ایک دن موسیقار نذر حسین، استاد فتح علی خاں سے ریڈیو پاکستان لاہور کی کوریڈور میں ملے۔ استاد نذر حسین کمال کے موسیقار تھے، دنیا تو ان کی معترف تھی ہی مگر وہ خود بھی اپنی تعریف بہت کرتے اور دوسروں سے داد کے طلب گار رہتے۔
استاد نذر حسین نے کوئی کمپوزیشن بنائی اور اس کا ذکر استاد فتح علی خاں سے یوں کیا
” میں ایہہ ٹیون بنائی تے نور جہاں نوں سنائی تے او میرے پیریں پے گئی“
استاد فتح علی خاں کی رگ ظرافت پھڑک اٹھی۔ کہنے لگے
” نذر اوہدے کولوں غلطی ہو گئی اوہنوں تیرے ہتھیں پینا چائیدا سی“
دروغ بر گردن راوی
پی ٹی لاہور میں چار سٹوڈیوز ہیں۔ اے بی سی اور ڈی۔ اے سٹوڈیو سب سے بڑا، ڈی اس سے چھوٹا اور بی اس سے بھی چھوٹا ہے۔ سی کونٹی نیوٹی سٹوڈیو ہے جہاں سے کبھی پروگراموں کی اناؤنسمنٹ آن ائر ہوتی تھی۔ اب فقط خبریں سنائی جاتی ہیں۔
ایک دن سٹوڈیو بی میں معروف لوک گلو کار پٹھانے خاں ریہرسل میں مصروف تھے اور سٹوڈیو کے باہر لابی میں استاد نذر حسین ادھر ادھر چہل قدمی کر رہے تھے اور سگرٹ کے کش پہ کش لگا رہے تھے۔ میں نے پوچھا ”نذر صاحب ادھر کیا ہو رہا ہے؟“
کہنے لگے ”کچھ نہیں میں پٹھانے خاں کے پروگرام کا کمپوزر ہوں“
میں نے کہا ”نذر صاحب وہ تو اپنی چیزیں گائیں گے آپ اس میں کیا کر یں گے؟“
ان کے چہرے پر شرارت بھری مسکراہٹ آ گئی اور کہنے لگے ”میں اوہنوں گان توں روکاں گا“
اور ہم دونوں قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔

استاد نذر حسین بہت دلچسپ آدمی تھے اور ان کے سروں پر عاشق ہونے والوں میں عورتیں اور مرد دونوں شامل تھے۔ مگر عورتیں کچھ زیادہ ہی تھیں۔ ملکۂ ترنم نورجہاں کے لئے ان کی بنائی ہوئی دھنیں بھلائی نہیں جا سکتیں۔ وہ حسن پرست بھی انتہا کے تھے۔
عارفہ صدیقی بے پناہ گلوکارہ اور اداکارہ ہیں۔ استاد نذر حسین اور ان کی محبت لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا یا رومیو جولیٹ کی داستانوں سے کسی طور کم نہیں۔ عارفہ صدیقی اور ان میں کئی دہائیوں کا فرق تھا مگر محبت ایسی کہ جو سولہ برس کی لڑکی اور اٹھارہ سال کے لڑکے کے درمیان ہو۔
میں نے شہر وفا کے عنوان سے فیض احمد فیض کی شاعری پر مبنی، موسیقی کا ایک پروگرام وضع کیا اور جنرل مینیجرز کانفرنس میں منظوری کے لئے پی ٹی وی اسلام آباد بھیجا۔ پی ٹی وی کے سپر سٹار اسلم اظہر ان دنوں مدارالمہام تھے۔ انہیں بے حد پسند آیا مگر انہوں نے کہا کہ اسے علامہ اقبال سے شروع کیا جائے۔
میں نے اس کے موسیقار کے طور پر استاد نذر حسین کو منتخب کر لیا۔ ان کے ساتھ کام کا طریق کار یہ تھا کہ میں کلام کا انتخاب کر کے ان کے ساتھ ڈسکس کرتا اور وہ کہتے کہ آپ کے ذہن میں اس کی کیا دھن ہے۔ میں انہیں ہلکا پھلکا گا کر بتا دیتا اور وہ اسے ایسی دھن میں ڈھالتے کہ دلوں میں اتر جاتی۔
عارفہ صدیقی کے لئے انہوں نے علامہ اقبال کی ایک نظم کی ایسی دلنشیں دھن بنائی کہ آج تک یاد ہے
’وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں
یہ دھن جس دل سے بنائی گئی اسی دل سے عارفہ نے گائی۔ اتنے مشکل الفاظ کی درست تلفظ سے ادائیگی بھی عارفہ ہی کا کمال تھا۔
عارفہ ان کے لئے کپڑے خریدتی، کھانے کا اہتمام کرتی اور ان کے لئے سگریٹ اپنے پرس میں رکھتی یا حسین گلوکارہ زرقا کے پاس امانتاً رکھوا دیتی۔
ایک دن میں نے عارفہ سے کہا ”عارفہ تم جانتی ہو کہ نذر صاحب تم سے عمر میں کتنے بڑے ہیں، آنے والے چند برسوں میں بھلا کیا ہو گا، ہو سکتا ہے وہ وہیل چئیر پر ہوں یا پھر“
عارفہ نے میری بات کاٹی اور بولی ”حفیظ صاحب ان کے ساتھ میرا جتنا وقت بھی گزرے گا وہ میری زندگی کا حاصل ہو گا“
عارفہ نے اپنا قول نبھایا، ان سے شادی کی اور استاد جی کے آخری سانس تک ان کا ساتھ دیا۔
ایک دن ریڈیو پاکستان لاہور کے یاد باغ کے پاس کھڑا میں استاد نذر حسین سے اپنے پروگرام شہر وفا کے بارے گفتگو کر رہا تھا کہ سنٹرل پروڈکشن یونٹ سے گلوکارہ شبنم مجید آتی ہوئی نظر آئی۔ نذر صاحب نے بڑے تپاک سے اس کی تعریف کی
” توں بڑا چنگا گاونی ایں تے سوہنی وی بڑی ایں“
” شکریہ نذر صاحب“ ابھرتی ہوئی گلوکارہ شبنم مجید اور کہہ بھی کیا سکتی تھی۔ نذر صاحب نے اپنی بات جاری رکھی
” تے گل سن اے جیہڑی میں تیری تعریف کیتی اے، اے عارفہ نوں نہ دسیں“
سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ نذر صاحب کی بات پر ہنسا جائے یا افسوس کیا جائے۔
مگر موسیقار مجاہد حسین جنہیں میں خواجہ خورشید انور کے حوالے سے خواجہ مجاہد حسین کہتا ہوں، انہوں نے نذر صاحب کی شخصیت کا ایک اور پہلو دکھایا۔ ان کے بقول ”ریڈیو پاکستان کے ایک اہم افسر نے ان سے کہا کہ میری بیٹی کو گانا سکھا دیں تو انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ جناب میں جس لڑکی کو گانا سکھاتا ہوں اس کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہوں۔ آپ کی بیٹی میری بھی بیٹی ہے اس لئے معذرت۔“
جب پرانے گراموفون پر لگے ریکارڈ سے طلوع ہوتی ہوئی غزل اختتام کو پہنچتی تو خالہ کا چائے کا کپ ختم ہو چکا ہوتا۔ اسی لمحے پنجرے میں غزل سنتا ہوا طوطا کہتا ”میاں مٹھو چوری کھانی اے“
میں خالہ کو سلام کرتا اور بھاگتا ہوا انہی راستوں سے واپس آ جاتا۔ یہ وہی گھر تھا جہاں کئی سال بعد پکی عمارت بن گئی اور وہاں میری پہلی محبوبہ آ کر آباد ہوئی۔ (جاری ہے )


