جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے!


پاکستان میں جمہوریت نے بڑا جبر سہا ہے، ابھی بھی وہی ڈرامہ چل رہا ہے اور رچایا جا رہا ہے، پاکستان میں ایک تو جمہوریت ہے نہیں اگر ہے وہ صرف نام کی جمہوریت ہے۔ ہاں پاکستان میں کبھی کبھار جمہوریت آہی ہے وہ صرف اپنی ہنی مون کے دن گزارنے کے لیے، آپ بخوبی واقف ہوں گے کہ پاکستان آزاد ہونے کے آٹھ سال کے بعد انتخابات ہوئے وہ بھی صوبائی سطح پہ صوبہ بنگال میں وہاں پاکستان بنانے والی مسلم لیگ کو صرف 9 سیٹیں ملیں وہاں جگتو فرنٹ نے حکومت بنائی اور اے کے فضل الحق ( شیر بنگال) وزیر اعلیٰ بنا اور دو ماہ کے بعد گورنر جنرل ملک غلام محمد نے منتخب صوبائی حکومت کو گھر بھیج دیا پھر 1965 ء میں صدارتی انتخابات ہوئے اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی کے ذریعہ ہرایا گیا۔

جب مادر ملت فاطمہ جناح اپنے مخصوص انداز میں ڈکٹیٹر کے سامنے فرماتی تھی کہ جمہوریت میں ہی اس ملک و قوم کی بقا ہے اور جمہوریت ہی ملک کے لیے بہتر ہے، الحمدللہ آج ڈکٹیٹر کی اولاد جمہوریت پسند ہے ڈکٹیٹر کے گھر جنم لینے والا عمر ایوب صاحب جمہوریت پسند ہے، صدارتی انتخابات کے بعد ایوب خان کا زوال شروع ہوا اور 1969 ء میں ایوب خان نے اپنے بنائی ہوئی صدارتی آئین کے مطابق اسپیکر کو حکومت دینے کے بجائے یحییٰ خان کو ملک کی واگ سونپ دی اور خود رخصت ہوئے۔ پھر یحییٰ خان، شیخ مجیب الرحمٰن، بھٹو صاحب اور عام انتخابات!

چند دن قبل میرے دوستوں نے مجھے اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ 1970 ء کے عام انتخابات منصفانہ اور شفاف تھے، پھر کیوں انتخابات کا نتیجہ پاکستان کے دولخت ہونے کی صورت میں نکلا؟ ایوب خان کے استعفا کے بعد جنرل یحیٰی خان نے اقتدار سنبھالا، اقتدار سنبھالنے کے آٹھ ماہ بعد 28 نومبر 1969 ء کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پانچ اکتوبر 1970 ء کو الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا اور اعلان میں مزید کہا تھا کہ منتخب قومی اسمبلی پے یہ ذمہ داری عائد ہوگی کہ تین ماہ کے اندر نیا آئین تشکیل دے گئی۔

یکم جنوری سے انتخابی مہم کا سفر شروع ہوا، سیاسی حالات بدلنے لگے، اور سیاسی موسم گرما گرم ہونے لگا۔

دو درجن کے قریب سیاسی جماعتوں نے 1970 ء کے عام انتخابات میں حصہ لیا، جنہوں میں دو مقبول پارٹیوں کا آپس میں مقابلہ تھا۔ مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ اور مغربی پاکستان سے پیپلز پارٹی، حیرت ہوئی یہ پڑھ کر کہ بھٹو صاحب کو ایک بھی امیدوار نہیں مل سکا جو مشرقی پاکستان میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے۔

1970 ء کے عام انتخابات کوئی فیئر اینڈ فری نہیں تھے بلکہ یحییٰ خان نے پری پول دھاندلی کے ذریعے اپنی طرف سے وہ تمام انتظامات کر لیے تھے جس سے انتخابی نتائج اس کی مرضی کے مطابق آسکتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ پھر بھی نتائج اس کی مرضی کے مطابق نہ آ سکے۔

پری پول دھاندلی کے کچھ شواہد میں یہاں پیش کرتا ہوں، جنرل یحیٰی خان نے اسد عمر صاحب کے والد میجر جنرل غلام عمر صاحب کے ذریعے کچھ سیاسی جماعتوں میں پیسے تقسیم کیے اس بات کا ثبوت سفیر ارشد سمیع خان صاحب کی کتاب (Three Presidents and an aide) ہے۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ وہ خود وہاں موجود تھے اور پیسے تقسیم کرنے وقت وہ چشم دید گواہ بھی تھے۔ مزید انتخابات میں دھاندلی کا ثبوت آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ اور صدر یحییٰ خان کے پریس سیکریٹری بریگیڈیئر اے آر صدیقی نے اپنی کتاب ”جنرل محمد یحییٰ خان“ میں لکھتے ہیں کہ سیاسی مخالفین کو لیفٹیننٹ کرنل ایس ڈی احمد ڈھاکہ کے ذریعے دو کروڑ روپے تقسیم کیے گئے۔

سابق فوجی جنرل آصف نواز صاحب کے بھائی شجاع نواز صاحب کی کتاب (Cross Swords) میں لکھتے ہیں کہ جنرل یحیٰی خان کو یہ غلط فہمی تھی کہ عوامی لیگ کو 46 سے زیادہ نشستیں نہیں ملیں گئی اور پیپلز پارٹی کو 30 کے قریب نشستیں ملیں گئی۔

انتخابات ہوا اور جو واضح عوامی مینڈیٹ شیخ مجیب الرحمٰن کو ملا، ہاں اور بعد میں عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا اور حالات بہتری کے طرف جانے کے بجائے مزید خراب ہو گئے اور دنیا نے سقوط ڈھاکہ دیکھا۔

جہاں تک بھٹو صاحب پر ملک توڑنے کا الزام ہے تو اس سے زیادہ کوئی بے بنیاد الزام ہو ہی نہیں سکتا کہ یحییٰ خان جو پاکستان کے سیاہ و سفید کا مالک تھا اگر اقتدار شیخ مجیب کے حوالے کرنا چاہتا تو اسے کون روک سکتا تھا۔ وہ تو ڈھاکہ میں فوجی شکست کے بعد بھی اقتدار سے علیحدہ ہونے کے لیے تیار نہیں تھا۔

1977 ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی پر دھاندلی کا الزام لگا اور سابق انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر راؤ رشید نے اپنی کتاب ”جو میں نے دیکھا“ میں لکھتے ہیں کہ ”1977 کے عام انتخابات سے قبل پنجاب سے تمام ڈپٹی کمشنرز نے بھٹو صاحب کو یہ رپورٹ دی کہ پنجاب میں 70 کے قریب نشستیں ملیں گئے“ ۔ جب انتخابات کا نتائج آئے جس میں پیپلز پارٹی کو پنجاب میں 108 نشستیں ملیں، یہ پڑھنے والوں پے ہے کہ ڈپٹی کمشنروں کا اندازہ غلط تھا یا دھاندلی کا الزام پختہ ہوا گیا۔

دھاندلی کے الزامات سے شروع ہونے والی پی این اے کی تحریک اتنی بے قابو ہو گئی کہ لاہور میں مارشل لا لگانا پڑا۔ اس کے بعد پی این اے نے جب نظام مصطفی کا نعرہ لگایا تو یہ انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی سے ہٹ کر دینی مسئلہ بھی بن گیا تھا۔

4 جولائی 1977 ء کو ایک پریس کانفرنس میں وزیراعظم بھٹو نے کہا تھا کہ انہوں نے پی این اے کے تمام مطالبات مان لئے ہیں۔ مگر اگلے ہی روز ’لائن کٹ گئی اور حالات بدل گئے‘ جنرل ضیا الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔

2024 ء کے عام انتخابات کے نو دن کے بعد راولپنڈی کے کمشنر نے 13 سیٹوں پر مبینہ دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے اعتراف جرم کیا تھا اور بعد میں اپنی بیان سے مؤخر گئے۔ یہ بات پختہ ہو گئی ہے کہ پاکستان میں مقبولیت کے ساتھ قبولیت ہونی چاہیے، تحریک انصاف مقبول سیاسی جماعت ہے لیکن قبول نہیں کیا جا رہا ہے، ممی ڈیڈی نوجوانوں نے یہ ثابت کر کے دکھایا کہ تحریک انصاف ایک مضبوط سیاسی جماعت ہے ہاں یہ ایک الگ بات ہے کو نوجوانوں کے مینڈیٹ کو قبول نہیں کیا جا رہا ہے۔

اس بات میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن مشرقی پاکستان کا مقبول لیڈر تھا اور آج کے پاکستان کا مقبول ترین لیڈر عمران خان صاحب ہے۔ 1970 ء اور 2024 ء کے انتخابات جمہوری انتقام پر لڑے گئے اور آپ بخوبی واقف ہیں کہ دونوں انتخابات میں شکست کس کو ہوئی اور کس کے بیانیے نے عوام میں ترجیح حاصل کی کہا جاتا ہے کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘ ، 1947 ء کو نوجوانوں نے پاکستان بنا کر ثابت کیا تھا اور دکھ ہوتا کہ 1971 ء کے نوجوانوں نے پاکستان سے علیحدگی اختیار کی ہاں یہ ایک تلک حقیقت ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو قبول نہیں کیا گیا اور خدا راہ 2024 ء کے نوجوانوں کے مینڈیٹ کو قبول کیا جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments