برادر ایران کی جارحیت: دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت


برادر فارسی لفظ ہے جس کے معنی بھائی کے ہیں۔ پاکستان یوسف علیہ السلام کی طرح بھائیوں کے نشانے پر ہے۔
آ رہی ہے چاہ یوسف سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

فارسی ہی میں کہتے ہیں کہ ”سگ باش برادر خورد مباش“ کہ کتے بن جاؤ لیکن چھوٹے بھائی مت بننا۔ دوستی کے بارے میں فراز نے کہا ہے۔

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

دوستی ہمیشہ دیکھ بھال اور سوچ سمجھ کرکی جاتی ہے۔ دوست بدل بھی جاتے ہیں مگر بھائی بدلنا ممکن نہیں ہوتا۔ بھائی آگر مستقل پڑوسی ہوں اور نباہ مشکل ہو جائے۔

برادر ایران کی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر گھناؤنا وار تھا۔ جس سے دو معصوم بچے شہید اور تین بچیاں اور ایک ماں زخمی ہوئیں۔ دونوں ممالک میں رابطے کے متعدد چینلز کے باوجود بین الاقوامی قوانین کے برعکس کارروائی ایران کے اس دعویٰ کی تردید ہے کہ حملہ دہشت گرد تنظیم کے خلاف کیا گیا۔ اس حملے کی ساری ذمہ داری ایرانی حکومت، آئی آر جی سی اور ایرانی انٹیلی جنس پر ہے اس واقعے کے جواز کے لیے جیش العدل سے جعلی پریس ریلیز جاری کروائی گئی اور پھر جھوٹا بیان دلوایا گیا کہ یہ راکٹس غلطی سے بارڈر کے پار گئے جبکہ ایران کے اندر واقع جیش العدل کے کیمپ ٹارگٹ تھے۔ یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ ایک دہشت گرد تنظیم خود راکٹس کی غلطی سے بارڈر کراس کرنے کی وضاحتیں دے۔ پاکستان ہمیشہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بقاء باہمی کے اصول کو ترجیح دیتا ہے لیکن اپنی ملکی سلامتی کے تقاضوں سے قطعاً غافل نہیں ہے۔

سفراء کے حوالے سے پاکستان کافوری ردعمل انتہائی درست تھا۔ اس سے پہلے بھی دراندازی اور دہشت گردی کے واقعات ایران کی سرزمین پر رونما ہوتے رہے۔ جنوری 2023 میں ضلع پنجگور میں ایران کی جانب دہشتگردانہ سرگرمی کے دوران چار سیکورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ اپریل 2023 میں ایرانی دہشت گردوں نے کیچ میں پاکستان فورسز پر حملہ کیا۔ اگر ایرانی حکومت یا پاسداران انقلاب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ ”شیطان بزرگ“ (امریکہ) کی طرح بدمعاش بن سکتے ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے جسے پاکستان کے جوابی ٹھوس رد عمل نے ثابت کر دیا ہے۔

دونوں ممالک کے تعلقات کا مختصر جائزہ پیش خدمت ہے۔

• ایران پہلا ملک تھا جس نے سرکاری طور پر پاکستان کو تسلیم کیا۔ شاہ ایران کے دور میں پاکستان اور ایران کے تعلقات واقعی برادرانہ رہے۔

شاہ ایران رضا شاہ پہلوی دنیا کے پہلے لیڈر تھے ’جنہوں نے 18 مئی 1950 ء کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔

• شاہ ایران کے دورے پر ہی پاکستان کا فارسی میں قومی ترانہ راتوں رات لکھوایا اور کمپوز کرایا گیا۔
• 13 ستمبر 1947 ء کو ایران سے اس کے آئین اور قانون کی کاپی ماڈل سمجھتے ہوئے مانگی گئی۔

• 1954 ء میں پاکستانی حکمران سکندر مرزا نے دوسری شادی ایرانی خاتون ناہید سے کی۔ جو ایرانی سیاستدان اور رکن پارلیمنٹ تیمور کلائی کی بیٹی تھیں۔

•ناہید مرزا کی کزن نصرت اصفہانی نے ذوالفقار علی بھٹو سے شادی کی۔
•رضا شاہ کے دور میں ایران نے ہر مشکل اور بھارت سے جنگوں میں پاکستان کی مدد کی۔

•رضا شاہ نے ایران پر 1941 ء سے 1979 ء تک حکومت کی۔ شاہ ایران کا پاکستان کی مدد میں یہ مفاد تھا کہ وہ روس کے جنوبی ایشیا میں اثر و رسوخ کو قابو میں رکھے۔

• 1971 کی جنگ میں پاکستانی طیاروں کو بھارتی حملے سے محفوظ کرنے کے لیے ایرانی ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔

اب آئیے برادر کی ”مہربانیوں“ کا تذکرہ ہو جائے۔

• 1979 ء میں ایران میں اسلامی انقلاب آ یا جو کہ باقی دنیا سمیت پاکستان میں برآمد کرنا لازم قرار پایا۔

• سعودی عرب اور ایران کی پراکسی جنگ سے پاکستان اب سے کچھ عرصہ پہلے تک ”فیض یاب“ ہوتا رہا۔ برادر ایران کی انقلابی حکومت نے ہمیشہ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دی۔

•پاکستان میں موجودہ صدی کے دوسرے عشرے تک فرقہ وارانہ طوفان گرم کر کے ایران اپنے دھڑے کو فریق بن کر سپورٹ کرتا رہا۔

• پاکستان کا گوادر بندرگاہ تعمیر کرنا ایران کے لیے سوہان روح بن گیا اس نے بلوچستان کی شورش کو نہ صرف خوب سپورٹ کیا بلکہ بھارت کا سہولت کار بن کر کلبھوشن یادیو کو آپریٹنگ فیسلٹی تک مہیا کی۔

•اس کے باوجود ایران پاکستان سے گلہ مند تھا کہ بھارتی جاسوس کی گرفتاری سے متعلق ایسی باتیں پھیلائی گئیں جس سے ایران، پاکستان ”دوستی“ اور ”اخوت“ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

•چابہار کی بندرگاہ کا منصوبہ اس ذہن اور کوشش کے ساتھ بنایا کہ پاکستان کو ناکام کیا جائے۔
•بلوچستان کے شورش پسندوں بی ایل اے اور بی ایل ایف کو کیمپنگ کی سہولت مہیا کی۔
•افغانستان میں بھی ایران، اپنے مفادات کی پاسبانی میں انڈیا کا حلیف اور پاکستان کا حریف رہا۔
• سی پیک سبوتاژ کرنے میں ایران نے پاکستان کے دشمن انڈیا کے ہمراہی کی۔

•ایرانی میڈیا پاکستان کے متعلق مسلسل جو اناپ شناپ لکھتا اور کہتا ہے۔ ایران نے پاکستان ”دوستی“ اور ”اخوت“ پراس کے منفی اثرات کے متعلق کبھی سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

•ایرانی بارڈر گارڈز کی بارہا پاکستانی رینجرز پر فائرنگ اور سرحدی بستیوں پر دھاوے ”دوستی“ اور ”اخوت کے شاید ثبوت ہیں۔

ایرانی کارروائی پر پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹی وسٹ جشن مناتے رہے جو باعث شرم تھا۔ پاک فوج کو بدنام کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا انتہائی گھناؤنا استعمال کیا۔ اس مہم میں ہندوستانی اکاؤنٹس ان کو لائیکس اور شیئرنگ سمیت دیگر سپورٹ دیتے رہے۔ شادیانے بجانے والے سیاسی احمقوں کو محب وطن پاکستانی نوجوانوں نے منہ توڑ جواب دے کر ٹھنڈا کیا۔ اپنی سرزمین پر حملے اور بچوں کی شہادت پر دشمن کی زبان بولنا بدترین غداری ہی کہلائے گی۔

اگر حکومت ان جشن منانے والوں کو گرفتار کرتی تو لطیف کھوسہ اور اعتزاز احسن عدالت پہنچ کر مطالبہ کرتے کہ خوشی منانا ان کا بنیادی حق ہے، گرفتاریاں بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔ ایرانی حملے کے کئی پہلو ہیں لیکن اس کا سب سے قابل غور پہلو یہ ہے۔ کہ ایران نے عراق اور شام اور پاکستان کے اہداف پر جو حملے کیے کہ ”ہدف“ تینوں جگہ غائب تھے۔ پاکستان میں ہدف جیش العدل کا مبینہ ہیڈ کوارٹر تھا جو کسی غریب کی جھگی میں قائم تھا اور حملہ ہوتے ہی غائب ہو گیا۔

عین یہی کچھ عراق اور شام میں ہوا عراق میں موساد ہیڈ کوارٹر کے بجائے ایک عام کرد شہری کا گھر نشانہ بنا دو بچوں سمیت چار شہید ہو گئے۔ شام میں بھی ”داعش“ ہیڈ کوارٹر کی جگہ ایک منزلہ غریبانہ ڈسپنسری تباہ ہو گئی۔ یہ ہیڈ کوارٹر کہاں گئے؟

اس حملے سے ایرانی غلبہ مخالف قوتوں کے ہاتھ مضبوط ہوئے اور حملے کے بعد ایران کو پریشان کرنے والے یہ واقعات ہوئے۔ عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السعودان نے کہا کہ ایران اسرائیل پر حملہ نہیں کر سکتا لیکن اربیل پر حملہ کر دیا۔ ایرانی حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کی جوابی اور ٹارگٹڈ بھرپور کارروائی سے جشن منانے والوں کے ساتھ ایران اور ہندوستان کی سٹی گم کردی ہے۔

حکومت اور فوج کو فوری طور پر ان تمام ففتھ کالمسٹس اور گھس بیٹھیوں کو ٹریس کر کے انہیں نشان عبرت بنانا چاہیے۔ یہ وہ میر جعفر اور میر صادق ہیں جو دشمن کے حملے پر فصیلوں کے قفل اندر سے کھولتے اور انہیں راہ دیتے ہیں۔ دشمن کے دانت کھٹے کر نے کے ساتھ ان کے ہاتھ توڑنا بھی ضروری ہیں

Facebook Comments HS