جسبیر سنگھ دھیمان اور محمود درویش


ننگے پاؤں ( 5 )

کویت کی پنجابی ادبی سنگت کے پنجابی مشاعرے میں جسبیر سنگھ دھیمان ایک نثری نظم سنا رہا تھا جس کا عنوان تھا

’ فلسطینی شاعر محمود درویش دے ناں‘ جس کا ایک حصہ یوں تھا
جیون سفر دے
دو ات پیارے شبد
گھر تے وطن
تے ایہہ دونویں شبد
تیتھوں کھون دی سازش چلائی گی

وہ پڑھ رہا تھا اور میں اس گہری سازش کویاد کر رہا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل وجود میں آیا اور ابھی تک وسعت پذیری کے خبط میں مبتلا ہے۔ کیسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تاریخ کی ردی کی ٹوکری میں پھینک کر فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، کیسے غزہ کی چھوٹی سی پٹی پر حملوں میں ہزاروں فلسطینی نوجوان، بوڑھے اور بچے جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ ہولو کاسٹ پر شک بھی کریں تو اسے کفر کے برابر سمجھا جاتا ہے اور غزہ میں ہولوکاسٹ کی بات کی جائے تو کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور او آئی سی، اوہ آئی سی ہو جاتی ہے۔

محمود درویش نے جو لکھا، علامہ اقبال نے جو نوحہ سرائی کی، فیض نے جو دل کے پھپھولے پھوڑے
پھر برق فروزاں ہے سر وادیٔ سینا
پھر رنگ پہ ہے شعلۂ رخسار حقیقت
پیغام اجل دعوت دیدار حقیقت
اے دیدۂ بینا
یاسر عرفات نے جو وکٹری کا نشان بنایا
لیلیٰ خالد نے دنیا کا شعور جگانے کے لئے ہوائی جہاز ہائی جیک کیا
جو ہماری نسل نے نعرے بلند کیے ان کا کیا ہوا۔

ان سب کا بلاد کار ہوا اور ہولو کاسٹ کے خلاف بولنا بھی کفر ٹھہرا، قابل تعزیر جرم قرار پایا اور غزا کا جینوسائیڈ؟

اور جسبیر سنگھ کہہ رہا تھا
گھر تے وطن
اے دونوں شبد!
یہہ کہہ کر وہ فلسطین کی بات تو کر ہی رہا تھا مجھے میرا وطن بھی یاد دلا رہا تھا،
اور جب میں نے اپنی پنجابی غزل کے دو اشعار پڑھے
نیندر دے وچ اٹھ اٹھ راتیں تیرے گھر ول جاواں
لوکیں کہندے میرے سر تے پریاں دا پرچھاواں
اوہ خشبو سی اوہنوں لے گئے تیز ہوا دے بلہے
گھر دی کند وچ اڈیا بوٹا اڈ اڈ رہ گیا بانہواں

تو وہاں موجود پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کو اپنے اپنے گھر یاد آ گئے اور سردار جسبیر سنگھ دھیمان ترکھان نے مجھے اپنے گھر کھانے کی دعوت دے دی جہاں وہ تنہا رہتا تھا۔

اپنے ہاتھ سے بنایا ہوا کھانا کھلانے کے بعد اس نے مجھے اپنے خاندان کی البم دکھانا شروع کی اور جوں جوں ورق پلٹتا گیا آبدیدہ ہوتا گیا۔

” ایہہ میری گھر والی اے، اے میرا بھرا اے تے اے میرا چھوٹا پتر“
”سردار جی تہاڈا چھوٹا پتر تے بڑا سوہنا اے“
” آہو سرداراں تے کھوتیاں دے بچے چھوٹے ہندیاں بڑے سوہنے ہندے نیں“
میرے چہرے پر مسکراہٹ ابھری تو اس کی گیلی آ نکھوں میں روشنی ابھر آئی

اور پھر ہم دونوں ہنسنے لگے۔ رخصت ہوتے وقت اس نے مجھے اپنے غیر شائع شدہ پنجابی کلام ’دن ویلے دی بات‘ کا قلمی نسخہ تحفے میں یہ لکھ کر دیا:

”اپنے پیارے حفیظ طاہر نوں پیار نال“ اور ایک الوداعی نظم سنائی
وطن اپنے نوں
چھڈن دا فیصلہ کرن ویلے
میں سوچیا سی
کہ ایس نوں چھڈن ویلے
پچھلا سب کج بھل جاواں گا
بھل جاواں گا اوہ سفنے
جنھاں دا اترا چڑھا
بڑا ای دکھانتک سی
پر بیتا کل
عیسیٰ ہو نکلیا
جو سولی تے وی چڑھ کے مریا نہیں
اج وطن چھڈ کے آون تے وی
میرا ہنڈایا کل
میرا سایہ بن کے
میرے نال گھم رہیا اے
مجھے یوں لگا جیسے یہ نظم میں نے لکھی تھی اور واپسی کا خیال پختہ ہوتا گیا۔

مجھے کویت بزم ادب میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا، کویت ریڈیونے اپنی اردو اور انگریزی سروس میں میرے انٹرویو نشر کیے ، عرب ٹائمز نے میرا ذکر خیر کیا، کویت میں پاکستانی سفارت خانے میں تھرڈ سیکرٹری عبدالمتین سے دوستی ہو گئی، بچوں کی ماں نادرہ کویت آنے کے لئے پر تول رہی تھی۔ انور بھائی کا دوست لیاقت میرے لئے نوکری ڈھونڈ رہا تھا مگر دل رکنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ سر جھکائے ہوئے پھول، کھٹے کی بیل کے نیم سوختہ پتے اور کرن کا اداس چہرہ۔

جب میں لاہور سے روانہ ہوا تو میری معصوم بیٹی کرن نے مجھے خدا حافظ نہیں کہا تھا، مجھے پپی نہیں کرنے دی تھی، اس کے چہرے کا تاثر۔ پی ٹی وی کی فل لائٹس

اور پھر ایک دن میں اپنا کیمرہ اٹھائے تصویریں اتارتا پھرتا تھا کہ میں نے ایک پولیس والے کی تصویر اتار لی۔ وہ ٹیلی وژن سیرئیل مسٹر چپس جیسی موٹر سائیکل کے قریب کھڑ ا کیمرے کی خوراک لگ رہا تھا، یہ جاننے کے باوجود کہ یہاں خدا کے بعد شرطے (پولیس مین ) کی حکومت ہے، کیمرے کا لینز اس کی طرف کیا اور تصویر بنا لی۔

وہ دیکھتا رہا اور جب کیمرے کی کلک کی آواز سنائی دی تو اس نے مجھے پاس بلایا اور انکوائری شروع کر دی۔ میں نے بڑی مشکل سے صفائی دی، اسے اپنا پاسپورٹ دکھایا اور سمجھایا کہ میرا تعلق پاکستانی میڈیا سے ہے اور ایسی موٹر سائیکل پاکستان میں نہیں ہوتی، اس لیے میں نے یہ تصویر اتاری ہے، تب میر ی جان بچی اور اس نے کہا ”یللا“ اور جس انداز میں کہا اس کا مطلب تھا ”دفع ہو جاؤ“

ایک خوف سا دل میں بیٹھ گیا
خوف اور ہذا کوکین

یہ خوف، نا معلوم کا خوف، ہار جانے کا خوف، وصل کے لمحے ہجر کی آمد کا خوف ساتھ رہتے ہیں اور ہم جیسے نچلے طبقے کے لوگوں کے محبوب ہیں۔

کویت کا پورا سفر اس خوف کی نذر رہا۔ لاہور سے چلنے والی ائر بس اومنی بس کی طرح کراچی ائر پورٹ پر اتری، ادھر سے ڈی سی 10 طیارہ مقدر میں تھا جس میں اتنے لوگ جڑ جڑ کر بیٹھے ہوئے تھے کہ بیگار کیمپ کا احساس ہوتا تھا۔ بیچاری ائر ہوسٹس بمشکل ٹرالی لے کر گزر رہی تھی۔

لاہور سے کراچی تک تو پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی مگر کویت کے لئے بورڈنگ سے پہلے شلوار قمیض پہن لی کہ کہیں کویتی امیگریشن والے یہ نہ سمجھ لیں کہ اتنا سمارٹ آدمی مزدور کیسے ہو سکتا ہے اور مجھے ڈی پورٹ نہ کردیں،

مگر ہونی تو ہو کر رہتی ہے مگر کسی اور طرح

گھر سے ہو میوپیتھک دوا کی پڑیاں لے کر گیا تھا۔ کویت ائر پورٹ پر جب سامان کی چیکنگ ہوئی تو وہ بھی سامنے آ گئیں، بس پھر جو ہوا اس نے میرا دل دہلا کر رکھ دیا

”ھٰذا کوکین“ کسٹم افسر نے اونچی آواز میں کہا

میں نے سمجھایا کہ یہ ہو میو پیتھک دوا ہے مگر وہ نہیں مانا۔ میں نے ایک پڑیا کھولی اور منہ میں ڈال کر چوسنا شروع کر دی مگر اسے یقین نہ آیا اور وہ پڑیاں اندر کی طرف لے گیا۔ یقیناً ٹسٹ وغیرہ کیا ہو گا۔ واپس آیا تو اس کا مطمئن چہرہ دیکھ کر میری جان میں جان آئی۔ اس نے میرے پاسپورٹ پر مہر لگائی اور مجھے کویت میں داخلے کی اجازت مل گئی۔ باہر ابا جان، انور بھائی اور رخسانہ بھائی خوش آمدید کہنے کے لئے موجود تھے۔ جس دن میں کویت پہنچا ابا جان کی چھٹی شروع ہو چکی تھی۔ ایک مزدور پاکستان چلا گیا اور ایک مزدور نوکری کرنے یہاں چلا آیا۔

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ

1983 کا وہ کویت قطعاً خوبصورت نہیں تھا۔ لیکن ترقی کی طرف گامزن ضرور تھا۔ پردیسی وینٹ میں سفر کرتے تھے۔ پاکستانی سادگی میں اسے ون ایٹ کہتے۔ اس وین کا کرایہ باقی سواریوں سے کم تھا۔

فائیو سٹار ہوٹل موجود تھے مگر سب سے خوبصورت کویت ٹاورز کا سطح سمندر سے 123میٹر اونچا ریوالونگ ریسٹورنٹ تھاجو ساحل سمندر کے قریب بنا ہوا تھا۔ وہ ہر لمحہ گھومتا رہتا۔ ایک روز میں اسی ریسٹورنٹ میں بیٹھا چائے پیتا ہوا سوچ رہا تھا

سمندر کی لہروں سے اس قدر بلندی پر
میں اکیلا
اس ریستوراں میں چائے پیتا ہوں
جو گھوم رہا ہے
میں اس میں بیٹھا گھوم رہا ہوں
زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے
زمین اپنے گرد بھی گھوم رہی ہے
زندگی مجھے گھمائے ہوئے پھرتی ہے
ایک گھماؤ ہے جس میں ہم زندہ ہیں
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

اس گھماؤ اور گردش میں سے مجھے زلفی نے نکالا۔ ذوالفقار زلفی جو اگر فلم پروڈیوسر ہوتا تو پرنسس ڈیانا کے محبوب ڈوڈی سے کم نہ ہوتا۔ مگر وہ چیرئیٹس آف فائر کی بجائے چیرئیٹس آف لو بناتا۔ اس مستقل عاشق مزاج اور مسلسل رنگین مزاج شخص کی ایک ویڈیو شاپ تھی اور وہ ہر لمحے اس کوشش میں ہوتا کہ وہ نئی آنے والی ہر فلم اور پی ٹی وی سے آن ائر ہونے والے ڈراموں کی کیسٹس سب سے پہلے ریلیز کرے۔

وہ زلفی جس نے ایک انتہائی حسین لڑکی کو انوکھے انداز میں اپنا لیا تھا۔ وہ اسے ان گنت پسند تھی۔ وہ اسے آتے جاتے دیکھتا اور اس کی پرانی کار کے بوسیدہ ہوتے ہوئے ٹایئروں کو نظر میں بساتا۔ اور پھر ایک دن جب وہ کار لڑکی کے گھر کے باہر کھڑی تھی، زلفی نے نئے ٹائر خریدے اور اپنے ہاتھوں سے پرانے ٹائروں کی جگہ لگا دیے اور اس لڑکی کی گویا مرگ ہو گئی۔ وہ ہمیشہ کے لئے اس پر مر گئی۔ اسی زلفی نے مجھے کویت کی اذیت ناک فل لائٹس سے نکالا، کفیل سے بمشکل میرا پاسپورٹ واپس لیا اور مجھے پی ٹی وی فل لائٹس کی طرف روانہ کر دیا۔ (جاری ہے)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments