یوسفی، میں اور سیلفی
٭ یہ تحریر، جون 2021 میں لکھی گئی تھی۔ وجہ کسی دل جلے کی مشتاق احمد یوسفی کی آخری نام نہاد مطبوعہ کتاب ”شام شعر یاراں“ کی مخالفت میں سوشل میڈیا پر گھومتی ایک پوسٹ تھی۔ مشتاق احمد یوسفی میرے لئے بزرگوں کی طرح تھے اور جنت مکانی بزرگوں کو یاد کرنے کے لئے کسی سال، مہینے یا موقع کی ضرورت نہیں ہوتی۔ 6 فروری 2006 البتہ وہ تاریخ ہے جب میں نے پہلی بار بابا یوسفی کی قدم بوسی کی تھی۔ اللہ تعالی ابن انشا اور ان کی قبروں کو جنت کا گوشہ بنائے اور وہ قیامت کے بعد بھی اللہ کی تمام مخلوق کے لبوں پر (بشمول ہمارے ) مسکراہٹیں بکھیرتے رہیں۔ آمین۔
٭٭٭
”وصال یوسفی کو 20 جون 2021 کو تین سال ہونے کو آئے اور سوشل میڈیا پر وہ ایک بار پھر چند دنوں کے لئے زندہ ہو گئے“ ۔ ان سے متعلق کئی منفی تحریریں بھی نظر سے گزریں تو دل چاہا میں بھی کچھ ”بزبان یوسفی“ میں ”یوسفی جواب شکوہ“ تحریر کر دوں۔ عالم برزخ سے وہ تو اب آ نہیں سکتے اور اگر طاہر القادری قبر کے منکر نکیروں سے کلام پر اور انور مقصود عالم بالا میں موجود ادیب، شعرا اور سیاست دانوں سے خط و کتابت کر سکتے ہیں تو میں تو پھر سید زادہ ہوں۔
ایک 90 سالہ شخص کی زندگی کے آخر ایام میں، چاہے اس کا نام یوسفی ہو یا ”بابا اشفاق احمد“ : ہم میں سے کتنے لوگ اس کے مالی، دماغی، جسمانی اور دنیاوی مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟
پندرہ سال پہلے 2006 میں جب پہلی بار بابائے ظرافت سے بطور خاص کراچی ملنے گیا تو دو گھنٹے کی نشست کے بعد میں نے خلاف عادت (جانے کیوں ) تصویر کی فرمائش کر دی۔
کہنے لگے، ”کسی کو بلاتا ہوں“ ۔
میں نے کہا۔ ”خود کھینچ لیتا ہوں“ ۔
حیرت سے پوچھنے لگے۔ ”وہ کیسے“ ۔
میں نے ہاتھ بڑھایا اور بھائی عارف زاہدی کے ادھاری نوکیا میں تصویر محفوظ کرلی۔
بڑے حیران ہوئے۔
اس وقت ونگ کمانڈر اور یوسفی صاحب، دونوں ”سیلفی“ کی اصطلاح سے نا واقف ہوتے ہوئے بھی ”سیلفی“ بنا اور بنوا چکے تھے۔
ہم رضا علی عابدی کے جہازی بھائی سے ہوتے ہوئے، پلٹس اور سینی پلاسٹ پر باتیں کرتے لطف اٹھا رہے تھے کہ گفتگو آگے بڑھانے کے لئے میں نے انہیں چھیڑا، ”کیا آپ کو پتہ ہے کہ الطاف حسین اور آپ میں کیا کیا مشترک ہے؟“ ۔
عجب بے منطقی اور بے جوڑ موازنے پر مسکرائے اور حیرانی سے مخصوص انداز میں ہونٹوں کا گولہ بنا کر پوچھنے لگے۔
”بھلا کیا کیا“ ۔
جواباً۔ میں نے ایک فی البدیہہ نثر داغ دی۔ جس کا پہلا نکتہ آج بھی یاد ہے۔
دونوں کی رہائش گاہ نائن زیرو کے نمبر سے منسوب تھی۔ وہ عزیز آباد کے ایک نائن زیرو کے نام سے مشہور گھر میں تو یہ کلفٹن کی جس گلی میں قیام پذیر تھے اس گھر کا نمبر نائن زیرو تھا۔
وہ اردو بولنے والوں کا دادا اور یہ اردو ادب میں دادائے ظرافت۔
پھر ہم دونوں نے حسب توفیق باری باری۔ دونوں کے لندن جوگ سے دادا گیری تک کے جو فی البدیہہ استعارے گفتگو میں ٹانکے، یوں لگتا تھا دو پشتینی مراثی ہیں، جو جگتیں مار رہے ہیں۔ کاش بعد میں یہ گفتگو لکھ بھی لی ہوتی۔ یوں لفظوں سے مسکراہٹوں کے جو موتی پرو لے ہم دونوں ہی ان سے دیر تک حظ اٹھا کر ہنستے رہے۔
ہاں تیسرا ہمارے درمیان کیسپر تھا۔ ننھا سا پلا جو گھر کے بچوں نے پال رکھا تھا۔ میں نے مصداق مجنوں، سگ یوسفی کو پیار کرنا چاہا تو اس نے غاؤں کر کے ایسا حملہ کیا کہ میں عشق یوسفی سے تو تائب نہ ہوا مگر عشق لیلی اور سگ یوسفی سے ضرور ہو گیا۔
”شام شعر یاراں“ ، جب 2014 میں منظر پر آئی تو مداحان یوسفی نے ایک 91 سالہ ادیب سے جانے کیا امید باندھ رکھی تھی۔ لاکھوں لوگ یوسفی کی کتابیں اور اقوال یوسفی سے ”زبان کے چسکے“ تو اٹھاتے ہیں لیکن میر تقی میر کی طرح کبھی کسی نے سوچا کہ یوسفی نے بھی ”درد و غم کتنے جمع کیے تو دیوان ہوا“ ۔ پھر جمع تفریق تو یوسفی کا ذریعہ معاش اور ظرافت، ”ذریعہ بد معاش“ رہا تھا۔
آرٹس کونسل کراچی کے احمد شاہ اور فاطمہ حسن کو یوسفی کے چاہنے والے دیکھتے رہ گئے اور جہانگیر بکس کے اشتراک سے ان لوگوں نے ایک ایسا چوں چوں کا مربہ یا پھکی، ”چورن یوسفی“ کے نام پر لانچ کر دی جو بازار میں تو خوب بکا اور جس کے سبب یوسفی کے بچوں کو شاید اس میں سے کچھ ملا ہو، (جنہوں نے یوسفی کے لکھے فالتو کاغذوں کو ردی میں دینے کی بجائے احمد شاہ اور فاطمہ حسن کے حوالے کر دیا تھا) مگر صاحب کتاب اور ان کے عقیدت مندوں کے حصے میں نری شرمندگی ہی آئی۔
چار کتابوں کے ”دیوان یوسفی“ سے خود یوسفی کو داد و تحسین اور شہرت کے سنگھاسن پر تو ادب کے چاہنے والوں نے بٹھا دیا، مگر کیا کسی نے سوچا کہ اس تعریف سے کیا سب ادیب، شعرا اور نقادوں کا پیٹ بھر جاتا ہے؟
ہر ادیب، مستنصر حسین تارڑ، یونس بٹ اور بابا یحیی کی طرح ”روپلی فی چھپا لفظ“ کے حساب سے قیمت وصول نہیں کرتا اور یوسفی تو بینکار اور آڈیٹر رہے تھے۔ کریڈٹ اور ڈیبٹ یعنی لین دین میں سب سمجھتے تھے کہ چراغ تلے سے آب گم تک کے سفر میں، ناشر و پبلشر سے لے کر خوشی خوشی ”پائریٹڈ“ کتابیں پڑھنے والے قاری تک، سب ان کے استحصال کے کتنے ذمہ دار ہیں۔
آخری کتاب آب گم چھپنے کے 24 سال بعد مفت میں زیادہ اور کچھ قیمتاً خرید کر پڑھنے والے لوگ، جانے 91 سالہ یوسفی سے کیا امید لگائے بیٹھے تھے کہ وہ اس پیرانہ سالی میں لرزتے ہاتھوں سے مزاحیہ ادب کا کون سا ہمالہ سر کر لیں گے۔ جس کے عوض یوسفی کو شاید اب بھی کسی مالی فائدہ کی امید نہیں رہی ہوگی۔
سو اس زبردستی کی کتاب کا نتیجہ وہی نکلا اور قارئین سے لے کر ناشر و پبلشر تک، سب کے ساتھ وہی ہوا جس کا حاصل، شاید یوسفی کو بھی انتقاماً یہی مقصود تھا۔ بقول بی بی سی اردو سروس کے ظفر سید، ”کتاب کیا ہے، الم غلم اور بھان متی کے کنبے کے مصداق ایک واہیات مذاق“ جبکہ خرم سہیل کا ماننا تھا کہ ”اس کتاب سے فائدہ تو بہت لوگوں کا ہوا، مگر نقصان صرف یوسفی صاحب کا ہوا، جن کی پوری زندگی کی ساکھ ان لوگوں نے داؤ پر لگا دی“ ۔
2011 میں ان سے آخری ملاقات ہوئی تو میں پانچ چھ سال سے ان سے اپنی غیر مطبوعہ خودنوشت، ”کیف الحال“ جو روداد، سفر سعودیہ پر تھی۔ اس کا دیباچہ لکھوانے کے لئے، بلا مبالغہ ہڑک گویا ”در یوسفی“ پر ناک سے لکیریں نکال رہا تھا۔ اور اسی بہانے میری تحریر کو بھی صندوق میں 9 سال سے بحکم یوسفی پالا لگ رہا تھا۔
اس اثناء میں مجھ پر کئی افسوسناک باتوں کا انکشاف ہوا۔ مثلاً یوسفی صاحب کے ہاتھوں کی رگیں کمزور ہونے سے ان کے لئے قلم کا استعمال اتنا آسان نہیں رہا تھا (وہ بھی مفت میں ) ۔ یوں میں ان سے دیباچہ لکھوانے سے تو تائب ہو گیا مگر ان سے اسی نشست میں اپنی کتاب کے لئے، ان کے تاثرات یا بیانیہ کو ریکارڈ کر لیا۔ یہ اور بات کہ یوسفی صاحب نے جس تحریر کو 20 سال بالجبر و بحکم یوسفی پالنے کے لئے کہا تھا، اس سفرنامے کو پالتے 19 سال ہونے کو آچکے ہیں، اور ان کے بیس سال کے سنیاس میں تھوڑی ہی کسر باقی ہے۔
ان کا میری تین تحریروں، ”بدو، اونٹ اور شادی“ ، ”راجو بن گیا فلپس“ اور ”لبیک سے البیک تک“ : پر یہ کہنا کہ: ”بہت مزاح لکھا بھی اور پڑھا بھی، لیکن جو معلومات سید نے ان تحریروں کے ذریعے مزاحیہ انداز میں دیں۔ وہ نہ کبھی پڑھیں اور نہ سنیں“ ۔ میرے لئے کسی ستارہ امتیاز سے کم نہیں اور سچ تو یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کبھی یہ خواہش بھی نہ رہی کہ یہ تحریریں کبھی چھپیں یا کوئی اور انہیں پڑھے۔
یوسفی صاحب کے بارے میں ایک دل چسپ بات مجھے مرحوم عبیداللہ بیگ نے بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ خود یوسفی کو کسوٹی پروگرام میں کئی بار بوجھا گیا۔ لیکن سالوں تک ہم ہاتھ جوڑ تھک گئے لیکن یوسفی صاحب نے کسوٹی کو بحیثیت مہمان کبھی زینت نہیں بخشی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ضیا محی الدین کا ہی حوصلہ تھا کہ وہ کسی طرح انہیں اپنے ٹی وی شو میں کھینچ لے گئے تھے۔
مختلف نشستوں کے دوران میں یوسفی صاحب کو کئی مرتبہ گھیر گھار کر کتابوں سے حاصل مالیاتی فوائد پر لے آتا تھا۔ پتہ چلا ہم کروڑوں لوگ جو مداحان یوسفی میں خود کو شامل کر کے فخر محسوس کرتے تھے، اس سے یوسفی کی جیب کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔
کروڑوں کی تعداد میں اگر ہندو پاک اور برطانیہ میں چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت یا آب گم، چھپیں، تو یوسفی کو ان کے عوض ناشر سے کچھ نہ ملا۔ محض پہلی اشاعت کے عوض کچھ ہزار روپلی اور پھر بس پائریسی ہوتی تھی اور ناشر و پبلشر کے جھوٹ۔
بنکوں میں جب تک یوسفی ملازم رہے، وہ سرکاری بنک نہیں تھے تو بعد از ریٹائرمنٹ پنشن ٹائپ کی کوئی چیز وہاں سے ملتی نہیں تھی، وہ تو خدا کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، ”آغا حسن عابدی“ کو جو یوسفی صاحب کو کھینچ کھانچ لندن لے گئے۔ اپنے ”بی سی سی آئی“ بنک اور ”ترویج اردو“ کے لئے بنائے گئے ادارے کی ترقی کے لئے۔
مگر پھر یوسفی پر ایک ظلم اور ہوا، سابقہ زندگی میں پس انداز کی گئی رقم اور ”بی سی سی آئی“ کی کمائی، سب اس وقت ”صفر بٹا سناٹا“ ہو گئیں جب 1991 میں عالمی مالیاتی اداروں نے بنک العابدی کو بشمول اس کے تمام کھاتوں، بحق کفار، بسلسلہ اسلامی ایٹم بم، منجمد و ضبط کر لیا۔ یوں BCCI کے اکاؤنٹ میں رکھی یوسفی کی جمع پونجی بھی غرق صحرا سے ہوتے ہوئے غرق آب اور پھر ”غرق اسلامی بم“ گویا ”آب گم“ ہو گئی۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹم بم میں ڈاکٹر قدیر اور ان کے ماتحتوں کا ہاتھ ہی نہیں، ایک عابد اور دوسرے عابدی کے ساتھ تیسرے یوسفی کا خون پسینہ بھی شامل ہے۔
اور یہی مالی دھچکہ یوسفی کو لندن سے واپس پھر کراچی لے آیا۔ وہ تو مشرف کے دور میں یوسفی جیسی قد آور، مگر غیر سیاسی شخصیت کو پہلے 1999 میں ستارہ امتیاز اور پھر 2002 میں ہلال امتیاز ملا تو اہل پاکستان کو ان کے زندہ ہونے اور ”گیم آن ہے“ کا احساس ہوا۔
یوسفی صاحب نے بتایا کہ لندن قیام کے دوران کسی ضرورت مند انشورنس ایجنٹ نے، اچھے وقتوں میں اپنا کمیشن کھرا کرنے کے لئے، زبردستی ان کی انشورنس کر وادی۔ اور اتفاقاً بعد میں بنک بند ہونے کی وجہ سے ان کو انشورنس کمپنی سے بیروزگاری الاؤنس ملنے لگا، جو اس وقت (یعنی میری ملاقات کے وقت) بھی انہیں چند سو پاؤنڈ ماہانہ، پاکستان میں رہتے ملتا تھا۔ باقی (بقول ان کے ) نا کسی کتاب کی رائلٹی ملتی تھی اور نہ کسی بنک کی پنشن۔
میں نے ان کے خزینہ یوسفی میں قیام انگلستان کے دوران یورپی میموں کو چھیڑتا ایک غیر مطبوعہ چلبلا سفرنامہ اور ضخیم ناول بھی دیکھ رکھا تھا۔ اور میرا اپنا خیال ہے کہ یوسفی نے بلاشبہ وہ کلاسیک چھاپنے کی بجائے ”شام شعر یاراں“ کے ذریعہ سب سے محض اپنا اور تمام ادیبوں، شاعروں اور لکھنے والوں کی طرف سے انتقام لیا، گویا شستہ طریقے سے ایک شاندار ادبی مذاق کیا۔
ادب، مداحوں اور ناشروں سب سے۔ مگر شاید سب کو یہ بات سمجھ نہ آئے۔
”شام شعر یاراں“ ، پڑھنے والوں کو بے شک پسند نہ آئی ہو، لیکن دراصل یہ یوسفی پر ایک قرض تھا، ان شاموں کی طرف، جن میں یوسفی کو بلا کر، اہل ادب ان سے، ان کی آواز میں، ان کا نثری کلام سنتے تھے اور جس کی وجہ سے یوسفی کا دال دلیہ بھی اچھا چلنے لگا تھا۔ ان معاملات کو اولاد کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے کہ ان گنت لوگ بڑھاپے میں اپنی اولاد سے کچھ لینا پسند نہیں کرتے (چاہے وہ کتنی ہی فرماں بردار کیوں نہ ہو) ۔
آخر سالوں میں ”اینگرو“ سے ملنے والا شاید 5 یا دس لاکھ روپے کا ادبی ایوارڈ اور جیو ٹی وی پر یوسفی کے شام کو چلنے والے پروگرام، ”بزبان یوسفی“ نے یقیناً ان کو جتنا مالی فائدہ پہنچایا وہ ساری زندگی، کتابوں کی اشاعت سے ملنے والی رقم سے کئی گنا زیادہ تھا اور اسی لئے انہوں نے، شام شعر یاراں کے ذریعے ان، ان گنت شاموں کو خراج اور شکریہ پیش کیا اور ساتھ بہتیرے لوگوں سے آخری مطبوعہ کتاب کے ذریعے انتقام بھی لے لیا۔
ان بہتیرے میں سب شامل ہیں، ہمارے ہند و پاک کے اشاعتی و عدالتی نظام اور شاعر و ادیب کے استحصال سے، مداحوں اور ناشرین و پبلشر تک، سب۔ مگر شاید ہم سب کو یہ بات اب بھی سمجھ نہ آئے۔



