صدارتی دنگل: جمہوریت بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ
حالیہ انتخابات سے کوئی ڈیڑھ مہینے پہلے سے لے کر 8 فروری کی رات تک میں ایک سیاسی تجربے کا حصہ رہا۔ ایک ملکی یونیورسٹی کے پولٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ نے پچیس مختلف النوع اصولوں کی روشنی میں حالیہ انتخابات سے قبل ایک ایسے سیاستدان کا فیصلہ کرنا تھا، جس کا حال، ماضی، سیاسی کردار، بیانیہ، اصابت رائے، سیاسی تجربہ، جمہوریت کے ساتھ کمٹمنٹ، آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے جدوجہد، قید و بند، واضح سیاسی الفاظ اور اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے تقاریر اور بیانات دینا، کرپشن سے پاک، مشکوک جائیدادوں اور بنک اکاؤنٹس سے برات، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ذاتی مفادات اور عہدے کے لئے کسی بھی معاہدہ اور سمجھوتا سے مبرا، اور اصولی کی خاطر نقصانات اٹھانے والا ہو۔ اس تجزیاتی سروے کا ایک بنیادی اور بڑا اصول یہ بھی طے کر لیا گیا تھا کہ مذکورہ سیاستدان کا انتخابات کے دوران اور اس کے بعد ، یا اس سے پہلے کے بیانیہ اور تقاریر ایک جیسی ہوں، ان میں موقع محل کی مناسبت سے مفاہمت پر مبنی تبدیلیاں نہ کی گئی ہیں؟ اس نتیجے کا اعلان کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بعد میں کرنا تھا۔
اس تجزیہ میں ابتدائی طور پر اٹھارہ چھوٹے بڑے سیاستدان چنے گئے تھے جو بعد میں سات رہ گئے۔ یہ پینل میرے علاوہ، ایک صحافی، دو مختلف یونیورسٹیوں کے پولٹیکل سائنس کے پروفیسروں، تین سیاست سے شغف رکھنے والے عام شہریوں اور ایک ایسے ماہر پر مشتمل رہا، جو سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی لیڈروں کے بیانیے اور مارکیٹنگ پر نظر رکھتا ہے۔ اس کا کام زیادہ تر ٹیکنیکل تھا، جس میں اس نے مختلف لیڈروں کے تقاریر کے بے نام ٹکڑے، سوشل میڈیا کے مختلف فورم پر پوسٹ کر کے اس کا ریسپانس چیک کرنا تھا۔ اس ساری ایکسر سائز کے بعد ہم نے اکثریتی فیصلے سے ایک لیڈر کو باقیوں سے الگ کر کے الیکشن سے پہلے پہلے چننا اور اسے مسٹر کلین کا خطاب دینا تھا۔
انتخابات کے آخری دن تک ہمارے پاس ایک واضح تصویر بن گئی تھی۔ ہم اپنے طے کردہ معیارات کے مطابق جس سیاستدان کو ڈھونڈ رہے تھے، وہ ہمیں مل گیا تھا، لیکن سروے کرنے والوں کے سامنے غیر متوقع طور پر جو نام اکثریتی فیصلے سے آ گیا تھا، بوجوہ اس کا اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ میں خود بھی ذاتی وجوہات کی بنا پر اس کا نام سامنے نہیں لایا، اگرچہ ساتھیوں کی طرف سے ایسا کرنے کی اجازت تھی۔ میرا خیال تھا کہ میری پسندیدگی کی بنا پر اسے الیکشن پروپیگنڈا سمجھا جائے گا۔
اب نئی اسمبلی کے حلف برداری کے تقریب نے ہمارے اس تجزیے کو قبولیت بخشی ہے، تو مجھے اس پر لکھنے کا حوصلہ ملا ہے۔ سروے کے طے کردہ ایک اصول کے تحت ہم نے یہ دیکھنا تھا کہ وہ سیاستدان کون ہے جس نے الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے دوران اپنا بیانیہ بدلا، اور نہ اپنی تقریر میں غیر واضح سیاسی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے فیور لینے کے لئے خفیہ اشارے دیے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کرنے کے راستے نکالنے کی کوشش کی۔
اس اصول پر پرکھتے ہوئے، ہم نے نون لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، مینگل گروپ اور مولانا سمیت تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ”لیول پلینگ فیلڈ“ کی غیر واضح سیاسی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے مراعات اور نظر کرم مانگتے ہوئے پایا۔ چونکہ پی ٹی آئی زیر عتاب تھی، اس لیے گریس مارکس دیتے ہوئے اس کو الگ کر دیا، کیونکہ اس کے ساتھ واضح امتیازی، غیر سیاسی، غیر جمہوری اور استحصال پر مبنی سلوک کیا جا رہا تھا۔ اس لیے جب وہ لیول پلینگ فیلڈ کا مطالبہ کرتی تو اس میں وزن تھا۔ چونکہ اس کا لیڈر جیل میں تھا، امیدواران زیر عتاب تھے، وہ انتخابی نشان اور پارٹی پلیٹ فارم کے بغیر تھی، الگ الگ نشانات پر ایک غیر منظم ہجوم کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہی تھی، اس لیے اس کا لیول پلینگ فیلڈ کا مطالبہ مراعات یا نظر کرم کی بجائے حقیقی مسئلہ سمجھ کر دیکھا گیا۔ مولانا فضل الرحمان، جماعت اسلامی، اے این پی اور نون لیگ نتائج آنے تک ”لیول پلینگ فیلڈ کے معجزے“ کے منتظر رہیں۔ نون لیگ سے وکٹری سپیچ تیار کرایا گیا تھا، اور اے این پی، مولانا اور جماعت اسلامی نتائج آنے کے بعد بھی کافی دنوں تک ”کچھ نہ کچھ ہو جائے گا“ کی منتظر رہیں، لیکن جب حوصلہ جواب دے گیا، تو پھر لاحاصل میدان میں کود گئیں۔ کیونکہ اس دفعہ ان پارٹیوں کو لولی پاپ بھی نہیں ملا، صرف ریپر پر ٹرخائی گئیں۔ پختونخوا میں منظور پشتون کے روز بروز بڑھتے اور مضبوط ہوتے ہوئے قدم اور پہلے سے موجود سیاسی پولرائزشن کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کا منصوبہ یہ تھا، کہ جتنا ہو سکے، اتنا پی ٹی آئی پر کریک ڈاؤن کیا جائے، تاکہ پختونخوا سارے کا سارا ایک پارٹی کے پاس چلا جائے، تاکہ وہاں پر سیاسی پولرائزیشن ختم ہو جائے۔ مرکز میں نواز شریف پاس ہو کر بھی حکومت نہ لے سکے، بلوچستان کو مکمل اپنے ہاتھ میں رکھے، جس کے لئے زرداری صاحب نے حسب منشا خدمات پیش کیں، کیونکہ انہوں نے کسی نہ کسی طرح بلاول کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچانا ہے۔
انتخابات کے دوران بلاول بھٹو پنجاب آ گئے، تو انہوں نے پی ٹی آئی کے ووٹروں کو نواز شریف کے خلاف بھڑکاتے ہوئے بیانات دیے کہ ”عمران خان کو جیل بھیجنے کی خواہش نون لیگ کی تھی۔ میری حکومت آئی تو کوئی سیاسی قیدی جیل میں نہیں ہو گا، (یہ عمران خان کو جیل سے نکالنے کا واضح اشارہ تھا) اور کسی کی عزت کو تھانے کچہری میں رسوا نہیں کیا جائے گا“ ۔ عزتوں کی رسوائی کی بات بھی پی ٹی آئی کے کارکنان اور لیڈرشپ کے گھروں اور خواتین پر پولیس چھاپوں اور قید و بند کی پس منظر میں کی گئی تھی۔ لیکن دوسری طرف خبریں گردش میں تھیں کہ زرداری صاحب چیئرمین سینیٹ اور بلوچستان میں وزیر اعلیٰ لانے پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔
نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ، شہباز شریف کے آنکھوں کے تارے والے بیانیہ میں غتربود ہو گیا۔ اس لیے شہباز شریف، نواز شریف، مریم نواز یا کوئی دوسرا اہم نون لیگی لیڈر، ’حکومت ملنے کے بعد آپ ”سرکاری ملازمین“ کا احتساب کریں گے‘ والے سوال کا جواب نہیں دے سکے۔ نواز شریف ایک دن حساب لوں گا، کا چھکا مارتے، تو دوسرے دن دس تردیدیں اور وضاحتیں پیش کی جاتیں۔ ’مجھے کیوں نکالا‘ سے شروع ہونے والا بیانیہ نو مئی کو ”ڈھائے گئے ظلم و ستم“ کی نذر ہوا۔ یوں ان کا بیانیہ انتخابات سے قبل اور لندن میں ایک رہا اور انتخابات کے دوران بدل گیا، جبکہ اب ان کا بیانیہ خاموشی ہے۔
مولانا جس لہجے میں آج بول رہا ہے، الیکشن سے پہلے پختونخوا کی گورنر شپ لینے، ”زمین گرم کرنے“ اور الیکشن کے دوران ”ہم تو اپنے حلقوں میں نہیں جا سکتے“ اور لیول پلینگ فیلڈ کی دہائی دیتے ہوئے بدل گیا۔
عمران خان حکومت کی رخصتی کے بعد اے این پی اپنے بیانیہ میں نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ متفق تھی، اس لیے انتخابات کے دوران صرف عمران خان کو ٹارگٹ کرتی رہی۔ اس کا ”گند کو ٹھکانے لگاؤ“ ، ”عمران خان کی سیاست ختم ہو گئی“ ، سے شروع ہونے والا انتخابی بیانیہ ”آئندہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون نہیں کروں گا اور اب اپنا آئینی اور جمہوری کردار ادا کروں گا“ ، سے ہوتا ہوا پلاسٹکی اسمبلی مردہ باد پر تمام ہو گیا۔
جب کہ دوسری طرف جس سیاستدان کو ہم نے مسٹر کلین کی ٹائٹل کے لئے الگ کر دیا تھا، اور اس کا اعلان نہیں کرسکے، اس نے 2 نومبر کو کوئٹہ میں اپنے والد کی پچاسویں برسی کے یادگاری جلسے کے دوران، انتخابی نتائج کی پرواہ کیے بغیر، جو کچھ کہا وہی باتیں کئی بار، چمن میں جاری پرلت (احتجاجی دھرنے)، الیکشن کمپین، اور الیکشن کے بعد ، قومی اسمبلی میں، حلف برداری کی تقریب میں بھی کرتا رہا۔ وہ شروع دن سے قومی سیاست اور انتخابات کے دوران اسٹیبلشمنٹ کے منفی کردار اور مداخلت کے شاکی ہیں۔ انہوں نے الیکشن سے پہلے بھی لیول پلینگ فیلڈ مانگنے کی بجائے، ایسی سیاست اور کسی کی مہربانی سے ملنے والی سیٹیوں پر چار حروف بھیجے، اور آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو مردہ باد کہا، اور اسمبلی کے فلور پر بھی وہی الفاظ دہرائے، جو ان کی تقریر کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔
تفریح کے مواقع کی کمی کی وجہ سے، ہم ایک تماشبین قوم بن گئے ہے، ہلہ گلہ پسند کرتے ہیں، اور دو پہلوان لڑ پڑے، تو ہم اس وقت تک اپنے پسندیدہ پہلوان کے لیے تالیاں بجاتے ہیں، جب تک وہ اکھاڑے میں موجود ہوتا ہے۔ اس کی بہترین مثال ان ججوں کی ہے، جو مارشل لاؤں کے دوران اپنے ضمیر کی آواز، جمہوریت سے وابستگی، اور آئین کی سربلندی کی خاطر کسی ڈکٹیٹر کی موجودگی، میں حلف اٹھانے کی بجائے اپنی عینک اٹھا کر گھر چلے جاتے ہیں، اور ہم ”باضمیر صحافی“ قانون پسند وکلاء، اور دانشوران قوم، اسی مارشل لاء کے دوران، ان ججوں کو، مائی لارڈ اور عزت مآب جسٹس، پکارتے اور لکھتے نہیں تھکتے، جو مراعات اور سہولیات کے سامنے، اپنی بے ضمیری ثابت کر کے، غیر آئینی اور شخصی وفاداری کا حلف اٹھا دیتے ہیں۔ جبکہ محمود خان اچکزئی کو وہ سارے ہمیشہ سے یاد ہیں، جن کی زندگیاں ہماری اجتماعی خاموشی، اور فطری بے حسی کے دہلیز پر برباد ہو گئی ہیں۔ اس لیے ایک احسان مند شہری کی حیثیت سے وہ ان کو آئین کا ہیرو گرداننا اور ان کے محروم بچوں کو ان کے مراعات اور تنخواہیں واپس کرنا اپنی ہر تقریر کا حصہ بناتا ہے۔ وہ تاریک راہوں میں جمہوریت کی خاطر قتل ہونے والے تمام بے نام ورکروں کو، خراج تحسین کے مستحق سمجھتے ہوئے اعزاز دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
یہ مطالبات وہ صدارت کی امیدواری کی خاطر کرتے ہیں، نہ اس غصے میں، کہ ان کی جیتی ہوئی نشستیں ان کو نہیں دی گئی۔ محمود خان اچکزئی اینٹی اسٹیبلشمنٹ قوتوں کے سرخیل رہے ہیں۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔ مزاحمت ان کے کلچر اور ڈی این اے کا حصہ ہے۔ وہ بینظیر کے ساتھ بھی کھڑے رہیں، جب وہ زیر عتاب تھی، نواز شریف کے ساتھ بھی کھڑے تھے، اور اب لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ عمران خان کے ساتھ بھی کھڑے ہیں، لیکن وہ درحقیقت وہ اپنے جمہوری آدرشوں اور اصولوں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ جب کبھی آئین قانون اور جمہوریت کو بچانے کے لئے صف بندی ہوتی ہے، تو وہ پہلے سے اس میدان میں موجود ہوتے ہیں۔ یوں ہر قطار ان کے پیچھے بنتی ہے۔ اس لیے وہ بینظیر، نواز شریف اور عمران خان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں، اگرچہ حکومت ملنے اور اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے ہو جانے کے بعد ، یہ محمود خان اچکزئی کو اسی میدان میں جدوجہد کے لئے تنہا چھوڑ جاتے ہیں، اور خود انہی طاقتوں کی جھولی میں بیٹھ جاتے ہیں، جن کے خلاف یہ مزاحمت کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔
حکومت ملنے کے بعد بینظیر بھٹو کو بھی یاد نہیں رہا، نواز شریف کو بھی یاد نہیں اور ممکن ہے، کل عمران خان کو بھی یاد نہ رہے۔ بہرحال عمران خان اور دوسروں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے، کہ دوسرے اشارہ ملتے ہی محمود خان اچکزئی کو بھول جاتے ہیں، جبکہ عمران خان ٹکر دینا چاہتے ہیں، اس لیے اپنے جیسے مزاحمت کاروں کو میدان میں اتارتے ہیں۔ یوں سعودیہ اور امریکہ کے خلاف پہلے ایک شیعہ پارٹی کے ساتھ معاہدہ کیا، اور اب مزاحمت کے سرخیل محمود خان اچکزئی کو میدان میں اتار کر ان کو مزید جھٹکے دینا چاہتے ہیں۔ بینظیر بھٹو یا نواز شریف نے کبھی بھی محمود خان اچکزئی کی جمہوریت کے خدمات کا ایسا کھلم کھلا نہیں اعتراف کیا، جس طرح عمران خان نے جیل میں بیٹھ کر کیا ہے۔ صدارت کے لئے محمود خان اچکزئی کی نامزدگی کا مسئلہ ان کی اسمبلی میں تقریر سے شروع نہیں ہوئی۔ عمران خان نے یہ سب کچھ پہلے سے طے کر دیا تھا کہ پارلیمانی مزاحمت کا بہترین جرنیل کون ہے۔
بلاول بھٹو صاحب نے کل ایک بچکانہ دلیل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا امیدوار بن کر محمود خان اچکزئی قوم پرست نہیں رہے گا۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر زرداری صاحب کو نون لیگ کی حمایت سے نامزد کیا گیا ہے، پھر تو زرداری صاحب بھی پیپلزپارٹی کے نہیں رہے۔
جس طرح زرداری صاحب کا تعلق نون لیگ سے نہیں اور نون لیگ کی حمایت کے باوجود اس کا تعلق پیپلز پارٹی سے رہے گا، اسی طرح اچکزئی صاحب کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں، پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہے، اور پی ٹی آئی کی حمایت کے باوجود اس کا تعلق پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے رہے گا۔ باقی رہی ان کی قوم پرستی، تو وہ مرحوم بھٹو اور محترمہ دونوں جانتی تھیں، بلاول بھی بڑا ہو جائے گا تو اسے بھی سمجھ آ جائے گی۔
محمود خان اچکزئی صدر بن گئے، تو وہ آج کی طرح کل بھی آئین اور قانون کا احترام کرے گا، اور کسی کا سہولت کار نہیں بنے گا، جبکہ زرداری صاحب نے پہلے صادق سنجرانی کو اور اب سرفراز بگٹی کو اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر بڑے عہدے دلا کر اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کاری کی ہے۔ وہ صدر بنیں گے تو بلاشبہ اس وقت بھی اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کاری میں جتے رہیں گے۔
صدارتی عہدے کے لئے ووٹ امتحان محمود خان اچکزئی سے زیادہ نواز شریف کا ہے، جس کی صاحبزادی کو جب کرش کرنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں، تو اس کے خلاف بولنے والا ایک جاوید لطیف تھا اور دوسرا محمود خان اچکزئی۔ نواز شریف کے گلے میں حکومت کے نام پر جو ڈھول ڈالا گیا ہے، اس کا علاج بھی محمود خان اچکزئی کے پاس موجود ہے۔ وہ عمران خان اور نواز شریف کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کے اہل ہیں، جس سے آگے نہ صرف یہ کہ شہباز شریف کی حکومت مستحکم ہو سکتی ہے، بلکہ نواز شریف کو بھی حکومت مل سکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ شہباز شریف کو ملنے والی حکومت زرداری صاحب کی وجہ سے ایک کچے دھاگے سے لٹکی ہوئی ملے گی، جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔ زرداری صاحب نے سنجرانی اور سرفراز بگٹی کو عہدے دلا کر اسٹیبلشمنٹ کے لئے اپنی خدمات کا صلہ کسی مناسب وقت پر مانگنا ہے، اور بلاشک و شبہ وہ شہباز شریف کو ملی ہوئی حکومت ہو گی۔ اس لیے نواز شریف کے لئے بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ وہ اپنے ووٹ زرداری کی بجائے اپنے مشکلات کے ساتھی محمود خان اچکزئی کو دلا دیں۔
ایک طرف زرداری صاحب کے مقابلے میں محمود خان اچکزئی نواز شریف کے دل اور اصولوں کے قریب ہیں، تو دوسری طرف بلوچستان کی چار جماعتی مزاحمتی تحریک بھی محمود خان اچکزئی کے ساتھ کھڑی ہے، جبکہ سرفراز بگٹی کی وجہ سے حقیقی بلوچ پارٹیاں زرداری پر کبھی اعتماد نہیں کریں گی۔ پھر بلاول بھٹو نے محمود خان اچکزئی سے قوم پرستی کا تمغہ واپس لے کر ثابت کر دیا کہ صدارتی انتخاب کا معرکہ یک طرفہ نہیں ہو گا، تبھی تو بلاول کو بھی میدان میں اترنا پڑا۔ صدر کا عہدہ ایک علامتی اور آئینی ضرورت ہے، حقیقی سیاست میں اس کی اتنی اہمیت نہیں، لیکن اس کے لئے لگائے ہوئے میدان میں، جمہوریت پسندوں اور اقتدار پسندوں کا مقابلہ بہت اہم ہے۔


