نہرو خاندان کے رومان ( تیسری قسط)


 پنڈت نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی کی رومانوی داستانیں۔ سچ تو آدھا ہے۔

انیس سو ساٹھ وہ سال تھا جس میں پنڈت جواہر لال نہرو کی معشوقہ ایڈوینا، لیڈی ماؤنٹ بیٹن اور ان کی بیٹی اندرا گاندھی کے محبوب اور خاوند فیروز گاندھی کی رحلت ہوئی۔ ادھر ایڈوینا کے سرہانے پڑے ملے چھپا دیے گئے پنڈت نہرو کے عشقیہ خطوط کے بنڈل کے حصول کا مطالبہ، چھپے رازوں سے پردہ اٹھانے کے لئے، برطانوی عدالت میں ایک قیمتی مقدمہ بنا ہے تو دوسری طرف فیروز گاندھی کے مسلمان یا پارسی ہونے کے اسرار کی گتھی الجھتی بحثوں کا شکار ہے۔

اور اندرا گاندھی کی زندگی کی رنگین رومانوی داستانوں کو ہر الیکشن میں مصالحہ لگا سنسنی خیز انداز میں چسکے دار کہانیاں بنا پیش کیا جانا معمول بن چکا ہے۔ یہی وہ سال تھا جب ساری عمر کلکتہ میں گزارنے والے میرے مرحوم والد نے مجھے پنڈت نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت اور سید حسین کے رومان اور سید حسین کی جلاوطنی کی داستان بھی سنائی اور فیروز گاندھی کے مسلمان فیروز خان سے پارسی فیروز گاندھی تک کے سفر سے بھی مختصراً آگاہ کیا تھا۔

الہ آباد کے بازار حسن والے علاقے میں اپنے آبائی مکان میں رہنے والے پنڈت موتی لال نہرو اپنی خداداد قابلیت اور محنت کے بل بوتے مشہور اور کامیاب بیرسٹر اور امیر وکیل بنے تو ”آنند بھون“ تعمیر کر یہاں منتقل ہو گئے۔ پنڈت جواہر لال نہرو اسی پرانے آبائی گھر میں پیدا ہوئے۔ کملا کول سے شادی کے بعد انیس نومبر انیس سو سترہ میں اندرا پریا درشنی کا جنم آنند بھون میں ہوا۔

چھوٹے بھائی کی بہت بچپن میں وفات کے باعث اکلوتی اولاد بن چکی تیکھے نقش و نگار والی انتہائی حسین و جمیل اندرا بچپن سے ہی بہت ضدی اور ہٹ کی پکی نکلی۔ باپ کی انتہائی مصروف سیاسی زندگی اور ماں کی سماجی سرگرمیاں اس کو والدین کی کماحقہ شفقت سے محرومی اور تنہائی کے احساس میں مبتلا کر چکی تھیں۔ تعلیم کبھی گھر پہ، کبھی الہ آباد کے سکول میں اور کچھ دہلی کے سکول میں ہوئی۔

انیس سو اٹھائیس میں خواتین کے جلوس کی قیادت کرتے ایونگ کرسچن کالج کے سامنے نعرے لگاتی کملا نہرو یک دم طبیعت بگڑتے بے ہوش کے گری تو اپنے کالج کی دیوار پہ دوستوں کے ساتھ بیٹھے تماشائی فیروز خاں چھلانگ لگا پہنچے اور دوستوں کی مدد سے اسے اٹھا ایک طرف لے گئے اور طبیعت سنبھلتے گھر پہنچایا۔ یہ فیروز خان کی نہرو خاندان اور کملا نہرو کے علاوہ اندرا نہرو سے پہلی شناسائی بھی تھی اور سیاست سے دلچسپی کا محرک بھی، اس کی دیش بھگتی سیاست میں بھر پور حصہ لیتے نہرو خاندان اور مہاتما گاندھی جی سے انتہائی قربت کا باعث بھی۔ صرف دو سال کے عرصہ میں کانگرس کے نعرہ ہندو مسلم اتحاد کا بھر پور داعی بنتے فیروز خان کانگرس کا ایک مقبول لیڈر اور گاندھی جی اور موتی لال نہرو کی آنکھوں کا تارا بن چکا تھا۔ اور آنند بھون میں آنا معمول بن چکا تھا۔

ایرانی نژاد مسلمان عرف عام میں نواب خان کہلاتا معروف تاجر جہانگیر فریدون گھیندی یا گھاندی، گجرات کاٹھیا واڑ کے علاقے سے نقل مکانی کرتے پارسی خاندان کی رتمی مائی کو مسلمان کرتے شادی کر کے بمبئی کا باسی بن چکا تھا بارہ اگست انیس سو بارہ کو فیروز خاں پیدا ہوا انیس سو بیس میں نواب خاں کی ناگہانی وفات کے بعد رتمی بائی اپنے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کو لے الہ آباد میں اپنی ڈاکٹر پارسی بہن ( جس نے شادی نہیں کی تھی ) کے گھر آبسی۔

لائق، ذہین اور محنتی فیروز خان ودیا مندر سکول سے تعلیم کے بعد ایونگ کرسچن کالج کا طالبعلم بنا۔ اور یہیں اس کی زندگی کملا کے طفیل نیا موڑ مڑ گئی۔ انیس سو اکتیس میں کمالا نہرو تپ دق کے موذی مرض میں مبتلا سوئٹزر لینڈ کے سینی ٹوریم بھجوا دی گئیں۔ اسی سال موتی لال نہرو بھگوان کو پیارے ہوئے تو اس موقعہ پر فیروز خان کی ماں نے گاندھی جی سے درخواست کی کہ کالج کی تعلیم کی تکمیل کے بعد فارغ فیروز خان کو اعلی تعلیم کے لئے انگلینڈ جانے کی اجازت دی جائے مگر گاندھی جی نے اپنا مشہور اور تاریخ میں محفوظ فقرہ ”اگر اس جیسے سات اور جوان مجھے مل جائیں تو دو سال میں ہندوستان انگریزوں سے آزاد ہو سکتا ہے“ سناتے ہوئے اجازت سے انکار کر دیا کہ یہاں اس کا مشن مزید تعلیم سے زیادہ اہم ہے۔

تاہم اس کی والدہ نے کچھ عرصہ بعد اسے انگلینڈ بھجوا دیا۔ جہاں لندن سکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس سے تعلیم مکمل کرتے کانگرس کا مشہور سیاستدان، صحافی، آتش بیان مقرر اور ایک مقبول سیاسی مصنف کے طور ایک قد آور کانگرسی لیڈر کی حیثیت سے جانا جانے لگا جسے کانگرس کی اعلیٰ درجہ کی قیادت اپنا اثاثہ سمجھتی اور تحریک آزادی کا بڑا لیڈر گردانتی۔

انیس سو تینتیس میں اندرا ماں کی تیمارداری کے لئے سوئٹزر لینڈ پہنچی تو فیروز بھی وہاں آ پہنچا۔ کملا کی خدمت کے ساتھ اندرا سے محبت کی پینگ جھولے لیتی اونچی اڑانیں لینے لگی۔ اور فیروز نے اس کا ہاتھ مانگ لیا۔ ”اندرا ابھی بہت چھوٹی ہے“ کے بہانہ کے پیچھے یہ ہاتھ جھٹک دیا گیا جب کہ اصل وجہ مذہب تھی۔ کملا کو ہندوستانی صحت افزا مقامات پہ بھی گھمایا جانے لگا اور اندرا تعلیم کے لئے آکسفورڈ بھیج دی گئی۔ جہاں غیر تعلیمی مصروفیات اور خراب کارکردگی اس کے نکالے جانے کی وجہ بنی۔

دھن کی پکی اندرا، اور قربان جاتا عاشق فیروز۔ اندرا نے اسلام قبول کرتے میمونہ بیگم نام رکھتے برطانیہ کی ایک مسجد میں اسلامی طریق سے نکاح پڑھواتے شادی کرلی۔ ( یہ شادی کس سال، کس مسجد میں ہوئی، شانتی نکیتن داخلہ سے پہلے یا بعد ، کوئی سراغ داستان گووں کے فسانوں میں نہیں ملتا ) ۔ اندرا کلکتہ میں ٹیگور کے ادارہ شانتی نکیتن میں داخل ہوئی تو وہاں اس پہ اس کے پہلے عشق چالیس سال بڑے جر من استاد کے ساتھ ہونے کی کہانی بنی۔

دوسرا عشق آٹھ سال بڑے ایم او میتھائی، نہرو کے سکریٹری سے ہوا، تیسرے عشق کا ہیرو کنڈلیانی یوگی دھریندرا برہم چاری، اونچا لمبا مضبوط جسم والا گبھرو جوان، ٹھیرا جو اندرا سے سات سال چھوٹا تھا۔ چوتھا ہیرو بعد میں وزیر خارجہ بننے والا دنیش سنگھ بنا، فیروز خان تو تھا ہی۔ اور فیروز خان کے بعد سب سے زیادہ شہرت بیوروکریٹ اور بہت ملکوں میں سفیر رہنے والے یونس خان کے حصہ میں آئی کہ سنجے گاندھی کا باپ بھی گردانا گیا۔ اور داستان نویس ان تمام رومانوں کو محض پریم سے آگے جاتا بتاتے ہیں۔

کملا نہرو انیس سو چھتیس میں سورگباش ہوئیں اور بظاہر میمونہ بنی اندرا اور فیروز کی شادی چھتیس سے بیالیس کے درمیان کہیں ہونا ہی ممکن ہے۔ یہ خبر نہرو گھرانے کے لئے بڑا صدمہ تھا۔ فیروز کو انڈیا بلوایا گیا۔ گاندھی جی اس فعال جوشیلے سیاستدان کے بہت فین تھے۔ اور اس شادی کو تڑوانے یا چھپانے حق میں نہ تھے۔ اور بیٹی کی مسلم سے شادی اس زمانے کے معاشرہ میں پنڈت نہرو کے آزاد ہندوستان کے وزیر اعظم بننے میں بڑی رکاوٹ تھی۔

لہذا نواب خان کے ایرانی نام کی پارسی ناموں سے مشابہت اور گھیندی یا گھاندی لاحقہ اور اس کے کے خاندان کے پارسی ہونے نے گاندھی جی کے ذہن رسا کو فیروز خان کو پارسی فیروز گاندھی بنانے کا سجھاؤ دیا۔ اور ہندو طریق سے دوبارہ پھیرے کرا شادی کرا دی گئی۔ یوں اندرا پریا درشنی نہرو بھی اندرا گاندھی بن گئیں۔ لیکن جلد بعد ہی ان کی ناچاقی کی خبریں آنے لگیں شادی کے بعد کوئی چھ ماہ کے لئے فیروز جیل میں بھی رہا۔ انیس سو چوالیس میں راجیو گاندھی کی پیدائش ہوئی۔

پھر دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ ( ”کواورا“ انگریزی ویب سائٹ پہ بھاسکر ٹنڈورکر اپنے۔ مضمون ”نہرو دور کی یادیں“ میں اندرا کے رومانوں کی وجہ فیروز کا لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرح بستر پہ کمزور ہونا بھی بتاتا ہے۔ ) اور اس کے بعد تمام عمر الگ رہے۔ تاہم طلاق بھی نہیں ہوئی۔ اب یونس خان کی انٹری ہوئی اور چھیالیس میں پیدا ہونے والے سنجیو ( بعد میں سنجے کہلایا ) کو اسی کا کمال سمجھا جاتا ہے اور ثبوت کے طور یونس خان کے اپنی کتاب میں سنجے کے ختنے ہونے کے ذکر، اس کے شادی سکھ لڑکی مانیکا سے اسی کے گھر ہونے اور سنجے کے ہوائی حادثہ میں ہلاک ہونے پر سب سے زیادہ رونے اور دکھی ہونے کو بطور ثبوت بہت تقویت ملتی ہے۔

اب فیروز خاں فیروز گاندھی کے نام سے سیاست کا بھرپور پہلوان بن چکا تھا اور ہر جگہ مقبول تھا اور آزادی کے بعد الہ آباد سے اپنی موت تک لگاتار پارلیمنٹ کا ممبر منتخب ہوتا رہا۔

یہ بات حیران کن ہے کہ تقریباً یہ تمام تفصیلات جن بھی مضامین میں درج ہیں سب کا ماخذ وہی چار پانچ کتابیں، کیتھرین فرینک، ایم او میتھائی۔ کے این راؤ، کی اور نہرو خاندان کے کشمیری پنڈت یا مغلوں کی اولاد ثابت کرتے نہرو خاندان کے خلاف انتخابی موسموں میں کردار کشی کے لئے دو ہزار گیارہ سے ہر بار پھیلایا جانے والے و نشان آنند کا بہت لمبا مقالہ تہلکہ خیز انکشافات ہی ہیں۔ حیرت ہے کسی مضمون نگار نے بھی کسی ذریعہ سے حقائق کی چھان بین کی کوشش ہی نہیں کی۔ سب اندرا اور نہرو کی موت کے بعد لکھی گئیں اور مخالف ہو جانے والوں کی طرف سے لکھی (یا ممکن ہے لکھوائی) گئیں۔ شاید ہی کوئی غیر جانبدار ہو۔

انگریزوں کے بنگال پر قبضہ کے بعد سے کلکتہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ، سب سے زیادہ شرح خواندگی والا اور سیاسی سرگرمیوں کا محور اور مصروف ترین بندر گاہ تھا۔ لہٰذا میرے والد کی طرح اپنی جوانی سے ادھیڑ عمر تک وہاں یا دوسرے بڑے شہروں میں گزارنے والے، اس وقت کے محدود مگر کلکتہ جیسے بڑے شہروں میں آسانی سے مہیا ذرائع ابلاغ اور ریڈیو سے سیاسی خبروں سے آگاہ رہتے تھے اور موضوع بحث بھی لاتے تھے۔ تو وہ سب فیروز خان کو مسلمان جانتے اور پارسی فیروز گاندھی کے سٹنٹ سے آگاہ تھے۔

دور دراز اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں بہت محدود تعداد میں ان حقائق کا پتہ تھا۔ نہرو گاندھی بلکہ کانگرس قیادت فیروز کا اصل ماضی لوگوں کے ذہن سے حقائق محو رکھنے کو اپنے مفاد میں جانتی تھی کہ اگلی نسلیں اسی نہرو گاندھی گٹھ جوڑ داستان کو اصل تاریخ لکھیں۔ ورنہ انتہائی معمولی محنت سے حقائق کریدنا بالکل آسان تھا۔ کیا اس زمانہ کے اخبارات کے فائل انیس سو اٹھائیس سے مشہور کانگرسی سیاست دان اور آزادی کے متوالے دیش بھگت کے نام سے بھرے نہ ہوں گے۔ پارسی ہوتا تو نام فیروز خان کہیں نہ ہونا چاہیے۔ وہ خبریں، مضامین تقریریں انیس سو بیالیس میں پارسی فیروز گاندھی بننے تک، اگر فیروز خان کے نام کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہوں تو کیا یہ کوئی اسرار رہ جاتا ہے۔ ان کو ڈھونڈ کے منظر عام پہ لانا سب کچھ سامنے لے آتا۔

فیروز خان آٹھ سال کی عمر میں الہ آباد آیا۔ ودیا مندر سکول میں پڑھا۔ انگلینڈ لندن سکول آف اکنامکس میں عرصہ گزارا۔ کیا ان اداروں سے اس کے اور اس کے باپ کے نام کا پتہ کرنا اور تعین کرنا مشکل تھا۔ لندن سے تو شاید اب بھی ممکن ہو۔

گھیندی یا گھاندی جسے مشرف بہ گاندھی کیا گیا۔ زیادہ امکان ہے کہ گجرات کاٹھیاواڑ وغیرہ کے مسلم ”گھانچی“ انگریزی ہجوں اور لہجے میں گھیندی یا گھاندی بنا ہو۔ اور پارسی لاحقہ نہ ہو ( کراچی کھوڑی گارڈن میں گھانچی ابراہیم اینڈ سنز، شاید یہی نام تھا، ہارڈویئر ٹولز کا کاروبار کرتی دکان سے کوئی تین دہائی میرا کاروباری لین دین رہا۔ ) ظاہر ہے نہرو گاندھی نے فیروز خاں کی ماں کے پارسی پس منظر سے فائدہ اٹھایا۔ اور یہ سٹنٹ بنایا۔

یاد رہے وفات کے بعد فیروز کی لاش جلا کر استھیاں دریا میں نہیں بہائی گئیں، نہ پارسیوں کی اصل روایت کے مطابق خاص مینار کے اوپر چیلوں کوؤوں گدھ کے کھانے کے لئے چھوڑ دی گئیں، جو مشکل نہ تھا، بلکہ پارسی قبرستان میں دفن کی گئیں جہاں ایک مرتبہ ہی صرف اس کے پوتے کے رات کے اندھیرے میں جانے کا ذکر ملتا ہے۔ ورنہ اتنے بڑے سیاست دان کی قبر ”پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں، کوئی چار پھول چڑھائے کیوں“ کی دہائی دیتی کبھی برسی پر بھی کسی تقریب کسی مضمون، کسی فرد خاندان چھوڑ کسی بھی کانگریسی رہنما، ادیب کی منتظر نہ رہتی۔

جب کہ نہرو خاندان کے کسی بھی سورگ باش فرد کی برسی پر کروڑوں کے اشتہارات، تقریبات، ان کے نام پہ سڑکیں یادگاریں، کتبے وغیرہ موجود ہیں مگر فیروز گاندھی کا کام بھلایا جا چکا۔ نام بھلایا جا چکا۔ بلکہ بالکل مٹایا جا چکا۔ سویڈن کے لکھاری برٹل فورک کی کتاب ”فیروز خان، دی فارگاٹن گاندھی“ ان تفاصیل کو بیان کر چکی ہے۔ شاید یہ تعصب سب سے بڑا ثبوت اس کے مسلمان خاندان کا فرد فیروز خان ہونے کا ہے۔

ایسی ہی محبت اندرا گاندھی سے روا رکھی گئی۔ کہ یہ تمام سکینڈل اندرا کے خلاف انتخابی مہمات میں ہی پھیلائے جاتے رہے۔ اس لئے ذرا غور کرنے سے آدھا سچ ہی لگتے ہیں۔ ایک مضمون میں پڑھا، کہ فیروز خاں اپنے کالج کے سامنے سے کمالا نہرو کو گھر پہنچاتے ہی دونوں ماں بیٹی پر عاشق ہو گیا اور دونوں کو استعمال کرتا۔ گویا مضمون نگار کو پتہ ہی نہیں تھا کہ اندرا تو اس دقت گیارہ سال کی بھی نہ ہوئی تھی اور فیروز صرف سولہویں سال میں اور کملا تیس برس کی۔ یعنی اندرا ابھی بچی اور کملا اس سے تقریباً دوگنی عمر کی۔ جب فیروز تعلیم کے لئے انیس سو اکتیس میں تعلیم کے لئے انگلینڈ پدھارا تو اندرا چودھویں سال میں تھی اور کملا تپ دق کی اگلی سٹیج پہ پہنچ چکی تھی۔

البتہ فیروز اپنی محسنہ کی خدمت کو سوئز لینڈ پہنچا تو اندرا کے ساتھ اس کا عشق بلندیوں پہ پہنچا۔ اندرا کے آکسفورڈ سے نکالے جانے کے بعد شانتی نکیتن میں داخلہ اندرا اٹھارہ انیس سال کی ہوگی کہ کسی نے سال کا ذکر ہی نہیں کیا۔ وہ زمانہ جب فیروز اندرا محبت انتہا پہ پہنچی ہوئی تھی اندرا کی اپنے سے چالیس برس بڑے گویا ساٹھے ہوچکے جرمن استاد سے احترام، دوستی یا بے تکلفی کا رشتہ تو ہو سکتا ہے۔ جنسی تعلق کی سمجھ نہیں آتی۔

فیروز اور اندرا کی مسجد میں شادی کے زمانہ یا مسجد یا امام کے نام کو گول ہی کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ باوجود بہت تلاش کے لندن کے مضافات والی انیس سو تیرہ سے فعال ووکنگ مسجد لندن میں پہلی مسجد ملتی ہے جو خواجہ کمال الدین کی محنت کا ثمر تھی۔ خواجہ احمدیہ جماعت سے تھے اور بعد میں ”لاہوری احمدی فرقہ“ میں شامل ہو گئے تھے۔ دوسری مسجد بھی جماعت احمدیہ ہی کی مسجد، لندن مسجد بھی کہلاتی مسجد فضل تھی۔ پٹنی، ساؤتھ فیلڈ، کے علاقہ میں انیس سو چھبیس میں تعمیر مکمل کرتی اسی مسجد میں قائد اعظم نے دوبارہ سیاست میں فعال ہونے کا اعلان کیا تھا۔

تیسری مسجد کا قیام انیس سو چوالیس میں ہوا۔ ظاہر ہے یہ نکاح اور اندرا کے میمونہ بیگم بننے کی تقریب ان ہی دو میں سے ایک مسجد میں ہوئی ہو گی۔ اگر نکاح مسجد میں ہی ہوا تو۔ اور اس تبدیلی مذہب کا ریکارڈ، جماعت احمدیہ کی روایات کے مطابق وہاں عرصہ تک موجود رہا ہو گا۔ وہاں پہنچنا مشکل نہ تھا۔ اگر فیروز پارسی تھا تو اس نے بھی تو اسلام قبول کیا ہو گا۔ پتہ لگ سکتا تھا۔

کیا اتنے برس پہلے شادی ہو چکے انیس سو بیالیس والی ہندو شادی کے بعد ہی اندرا کو فیروز کی کمزوری کا پتہ لگا پہلے کیوں نہیں۔ کچھ سمجھ آنے والی بات نہیں کہ یہ الزام بھی کہیں سیاست کا کھیل ہی نہ ہو۔ اسی طرح دنیش سنگھ، میتھائی، اور یوگی دھرندرا برہمچاری وغیرہ سے تعلقات کا بھی زمانہ کہیں کسی نے لکھا نہ کوئی ٹھوس یا کمزور ہی سہی، ثبوت پیش کیا ہے۔ ملکی سیاست کے اعلیٰ ترین مدارج تک پہنچنے والی ہستیوں کے تعلقات بہت وسیع اور اکثر بے تکلفانہ ہوتے ہیں۔

اور انہیں جنسی تعلقات کے رنگ دینے اور مخالف کی کردار کشی کر کے مات دینے کا حربہ ہندوستان پاکستان کی سیاست میں کچھ زیادہ ہی فخریہ کارنامہ بن چکا لہذا یہی کہا جا سکتا کہ یہ رومان سچ تو ہو سکتے ہیں مگر بس آدھا سچ ہونے کا امکان بھی ہے۔ یہ لیلیٰ کی باتیں اور مجنوں کے قصے ہو سکتے ہیں اور سیاسی اور ذاتی عین الرضا اور عین السخط کے جلوے بھی۔

ایک حیران کن امر یہ بھی ہے کہ باوجود تلاش کے مجھے انٹر نیٹ پہ کوئی مواد نہرو خاندان کی طرف سے ان الزامات کی تردید کا نظر آیا نہ ثبوت دیے گئے۔ ”فیکٹ چیک“ میں ایک اعلان موجود ہے کہ یونس خان پر اندرا گاندھی کے سسر ہونے کا الزام غلط ہے۔ اب الزام تو اندرا کے بیٹے کے باپ ہونے کا ہے۔ اور تردید سسر ہونے کی ہو رہی ہے۔ ایک بیان سرکار کی جانب اور وکی پیڈیا پہ ایک مضمون، یہ بھی، غالباً سرکار ہند کی جانب سے، اندرا کے خسر کا نام جہانگیر فریدون کی بجائے جہانگیر فروون لکھ کے اس کے پارسی ہونے کا بتایا گیا۔ اور کوئی واقعی ثبوت کے ساتھ ہو تو مجھے بہر حال نہیں نظر آیا۔

وہ الگ بات ہے کہ نہرو خاندان کو اپنی سیاسی ساکھ بحال رکھنے اور اقتدا کی کرسی قبضہ میں رکھنے کے لئے جو جو بہروپ بدلنے اور سوانگ رچانے پڑے۔ اس پہ شوکت تھانوی کے ناول میں ہجرت کے بعد نائی سے نواب کہلانے والے خاندان کے لئے استعمال گیا شعر حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ کہ زمین نے تو راز اگلنے ہی ہیں۔

گر یہی ہے اصلیت اپنی تو کب تک چھپا سکیں گے
جو چپ رہے گی زبان قینچی، دھار چمکے گی استرے کی


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments