پونم پریت (2)
ہم کلر کہار کے سروس ایریا پہنچنے والے تھے۔ دونوں کو چائے کی طلب ہو رہی تھی۔ میں نے پارکنگ کے کونے میں گاڑی روک دی اور پونم کو چائے وغیرہ پیش کی، ہم دونوں چند منٹ تک گاڑی سے باہر نکل کر ماحول سے محظوظ ہوتے رہے اور جب دوبارہ موٹر وے پر آئے تو چند منٹ کی خاموشی کے بعد پونم دوبارہ بولی:
”بابا کے جانے کے بعد میری طبیعت میں یاسیت اور افسردگی رہنے لگی تھی۔ کچھ دن بعد ڈپریشن کے دورے بھی پڑنے لگے۔ میں نے اپنی توجہ بابا کی تکلیف دہ جدائی سے ہٹانے کے لئے مقامی کالج میں آرٹ ٹیچر کی ملازمت کر لی۔ کام میری پسند کا تھا۔ میں بچوں کے ساتھ دن بھر مصروف رہتی۔ بچوں کو مصوری سکھانے سے میرے مزاج میں بہتری آئی، طبیعت کچھ بحال ہوئی مگر یاسیت مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی۔ ڈاکٹر عقیل احمد سے میری ملاقات اپنے کالج میں اس دن ہوئی جب وہ ہمارے سینئر طلباء کو ذہنی صحت کے موضوع پر لیکچر دے کر سٹاف روم میں چائے پی رہے تھے۔
پہلی نظر میں ہی مجھے اس شخص میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہوئی۔ ایم بی بی ایس، جنرل فزیشن اور نفسیات کی تعلیم سے بہرہ مند ہونے کے باوجود ان کے مزاج میں ایک خالص پن، سادگی اور اپنائیت سی تھی۔ کسی قسم کے مصنوعی پن اور بناوٹ سے کو سوں دور، کھلتی ہوئی گندمی رنگت کا حامل ستائیس سالہ عقیل احمد ایک بھر پور مردانہ وجاہت اور پختہ مزاج رکھتا تھا۔ تقریباً پانچ فٹ آٹھ انچ کا قد اور کسا ہوا بدن اس کی باقاعدہ جسمانی کسرت کا ثبوت تھا۔
عقیل احمد میں کوئی ایسی جازبیت ضرور تھی جو مجھے پہلی ملاقات میں محسوس ہوئی۔ علیک سلیک کے بعد جب میں نے اپنا یاسیت کا مسئلہ ان کے سامنے رکھا تو انھوں نے مجھے ہفتے کے روز شام کا وقت دے دیا۔ میرا نفسیاتی انٹرویو کرنے کے بعد ڈاکٹر عقیل احمد نے مجھے دو ہفتے چھٹی کر کے دریا کی سیر کرنے، لمبی واک کرنے اور مصوری پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ ایک ہفتے بعد میں بہت بہتر محسوس کر رہی تھی۔ تیسری یا چوتھی ملاقات میں مجھ پر عیاں ہوا کہ ڈاکٹر عقیل احمد شعر و ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں۔
میں نے مزید بات چیت سے یہ بھی محسوس کیا کہ زندگی کے بارے ان کے نظریات کافی حد تک میرے بابا والے ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر بابا کی جدائی سے پیدا شدہ خلا کسی قدر کم ہو جاتا اور مجھ پر چھائی یاسیت بھی رفتہ رفتہ ختم ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر عقیل احمد نے بتایا کہ یہ ان کا آبائی شہر تھا۔ وہ میڈیکل کالج کے دوسرے سال میں تھے جب ان کے والدین دو بہنوں سمیت برطانیہ ہجرت کر گئے۔ عقیل احمد ماموں کے پاس رک گئے۔ وہ ڈاکٹر بن کر اپنے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔
ہم مہینے میں ایک بار ملنے لگے۔ ہر ہفتے مجھے ایک پینٹنگ، کوئی غزل اور ایک کتاب پر بات کرنی ہوتی تھی۔ ہمارا تعلق پہلے باہمی احترام، پھر دوستی اور پھر رفتہ رفتہ محبت میں تبدیل ہو تا گیا۔ مجھے زندگی میں پہلی بار سب کچھ اچھا لگنے لگا تھا۔ میرے بہن، بھائی اور بھابیاں جن سے کبھی کبھار بات ہوتی تھی اب دیر تلک باتیں ہوتیں رہتیں۔ مجھے اپنی تکمیل ہوتی نظر آ رہی تھی۔ ہمارے دن رات ایک دوسرے کے تصور میں گزرنے لگے۔ جس دن میں لڑکی سے عورت بنی اس دن میری بائیسویں سالگرہ تھی۔ مجھے اس دن احساس ہوا کہ ذہنی ہم آہنگی، شدید چاہت اور جذباتی وابستگی رکھنے والے دو افراد جب جسمانی اتصال کرتے ہیں تو لطف و حظ کے کس مقام پر ہوتے ہیں۔ “
یہ کہتے ہوئے پونم قدرے شرمائی اور گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ میں نے دیکھا کہ وہ کسی پر کیف یاد کے سحر میں گرفتار مسکرا رہی تھی اور عالم تغافل میں اس کی کالی زلفوں کی ایک لٹ اس کی گول گردن کا بوسہ لے رہی تھی۔ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ مگر اپنی نہایت ذاتی بات مجھے اس طرح بتا دینے پر شاید کسی قدر خجالت کا شکار بھی تھی۔ پونم کو اس اس صورت حال سے نکالنے کے لئے میں نے احمد مشتاق کا ایک شعر پڑھ ڈالا:
؎ زندگی معرکہ روح و بدن ہے مشتاق
عشق کے ساتھ ضروری ہے ہوس کا ہونا
”مجھے کچھ کچھ اندازہ ہے کہ تمھارا محبت کا فلسفہ ہوس کا تڑکا اپنے اندر رکھتا ہے۔ مگر میری محبت ہوس کے لئے نہیں تھی۔“ پونم نے ایک سنجیدہ سی مسکراہٹ اپنے دلکش چہرے پر بکھیرتے ہوئے کہا۔ میں نے جواب دیا: ”اگر تمھاری بات درست مان لی جائے تو پھر پریمی لوگ جسمانی تعلق کیوں قائم کرتے ہیں؟ ساتھ کیوں رہنا چاہتے ہیں؟ شادی کیوں کرتے ہیں؟ جنسی اختلاط کیوں کرتے ہیں؟ خدا اور فرشتوں والی محبت پر اکتفا کیوں نہیں کر لیتے؟“ ۔
میں نے کن اکھیوں سے دیکھا کہ پونم کا چہرہ ایک دم بجھ سا گیا ہے۔ مجھے اپنے الفاظ پر ندامت سی محسوس ہونے لگی۔ ہم تھوڑی دیر خاموش رہے۔ پھر میں نے اپنے خیالات کو ترتیب دی اور گویا ہوا۔ ”دیکھو پونم! رومانوی تعلق کا کوئی نصاب مقرر نہیں ہے۔ یہ من کی موج ہے۔ کسی پر دل آ جانا اور قربت ہوجانا ایک فطری بات ہے۔ قربت کی خواہش انسان کے اندر فطرت نے ودیعت کر رکھی ہے۔ اگر دو انسانوں کے بیچ لگاوٹ اور چاہت کا جذبہ سچا ہے تو رومان کی روانی میں ان کے بیچ باہمی رضا و رغبت سے جو بھی ہوتا، اس سے خوبصورت کوئی شے فطرت نے تخلیق نہیں کی۔ اگر باہمی تعلق محض جسمانی لذت حاصل کرنے کے لئے قائم کیا جائے تو قصہ دیگر است۔“
”ٹھیک کہا تم نے مگر اس کا فیصلہ کون کرے گا میرے پیارے دوست کہ جذبہ سچا تھا۔“ پونم اپنے موقف کو تقویت دینے پر تلی ہوئی تھی۔ میں نے جواب دیا: اس کا فیصلہ آپ کی ذات کا ارتقاء کرے گا۔ کیونکہ محبت کایا پلٹ جانے کا نام ہے۔ میں نے بات سمجھانے کے لئے اس موقع پر شمس تبریزی کا ایک قول دہرا دیا:
”ہر سچی محبت اور دوستی دو انسانوں کی ’کایا کلپ‘ کا ایک انوکھا تجربہ ہوتا ہے۔ اگر تم ویسے ہی ہو جیسے محبت میں مبتلا ہونے سے پہلے تھے تو شاید تم نے بھر پور محبت نہیں کی۔“
” یہ تو سچ ہے۔ ہر محبت نے میری کایا پلٹ دی ہے اور تمہاری دوستی نے شاید سب سے زیادہ۔ مگر عجیب بات ہے بلکہ تم سے سوال ہے کہ ہم کئی ماہ سے تواتر سے مل رہے ہیں، گھنٹوں ساتھ رہتے ہیں۔ تم نے مجھ سے کبھی جسمانی قربت کی خواہش نہیں کی۔ کیوں؟“ میری خواہش اور خوشی کی خاطر تم مجھ سے جسمانی تعلق قائم کر بھی لیتی تو وہ گناہ بے لذت ہوتا۔ ”
”تمھاری منطق ہمیشہ نرالی ہوتی ہے۔“ پونم نے بڑے رسان سے جواب دیا۔ اب اگر اجازت ہو تو آگے بڑھوں؟ ”۔ جی اجازت ہے۔“ یہ کہتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ ماحول دوبارہ ساز گار ہو گیا ہے۔ پونم پھر گویا ہوئی:
”زندگی اور بھی حسین ہو چکی تھی۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ دو سال گویا دو دن کی طرح گزر گئے۔ دوست ایک بات تو بتاؤ؛ محبت کی تمام داستانیں جدائی پر ہی کیوں اختتام پذیر ہوتی ہیں؟“ اس کا اچانک سوال میرے بائیں گال کے ساتھ پیوست ہو گیا۔ میں اس کے لئے تیار نہ تھا۔ اور پونم کو مزید اداس بھی نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے فوری جواب یہی سوجھا: ”اگر محبت کرنے والے ایک ہو جائیں تو عموماً شادی ہو جاتی ہے اور جب محبوبہ، بیوی بن جائے تو وہ محبوبہ نہیں رہتی اور پریم کہانی میں چاشنی بھی ختم ہو جاتی ہے“ میرے جملے پر ہم دونوں کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ تھوڑے سے توقف کے بعد وہ دوبارہ بولی:
” عقیل احمد کو فوراً برطانیہ روانہ ہونا تھا۔ اس کی والدہ کو بلڈ کینسر تشخیص ہوئی تھی جو آخری سٹیج پر تھی۔ اس نے جاتے ہوئے کہا تھا“ میں کب واپس آؤں؟ میں نہیں جانتا۔ ہمارے مقدر میں ہوا تو ہم ضرور ملیں گے۔ میں تمھارا پیار کبھی نہیں بھولوں گا۔ ”اس دن میں زندگی میں دوسری بار جی بھر کر روئی تھی۔“ پونم کی آنکھیں نم دیکھ کر میں نے اس کو ہجر کی کیفیت سے نکالنے کی اپنی سی سعی کی: ”میں آج کل ہرمن ہیس کا ناول“ سدھارتھا ”پڑھ رہا ہوں۔
پہلے باب میں جب گوتم بدھ اپنے والد سے جنگل میں جانے اور راہب بننے کی اجازت لینے آتا ہے تو اس کے باپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا بیٹا بہت پہلے اس کو چھوڑ کر جا چکا ہے۔ جب کوئی پیارا آپ سے دور جانے کی آرزو کرے تو میری پیاری پونم! وہ پہلے سے جا چکا ہوتا ہے۔ ”
پونم پھر گویا ہوئی: ”عقیل احمد گویا سارا شہر اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ اب میں ایک ویرانے میں رہتی تھی جہاں کی ہر شے میرے لئے اجنبی تھی۔ وہ راستے، وہ درخت اور روشنیاں اداس تھیں۔ بعض اوقات ایسا بھی لگتا کہ وہ مجھ پہ ہنس رہی ہیں۔ میرا اس شہر میں مزید رہنا محال ہو گیا۔ میں نے اسلام آباد جاکر اوپن یونیورسٹی میں آرٹس میں ایم فل میں داخلہ لے لیا اور مختلف لٹریری آرٹس کے محکموں میں ملازمت کی کوششیں شروع کر دی۔ میری دیرینہ دوست سنبل حیات نے اپنی پرانی دوستی کا حق خوب نبھایا۔ مجھے نہ صرف ایک جز وقتی جاب دلوانے میں مدد کی بلکہ اس سارا عرصہ اس نے کھانے پینے اور رہنے سہنے کی فکر سے آزاد رکھا۔ میں اس کا یہ احسان عمر بھر نہیں بھولوں گی۔
پھر ایک دن عقیل احمد نے برطانیہ سے کال کر کے بتایا کہ اس کی والدہ فوت ہو گئی ہیں۔ اور اس سے ایک ماہ قبل اپنی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے میری شادی اپنی بھانجی سے کر گئی ہیں۔ اور یہ کہ اب وہ فون نہیں کر سکے گا۔ یہ صدمہ میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔ میں ایک دفعہ پھر بہت روئی مگر جلد اپنے آپ کو سنبھال لیا۔ اس صدمے سے نکلنے میں سنبل نے میری بہت مدد کی۔
پچیس سالہ سنبل حیات ایک بہادر، خوددار اور معاشی طور پر آزاد لڑکی ہے۔ وہ عمر میں مجھ سے تین چار سال کم ہونے کے باوجود میری سکول اور کالج کے وقت کی دوست ہے۔ گریجوایشن کے بعد اس کی شادی اس کے خالہ زاد سے کر دی گئی جو اس کا دوست بھی تھا اور پسند بھی۔ وہ لوگ کراچی کی ایک خوشحال لوگوں کی کالونی میں رہائش پذیر تھے۔ دو سال ہنستے کھیلتے کٹ گئے۔ اولاد نہ ہونے پر خالہ کی جانب سے طرح طرح کے سوال ہونے شروع ہو گئے۔
اس کا شوہر بھی بے زار رہنے لگا۔ کچھ عرصے بعد طعنے اور پھر شک کرنا شروع ہو گیا۔ کسی معمولی بات پر ایک دن سنبل کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ تھپڑ کھا کر سنبل روئی، نہیں چلائی، نہیں واویلا نہیں کیا۔ اپنا سوٹ کیس اٹھایا اور ہمیشہ کے لیے سسرال کو خدا حافظ کہہ دیا۔ اپنے میکے آ کر گھر بیٹھنے کی بجائے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کیا اور ایف ایم ریڈیو پر جاب کر لی۔ والدین اور رشتے داروں نے صلح کی اپنی سی کوشش کر دیکھی۔ سنبل کا ایک ہی جواب تھا؛ ”اگر میں نے ایک تھپڑ معاف کر دیا تو پوری زندگی تھپڑ کھانے پڑیں گے۔ میں ایک جیتی جاگتی زندہ ہستی ہوں جس کو ذلیل کرنے کا اختیار اس زمین پر کسی بھی دوسرے انسان کو حاصل نہیں۔“
سنبل نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ شادی نہیں کرے گی۔ اسلام آباد آ کر خلع کی درخواست دے دی۔ دوسری پیشی پر عدالت نے طلاق دے دی۔ وہ اپنی زندگی میں خوش ہے۔ اس کے نزدیک شخصی آزادی معاشی آزادی سے منسوب ہے اور اپنا بوجھ خود اٹھا کر ، عزت اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے جیسی کوئی نعمت نہیں ہے۔ (جاری ہے )


