ادب، عورت اور مرد
عین اس وقت کہ جب ایک طرف عورت مارچ چل رہا ہو، عورتوں کے حقوق پر مذاکرے ہو رہے ہوں اور اکادمی ادبیات والے فرض کفائیہ ادا کرنے کو عورتوں کے مشاعرے کا اہتمام کیے بیٹھے ہوں ادارہ اردو کا ایک سیمینار ”ادب، عورت اور مرد“ کے عنوان نے اس سوال پر رکھ لینا کہ ”صنفی بنیادوں پر تخلیق کاروں میں تفرق کیوں؟“ بظاہر ایک شرارت لگتا ہے لیکن جس سنجیدگی سے یہ سوال میرے سامنے رکھا گیا، اس سوال کی اہمیت کے حق میں دلائل دیے گئے اور بہ اصرار اس پینل کا حصہ ہونے کی دعوت دی گئی جس میں دو تخلیق کار خواتین شامل تھیں ؛ڈاکٹر ناہید قمر اور ڈاکٹر فاخرہ نورین، میں انکار نہ کر پایا۔
فاخرہ نورین اچھی نظم کہتی ہیں اور نثر کا کاٹ دار جملہ جیسا وہ لکھتی ہیں اور اپنے نثر پاروں میں جن صنفی موضوعات کو وہ چھو لیتی ہیں شاید ہی کوئی اور خاتون، اس قرینے اور ہمت سے لکھ پاتی ہوگی۔ ناہید قمر کی نظم کا تو میں قتیل ہوں۔ وہ بے پناہ تخلیقی قوت کی مالک ہیں جس کی تظہیر ان کے کلام میں ہوتی رہی ہے۔ ان کا معاملہ ہر بار انسان کے وجود سے ہوتا ہے۔ اندر بہت اندر انسان کے باطن میں اتر کر وہ جن سوالات کے مقابل ہوتی ہیں اور جس طرح ہوتی ہیں اس نے ان کی نظموں کو ایسا رنگ اور آہنگ عطا کیا ہے جو انہیں مختلف بھی کرتا ہے اور لائق توجہ بھی بنا دیتا ہے۔
یہ ہیں وہ حالات جن میں ایک سیمینار کو اس سوال کے گرد گھومنا تھا کہ صنفی بنیادوں پر تخلیق کاروں میں تفرق کیوں؟ خیر، وہ جو غالب نے کہا تھا : دیکھنے ہم بھی گئے پہ تماشا نہ ہوا۔ تو یوں ہے کہ وہ بات جو وہاں نہ ہو سکی تھی وہ یہاں کیے لیتا ہوں۔ ہمیں اکثر یہ سننے کو ملتا رہا ہے :
1۔ ادب میں عورتوں کا ڈبہ الگ سے بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ جو باصلاحیت ہو گا وہ سامنے آ جائے گا۔ اس باب میں جو مثالیں دی جاتی ہیں وہ ایسی تخلیق کار خواتین کی ہوتی ہیں جو اردو ادب کے مرکزی دھارے میں نمایاں ہوتی چلی گئیں اور اپنی جگہ ایسی بنائی کہ تخلیق کار مردوں کو ادھر ادھر کھسک کر ان کے لیے نمایاں جگہ چھوڑنی پڑی۔ جیسے عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، نثار عزیز بٹ، خالدہ حسین، جمیلہ ہاشمی، الطاف فاطمہ، خدیجہ مستور ہوں یا پھر ادا جعفری، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، یاسمین حمید وغیرہ۔
2۔ محض صنفی بنیادوں پر اپنے اپنے موضوعات کا دائرہ الگ کر لینے کی کیا ضرورت ہے جب کہ دونوں اسی ایک سماج کا حصہ ہیں۔ دونوں کے مشاہدات اور تجربات ملتے جلتے ہیں۔ دونوں ایک طرح محسوس کرتے ہیں۔ حتی کہ مرد دعویٰ کرتے پائے گئے ہیں کہ وہ عورت کے بارے میں درست طور پر لکھ سکتے ہیں۔ اس باب میں ممتاز مفتی کی مثال دی جاتی ہے جنہوں نے عورت کے بہت سے کردار لکھے اور ایک مقام پر یہ بھی لکھ دیا تھا کہ ’عورت دکھنا چاہتی ہے اور مرد دیکھنا‘ گویا مرد کا مشاہدہ زیادہ قوی ہوتا ہے اور وہ عورتوں کے بارے میں جو وہ لکھے گا وہی زیادہ لائق اعتنا رہے گا۔
منٹو نے بھی عورت کے بارے میں لکھا اور ہر بار دھتکاری ہوئی عورت کے ساتھ جاکر کھڑے ہو گئے مگر جب لکھنے لکھانے کی بات ہوئی تو دامودر گپت کی قدیم سنسکرت کتاب ”نٹنی متم“ کے میرا جی کے اردو ترجمے کا دیباچہ لکھتے ہوئے یہ بھی لکھ دیا: ”سب سے دل چسپ بات یہ ہے کہ ان تمام باتوں کو قلم بند کرنے والا ایک مرد ہے۔ یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے اس لیے کہ عورت خواہ وہ بازاری ہو یا گھریلو، خود کو اتنا نہیں جانتی جتنا کہ مرد اس کو جانتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عورت آج تک اپنے متعلق حقیقت نگاری نہیں کر سکی۔ اس کے متعلق اگر کوئی انکشاف کرے گا تو مرد ہی کرے گا۔“
یہ دو مثالیں جو میں نے اوپر رکھ چھوڑی ہیں، کسی عام فرد کی مثالیں نہیں ہیں لکھنے والوں کی مثالیں ہیں۔ اور اس طرز احساس کی نمائندہ ہیں جو لکھنے والی عورتوں کے باب میں مرد لکھنے والوں کا رہا ہے اور ابھی تک ہے۔ اوپر والی مثالوں سے آپ دو نقاط اخذ کر سکتے ہیں :
1۔ عورتیں ادب کے میدان میں پوری طرح شریک ہیں اور جہاں بھی کوئی گوہر قابل ہوتا ہے، نمایاں ہو کر سامنے آ جاتا ہے لہذا صنفی بنیاد پر عورت کو الگ سے موضوع بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
2۔ عورت سے کہیں زیادہ مرد لکھنے والے عورت کو لکھ سکتے ہیں۔ عورت کا عورت کے بارے میں لکھنا زیادہ لائق توجہ نہیں ہے۔ یوں صنفی بنیاد پر مطالعات بلاجواز ہو جاتے ہیں۔
لیجیے یہاں سے دیکھیں تو گفتگو کے لیے منتخب کیا گیا موضوع ہی ٹائیں ٹائیں فش ہوا ؛ کہنے کو بہت کچھ عملاً کچھ بھی نہیں۔ مگر صاحب حقیقت کچھ اور ہے۔ حقیقت کیا ہے، کچھ باتیں اس باب کی۔
1۔ اگرچہ کہنے کو کہہ لیا جاتا ہے کہ زبان ’پدری‘ نہیں ’مادری‘ ہوتی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ماں کی گود سے الگ ہوتے ہی اس کے تیور بدل جاتے ہیں۔ اردو زبان کا معاملہ بھی کچھ ایسا رہا ہے، یہ جن زبانوں سے مل کر بنی وہ سب مادری زبانیں ہیں مگر سماجی تفاعل میں جس رخ پر اردو ڈھل گئی ہے اس میں مردوں کی جیبھ کا کمال زیادہ لگتا ہے۔ اسی ’پدری زبان‘ کی بابت جوش ملیح آبادی نے ایک کتاب کا مقدمہ لکھتے ہوئے ’پدری زبان‘ کی بابت لکھا تھا کہ ’یہ معاشی دوڑ دھوپ، دیگر اقوام کے میل جول، تجارتی لین دین اور سب سے زیادہ اغیار کی غلامی کے ناجائز دباؤ کے زیر سایہ ایک زہریلی بیل کی طرح پروان چڑھتی ہے اور اپنی لپیٹ میں قوموں کو ، ان کی مادری زبان اور مادری زبان کے عطا کردہ خزانوں سے محروم کر کے رکھ دیتی ہے۔
‘ کسی اور زبان کے ساتھ ایسا ہوا ہو یا نہ ہوا ہو اردو زبان کے ساتھ ایسا ہی ہو چکا ہے۔ یہاں ہر سماجی، معاشی اور ثقافتی سرگرمی سے عورت ذرا فاصلے پر رہی ہے، اتنی کہ عورت ذات سے ایک تعصب لسانی ترکیب اور محاوروں میں رچ بس گیا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ ارادتا نہ سہی لکھنے والا غیر محسوس انداز میں انہیں دہراتا چلا جاتا ہے۔ بہادری کی بات ہو گی تو ’مردانہ وار‘ ہی لکھنے کو سوجھے گا۔ شیطان کا آسان ہتھیار عورت ہوگی اور یہی مرد کو بہکائے گی اور معاشرتی بگاڑ کا سبب ہو گی۔
ادبی حلقوں میں زبان کے اس بگاڑ کو بگاڑ نہیں سمجھا جا رہا اور کہا جا رہا ہے کہ زبانوں کی تشکیل کے پیچھے مختلف سماجی، ثقافتی، مذہبی عوامل ہوتے ہیں اب اگر مرد جسمانی طور پر قوی ہے اور وہی جنگوں میں میمنہ و میسرہ یعنی یسار و یمین داد شجاعت دیتا رہا ہے تو مردانہ وار مقابلہ کرنا ہی درست ہے۔ رہ گئی بات عورت کے بہکانے کا تصور تو یہ مذہب سے اخذ شدہ ہے۔ شیطان نے اماں حوا کے دل میں وسوسہ ڈالا اور اس نے آدم کو گناہ پر مائل کر لیا۔
لیجیے زبان کے اس منفی رخ کو بھی جواز میسر ہو گیا اور جواز بھی ایسا کہ ہم بھی خوش اور ہمارا خدا بھی خوش۔ یوں ہم نے زندگی کے ہر شعبے کو میدان جنگ بنا ڈالا اور ایک مثال کو لے کر ہر عورت کا وہ گناہ ہوا جو اس نے کیا ہی نہیں ہے۔ یہ محض دو مثالیں ہیں اور ایسی ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں جو ہماری زبان کا ایک خاص مزاج ترتیب دیتی چلی گئیں۔ تفصیل سے دیکھنا ہو تو اردو زبان کی کوئی سی بھی لغت اٹھا کر دیکھ لیں۔ اسی زبان میں ہمارا ادیب لکھتا ہے اور احساس کی اس سطح پر موجود رہ کر لکھتا رہا ہے جو بہ ہر حال مردوں کے سماجی تفاعل کی عطا ہے۔
2۔ زبان کی مجبوریوں کے بعد تخلیقی اظہار کے مواقع کا ذکر کیے دیتے ہیں۔ کیا عورت کو بھی اسی سہولت سے مواقع میسر رہے ہیں جیسے مرد کے لیے موجود رہے ہیں۔ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کا نشان محمد حسین آزاد کی کلاسیکی شعراء کے تذکرے ”آب حیات“ سے لے کر ڈاکٹر جمیل جالبی کی کئی جلدوں والی ”تاریخ ادب اردو“ میں پا لیتے۔ ”آب حیات“ کے قدیم نسخوں پر لکھا ملتا ہے ”مشاہیر شعرائے اردو کی سوانح عمری“ ۔ عورت ان مشاہیر میں کہیں نہیں ہے۔
”تاریخ ادب اردو“ کا مطالعہ کریں گے تو بھی آپ کو لگ بھگ ایسا ہی تجربہ ہو گا۔ آپ صفحوں کے صفحے الٹتے جائیں گے تو کہیں ضمنی طور پر کسی خاتون تخلیق کار کا نام مل جائے تو اسے ہی غنیمت جانیے۔ اس میں قصور نہ تو آزاد کا ہے نہ جالبی اور دوسرے ادبی تاریخیں مرتب کرنے والوں کا کہ عورت کو لکھنے کے مواقع ہی کم کم ملتے رہے ہیں۔ ایسے مواقع میسر ہو بھی جاتے تھے تو اپنے نام کے ساتھ کہیں چھپنا اور اپنی شناخت بنانا ممکن نہ تھا۔
ڈاکٹر فاطمہ حسن نے اپنی کتاب ”اردو شاعرات اور نسائی شعور: سو برس کا سفر“ میں زاہدہ خاتون شروانیہ ( 1894۔ 1922 ) کو اردو کی ایسی پہلی شاعرہ قرار دیا ہے جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں مگر ان کے ساتھ کچھ ایسا ہو رہا تھا کہ انہیں اپنی شناخت پوشیدہ رکھنا پڑی تھی۔ پہلے نام بدل کر ’نزہت‘ ہو گئیں اور پھر ’زخ ش‘ ایسے میں کوئی مستحکم شناخت بنتی تو کیسے؟ یہ تو بھلا ہو فاطمہ حسن کا کہ انہوں نے ادبی تاریخ کا یہ گم شدہ ورق ڈھونڈ نکالا۔
ایسا ہی نثر کی لکھنے والیوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ مثلاً دیکھیے پہلا ناول جو کسی خاتون نے اردو میں لکھا وہ ”اصلاح النساء“ تھا۔ خاتون کا کیا نام تھا ؛کوئی نہ جانتا تھا۔ یہ ناول لکھا تو 1881 میں گیا تھا مگر مصنفہ کے پاس پڑا رہا کچھ یوں جیسے ان کا اپنا وجود پردے میں پڑا ہوا تھا۔ 1894 میں جاکر یہ ناول شائع ہو پایا تو اس مصنف کا نام ’والدہ محمد سلیمان ”چھپا تھا۔ یاد رہے مصنفہ کے یہ بیٹے ولایت میں تعلیم پانے گئے تھے، وہاں سے لوٹے تو اس کی ہمت جٹا پائے تھے۔ اب کہیں 2000 میں یہ ناول مصنفہ رشید النسا کے نام سے شائع ہو پایا ہے۔ ادبی مزاج کی تشکیل اسی منظر نامے میں ہوئی جس میں لکھنے والی عورتوں کو کم کم مواقع میسر آتے رہے ہیں۔
3۔ اگر یہ کہا جائے کہ عورتوں کی تخلیقات کے اعتراف کے باب میں بخل سے کام لیا جاتا رہا ہے تو شاید یہ بھی نادرست نہ ہو گا۔ ہر باصلاحیت لکھنے والی کے باب میں ادبی حلقوں کا پہلا ردعمل شک کا ہوتا ہے ؛ نہ جانے یہ خود لکھتی بھی ہے یا نہیں؟ اور جب یقین ہوجاتا کہ اس تخلیقی صلاحیت کی وہ خود مالک و مختار ہے تو انہی ادبی حلقوں سے کئی مرد اسے یوں گھیر لیتے ہیں جیسے وہی اس کے ادبی سرپرست ہوں۔ اس طرز عمل کے سبب ہماری بہت سی عمدہ لکھنے والیوں کو اپنے آپ میں سمٹ جانا پڑا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تخلیقی وفور جو قدرت نے انہیں عطا کیا تھا اس میں رخنے پڑنے لگے۔ بعض خواتین کی تخلیقی صلاحیت کے اظہار میں شادی کے بعد ان کے شوہر مزاحم ہو گئے اور ان کا لکھنا لکھانا موقوف ہو گیا۔
یہاں پہنچ کر میں ایک نظر اپنی اوپر کی گزارشات پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری توجہ سیمینار کے موضوع ”ادب، عورت اور مرد“ پر تو رہی ہے مگر اس کے ضمنی سوال ”صنفی بنیادوں پر تخلیق کاروں میں تفرق کیوں؟“ کی طرف کم کم دھیان گیا ہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اس تفریق کی بنیادیں اردو زبان، اردو زبان و ادب کی تاریخ، صنفی بنیادوں پر مواقع کی موجودی اور مرد اور عورت کے لیے موجود ادبی ماحول میں رکھی جا چکی ہیں۔
ادب کا مطالعہ اگر ان امور کو مدنظر رکھ کر نہ ہو گا تو اس کی تفہیم بھی نادرست ٹھہرے گی۔ اوپر میں مثالیں دیتا آیا ہوں تو لازم ہے کہ یہاں بھی مثالوں سے اپنی بات واضح کروں۔ چوں کہ فکشن میری محبوب صنف ہے، شاید اس لیے یہاں بھی فوری طور پر افسانوں کی مثالیں سوجھ رہی ہیں۔ دیکھیے یہاں سے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں :
1۔ اس باب کی پہلی مثال میں پریم چند کے افسانے ”کفن“ کو لے لیجیے۔ یاد رہے پریم چند سے قبل اردو افسانے کے اگر کہیں نقوش ملتے بھی ہیں تووہ قدرے دھندلے اور مٹے مٹے سے ہیں۔ ایسا کہہ کر میں علامہ راشد الخیری کی اولیت کی نفی نہیں کر رہا تاہم مجھے اصرار ہے کہ اردو کے پہلے حقیقی افسانہ نگار پریم چند ہی ہیں اور ان کا افسانہ ”کفن“ اردو کے بڑے افسانوں میں سے ایک ہے۔ ہم ذرا اس کا ایک اور رخ سے مطالعہ کریں گے ؛ یعنی یہ نشان زد کر کے کہ یہ ایک مرد تخلیق کار کا افسانہ ہے۔
افسانہ نگار کی جتنی توجہ مرد کرداروں گھیسو اور مادھو پر رہی ہے اتنی درد زہ سے پچھاڑیں کھاتی بدھیا نہ پا سکی۔ جی بدھیا جس نے چماروں کے اس کام چور خاندان میں تمدن کی بنیاد رکھی تھی۔ اگر اس افسانے کو ایک عورت لکھتی تو مادھو یا اس کا باپ کہانی کے یوں مرکز میں نہ رہتے جیسے اب ہیں۔ بدھیا کے کفن کے لیے رحم دل زمیندار کو اگر ترس کھانا یا ترس کے نام پر کالے کمبل پر رنگ چڑھانا تھا تو گھیسو کے حوالے سے۔ بدھیا جیسی عورت کے لیے وہ بھی کہہ رہا ہے کہ اس کی ”لاش گھر میں رکھ کر سڑا۔“ افسانے کے مطابق: ”گاؤں کی رقیق القلب عورتیں آ آ کر لاش کو دیکھتی تھیں، اور اس کی بے بسی پر دو بوند آنسو گرا کر چلی جاتی تھیں۔“ میرا خیال ہے کوئی عورت ان کرداروں پر مشتمل افسانہ لکھتی تو مادھو اور گھیسو حاشیے پر چلے جاتے اور یہ کہانی بدھیا کی بن جاتی۔
2۔ لیجیے اب ایک افسانے کی مثال ہم ایک خاتون لکھنے والی کے ہاں سے لے لیتے ہیں جس کی ذہنی تشکیل مردوں کے بنائے ہوئے معاشرے میں ہوئی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس افسانے پر میری نظر پڑی ہے وہ بھی اردو کے بڑے افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ افسانہ عصمت چغتائی کا ہے اور ان کے بارے میں پطرس بخاری کا کہنا ہے کہ انھوں نے بعض ایسی پرانی فصیلوں میں رخنے ڈال دیے ہیں کہ جب تک وہ کھڑی تھیں کئی رستے نظروں سے اوجھل تھے۔
اس کارنامے کے لیے اردو پڑھنے والوں کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والوں کو بھی احسان مند ہونا چاہیے۔ گویا وہ ایک ایسی تخلیق کار تھیں جو مردوں کے بنائے ہوئے معاشرے میں تھیں اور اس کی باغی بھی۔ ان کا وہ افسانہ جو یہاں مثال کے طور پر چنا گیا ہے پرانی فصیلوں میں رخنے ڈالنے والی تحریروں میں سب سے نمایاں ہے اور اردو کے بڑے افسانوں میں سے ایک ہے۔ جی، میری مراد عصمت کے بدنام زمانہ افسانے ”لحاف“ سے ہے۔ یہ وہ افسانہ ہے جس کی بابت عصمت چغتائی نے کہا تھا کہ ’میں کچھ بھی لکھوں وہ لحاف کی تہوں میں دب جاتا ہے۔
‘ وہ اعتراض جو میں ”کفن“ کی ذیل میں کر آیا ہوں اس کی یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس لیے کہ ”لحاف“ لکھنے والی عورت ہے۔ عورت ہی نے عورت اور اس کی جنسی گھٹن کو موضوع بنا کر یہ افسانہ لکھا ہے۔ جب یہ لکھا گیا تو رد عمل موافق نہ تھا۔ جو ردعمل ہوا اس کے مطابق، یہ عورت کی فطری جنسی جبلت کا افسانہ نہ تھا ٹھیک ٹھاک فحاشی کا نمونہ تھا۔ خیر، جو شور شرابا ہونا تھا ہوا۔ رد و قبول کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور اسے ایک بڑے افسانے کے طور پر قبول کر لیا گیا۔
میں کہہ چکا ہوں کہ عصمت چغتائی کو مروج روایات کی باغی کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے مگر طرفگی دیکھیے کہ اس افسانے میں وہ نواب صاحب صاف بچ نکلتے ہیں جو نازک اندام بیگم جان کو بیاہ کر لائے اور بھول گئے تھے کچھ ایسے کہ وہ جنسی ناہمواری کا شکار ہو گئیں۔ پکی عمر کے نواب صاحب حاجی تھے اور بہتوں کو حج کرا چکے تھے۔ مگر انہیں ایک عجیب و غریب شوق تھا۔ وہ اپنے ہاں ایسے لونڈے پالتے تھے تھے جیسے لوگ کبوتر پالتے ہیں۔
نوجوان گورے گورے پتلی کمر والے لڑکے۔ بیگم جان کو وہ گھر لاکر بھول چکے تھے مگر گھر ہی سے ان لڑکوں کے لیے مرغن حلوے اور لذیذ کھانے جاتے اور بیگم جان دیوان خانے کے درزوں سے ان لچکتی کمروں والے لڑکوں کی چست پنڈلیاں اور معطر باریک شبنم کے کرتے دیکھ دیکھ کر انگاروں پر لوٹتیں اور پیٹھ کھجواتے کھجواتے اس ”جنسی مرض“ میں مبتلا ہو گئیں جو اردو تنقید میں سب سے زیادہ لائق توجہ رہا ہے۔ اگر عصمت چغتائی کو اسے موضوع بنانے کے لیے ’بغاوت‘ نہ کرنا پڑتی اور انہیں ایسا ماحول میسر ہوتا کہ ان کا ذہن قدرتی طور پر نواب صاحب کی جنسی کجی کو موضوع بنانے اور اس کردار کو اپنے تخلیقی شکنجے میں کسنے کے لیے تیار ہوتا تو یہ افسانہ یقیناً مختلف ہو سکتا تھا۔
میں سمجھتا ہوں کہ سماج کے ریشے ریشے میں اور ادیبوں کے تخلیقی عمل میں نسائی شعور کے غیاب یا ناقص سطح پر موجود ہونے کے سبب ہماری زبان ہو یا ادبی تخلیقات کی تشکیل وہ نہیں ہے جیسی خالص نسائی شعور کی موجودگی میں ہو سکتی تھی۔ یاد رہے جس نسائی شعور کی میں بات کر رہا ہوں وہ محض عورت کا طرز احساس نہیں ہے، اس میں عورت کے بارے میں سماج کے مختلف طبقات میں موجود شعور کی لہریں بھی شامل ہیں۔ صنفی بنیادوں پر تخلیق کاروں میں تفرق اس لیے بھی لازم ہو گئی ہے کہ یوں نسائیت سے متعلق شعور کو وہ اپنے روایتی شعور سے الگ شناخت کر پائیں گے جو سماج کے ایک خاص رخ پر بہتے دھارے کی عطا ہے۔


