نواز شریف اور اقتدار کی سیاست
چار دہائیوں سے زائد پاکستان کے سیاسی منظر پر متحرک رہنے والے میاں محمد نواز شریف کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ وہ اب ریٹائرمنٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن ان کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ نواز شریف پہلے سے زیادہ قوت سے آگے بڑھنے کے لیے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
1981 میں گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان کی کابینہ میں وزیر خزانہ کے منصب سے عوامی سیاست کا آغاز کرنے والے نواز شریف بہت سوچ سمجھ کر سیاسی فیصلے کرنے کے قائل ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو بہت کم بولتے ہیں اور ان کے چہرے کے تاثرات سے بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ سامنے بیٹھے شخص کی بات سے اتفاق کر رہے ہیں یا وہ اس کو مسترد کرنے والے ہیں بلکہ اس کا اندازہ تبھی لگایا جا سکتا ہے کہ اگر وہ بات سن کو کوئی اور موضوع چھیڑ دیں یا کسی اور طرف متوجہ ہو جائیں تو اس کو مطلب ہے کہ وہ گفتگو سے متفق نہیں ہیں اور اگر وہ کہہ دیں کہ ”آپ ڈار صاحب سے مل لیں“ تو اس کا مطلب ہے کہ بات کرنے والے نے انہیں قائل کر لیا۔
نواز شریف کی سیاست اور شخصیت دونوں میں بے پناہ لچک ہے۔ وہ بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے اور سیاسی فیصلے کرتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی گود میں سیاسی جنم لیا تاہم بہت جلد ایک کٹر ڈیموکریٹ کا امیج بنا لیا۔ 1981 میں پنجاب کے وزیر خزانہ سے کیرئیر کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے 1991 میں یعنی محض دس سال کے عرصے میں وزیر اعظم پاکستان کا منصب سنبھال لیا۔
ن لیگ کے قائد کے طور پر نواز شریف نے ایسے حیرت انگیز فیصلے کیے کہ اکثر اوقات ان کے مخالفین بھی ششدر رہ گئے۔ انہوں نے ضرورت کے وقت ایسے پینترے بدلے کہ مقابل کو چاروں شانے چت کر دیا۔
جھپٹنا پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا اگر سیاست میں مجسم ہے تو وہ نواز شریف ہی کی شکل میں ملتا ہے۔ 1988 میں انہوں نے بے نظیر بھٹو کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے آئی جے آئی کے قیام کی داغ بیل ڈالنے والوں کا ساتھ دیا تو 1991 کے عام انتخابات میں انہوں نے کامیابی سے غلام مصطفیٰ جتوئی کا راستہ بھی روکا اور محمد خاں جونیجو کو مجبور کر دیا کہ وہ انہیں (نواز شریف کو) آئی جے آئی کا سربراہ تسلیم کریں۔
جنرل ضیاء الحق کے مشن کو آگے بڑھانے کا نعرہ لگانے والے نواز شریف نے ضرورت پڑنے پر بے نظیر بھٹو کے ساتھ ”میثاق جمہوریت“ پر دستخط بھی کیے۔ وہ سالہا سال تک بے نظیر بھٹو کے سیاسی حریف رہے لیکن جب انہوں نے بے نظیر بھٹو ہر دہشت گرد حملے کی خبر سنی تو راولپنڈی کے جنرل ہسپتال پہنچ کر بے نظیر کی موت کا ماتم کرنے والے جیالوں کے ساتھ مل کر آنسوؤں سے روتے بھی رہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ آرمی چیف مقرر کرنے کا اختیار بھی نواز شریف نے استعمال کیا۔ 1991 میں جنرل آصف نواز جنجوعہ، 1993 میں جنرل وحید کاکڑ، 1998 میں جنرل پرویز مشرف، 2013 میں جنرل راحیل شریف اور 2016 میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو مقرر کرنے والے نواز شریف بعد میں انہی آرمی چیفس کے ہاتھوں نشانہ بھی بنے۔
نواز شریف کے ناقدین انہیں جس بات کا طعنہ دیتے ہیں، اسی نکتے کو ان کی حمایت کرنے والے ان کے حق میں دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں کہ اگر پاکستان کی 76 سالہ تاریخ سے نواز شریف کا دور نکال دیا جائے تو باقی کچھ کھنڈرات اور چند مارشل لاء ہی بچتے ہیں۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت کا یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر پرویز مشرف کارگل کی مہم جائی نہ کرتے اور نواز شریف ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دوستی اور تجارت کے تعلقات کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو جاتے تو شاید آج خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔
نواز شریف کے 43 سالہ سیاسی کیریئر کا سب سے بڑا منصوبہ موٹر وے ہی قرار دیا جاتا ہے جس کا وہ بلاشبہ کریڈٹ بھی لیتے ہیں لیکن 1991 کے بعد انہی کے دور حکومت میں ٹیلی کام شعبے میں بڑی پیش رفت ہوئی۔ 1998 کے ایٹمی دھماکے نواز شریف کے سیاسی کیریئر پر ایک طرف بڑا اعزاز اور دوسری جانب ایک سوالیہ نشان بھی چھوڑتے ہیں کہ یہ فیصلہ کس حد تک درست تھا؟ کیونکہ وقت نے ثابت کیا کہ ایٹمی صلاحیت نہیں بلکہ مضبوط معیشت ہی قومی سلامتی کی ضامن ہوتی ہے۔
نواز شریف کی سیاسی زندگی کو ”اقتدار کی سیاست“ کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کسی بھی انداز اور کسی بھی طریقے سے اقتدار کے حصول کی سیاست کی۔ ان کے ماضی قریب میں لیے جانے والے تمام فیصلے بھی اسی طرز سیاست کا پتہ دیتے ہیں۔ نواز شریف بطور اپوزیشن لیڈر کبھی ابھر کر سامنے نہیں آئے بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ انہیں اپوزیشن کی سیاست کا ڈھنگ ہی نہیں آتا۔
یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے ان کے مقابلے میں ان کے موجودہ دور میں سب سے بڑے حریف عمران خان کو اقتدار کی سیاست کا ڈھنگ نہیں آتا۔ وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھے عمران خان بھی کنٹینر کی سیاست کرتے نظر آتے تھے اور اپریل 2022 میں حکومت سے رخصت کیے جانے کے بعد اپوزیشن میں جاتے ہی عمران خان نے حکومت کے اوسان خطا کرا دیے۔ یہ رنگ ڈھنگ نواز شریف کی شخصیت میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔
نواز شریف نے اقتدار کی خاطر مہاجر، بلوچ، پختون، سندھی اور سرائیکی سیاست کے علمبرداروں، جماعت اسلامی، جے یو آئی، جے یو پی، اہل حدیث سبھی مکاتب فکر کے ساتھ مل کر چلنے کی صلاحیت دکھا دی۔ نواز شریف عالمی سیاست میں ایک مدبر کے طور پر جانے گئے جب انہوں نے لندن میں بیٹھ کو بے نظیر بھٹو کے ساتھ ”میثاق جمہوریت“ پر دستخط کیے تھے۔ ان کے مداح بجا طور پر دعویٰ کرتے ہیں کہ برصغیر اور اس خطے کے دیگر ممالک میں ان سے سینئر سیاسی رہنما موجود نہیں ہے۔
برصغیر کی روایتی سیاست کی علامت نظر آنے والے نواز شریف کی سیاست کا محور و مرکز ہمیشہ سے ان کا خاندان ہی رہا ہے۔ انہوں نے اپنے جانشین اور متبادل کے طور پر اپنے بھائی کو تیار کیا اور اب ان کی لاڈلی بیٹی میدان میں اپنے باپ کی سیاست کا علم لے کر نکلی ہے۔
ان کے سب سے قابل اعتماد دوست اور سیاسی رفیق اسحاق ڈار ہیں جو کہ ان کی چھوٹی بیٹی کے سسر بھی ہیں۔ نواز شریف اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر، ان کی ہر اہم میٹنگ کے بعد آخری جملہ یہی ہوتا ہے، ”ڈار صاحب، ایہہ ذرا تسیں دیکھ لینا“ (یہ ذرا آپ دیکھ لینا) ۔

