کیا جمہوریت یرغمال بن چکی ہے؟


”ڈیموکریسی“ یونانی زبان کے دو الفاظ ”ڈیموس“ یعنی عوام اور ”کریٹوس“ یعنی حکومت سے نکلا ہے اور دنیا کی پہلی جمہوریہ بھی ایتھنز (یونان) میں قائم ہوا تھا۔ مشہور امریکی فلاسفر ویسٹ کے مطابق ”امریکہ کا متحرک (جمہوری) معاشرہ ہی امریکہ کی طاقت ہے“ ۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے رڈیرل ویسٹ کہتے ہیں کہ جمہوری معاشرہ لوگوں کے اپنے خیالات کے اظہار کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے توقعات کے مطابق حکمرانی کے قوانین کو نافذ کرتا ہے مسابقتی انتخابات کراتا ہے اور آزاد میڈیا کی حمایت کرتا ہے۔

امریکہ میں ایسا ماحول پایا جاتا ہے جس میں لوگوں کے اختیارات کو چیلنج کرنے غیر روایتی نظریات کو فروغ دینے اور بنیادی طور پر ایسے طریقوں سے تجربات کرنے کی اجازت ہوتی ہے جن کا بالعموم آمرانہ معاشروں میں کوئی امکان نہیں ہوتا۔ ماہر معاشیات ڈیرن ایجے موغلو کہتے ہیں کہ جمہوریتیں تعلیم اور صحت کی سہولتوں پر زیادہ پیسے خرچ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق جب معاشرے کے نسبتا ”زیادہ غریب طبقات کو صحت کی سہولتوں اور تعلیم تک رسائی حاصل ہوتی ہے تو ان کی اپنی صلاحیتوں کے استعمال کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور وہ مقامی معیشتوں میں اپنا حصہ ڈالنے لگتے ہیں۔

یونانی جغرافیہ دان ہیروڈوٹس کے مطابق جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس سے انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ فرانسیسی سیاسی فلسفی مونٹیسک نے تجویز دی ہے کہ حکومتی انتظامات کے تین حصے ہونے چاہیے، مقننہ جو قانون بنائے، انتظامیہ جو قانون نافذ کرے اور عدلیہ فیصلے کرے۔

تینوں کو خود مختار ہونا چاہیے اور ایک دوسرے یا کسی کے دباؤ میں نہ ہوں۔ مقننہ یا انتظامیہ سے کسی کو شکایت ہو تو عدلیہ سے رجوع کرے۔ انصاف کی بالا دستی ہو اور ہر کسی کو اس کا حق بلا خوف و خطر ملے۔ ماضی میں تمام تینوں حصے یعنی قانون بنانے اس کو لاگو کرنے اور انصاف دلانے کے سارے اختیارات ایک شخص یا اس کے نامزد شدہ افراد کے پاس ہوتے تھے اگر انتظامیہ کوئی گڑ بڑ کرتی تو شکایت بھی انہی کے پاس لے جانی پڑتی تھی جو بے اثر و بے معنی ثابت ہوجاتی تھی۔ ابراہم لنکن کے مطابق جمہوریت عوام کی حاکمیت عوام کے ذریعے اور عوام پر لاگو ہوتی ہے۔ جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہوتی ہے جس میں عوام کی رائے کو کسی نہ کسی شکل میں حکومت کی پالیسیاں طے کرنے کے لئے بنیاد بنایا گیا ہو۔

نظام جمہوریت ہی سے ترقی یافتہ ممالک نے اپنے عوام کو جدید ترین سہولیات سے آراستہ کیا۔ انصاف کا بہترین عدالتی اور تعلیم و صحت کا اعلی و معیاری نظام دیا۔ صنعتوں اور ٹیکنالوجی کا جدید نظام بھی جمہوریت کی وجہ سے فراہم کیا۔ قدرتی وسائل کو بروئے کار لائے گئے۔ برآمدات بڑھائیں، مہنگائی و بے روزگاری پر قابو پاکر ملکی معیشت کو پروان چڑھایا۔ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف جیسے مالیاتی ادارے قائم کیے ۔ ڈیفینس کے نظام کو طاقتور کیا اور ان اسلامی ممالک کے طاقت کو زیر کیا جو کبھی یورپ پر حکمرانی کرتے تھے۔

اب جبکہ بات ہمارے پیارے وطن کی آتی ہے تو بد قسمتی سے یہاں اسلام اور جمہوریت کے نام پر ایک ایسا نظام موجود ہے جو نہ تو اسلامی ہے اور نہ ہی جمہوری کہلانے کے قابل ہے۔ ایسے نظام کا کیا فائدہ جو جمہوری شکل میں عوام پر عذاب کی طرح مسلط ہے۔ آئے دن مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیوی بچوں کے پیٹ پالنے والے نوجوان اور ہنر مند طبقہ ملک میں مزدوری نہ ہونے کی وجہ سے بیرون ملک جا رہے ہیں۔ تمام ادارے فرائض منصبی ادا کرنے میں فیل ہوچکے ہیں۔ ملکی اثاثے فروخت ہو رہے ہیں اور کچھ کو گروی رکھا جا رہا ہے۔ یوں سارا ملک برائے فروخت ہے۔

اس سرزمین سے انگریز کے جانے کو 76 سال کا عرصہ گزر چکا ہے جس میں جرنیل ڈکٹیٹروں نے اندازہ ”33 سال بزور شمشیر آئین کو پاؤں تلے روندا اور باقی 43 سال بمشکل کوئی حکمران اپنی آئینی مدت پوری کر سکا۔ گزشتہ جمہوری حکومت بھی معینہ مدت پوری کرنے سے پہلے گرا کر 90 دن میں الیکشن کرانے کے لئے نگران حکومت بنائی گئی، لیکن نگران حکومت بھی متعین مدت کے اندر الیکشن کرانے میں نا کام رہی۔؟

پچھلے ادوار میں اگر دیکھا جائے تو ایوب خان نے ان سارے سیاستدانوں کو ایبڈو کے تحت الیکشن سے باہر کیا جن سے اس کو خطرہ تھا اس کے بعد ضیا الحق نے 8 سال تک بلا شرکت غیرے ملک پر حکومت کرنے کی خاطر پاکستان پیپلز پارٹی کو الیکشن سے باہر کیا، اس کے بعد مشرف نے مسلم لیگ (ن) کو انتخابات میں حصہ لینے سے منع کیا اور اب پاکستان تحریک انصاف اور اس کے بانی چیئرمین عمران خان کے ساتھ بھی وہی کیا جا رہا ہے، جو اے این پی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اپنے اپنے وقت پر کیا جا چکا ہے۔

سوچا جائے تو جس ملک میں تمام سیاسی پارٹیوں کو الیکشن میں آزادانہ حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی، مختلف حیلے بہانوں سے گرفتاریاں ہوئی ہیں، الیکشن نشانات چھینے گئے ہیں وہاں پر جمہوریت کے مذکورہ ثمرات کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ہمیشہ اس مخصوص سیاسی پارٹی کو الیکشن سے باہر کیا جاتا ہے جس کی کامیابی کا یقین ہوتا ہے اس لئے دیگر سیاسی جماعتیں اس طرح کے عوام دشمن فیصلوں میں شریک ہو کر الیکشن میں کامیاب ہونے کے توقعات رکھتی ہیں اور وزیر مشیر اور حکومت کا حصہ بننے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کار بن جاتے ہیں۔

چونکہ سیاسی پارٹیاں عوام کی بجائے طاقت کا سرچشمہ کسی اور مرکز کو سمجھتی ہیں اس لئے وہ عوام کے لئے کوئی منشور پیش کرنے یا ان کے حقوق کے لئے کسی لڑائی میں شامل ہونے کی بجائے کھوکھلے نعروں سے عوام کو دھوکہ میں رکھتی ہیں۔ کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ الیکشن میں کامیابی کا راز اور وزارتوں کا ملنا عوام کے حقوق کی جنگ میں نہیں بلکہ نادیدہ قوتوں کی خوشنودی میں ہے۔ اگر عوام بشمول سیاستدان سمجھ رہے ہیں کہ جمہوریت لیاقت علی خان کے شہادت کے بعد یرغمال ہو چکی ہے الیکشن کے نتائج بھی حقیقت پر مبنی نہ ہوئے اور حکومت بھی من پسند کو حوالے کیا گیا تو کیا عوام کے پاس جمہوریت کو بحال کرنے کا کوئی لائحہ عمل یا آپشن موجود ہے؟

Facebook Comments HS