آبادیاتی ادب (مزاح)


نو آبادیاتی ادب کی اصطلاح سے اہل ادب یقیناً آگاہ ہیں۔ مگر ہم یہاں آبادیاتی ادب متعارف کروانے چلے ہیں۔ بڑھتی آبادی اور اس کے مسائل کو ہر دور میں شعراء اور ادباء نے اپنے اپنے انداز میں ادب کا حصہ بنایا۔ اب انکار نہیں کہ اپنے ہاں ادب کی جگہ بھی صرف بچے پیدا ہوتے ہیں۔

اقبال نے اس مٹی کے نم ہونے کا مژدہ سنایا تھا پر اس قوم کے کارہائے نمایاں کو دیکھتے ہوئے دلاور فگار لکھتے ہیں،

ابھی تو آٹھ دس بچوں کی حسرت اور ہے باقی
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

سب سے بڑھ کر انسانوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ماحولیات کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ گلوبل وارمنگ میں اضافہ خطرناک آفات کا موجب بن سکتا ہے۔ پھر زیادہ بچے پیدا کرنے کے موجب ماؤں کی صحت شدید متاثر ہوتی ہے اور وہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش کما حقہ نہیں کر پاتیں۔ اس پہ بھی شاعر لکھتا ہے،

ماں کا شباب اس کی ہی اولاد کھا گئی
موجد کا حسن اپنی ہی ایجاد کھا گئی

یہ زمین، یہ دھرتی بھی تو ہماری ماں ہے اور اس کی اولاد اور باسیوں نے بھی زمین کے حسن کو تار تار کر دیا ہے۔ اس کے کونے کونے کو زخمی کیا ہے اور اسے داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ”لاگا چنری میں داغ چھپاؤں کیسے، اس دھرتی کا نوحہ محسوس ہوتا ہے۔

پاکستان بنا تو کسی تعمیری کام میں ترقی تاحال نظر نہیں آتی مگر آبادی میں ارتقاء کی شرح سب سے مثالی ہے۔ خصوصا غریب طبقات میں یہ اضافہ ہولناک حد تک ہے۔ جتنی آبادی زیادہ ہو گی اتنی خوراک اور وسائل درکار ہوں گے ، یہی وجہ ہے کہ غربت میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گداگری بڑھ رہی ہے۔ بڑے شہروں خاص کر کراچی میں ہر بھکاری کے ہمراہ پانچ سات نیم ہرہنہ بچے بھی ہوتے ہیں جبکہ دوسری گلی میں اس کی زوجہ اتنے ہی بچوں کی فوج لئے مصروف کار حصول رزق ہوتی ہے۔ مگر غریب یہ ٹینشن لینے سے یکسر آزاد ہے۔ بلکہ اس کا نظریہ اس حوالے قدرے مختلف ہے۔ مستزاد جمہوری اقدار کی کثرت اور میڈیائی آگہی نے ان کی سوچ ایسے پختہ کی ہے کہ

ہمارا کام یہ تھا پیدا کر دیں گیارہ شہزادے
حکومت کا ہے یہ کام ان کو روٹی اور کپڑا دے

یعنی بچوں کی پیدائش کو مشیت ایزدی سمجھتے ہیں جبکہ ان کی قسمت، رزق اور غربت کا ذمہ دار معاشرے کو ٹھہرا کر عجیب عقیدے کا اظہار کیا جاتا ہے۔

اک اور شاعر کی سنئیے،
ایک درجن دیکھ کر بچے کہا راہگیر نے
آپ کو تو ٹیم کا کپتان ہونا چاہیے
یا پھر یوں کہیے کہ
اس مہنگائی میں اتنے بچے جو بھی جنے گا پاگل ہو گا
( اور پھر رقص میں سارا جنگل ہو گا )

دل چسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں ملاوٹ شدہ خوراک، طبی سہولیات کا فقدان، اتائیت کی بھر مار، سیلاب، ڈینگی، خشک سالی و قحط، حادثات، بنگالی بابوں اور اماؤں کی کارستانیوں، باہمی دشمنیوں اور دہشت گردی کے واقعات کے باوجود آبادی میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان بنا تو دونوں حصوں کی آبادی تین کروڑ تھی جو اب اکیس کروڑ ہو چکی ہے۔ اس دیس میں روزانہ 15000 بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی طرح بھارت بھی اسی بحران کا شکار ہے جہاں زندہ رہنا خواب ہوتا جا رہا ہے۔ پانی اور ٹائلٹس کی شدید قلت ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سن دو ہزار پچیس تک انڈیا چین کو آبادی میں پیچھے چھوڑ جائے گا۔ پھر ہر جگہ ہی سلم ڈاگ کے مناظر ہوں گے ۔ اک شاعر نے ایسے گھروں کی کہانی کچھ بیان کی ہے،

یہ گیارہ بچوں کی اک ٹیم، گھر جس کا ٹھکانہ ہے
جہاں بچے بنائیں جائیں یہ وہ کار کارخانہ ہے

اس وقت دنیا کا جائزہ لیں تو غربت، جہالت اور آبادی کا گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ مسلم ریاست ہونے کے موجب یہاں آبادی کی سونامی کے آگے بند باندھنا شرعا ناممکن ہے وگرنہ اس سے بڑی سونامی برپا ہونے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ بقول شاعر،

کہا اک شخص سے میں نے کہ بچے کم کرو پیدا
تو فرمایا دخل مت دو خدا کے کار خانے میں

پاکستان میں جس قدر کوئی غریب ہے یا جتنے وسائل کم ہیں اتنا ہی ہی زیادہ بچے پیدا کرنے کا جنون ہے۔ حد تو یہ کہ تین تین پشتیں بیک وقت اسی کام میں لگی نظر آتی ہیں۔ شاعر لکھتا ہے،

کوئی سمجھاؤ کیوں اولاد میں لوگ بلا مقصد اضافہ کر رہے ہیں
ادھر بیٹا بھی مصروف عمل ہے ادھر ابا تماشا کر رہے ہیں

قائد نے اپنی قوم کو کام، کام اور کام کی تلقین کی مگر قوم نے محدود معانی لئے۔ ایک تو انگریزی کا calm یعنی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے سکون سے بیٹھے رہنا اور دوسرا کام آبادی میں دھڑا دھڑ اضافہ کرنا۔ لہٰذا ان دونوں کاموں کے علاوہ کوئی خاص کام دکھائی نہیں دیتا، ضمیر جعفری بھی یہی کہتے گئے،

شوق سے لخت جگر نور نظر پیدا کرو ظالمو تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کرو

عرب ممالک میں کثرت اولادی اور کثرت ازدواج کا عام رواج ہے اور ”یک زوجیہ، شخص مسکین سمجھا جاتا ہے۔ اور معاملات میں نہ سہی اس معاملے کو مذہبی سعادت گردانتے ہیں، اسی بات کو شاعر یوں بیان کرتا ہے،

جہاں میں اہل ایماں شادیاں بھی چار کرتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے

ہمارے جیسے معاشروں میں شادیاں فرائض کی ادائیگی کے علاوہ عشقیہ و معشوقیہ خواہشات کی تکمیل کا اظہار ہیں۔ نیز شرعی حکم بھی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ پورا دیس ہی ہر وقت امید سے ہوتا ہے۔ بعد ازاں آمد اطفال کے جن سلسلہ ہائے دراز کا آغاز ہوتا ہے، اس پہ بھی شاعر رقمطراز ہے،

عاشقی قید شریعت میں جب آ جاتی ہے
جلوۂ کثرت اولاد دکھا جاتی ہے

اکثر دیہاتوں میں والدین پہلو پہ دو تین شیر خوار اطفال اٹھائے چلتے نظر آتے ہیں اور آبادی کی کثرت اور شوچالوں کی کمیابی کے باعث تالاب کنارے ایک ہی گھر کے سات آٹھ برہنہ نور نظر اپنے تیسرے ہمسائے کے گھر تک قطار اندر قطار برائے تکمیل حوائج ضروریہ تشریف فرما نظر آتے ہیں۔ اور یہ منظر کئی مقامات پر اعلی الصبح دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سرگرمی میں تن پر لباس کا تکلف نہیں ہوتا البتہ نظر بد سے حفاظت اور درازیٔ عمر کے لئے گلے میں چمڑے کا تعویذ ضرور ہوتا ہے۔

کہیں کہیں افسوس ناک پہلو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ باپ کو اولاد کی ترتیب اور نام بھی یاد نہیں ہوتے۔ اب بھلا وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور مستقبل کا کیونکر سوچ سکتے ہیں اور ریاست شہریوں کو کیسے خوشحال رکھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم قوم کی بجائے بے مہار ہجوم بنتے جا رہے ہیں۔ آئیے، آخر میں فلم بول کے اس فکر انگیز ڈائیلاگ پہ غور کرتے ہیں جس میں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر غربت کے موجب بچے قتل کرنا گناہ ہے تو پیدا کرنا کیوں گناہ نہیں؟

Facebook Comments HS