اپُن کا کرانچی (1)


(کراچی کا ایک دل چسپ احوال پیش خدمت ہے۔ یہ نہ تو تحقیقی مقالہ ہے نہ کوئی سرکاری گزٹ۔ دیکھی، پڑھی اور سنی گئی باتوں پر لکھا ایک مضمون ہے۔ طویل اور معلوماتی۔ کراچی شہر کو سمجھنے میں اور اس پر مزید تحقیق کرنے میں اس سے یقیناً ’مدد ملے گی۔ ہمارے دیوان صاحب کراچی کے باسی ہیں۔ ہوم ڈپارٹمنٹ، مجسٹریسی، ڈسٹرکٹ انتظامیہ، کے ایم سی، جیل ایڈمنسٹریشن، ٹرانسپورٹ، محکمہ زراعت اور ریونیو۔ کراچی کے تقریباً ہر انتظامی محکمے سے منسلک رہے ہیں۔ و – مسعود)

٭٭٭         ٭٭٭

شہر کراچی سے میری شعوری یادوں کا سفر سن ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔ یہ سفر سن ستر کی دہائی تک محیط ہے۔

میرؔ کے شہر دہلی کی مانند یہ عالم میں انتخاب تو کبھی بھی نہ تھا پر جیسا بے لطف اور کٹھور یہ اب ہو چلا ہے ویسا تو کبھی بھی نہ تھا۔ سال بھر قبل ہمارے ایک دوست کی ایک جاپانی دوست ٹوکیو سے یہاں آئی تھی۔ جاپانی یوں تو اپنے اظہار رائے میں دیگر مہذب لوگوں سے بھی زیادہ محتاط ہوتے ہیں مگر بہت اصرار پر لجاتے ہوئے کہنے لگی کہ ”اس سے زیادہ جمالیاتی نقطۂ نگاہ سے دنیا میں کوئی اور شہر بدصورت نہیں۔ اس شہر میں Zoning، Spacing کا شدید بحران ہے۔“

جن قارئین کو دوسرے ممالک دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے، تعمیراتی ہم آہنگی، ٹریفک شہری منصوبہ بندی، ان تمام حوالوں سے کراچی کے بارے میں اس جاپانی خاتون کی اس کی رائے کو جھٹلانے میں بہت دقت محسوس کریں گے۔

بوڑھی مچھیرن مائی کولاچی کے نام سے موسوم یہ شہر اپنے قیام کے ابتدائی دنوں میں ایک چھوٹی سی مچھیروں کی بستی تھی جو ’کولاچی جو کنڈ‘ بمعنی مائی کولاچی کا کونا کہلاتی تھی۔ آبادی میں ذرا سا اضافہ ہوا اور مسقط کی کشتیاں بھی یہاں آنے لگیں تو اسے کولاچی جو گوٹھ کہا جانے لگا۔ گوٹھ سندھی زبان میں گاؤں کو کہتے ہیں۔ پہلے یہ علاقہ سندھ کے حکمرانوں کلہوڑا خاندان کی مملکت میں تھا، بعد میں اسے خان آف قلات اور اس کے بعد سندھ کے حکمران ٹالپر خاندان نے اپنی مملکت میں شامل کر لیا۔ جنہوں نے ایک چھوٹا سا قلعہ اس کے جزیرے منوڑا پر بنالیا اور وہاں مسقط سے لاکر کچھ توپیں بھی نصب کر دیں۔

1839، میں یہاں ایک برطانوی بحری جہاز ویلزلے آن کر لنگر انداز ہوا اور تین دن بعد بغیر کسی جنگ و جدال کے کراچی کی حکمرانی کے مالک راج برطانیہ کے کرتا دھرتا بن گئے۔

انگریز کی آمد کے ساتھ ہی یہاں تین گجراتی خاندان حاجی ڈوسل اینڈ سنز، ایک فوجی ٹھیکے دار خاندان محمد علی علی بھائی، اور محمد علی علی بھائی کریم جی جو ٹرانسپورٹر تھے اور ایک پارسی خاندان ٹی کوسر اینڈ کمپنی بھی آن پہنچے تھے جن کا انجینئرنگ اور گوداموں کا بڑا کاروبار تھا۔ سنہ 1838ء میں اس کی آبادی صرف چودہ ہزار نفوس پر مشتمل تھی جو پچاس برسوں کے دوران ان تجارتی گھرانوں کے پھیلتے ہوئے کاروبار کی وجہ سے ایک لاکھ پانچ ہزار تک جا پہنچی تھی۔

1941 ء کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی قریباً تین لاکھ تھی۔ اس میں اکیاون فی صد ہندو اور تینتالیس فیصد مسلمان تھے۔ سکھ، پارسی، عیسائی اور یہودی اس کی باقی ماندہ آبادی تھے۔ تہتر فی صد آبادی نے اس مردم شماری میں اپنی مادری زبان سندھی ظاہر کی تھی۔ قیام پاکستان کے وقت تک اس غیر مسلم آبادی نے کراچی میں آباد ہونا پسند کیا مگر ایک سال بعد یہاں جو ہندو۔مسلم فسادات ہوئے تو بہت سے ہندو، سکھ گھرانے ہندوستان چلے گئے اور اسرائیل کے قیام کے بعد یہودی گھرانوں نے وہاں آباد ہونا بہتر جانا۔ اس وقت کراچی میں ان کی آبادی پچیس سو افراد پر مشتمل تھی جو مراٹھی زبان بولتی تھی اور ان کی اکثریت بنی اسرائیلی یہودیوں پر مشتمل تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز پر ان لوگوں نے یہاں لارنس روڈ پر اپنا ایک معبد بھی بنایا تھا، جس کا نام
Magain Shalome Synagogue تھا۔

بعد میں اس کی تاریخی اہمیت کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے یہاں ایک کمرشل پلازہ کھڑا کر دیا گیا۔ یہاں کی سٹی کونسل میں ان کا ایک نمائندہ بھی ہوتا تھا۔ پاکستان میں ان کا دوسرا معبد پشاور میں ہوتا تھا۔ پاکستان سے یہ یہودی پہلے بمبئی گئے جہاں انہیں Olim یعنی مہاجر کہا جاتا تھا۔ مشہور صحافی اور تاجر اردشیر کاؤس جی کا کہنا تھا کہ کراچی میں اب بھی کچھ یہودی آباد ہیں وہ اپنی شناخت چھپاتے ہیں۔ کراچی کے علاقے کورنگی میں Fishel Benkhald ہوتے ہیں۔ وہ ابتدا میں تو اپنا نام فیصل بن خالد لکھتے تھے مگر پھر انہوں نے نادرا میں اپنے شناختی کارڈ میں اپنا مذہب کا درست اندراج کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ابتدا میں یہ مذہب اسلام تھا اور اب یہودی درج ہے۔ نادرا میں مذہب کی تبدیلی کی یہ اولین مثال ہے۔ ان کی اس کوشش کا جواز یہ ہے کہ وہ اپنی والدہ کو یہودن قرار دیتے ہیں جنہوں نے ایک پاکستانی مسلمان سے شادی کرلی تھی۔ اس کیس پر شک کی ایک دھند لپٹی ہے۔ ان کے دیگر بھائی ان کے اس اصرار سے متفق نہیں۔

پاکستان کی ایک مشہور اور بلا کی بے باک اینکر خاتون کے لیے کہا جاتا ہے کہ ان کی والدہ میمن اور والد افریقہ سے تعلق رکھنے والے یہودی ہیں۔ یہ سینہ گزٹ کی باتیں ہیں، تھڑوں چوباروں کی، اس کی سند نہ مانگیں، یہ الزام بھی نہیں۔ بس ایک اطلاع ہے۔ موساد والے کہتے ہیں کوئی اطلاع بے کار نہیں ہوتی۔

Fishel Benkhald

Chaim Weizmann ہخائم وزمین اسرائیل کے پہلے صدر تھے۔ ہخائم جس کے معنی عبرانی میں اس نعرہ ء مستانہ کے ہوتے ہیں جسے جام ٹکراتے وقت Cheers کہا جاتا ہے۔ اسرائیل کی بہت قدیم زمانے کی سپریم کورٹ کا حکم تھا کہ جب مجرم کی گردن اڑائی جائے تو اسے بیت المال سے بہترین شراب پلائی جائے اور اتنی پلائی جائے کہ وہ اپنے ہوش و حواس سے محروم ہو جائے۔ اس کیفیت میں اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے۔ اب نہ وہ مجرم پرور عدالتیں رہیں، نہ وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں۔ یہودیوں سے توہین جام نہیں ہوتی، روایتوں کے امین ہیں سو دل میں تقیہ کرتے ہیں کہ یہ جام حیات بخش کلفتوں کو دور رکھے۔ اسی لیے وہ آبگینے سلگاتے وقت Le Chaim کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ Chaim Weizmann کی وفات کے بعد یہ عہدہ البرٹ آئن اسٹائن کو آفر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس بنیاد پر انکار کیا تھا کہ وہ ایک تو عوامی آدمی نہیں دوسرے وہ سرکاری امور کی انجام دہی کا تجربہ نہیں رکھتے۔ یقین جانیں اس طرح کے امور کا تجربہ تو جنرل ایوب، یحییٰ خان، فضل الہی چوہدری اور رفیق تارڑ بریف کیس والے اور حد کے کم گو صدر ممنون بھی نہیں رکھتے تھے مگر ایسی آفر پر لپک کر اسرائیل پہنچ جاتے۔

Weizmann and feisal 1918

پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کی کہیں امریکہ میں اسرائیل کے پہلے صدر ہخائم وزمین سے ہوئی تو تھوڑا وہ مسکرائے تھوڑا یہ مسکرائے۔ اسرائیلی صدر کو ان کی جانب سے تجویز پیش کی گئی کہ وہ ایک چھٹی ذرا پاکستانی سرکار کے نام ڈال دیں۔ اس سے اسرائیل کو تسلیم کرانے میں ان کا مشن کچھ آسان ہو جائے گا۔ سر ظفر اللہ کی اس دعوت پر ایک خط آیا۔ جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ”آپ کا پاکستان اور ہماری چھوٹی سی ریاست اسرائیل دونوں کے مسائل تقریباً یکساں ہیں۔ اس لحاظ سے ان دونوں کے تعاون ایک دوسرے کے ممالک کے لیے بہت مددگار ثابت ہو گا“ سر ظفر اللہ خان ان کے اس خط کے جواب میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بہت درپے تھے مگر ان کی یہ کوشش بار آور ثابت نہ ہوئی۔ سرکاری سطح پر اسرائیل کی مخالفت وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں عروج پر تھی جس میں بعد کو آنے والی حکومتوں نے بھی اپنی خارجہ پالیسی کا اہم نکتہ بنائے رکھا جس میں ایک دراڑ صدر جنرل پرویز مشرف نے ڈالنے کی کوشش کی تھی جب انہوں نے اسرائیل کی مملکت کو تسلیم کرنے کا شوشہ چھوڑا تھا۔

انگریز کی حکمرانی چاہے متحدہ ہندوستان میں ہو، سندھ میں ہو یا کراچی میں اس کی بنیاد میں چند ہی نکات ہوتے تھے۔ وہ مقامی افراد اور رسومات کو بڑی دل جمعی سے جاننے سمجھنے کے بعد اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر ان پر تندہی اور بے خوفی سے عمل پیرا رہنے کی کوشش کرتا تھا۔

برطانوی راج کی ابتدا بطور ایک تجارتی کمپنی ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے مغل بادشاہ جہانگیر کے دور میں سن 1612 ہوئی۔ گجرات کی بندرگاہ سورت میں انہوں نے اپنی پہلی تجارتی کوٹھی قائم کی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل گجرات اور کاٹھیاواڑ تجارت میں بھارت کے دیگر باشندوں سے بہت آگے ہیں چاہے وہ ریلائنس گروپ کے مالکان امبانی برادران ہوں یا بھارت کے سب سے مالدار مسلمان وائپرو گروپ کے عظیم پریم جی، یا ٹاٹا گروپ والا پارسی خاندان یا مارواڑ کے برلا، یا پاکستان کے آدم جی، باوانی اور داؤد گروپ۔ ان سب کا تعلق گجرات اور مارواڑ سے ہے۔ اس طرح کے تجارتی مراکز بعد میں مدراس، بمبئی اور کلکتہ میں بھی قائم ہو گئے۔ جنگ پلاسی میں جب رابرٹ کلائیو نے 1757 میں نواب سراج الدولہ کو میر صادق نجفی جو پاکستان کے سابق صدر اسکندر مرزا کے پر دادا تھے ان کی غداری کی مدد سے شکست دی تو کمپنی کا حکومت کا دائرہ بتدریج بنگال، بہار، اوڑیسہ، شمال مغربی صوبہ، اودھ، روہیل کھنڈ، دہلی، گورکھ پور، پنجاب اور کشمیر تک پھیل گیا۔ کشمیر کی ریاست البتہ انہوں نے ڈوگرا مہاراجوں کو 1850 میں معاہدہ امرتسر کے نتیجے میں فروخت کردی۔ وارن ہیسٹنگز (Warren Hastings) بنگال کے پہلے گورنر جنرل مقرر کیے گئے۔ وہ تیرہ سال تک وہاں کے گورنر جنرل رہے اور بعد میں بددیانتی کے ایک الزام میں نکال دیے گئے۔ جس سے وہ بری بھی ہو گئے تھے۔

ہندوستان میں ان ہیسٹنگز صاحب نے ایک انتظامی مشنری کی بنیاد ڈالی جسے وہ انڈین سول سروس کا نام دیتے تھے۔ اس انتظامی مشنری کے بانیوں میں لارڈ کارنوالس (Lord Cornwallis) کا نام سرفہرست ہے جنہوں نے ڈسٹرکٹ کلکٹر اور ڈسٹرکٹ جج کے عہدوں کی بنیاد رکھی۔ 1799 میں ایک اہم عہدے کا اور اضافہ کر دیا گیا، یہ صوبے کے چیف سیکرٹری کا عہدہ تھا۔ سن 1833 تک دو اور انتظامی ادارے باقاعدہ طور پر قائم کر دیے گئے یہ سیکریٹریٹ اور کمشنر کے دفاتر تھے۔ 1844ء تک محکمۂ خزانہ، داخلہ، خارجہ، دفاع، پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف، ریلوے اور پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ بھی بنا دیے گئے۔ ان محکموں کے سربراہ عام طور پر گورے ہوتے تھے۔ جنگ آزادی کے فوراً بعد کمپنی بہادر کی حکومت تاج برطانیہ کو منتقل ہو گئی۔ اب ایک عہدہ سیکرٹری آف اسٹیٹ کا ہوتا تھا اور گورنر جنرل کو وائسرائے پکارا جانے لگا۔ جو برطانیہ میں قائم انڈیا آفس کی وضع کردہ پالیسیوں پر عمل پیرا رہتا تھا

دو مشہور قانون دانوں لارڈ ایمپے (Impey) اور لارڈ میکالے نے بالترتیب ہندوستان میں ضابطۂ دیوانی ( Civil Code Indian) اور ضابطۂ تعزیرات ہند (Indian Penal Code) بھی وضع کر دیے جن پر ہندوستان کا سارا عدالتی نظام چلنے لگا۔ برطانوی پارلیمنٹ نے 1860 میں ہندوستان کے لیے ایک ضابطۂ فوجداری (Criminal Procedure Code) بھی منظور کر لیا یہ تمام قوانین معمولی تحریف سے یہ تمام ضابطے اب بھی سری لنکا، بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں مروج ہیں۔ پچھلے دنوں جب پاکستان کے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ ٹھیک سے نہیں سنبھل رہا تھا اور تین لائن کا ایک آرڈر ڈرافٹ نہیں ہو پا رہا تھا۔ لارڈ ایمپے اور لارڈ میکالے کی روح انگلستان میں اپنے تابوتوں میں مچل مچل کر ان پر تبریٰ کر رہی تھی۔

افسران کا انتخاب مقابلے کے ایک سخت امتحان کے تحت ہونے لگا۔ پہلے یہ امتحان صرف برطانیہ میں ہوتا تھا مگر بعد میں ایک امتحانی مرکز الہ آباد میں سن 1922 میں بھی قائم کر دیا گیا۔ جن مقامی افسران نے سب سے پہلے مقابلے کی ان امتحانات میں کامیابی حاصل کی وہ سب کے سب بنگالی تھے جن میں سب سے پہلے تو ستیندر ناتھ ٹیگور تھے جو رابندر ناتھ ٹیگور کے چھوٹے بھائی تھے۔ یہ کچھ عرصہ حیدرآباد۔ سندھ میں بھی اسسٹنٹ کمشنر رہے تھے۔ الہ آباد کے لوگوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے میں اس امر کا بھی خصوصی ہاتھ ہے۔

پاکستان کے دیگر صوبوں میں رہنے والے افراد بالخصوص نوجوانوں کے علم میں یہ بات نہیں کہ انگریز کے سایہ عاطفت میں پل کر بعض علاقوں کے افراد کیسے زندگی کی دوڑ میں آگے نکل گئے۔ گجرات اور سورت میں پہلی تجارتی کوٹھیاں قائم ہوئیں اس وجہ سے میمن گجراتی افراد چاہے وہ کسی مذہب سے کیوں نہ ہوں جیسے ہندو، مسلمان پارسی جین یہ سب کاروبار میں آگے نکل گئے۔ الہ آباد کے اردو بولنے والے گھرانے اور کلکتہ کے ہندو بنگالی آرٹ اور سول سروس میں دوسرے سے آگے نکل گئے۔ کلکتہ میں چمڑے کے کام میں ہندو شامل ہونے سے ہچکچاتے تھے لہذا پنجاب کے چنیوٹ سے بہت سے مسلمان کلکتہ پہنچ گئے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ٹیکسٹائل اور چمڑے کے کام میں آپ کو چنیوٹی افراد کے پاس ایک Cutting Edge Skill دکھائی دیتی ہے

وہ افسران جنہیں انگریز نے بھرتی کیا ان کو آئی سی ایس افسران کہا جاتا تھا اور یہ اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز ہوتے تھے۔ اس انتظامی مشنری کو ہندوستان کا ’steel frame’ کہا جاتا تھا

یہ انگریز افسران جہاں جاتے وہاں کے لوگوں کے بود و باش، ان کی کمزوریاں، ان کی زبان اور اپنے علاقے کی ترقی میں بہت خصوصی دل چسپی لیتے تھے۔ ان کے ترتیب دیے ہوئے سرکاری مجلے جنہیں یہ اپنی علاقے میں پوسٹنگز پر ترتیب دیتے تھے آج بھی اپنے علاقۂ اختیار سے ان کی بے پناہ واقفیت کی گواہی دیتے ہیں۔ در اصل انگریز افسروں نے اپنی تعیناتی کے دوران یہاں جو کتابیں لکھیں وہ ان کی علمیت کی بین گواہ ہے اس میں سر میلکم لائل ڈارلنگ کی کتاب The Punjab Peasant in Prosperity and Debt جس میں اس نے پنجاب کے کسان طبقے کے اپنے پیر، مذہبی رہنما، زمین دار اور ملا سے تعلقات کا بڑی تفصیل سے احاطہ کیا ہے وہ اب بھی ایک بے مثال کارنامہ سمجھی جاتی ہے۔ (جاری ہے)

(ممبئی اور کراچی کی بازاری اور کاروباری زبان میں ”اپن“ کا لفظ ’میرا اپنا‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لفظ کراچی ان کی زبان سے سننے میں کراں چی لگتا ہے۔)٭

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

One thought on “اپُن کا کرانچی (1)

  • 23/04/2024 at 6:51 صبح
    Permalink

    ایڈمن صاحب
    برائے مہربانی جاوید چوہدری کے کالمز بھی شامل کریں۔۔آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔۔

Comments are closed.