غور کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

کہیں پڑھا تھا کہ عورت افسر بھی لگ جائے پھر بھی روٹی اس کے ہاتھ کی ہی اچھی لگتی ہے۔ اور میں کہتی تھی سائیکالوجی، انگریزی لٹریچر، سوشیالوجی، انٹرنیشنل لاء، انٹرنیشنل ریلیشنز پڑھنے والی لڑکی روٹیاں بنائے گی امپاسیبل ( ناممکن ) ۔ علم کا غرور سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں ایک چھٹانک عمل سو تولہ علم سے بہتر ہوتا ہے۔ میں نے بھی ساری زندگی صرف علم کے ہوائی قلعے تعمیر کیے عمل کے

Read more

ہر کوشش پہ عطا کا وعدہ ہے

کمرے کی کھڑکی سے دن کی روشنی کو تاریکی میں بدلتے دیکھا تو وفور مسرت سے چھت کی جانب دوڑ لگائی۔ آسمان کالی گھٹاؤں سے گھرا ہوا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں سے باہر کے موسم کے ساتھ ساتھ اندر کا موسم بھی سہانا ہو گیا۔ ابھی پوری طرح لطف اندوز نہ ہو پائی تھی کہ ذہن کے پردے پر فکر کی پرچھائیاں لہرانے لگیں۔ اور دل ملال میں گھر گیا کہ اس بے موسمی بارش کی وجہ سے گندم کی

Read more

حکمت سے جڑ جاؤ تو زندگی بھی عبادت ہے

مجھے برتن دھونے سے بہت چڑ تھی۔ برتن دھونا مجھے موت سے کم نہیں لگتا تھا۔ میں نے اپنی زندگی کے بہت سے سال صرف اسی ایک بات پر کڑھتے گزارے ہیں کہ میرے حصے میں برتن دھونا ہی کیوں آتا ہے؟ چھوٹی تھی تو مدرسے میں باجی کہتی تھیں ”اوپر برتن پڑے ہیں سبق سنا کر ذرا دھو آنا“ اور میں اندر ہی اندر غصے سے پیچ و تاب کھاتے، صبر کے کڑوے گھونٹ بھرتے اوپر برتن دھونے چلی

Read more

سی ایس ایس اور مستقبل کے بیوروکریٹس

حال ہی میں پاکستان کے سب سے معزز ادارے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سی ایس ایس کے پرچے ختم ہوئے ہیں۔ سی ایس ایس کے پرچے پاکستان کے متعدد شہروں میں لئے جاتے ہیں چونکہ ہمارا تعلق چھوٹے شہر سے ہے اس لیے ہمیں پرچے دینے کے لیے دوسرے شہر جانا پڑتا ہے۔ امتحانی مرکز میں داخل ہوں تو یوں لگتا ہے ساری دنیا ہی ملک و قوم کی خدمت کرنے کے لیے مقابلے کی اس دوڑ میں شریک

Read more

بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ

تاریخ کے اوراق پلٹتے پلٹتے کب میں اجودھن جا پہنچی خبر ہی نہ ہو سکی یہ تو منشائے الٰہی ہے نا آپ کب کہاں پہنچا دیے جائیں۔ دریائے ستلج کے کنارے پر واقع اجودھن ایک پسماندہ، بے آب و گیاہ، جنگلات سے گھرا ہوا غیر معروف، گمنام علاقہ تھا۔ میری ادب سے نا آشنا گستاخ نظریں مغرب کی سمت کریر کے درخت کے نیچے جا ٹھہریں۔ اس جمود و تعطل، ضلالت و گمراہی کے گڑھ میں ایک فقیر بادہ توحید

Read more

جرم محبت

”اماں میں یہ شادی نہیں کروں گی میں راحیل سے محبت کرتی ہوں آپ ایک دفعہ مل تو لیں وہ بہت اچھا لڑکا ہے“ وہ کب سے اماں کو پیار سے منا رہی تھی ”تمہارے ابا کبھی بھی محبت کی شادی پر رضا مند نہیں ہوں گے ویسے بھی وہ تمہارے دن رکھ چکے ہیں“ اماں نے بات ختم کی وہ پھٹی پھٹی نظروں سے ان کو دیکھنے لگی ”اماں یہ نہیں ہو سکتا میں محبت کسی اور سے کر

Read more