ایک شام، انور مقصود کے ساتھ
میں زندگی میں ترتیب اور پلاننگ کا قائل ہوں، لیکن وقت اور حالات نے سکھایا ہے کہ کبھی کبھی اچانک اور بے ترتیب منصوبے ہمیں زندگی کی ان راہوں اور رازوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں جو ہماری زندگی کے خوبصورت لمحوں میں شمار ہو جاتے ہیں۔
ایسا ہی واقعہ 25 فروری کو پیش آیا۔ جب کینیڈا سے آئے معروف ماہر نفسیات اور مصنف ڈاکٹر خالد سہیل کراچی میں ہمارے پاس تشریف لائے۔ آرٹس کونسل میں ان کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا، لیکن کراچی کے حالات اچانک خراب ہونے کی وجہ سے یہ تقریب منسوخ کرنی پڑی تھی۔ اس تقریب کا مقصد ڈاکٹر خالد سہیل کا اپنے ادیب اور انسان دوستوں بالخصوص نامور آرٹسٹ شاہد رسام سے ملاقات کرنا تھا۔ تقریب منسوخ ہونے کے بعد یہ طے پایا کہ ہم شاہد رسام کے ساتھ مل کر شام کا کھانا کھائیں گے۔ خوش قسمتی سے شاہد رسام ہمارے ہاں تشریف لائے اور ڈاکٹر خالد سہیل اور مجھے قائل کیا کہ ہم معروف ادیب اور مذاق نگار انور مقصود سے ملاقات کرنے کے لیے ان کے ہاں چلیں اور اس کے بعد ہم کھانے کے لیے دو دریا جائیں گے۔
جناب شاہد رسام نے انور مقصود صاحب کو ڈاکٹر خالد سہیل کی آمد کے بارے میں پہلے سے بتایا تھا، اور یوں ہمارے پہنچنے سے پہلے انور مقصود صاحب ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ ڈاکٹر خالد سہیل اور ہمیں خوش آمدید کیا اور اپنے روایتی انداز میں طنز و مذاق سے حال احوال پوچھا۔
شاہدر سام نے ڈاکٹر خالد سہیل کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ بہترین ماہرِ نفسیات اور اچھے انسان ہیں۔ جس پر انور مقصود صاحب نے جملہ کہا کہ ”اگر یہ اچھے انسان ہیں تو پاکستان میں کیا لینے آئے ہیں؟“
خیر رسمی گفتگو کے بعد ادب، سیاست، شاعری، مذہب اور دیگر موضوعات پر زبردست گفتگو ہوئی۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ کب تقریباً دو گھنٹے گزر گئے۔ میں اس ساری محفل میں خاموشی سے انور مقصود صاحب، ڈاکٹر خالد سہیل اور شاہد رسام کی گفتگو سنتا رہا تھا۔ میں نے انور مقصود صاحب کو سنا اور ٹی وی پر دیکھا ہے لیکن ان کا وہ رنگ انتہائی منفرد تھا۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنی ایک کتاب پیش کی اور تخلیقی ادیبوں پر مشتمل کتاب ”Creative Minority“ کے بارے میں بتایا تو انور مقصود صاحب نے بڑے تجسس سے پوچھا کہ یہ کتاب کہاں سے ملے گی؟
جس پر ڈاکٹر خالد سہیل نے کہا کہ وہ انہیں یہ کتاب بھیج دیں گے۔
ڈاکٹر خالد سہیل نے ان سے جانے کے لیے اجازت چاہی تو کہنے لگے کہ جب آپ دوبارہ آئے تو ضرور تشریف لائیے گا، میری خواہش ہے آپ کھانا میرے ساتھ کھائیں۔
اور مجھے پوچھا کہ کیا آپ بھی کینیڈا سے آئے ہیں؟
میں نے کہا نہیں میں کراچی میں ہی ہوتا ہوں، تو کہنے لگے تو پھر چکر لگا لیا کریں۔
میں جہاں انور مقصود کے اخلاق، مذاق اور شخصیت سے متاثر ہوا وہاں ان کے منفرد ڈیزائین کردہ گھر، کتابوں اور نایاب چیزوں سے محظوظ ہوا۔
شاہد رسام نے بتایا کہ انور مقصود ایک بہترین، اور باکمال پینٹر ہیں لیکن انہوں نے اپنے طنز و مزاح اور تحریر کی وجہ سے پینٹنگ کو اتنا وقت نہیں دیا۔ جس پر انور مقصود صاحب نے کہا کہ ٹی وی نے انہیں جو عزت اور مقام دیا شاید وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
انور مقصود نے اپنا نوکیا کا ”کی پیڈ والا فون“ دکھاتے ہوئے کہا کہ میرے پاس یہ فون ہے اور میرے نام سے 14 سے زائد فیس بک اور ٹویٹر اکاؤنٹ ہیں اور بے شمار یوٹیوب چینل ہیں، جن سے میرا کوئی واسطہ تک نہیں۔ انہوں نے کہا کتنے افسوس کی بات ہے کہ ان کے نام کا غلط استعمال کرتے ہوئے لوگ بہت سی باتیں ان کی ذات سے منسوب کر دیتے ہیں۔
خیر ہماری ملاقات اپنے اختتام کو پہنچی اور اس کے بعد ہم کھانا کھانے کے لیے دو دریا چلے گئے۔ اس ملاقات کا سہرا شاہد رسام کو جاتا ہے جنہوں نے اس کا اہتمام کیا۔
شاہد رسام کو بھی ٹی وی پر پہلے سنا اور پڑھا تھا۔ اور وہ میرے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی ایڈ تھے۔ لیکن اس شام جو ان کے ساتھ گفتگو اور وقت گزرا وہ بھی ایک یادگار لمحہ تھا۔ زندگی، وقت اور ادب کے ایسے ایسے واقعات اور حالات کو مختلف نظر سے جاننے کا موقع ملا جو بہت کم لوگوں کو میسر آتا ہے۔
ہماری خوبصورت شخصیات کے ساتھ خوبصورت گفتگو جاری تھی۔ ذرا تصور کریں فروری میں کراچی کا موسم، ہفتے کی شام، سمندر کے کنارے، دلکش نظارے اور ہمارے پیارے دوست ہمارے سامنے! لذیذ کھانے اور سمندری ہواؤں کی خوشبو دِل اور دماغ کو روشن کرنے والی پُر اثر گفتگو ہماری رُوح کے اندر تک ہمیں شاداب کر رہی تھی۔
میں نے یہ لمحے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دِل، دماغ، سوچوں اور رُوح میں بھی محفوظ کر لیے ہیں۔
اور اب ایک مہینے کے بعد بھی، تحریر کرتے ہوئے میری رُوح میں ان لمحوں کی تازگی محسوس کی جا سکتی ہے۔




