روئیداد خان ۔۔۔۔ اتفاقات ہیں زمانے کے


2 جنوری 1965 کو پاکستان کے پہلے آمر جنرل محمد ایوب خان کے زیر انتظام پاکستان میں پہلے بلا واسطہ صدارتی انتخابات منعقد ہوئے۔ ایوب خان کی مد مقابل، صدارتی امیدوار، قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کو پہلے حکومتی سطح پر ملک دشمن بھارتی ایجنٹ قرار دیا گیا پھر ان کو انتخابات میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شکست سے دو چار کر دیا گیا۔ 4 جنوری 1965 کو ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب خان نے کراچی میں اپنے والد کی جیت کی خوشی میں ایک شاندار جلوس کا اہتمام کیا۔

کراچی میں اکثریتی آبادی ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے ہوئے مہاجرین پر مشتمل تھی۔ جنہوں نے انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا۔ گوہر ایوب خان کے جلوس کے شرکاء نے جو نام نہاد فتح کے نشے میں چور تھے مہاجر بستیوں پر پہلے آتشیں اسلحہ سے گولیاں برسائیں پھر ان بستیوں میں گھس کر ان کے گھروں کو آگ لگا دی۔ شاید یہ محض اتفاق تھا کہ روئیداد خان اس وقت کراچی کے کمشنر تھے اور اس دور میں کمشنر اپنے علاقے کا بے تاج بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں روئیداد خان نے نہ صرف گوہر ایوب کو ہلا شیری دی بلکہ اس کے جلوس کو اپنی انتظامی مشینری کے ذریعے پورا پورا تحفظ فراہم کیا۔

آج پوری ایک صدی کا سفر طے کر کے روئیداد خان اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کا شمار نوکر شاہی کے ان ارکان میں ہوتا ہے جنہوں نے پانچ صدور کے ساتھ کام کیا جس میں سے تین فوجی آمر تھے۔ ایک صدر جو سابق بیوروکریٹ تھے وہ ان کے دوست اور ان ہی کے شہر کے تھے۔ باوردی حلقوں سے ان کی قربت کو جمہوریت پسند طبقات نے، ان کو ہمیشہ شکوک و شبہات کی نگاہ سے ہی دیکھا۔ حالانکہ انہوں نے تین منتخب وزیر اعظم کے زیر سایہ بھی اپنے سرکاری فرائض انجام دیے تھے۔

1970 میں پاکستان میں ملک کے دوسرے فوجی آمر جنرل یحیی خان کی حکومت تھی، روئیداد خان اس وقت سیکرٹری اطلاعات تھے، اس کو بھی اتفاق کہہ سکتے ہیں یہ وہ زمانہ تھا کہ سوشل میڈیا کا کوئی وجود نہیں تھا۔ مشرقی پاکستان اب بنگلہ دیش میں خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی۔ فوج مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے خلاف سخت ترین آپریشن میں مصروف تھی انہوں نے بطور سیکرٹری اطلاعات اس بات کو یقینی بنایا کہ مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی بھنک بھی مغربی پاکستان والوں کو نہ پڑے۔

انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے مینیجنگ ڈائریکٹر اسلم اظہر کو ایک دستاویزی فلم ”دی گریٹ بیٹریل“ بنانے کا کام سونپا۔ جس کی فلم بندی مشرقی پاکستان کے مختلف علاقوں میں کی گئی اس فلم کا مقصد مکتی باہنی کے مظالم اجاگر کرنا تھا۔ چونکہ فلم فوجی آپریشن شروع ہونے کے چار ماہ بعد جولائی 1971 میں شوٹ ہوئی تھی۔ لہذا اس میں جو انسانی لاشیں اور کھوپڑیاں دکھائی گئیں ان کے بارے میں یہ طے نہ ہو سکا کہ انہیں کس نے مارا تھا۔ لہذا اس فلم کی نمائش کا منصوبہ ترک کر کے اس کو محکمہ اطلاعات کے ڈبوں میں بند کر دیا گیا۔

روئیداد خان جون 1972 تک سیکرٹری اطلاعات رہے ایک اور بیوروکریٹ امین اللہ چوہدری جو نواز شریف کی پہلی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے وقت سول ایویشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر تھے اور نواز شریف کے خلاف بنائے جانے والے ”طیارہ سازش کیس“ کے مقدمہ میں شریک ملزم گردانے گئے تھے۔ لیکن انہوں نے وعدہ معاف گواہ بن کر برات حاصل کر لی تھی۔ اپنی کتاب ”پولیٹیکل ایڈمنسٹریز: دی سٹوری آف دی سروس آف پاکستان“ میں لکھتے ہیں یحیی خان نے 26، مارچ 1971 کی اپنی مشہور تقریر میں مشرقی پاکستان میں تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی اور مکمل پریس سنسر شپ کے نفاذ کا اعلان کیا۔ جب صدر نے مجیب کو غدار قرار دیتے ہوئے ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان کیا تو روئیداد کا چہرہ چمک اٹھا۔ روئیداد نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ”یار ایمان تازہ ہو گیا“ ۔ افسوس کہ یحیی خان کے اس عمل سے روئیداد خان کے ایمان کو تو تازگی مل گئی لیکن ملک دولخت ہو گیا۔

یہ بھی شاید محض اتفاق ہی تھا کہ ضیاء الحق کے دور میں روئیداد خان مرکزی سیکرٹری اطلاعات تھے۔ جب بھٹو کی پھانسی کی سزا پر سپریم کورٹ میں کی گئی اپیل مسترد ہو گئی اور عدالت نے قرار دیا کہ صدر پاکستان سے رحم کی در خواست کی جا سکتی ہے تو اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے روئیداد خان اپنی کتاب ”پاکستان انقلاب کے دہانے پر“ میں رقم طراز ہیں کہ یکم اپریل 1979 کو وزارت قانون کے جوائنٹ سیکرٹری ارشاد خان اور جنرل کے۔ ایم عارف بھٹو کیس کی سمری لے کر ضیاء الحق کے پاس گئے۔ مشہور ہے یہ سمری انہوں نے خود تیار کی تھی لیکن انہوں نے اپنی کتاب میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ کسی ستم ظریف نے اس بات پر نہایت لرزہ خیز تبصرہ کیا تھا کہ قبر ایک تھی اور بندے دو، روئیداد نے درست بندے کا انتخاب کیا۔

1988 میں روئیداد خان 65 سال کے ہو گئے اور ریٹائرمنٹ کی دہلیز پر بیٹھے ہوئے تھے یہ بھی محض اتفاق تھا کہ اس وقت ”مملکت خداداد“ کے صدر ایک ریٹائرڈ سپر بیوروکریٹ غلام اسحاق خان تھے ان صدر صاحب کا تعلق بھی نہ صرف روئیداد خان کے شہر ”مردان“ سے تھا بلکہ دونوں ایک ہی اسکول کے طالب علم رہ چکے تھے۔ صدر صاحب ”مردانہ وار“ دوڑتے ہوئے روئیداد خان کی مدد کو آ پہنچے اور اپنے ”گرائیں“ اور ہم مکتب کے لیے وزارت داخلہ میں ایک نیا سپر عہدہ تخلیق کر ڈالا جس کا نام ”سیکرٹری جنرل“ رکھا گیا۔ واہ حکومتی سیکرٹری بھی اور جنرل بھی کیا بات ہے۔ ایک ٹکٹ میں دو مزے۔

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا نام خرد
جو چاہے اس کا حسن کرشمہ ساز کر لے

ایسا لگتا ہے کہ صدر غلام اسحاق خان کو پھر بھی چین نہ پڑا اور 6 اگست 1990 کو انہوں نے روئیداد خان کو نواز شریف کابینہ میں وزیر برائے احتساب بنوا ڈالا۔ روئیداد نے خود اپنے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ مجھے سابق وزیر اعظم کے خلاف کرپشن کے کیسز کھو جنے اور پھر ان کو سزائیں دلوانے کے لئے یہ وزارت سونپی گئی تھی کیونکہ صدر غلام اسحاق خان بے نظیر کو سیاست سے آؤٹ کرنا چاہتے تھے۔ بے چاری بے نظیر سیاست سے تو کیا آؤٹ ہوتیں ایک فوجی صدر کے ڈوبتے اقتدار کے دنوں میں زندگی سے ہی آؤٹ کر دی گئیں۔

جب تک باوردی حلقے نواز شریف کو بے نظیر کے مقابلے میں کھڑا کرتے رہے، نواز شریف کو اقتدار میں رکھنے کے لیے ان کی مدد کرتے رہے۔ روئیداد خان بھی نواز شریف کے ساتھ رہے اور ان کی تعریفیں کرتے رہے جیسے ہی باوردی حلقوں نے نواز شریف کو گھر بھیجنے کے پروگرام پر عمل کرنا شروع کیا اور ”پروجیکٹ عمران خان“ زور و شور سے لانچ کیا تو روئیداد خان اپنی پیرانہ سالی کی بھی پروا نہ کرتے ہوئے اس کے کنٹینر پر جا چڑھے ہمیشہ آمروں کا ساتھ دینے والے روئیداد خان، انسانی حقوق، جمہوریت، شہری آزادیوں اور ماحول کے تحفظ کا راگ الاپنے لگے۔ باوجود کوشش کے یہ نہ پتہ چل سکا کہ وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے یا انہوں نے جنرل عاصم منیر کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی۔

 

Facebook Comments HS