قاسم علی شاہ نے سندیپ مہیشوری کو ڈپریشن سے بچنے کا نسخہ کیمیا بتا دیا


سپر انٹلیکچوئل، مافوق الفطرت اور بالائے فہم طرز کی تصوراتی کہانیاں گھڑنے والے قاسم علی شاہ جو کامیابی و کامرانی کے قصے مجمع میں سنانے کا لاکھوں وصولتے ہیں نے انڈیا کے مشہور موٹیویشنل سپیکر سندیپ مہیشوری کو ڈپریشن سے بچنے کا ایک نسخہ تجویز کیا ہے، شاہ جی کے نسخہ تجویز کرنے کے پیچھے وجہ کچھ یوں ہے کہ سندیپ جی نے اپنی ذہنی صحت کے حوالے سے ایک خبر اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی ان کا کہنا تھا۔

” لوگ انہیں سپر ہیومن سمجھتے ہیں اور ان کا یہ خیال ہے کہ وہ ایک“ پین پروف ”قسم کے انسان ہیں، جنہیں کسی بھی دکھ تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ایسا بالکل نہیں ہے وہ بھی عام انسانوں کی طرح ایک انسان ہیں۔ وہ خود بھی کووڈ 19 کے وقت سے ذہنی عارضے کا شکار ہیں۔ علاج و معالجے کے بعد وہ کافی بہتر ہو چکے ہیں“

سندیپ جی کے متعلق یہ خبر شاہ جی کے دل کو لگی اور انہوں نے اپنی موٹیویشنل و معجزاتی سی پٹاری سے ایک نسخہ کیمیا نکالا اور ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے سے ان تک پہنچا دیا۔

شاہ جی نے اپنے ویڈیو پیغام میں اعتراف کیا کہ وہ سندیپ کو 2012 سے فالو کر رہے ہیں۔ ان کی ویڈیوز نے میری زندگی میں اس وقت بہت اہم کردار ادا کیا جب وہ بحران سے گزر رہے تھے، ان کی ویڈیوز میرے لیے مشعل راہ ثابت ہوئی تھیں۔

اب آتے ہیں شاہ جی کے نسخہ کیمیا کی طرف جو انہوں نے مہیشوری کو ڈپریشن سے محفوظ رہنے کے لیے پیش کیا ہے۔ وہ نسخہ کچھ اس طرح سے ہے۔

” سندیپ مہیشوری جی آپ اسلام قبول کر لیں، یقین مانیں آپ کی ساری پریشانیاں، ڈپریشن اور انزائٹی چھو منتر ہو جائے گی اور آپ کی ذہنی صحت ٹن ٹنا ٹن ہو جائے گی“

ان کی اس شاندار آفر کا سندیپ نے کیا رسپانس دیا ہو گا اس کا تو پتا نہیں البتہ اس نے ہنس کر انجوائے ضرور کیا ہو گا اور من ہی من میں یہ کہا ہو گا کہ موٹیویشنل سپیکر مجمع لگا کر مجمع کو تو بے وقوف بنا سکتا ہے لیکن اپنے دوسرے ہم مرتبہ و منصب کو نہیں۔

دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کبھی زندگی میں سندیپ جی کا موڈ بنے اور وہ بھی محبت کے ساتھ شاہ جی کو اپنا مذہب ان کا جو بھی ہے کو قبول کرنے کی دعوت دیں تو پھر شاہ جی کا جواب کیا ہو گا؟

ظاہر ہے دنیا بھر میں کم و بیش 4200 کے لگ بھگ مذاہب ہیں اور ان کے پیروکار بھی موجود ہیں جو اپنے اپنے مذہب کو حق سچ سمجھتے اور حتمی سچائی کے طور پر تسلیم کیے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے مذہب کے متعلق موقف اور جذبات تو سب کے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں نا!

اب اگر قاسم علی شاہ کا یہ موقف ہے کہ ہمارا مذہب ہی حق سچ ہے اور اس کا سب سے بڑا کرشمہ یہی ہے کہ جو اسے قبول کر لیتا ہے وہ تمام قسم کی ذہنی عارضوں سے محفوظ ہو جاتا ہے تو پھر سوال تو بنتا ہے نا!

کہ موصوف کا طارق جمیل بارے کیا خیال ہے؟ جو مجسمہ مذہب و روحانیت ہیں اور ان کے پختہ دیندار ہونے میں بھی کسی کو ذرا سا شک نہیں ہے تو پھر اس قسم کے مذہبی ماحول میں جنم لینے والا اور مولانا کی پرنور اور رحمتوں بھری جھولی میں کھیلنے والا عاصم جمیل آخر کار کس وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے؟

یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ انہی کے بھائی یوسف جمیل کا موقف موجود ہے جو انہوں نے خودکشی کے سانحے کے بعد ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے ریکارڈ کروایا تھا۔ اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی بچپن سے ہی ڈپریشن اور ڈسلیکسیا کے مریض تھے۔

اگر مذہبی ہونا ہی تمام ذہنی و جسمانی بیماریوں سے نجات دلاتا ہے پھر عاصم جمیل تو مذہب گڑھ میں ہی پل بڑھ کے جوان ہوا تھا اس کا ڈپریشن یا ذہنی تناؤ اس کی جان کیوں لے گیا؟

دوسرا ہولناک واقعہ حال ہی میں پیش آیا، سی ایس پی افسر بلال پاشا نے خودکشی کی۔ اگرچہ ان کے حادثہ کے متعلق مختلف چہ میگوئیاں سوشل میڈیا پر چل رہی ہیں لیکن غالب امکان اور اشارے خود کشی کی ہی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کی خاندانی اکثریت کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے اور وہ زیادہ تر طارق جمیل کے پیروکار ہیں۔ لیکن آخر کار سچا و پکا مذہبی ہونے کے باوجود بھی وہ کون سی ذہنی الجھن تھی جو اس کی جان لے گئی؟ کہا جاتا ہے کہ مذاہب عالم امن و سلامتی اور پیار کے پیامبر ہوتے ہیں لیکن مذہب کے نام لیواؤں کے ذہنوں میں آخر ایسا کیا سما جاتا ہے کہ وہ اسی مذہب کے نام پر دوسروں کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے؟

یہ تو قریب کی مثالیں ہیں دنیا بھر میں نجانے کتنے ایسے مذہبی انسان ہوں گے جنہوں نے ڈپریشن یا انگزائٹی کی وجہ سے خودکشی کی ہوگی؟

ہمارے علاقہ میں دیوبند سے پڑھے ہوئے ایک عالم دین تھے جو اپنی عمر کے آخری حصے میں ڈپریشن کا شکار ہو گئے تھے اور انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوئے۔ آخر وہ کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ مذہب کا اتنا بڑا عالم ہونے کے باوجود بھی ڈپریشن کے ہاتھوں ہار گیا؟

ایک مذہبی انسان ہونے کی حیثیت سے ہماری یہ خواہش تو ضرور ہو سکتی ہے کہ مذہب کی برکات سے کوئی بھی شخص ذہنی مسائل کا شکار نہیں ہو سکتا لیکن اس میں صداقت بالکل نہیں ہے۔ کیونکہ ذہنی بیماری یا عارضے کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا بلکہ انسان کے سماجی و معاشی حالات سے ہوتا ہے جو اس کی ذہنی صحت کو متاثر کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

ہر شخص کے سماجی حالات مختلف ہوتے ہیں اور اسی حساب سے ذہنی مسائل بھی مختلف ہوتے ہیں۔ پاکستان کے نوجوان شاعر آ نس معین کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے صرف 27 سال کی عمر میں خودکشی کر لی تھی۔ خودکشی کرنے سے پہلے کا خط جو اس نے اپنی ماں کے نام لکھا تھا وہ ریختہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے وہ لکھتا ہے۔

” خدا آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے، میری اس حرکت کی سوائے اس کے کوئی اور وجہ نہیں ہے کہ میں زندگی کی یکسانیت سے تنگ آ گیا ہوں۔ کتاب حیات کا جو صفحہ الٹتا ہوں اس پر وہی تحریر نظر آتی ہے جو پچھلے صفحہ پر پڑھ چکا ہوتا ہوں، اس لیے میں نے ڈھیر سارے اوراق چھوڑ کر وہ تحریر پڑھنے کا فیصلہ کیا جو آخری صفحے پر لکھی ہوئی ہے“

اب آ نس معین بھی مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور جس وجہ سے انہوں نے خودکشی کی وہ وجہ بھی اپنے نوٹ میں لکھ ڈالی۔ کلمہ گو اور صاحب ایمان ہونے کے باوجود بھی ذہنی اضطراب اسے خودکشی کے دہانے پر لے گیا۔ زندگی کی کشمکش اور اس کے سخت ترین امتحانات بڑے ظالمانہ و بے رحمانہ نوعیت کے ہوتے ہیں، کسی کو جہالت مار دیتی ہے اور کسی کو ایکسٹرا ذہانت کی حساسیت۔

اس لیے کسی کو یہ کہہ کر کے دائرہ مذہب میں داخل کرنے کی کوشش کرنا کہ وہ ایقان کی راہوں پر چل کر تمام ذہنی مسائل سے نجات پا لے گا انتہائی احمقانہ سی بات لگتی ہے۔

فرض کیا قاسم علی شاہ کی دعوت کی وجہ سے سندیپ جی مسلمان ہو جاتے ہیں اس کے بعد بھی ان کی ذہنی تکالیف کم نہیں ہوتیں بلکہ اور زیادہ ہو جاتی ہیں تو اس کا پھر کیا مطلب ہو گا؟

باقی موٹیویشنل سپیکر چاہے ہماری طرف کا ہو یا اس کا تعلق سرحد پار سے ہو ان کا تو کام ہی ہوا میں ایک خیالی سی تصویر بنانے ایسا ہوتا ہے، ان کی باتوں سے کچھ وقت تک کے لیے دل کو بہلایا تو ضرور جا سکتا ہے لیکن عملی طور پر ان کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔ جب آنکھ کھلتی ہے تو وہی سب کچھ سامنے موجود ہوتا ہے۔ جس طرح گاندھی جی نے کہا تھا۔

” خدا کا کوئی مذہب یا دھرم نہیں ہوتا“

بالکل اسی طرح سے ذہنی بیماریوں کا بھی کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یہ تو معاشرتی جبر، ظلم، یکسانیت اور بے حسی کا عکس یا شاخسانہ ہوتی ہیں۔ ذہنی مسائل کو خواہ مخواہ کسی بھی مذہب کے ساتھ نتھی کرنا کوئی عقلمندانہ جواز قرار نہیں پاتا۔

باقی برصغیر میں باتوں کا منجن خوب بکتا ہے بھائی۔ بس مذہب کا تڑکا لگاتے جاؤ اور کروڑ پتی بنتے جاؤ۔ بپا جانی اور ان ایسی درجنوں مثالیں ہمیں ہمارے قرب و جوار میں ہی مل جائیں گی۔

ہمارے علاقہ میں بھی ایک موٹیویشنل سپیکر ہیں جو ایک استاد بھی ہیں وہ بچوں کو کروڑ پتی بننے کی خواب دکھاتے رہتے ہیں، کسی بچے کے والد نے ان سے پوچھا کہ جناب ہمارے بچوں کو کروڑوں کے سپنے دکھاتے ہو اور خود کرائے کے معمولی سے مکان میں رہتے ہو یہ تو کھلا تضاد نہیں؟

وہ تھوڑا ہنسے اور پریشان سا ہو کر کہنے لگے کہ استاد کی حیثیت ایک سیڑھی کی طرح ہوتی ہے جو خود تو وہیں پہ رہتا ہے مگر دوسروں کو منزل تک پہنچاتا رہتا ہے۔

موٹیویشنل سپیکرز کے ساتھ سب سے بڑا المیہ یہی ہوتا ہے کہ یہ لوگ مجمع میں کھڑے ہو کر اپنے قد سے بڑی باتیں کرتے رہتے ہیں اور جب یہ خود کسی ذہنی عارضے کا شکار ہوتے ہیں تو بے بس ہو جاتے ہیں اور وہ ساری موٹیویشن یا سنہری اقوال جو دوسروں کو سنا کر موٹیویٹ کرتے رہتے تھے سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور خود پر ان کی اپنی کہی باتوں کا ذرا سا بھی اثر نہیں ہوتا۔

انسان کو انسان ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہوتا ہے۔ سپر ہیومن پینٹ کرنے میں مسئلے ہی مسئلے ہیں، اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے سندیپ جی نے دیانت داری کا مظاہرہ کیا اور اپنی ذہنی بیماری کے متعلق لکھا تھا اور کہا تھا کہ وہ کوئی سپر ہیومن نہیں ہیں اور وہ بھی ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ شاہ جی نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے بغیر کوئی سوچے سمجھے ان کو ہی موٹیویٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

Facebook Comments HS