کتاب پر تبصرہ: فریم سے باہر
میں دعا نگری سے ہو کر آئی ہوں۔ جہاں محبت کے رنگا رنگ پھول کھلتے ہیں، جہاں دل و جاں کو تراوٹ عطا کرنے والی گھنگھور گھٹائیں برستی ہیں، جہاں پریم کی دھارا، نرمل نغمے، کومل کرنیں، چاندنی کا طلسم، جنگلوں کی مہک، دھنک کے ساتوں رنگ اور رنگین موسموں کا دلفریب رقص ہے۔ اک جہان ہوشربا ہے کہ جس کا عکس دل سے ابھر کر آنکھ میں آ سمایا ہے۔ اب یہ سطور دیکھئیے۔
”بس اتنا یاد ہے کہ بے مثال رتھ، دل فریب نقش و نگار سے سجا تھا اور اس کو سفید فاختائیں، قمریاں اور راج ہنس کھینچ رہے تھے۔ جن کی سبک گردنوں میں سنہری قوس و قزح سے بنی نازک زنجیریں تھیں“
دعا عظیمی کے پاس دیو مالائی داستانوں کا طلسمی تخیل اور ایس ٹی کالریج جیسا انداز بیان ہے کہ وہ اپنے ساتھ قاری کو جنگلوں کی سیر پہ لے جاتی ہیں جہاں پہاڑوں کی سرسبز چوٹیاں، سرو ثمن، بے خار بیریاں، لمبے سائے، آب خوروں اور آفتابوں کا ایک جہان آباد ہے۔
عصر حاضر میں لکھنے والے فطرت کے اس حسن کو لاکھ چاہنے کے باوجود اپنی زندگی کا حصہ بنا پاتے ہیں اور نہ اپنے کی بورڈ کو وہ تخیل سونپ پاتے ہیں لہٰذا عمومی طور پہ آج کی کہانی ٹیکنالوجی کے شکنجے میں جکڑے آدمی کی شعوری اذیتوں میں جنسی لذت کے حصول کے پیرائے میں بیان ہوتی نظر آتی ہے۔ جبکہ دعا عظیمی کی تمام کہانیاں کثافتوں سے پاک، جنسی تلذذ سے ماورا، اجلے جذبوں اور اعلیٰ اقدار کی ترجمانی کرتی ہیں۔
دعا کو پڑھتے ہوئے قاری کو یہ احساس گزرتا ہے کہ مصنفہ کا مطالعہ وسیع ہے۔ ان کے افسانوں میں کہانیوں کی رنگا رنگی، دیس بدیس کی جھلک، فلسفے اور حقیقت کے درمیان مکالمہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مصنفہ اردو ادب کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ادب کے جہانوں سے بھی واقف ہیں۔ مصنفہ کا کینوس کسی ایک قریہ، کسی ایک وادی یا کسی ایک ساحل کی منظر کشی کرتے ہوئے قاری کو آفاقیت اور ابدیت سے جا ملاتا ہے۔
افسانہ ”کالی ہوا“ میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے تایا کا درد کی شدت سے چیخ کر کہنا کہ ”مجھے کوئی چھری لا دو میں اپنے سینے میں اتار لوں تا کہ میری اس درد سے جان چھوٹے“ پڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ سماجی دکھوں کی ہم احساسی کے ساتھ ساتھ مصنفہ کی کوشش اس درد کی شدت ”دی بینڈز“ یا Decompression کے مرض کا سائنسی علم بھی رکھتی ہیں۔
دعا عظیمی کے افسانوں میں بعض احساسات سے بھرپور جملے دل کو گرما جاتے ہیں۔
”چھنو، بھاگ بھری کی چوڑیوں جیسی چھنک دار تھی اور میں اپنی بیوہ ماں کی سلائی مشین میں پڑے دھاگوں جیسی خاموش۔“
یہ جملہ دیکھئے۔
”کیکر، تھلہ اور بابا مجھے تینوں اکٹھے یاد آتے“ ۔
میرے نزدیک خاص طور پہ جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ کہ ان افسانوں میں ہر لڑکی کے کردار میں جذباتی ذہانت جھلکتی ہے۔ وہ صنوبر کے درخت میں صبر دیکھنے والی اور اس سے محبت کے فلسفے کشید کرنے والی لڑکی ہو یا وبا کے دنوں میں محبت کی چٹھیاں لکھنے والی ایک معذور لڑکی، یا پھر ایک ان پڑھ نتھلی والی۔ صنف نازک کے کرداروں کو جس خوبصورتی سے پورٹرے کیا گیا ہے اس پہ مصنفہ خصوصی داد کی مستحق ہیں۔ کمال تو یہ ہے کہ مصنفہ کئی افسانوں میں خود کو صنف مخالف کے قالب میں ڈھالتی ہیں اور پھر اپنے کردار کے مشاہدے اور تجربے کے بیان سے قاری کے ایقان کو قائم رکھنے میں کامیاب بھی دکھائی دیتی ہیں۔
امید ہے دعا عظیمی اپنے منفرد انداز تحریر کی بدولت پاکستان میں افسانہ نگاری کے افق پہ ایک روشن ستارہ بن کے ابھریں گی۔




