غریب نوکروں کو ”راحت“
آج کچھ بات ہوگی راحت فتح علی خان صاحب کے بارے چلنے والی کچھ خبروں پہ۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ معاملہ ہے کیا۔
پوری دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے راحت فتح علی خان کا اپنے ملازم پر شدید تشدد، اس سے پہلے ڈرائیور کو بھی مارنا یہ سب کیوں۔ کون سی ام الخبائث ہے اس کے پیچھے؟
لوگ سوال کر رہے ہیں کہ راحت فتح علی خان ایک گلوکار جو محبت کا سفیر ہوتا ہے وہ ایسا تشدد کیسے کر سکتا؟
ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ”خانصاحب“ بہت ”خفا“ دکھائی دے رہے ہیں اور انتہائی عزت اور احترام سے بلکہ پیار سے پچکارتے ہوئے پوچھ رہے ہیں کہ میری بوتل کہاں ہے؟
بعد ازاں ایک وضاحتی ویڈیو بھی جاری کی گئی جو بالکل بھی جبری اور اسکپرٹڈ نہیں لگ رہی تھی اور اس سے قوم کو پتہ چلا کہ وہ پیر صاحب کے دم والے پانی کی بوتل تھی۔
یہاں ایک بات بتانا بھی ضروری ہے کہ شمالی امریکہ ہویا برطانیہ و یورپ خانصاحب دم والے پانی ضرور نوش فرماتے ہیں جسے بہت سے ایونٹ آرگنائزر کچھ زیادہ پسند نہیں کرتے۔
نشہ طاقت کا ہو یا شراب کا ہر بندہ ہی بدمست گھوڑا بن جاتا ہے یہاں دونوں ہی نشے ہیں طاقت کا بھی اور بوتل کا بھی۔
اسی لئے راحت فتح علی خان کا کنسرٹ بک کرنے والی ایجنسیاں سب سے پہلے اس بوتل کا پانی پی کر اسٹیج پر نا آنے کی گارنٹی مانگتی ہیں اور پھر ایک انشورنس بھی کروا لیتی ہیں اگر آ گیا تو جتنا خرچہ شو پر ہوا ہے واپس مل جائے۔
بات یہ ہے کہ اصل خوبصورتی کا تعلق شکل یا آواز سے نہیں بلکہ اخلاق، برداشت اور برتاؤ سے ہے۔ یہ لوگ سکرین کے سامنے کیا ہوتے ہیں اور سکرین کے پیچھے کچھ اور۔
بر صغیر میں متعدد لوگوں نے فن موسیقی میں بڑی عزت اور شہرت کمائی اور ماضی کے معروف گوئیے کسمپرسی کی زندگی گزار کر دنیا سے چلے گئے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ارتقاء نے عزت اور شہرت کے ساتھ دولت کا بھی اضافہ کر دیا۔ فن ثقافت اب ایک انڈسٹری شکل اختیار کرچکا ہے۔
اپنی حرکات کے بعد ایک عدد اور وضاحتی معذرت والی ویڈیو جاری کی گئی۔ کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ۔ شاید اس کی وجہ یوں بھی پیش آئی کہ اس سال کے مال کی امید ختم نہ ہو جائے۔ کروڑوں اربوں کا دھندا یوٹیوب آمدن رائلٹی اور انٹرنیشنل معاہدے یہ سب خطرے میں پڑتے نظر آرہے ہیں۔ ادھر کنگ چارلس کی چیرٹی برٹش ایشین ٹرسٹ نے راحت فتح علی خان سے قطع تعلق کر لیا۔
معذرتی ویڈیو میں آنے والے مزید کچھ اور کارہائے نمایاں انجام دینے کا ذکر موجود ہے یعنی آئندہ بھی یہ سلسلۂ راحت جاری رہنے کے امکانات روشن ہیں۔ اس دوران راحت بھائی کو چاہیے کہ وہ چاہت فتح علی خان والا صبر اور الطاف بھائی والا سر پکڑیں اور زندگی میں جاری اس ”حلالی پن“ پر غور فرمائیں۔
جس بزم میں ساغر ہو نہ صہبا ہو نہ خم ہو
رندوں کو تسلی ہے کہ اس بزم میں تم ہو


