ناموز بلوچ گلوکار ناکو فیض محمد


muhammad taqi kuldan

”او ناز حسن والا دل منی برتا لعلء“

موسیقی روح کی غذا ہوتی ہے۔ موسیقی انسان کے شعور میں وسعت پیدا کرتی ہے یہ جمالیاتی احساس اور امن کو فروغ دیتی ہے یہ معاشرے کی بانجھ پن کو اپنے سروں کہ لمس سے سیراب کرتی ہے اس سے ایک سوچنے اور سمجھنے والا معاشرہ پیدا ہوتا ہے۔ دنیا میں موسیقی کو جاننے والے ہی موسیقی کے قدر داں ہوتے ہیں۔ شاعروں کے اشعار کو زندہ رکھنے اور ان کو دوام دینے میں گلوکاروں کے کاوش کو نظر انداز کرنا محال ہے۔ موسیقی میں موسیقار اور شاعر کے علاوہ جس کا کردار اہم ہوتا ہے، وہ گلوکار ہوتا ہے۔ بلوچستان میں کئی بلوچی زبان کے گلوکار ہیں، لیکن کچھ گلوکار اپنی انداز اور گانا گانے کے منفرد انداز کی وجہ سے امر ہو جاتے ہیں۔ ان میں ناکو فیض محمد کا اہم مقام ہے۔ ناکو فیض محمد کو ناکو فیضک کے نام سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ ناکو ایک مزدور تھا، اور کیماڑی میں مزدوری کا کام کرتا تھا۔ وہ دراصل ایرانی بلوچستان سے ترک وطن ہو کر روزگار کے لئے کراچی میں بسا۔ ناکو جس زمانے میں ایران سے پاکستان آیا وہ پارٹیشن کے ابتدائی دن تھے۔ پاکستان کے بننے کے ساتھ ہی ناکو کراچی میں آیا۔

ناکو نے دراصل بلوچی لوک گانوں کو روایتی انداز میں متعارف کروایا۔

1901 میں ناکو، قصر قند جو ایرانی بلوچستان کا علاقہ ہے، میں پیدا ہوئے۔ 46 سال کی عمر میں اپنے بچوں سمیت کراچی میں رہائش اختیار کی۔ وہ کراچی میں کیماڑی میں مزدوری کرتے تھے۔ وہ بالکل انپڑھ تھے۔

ناکو فیض محمد گائیکی دوران ایسا نیچرل انداز اختیار کرتے تھے کہ لوگ ان کی انداز گائیکی سے متوجہ اور پر جوش ہو جاتے تھے۔ اور خود ناکو اپنے گائیکی میں اتنے مگن ہو جاتے تھے، گائیکی کے ساتھ ساتھ رقص کرتے تھے، اور تنبورک کو بطور ہتھیار دکھاتے تھے، ان کا نیچرل انداز ان کو ممتاز بناتا تھا۔ ان کے انداز گائیکی میں ایک ایسا تاثر آتا تھا کہ وہ دل سے موسیقی کو محسوس کرتے تھے۔ گائیکی کے دوران وہ خود بھی پرجوش ہوتے اور اسٹیج کے سامنے بیٹھنے والے لوگوں کو بھی پرجوش کرتے تھے۔ لوگ ناکو کے اس انداز گائیکی کے دیوانہ ہو جاتے تھے۔ ان کی شہرت ملک کی سرحد عبور کر چکی تھی۔ انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ دوسرے ملکوں میں بھی کیا، جن میں چائنا، رشیا، امریکا، کینیڈا، افغانستان، جرمنی، فرانس، ساوتھ کوریا، لبنان، اسپین، الجزائر اور انگلینڈ وغیرہ شامل ہیں۔

ناکو میں ایک ایسی صلاحیت تھی کہ بلوچی زبان میں جب وہ پرفارمنس کرتے تھے کچھ لوگ جو بلوچی زبان کی الف، ب سے بھی واقف نہیں تھے، ان کی انداز گائیکی میں جھوم جاتے تھے اور دیوانہ وار رقص کرتے تھے۔  ناکو کا یہ انداز ہر سننے والے کو پرجوش کرتا تھا۔ انہوں نے بلوچی زبان کے علاوہ اردو میں بہت سارے گانے گائے، پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان کے علاوہ مختلف پلیٹ فارم پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پوری دنیا میں بلوچی موسیقی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بھی نمائندگی کی اور اپنے منفرد انداز اور سریلی آواز کا جادو جگایا۔

عام زندگی میں ناکو ایک سنجیدہ اور پروقار انسان تھے، لیکن جب وہ اسٹیج پر چڑھتے تھے موسیقی میں اتنے مگن ہو جاتے تھے، ان کے انداز میں جنونیت طاری ہوتی تھی وہ خود بھی جھومتے تھے، اور لوگوں کو اپنے ہم نوا کرتے تھے، وہ ایک طرح موسیقی میں ڈوب جاتے تھے، ان کا یہ انداز ان کو منفرد بناتا تھا، وہ بلوچی اشعار کے تالیف کرتے تھے، اور اپنے انداز میں گانے کے لئے ان میں تبدیلی لاتے تھے۔ نیچرل انداز ہی ناکو کی شہرت کا باعث تھا۔ ان کی گائیکی میں کبھی کبھار نوجوانوں کے لئے پیغام ہوتا تھا، کچھ گانے انہوں نے صرف نوجوان نسل کے لئے گائے۔

بلوچی موسیقی میں زھیروک موسیقی کی ایک خاص قسم ہے، ناکو زھیروک گائیکی میں ملکہ رکھتے تھے۔ فیض محمد بلوچ نے مصر کی مایہ ناز گلوکارہ ام کلثوم کے ساتھ بھی پرفارمنس پیش کیا۔

ناکو فیضک نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت بلوچ شاعری میں قدیم شاعری کو ایک نئی زندگی دی۔ مست توکلی، جام درک، ہانی شے مرید، ملا فاضل، ملا قاسم، مہناز، گراناز، شہداد و دیگر کی شاعری کو زندہ رکھا۔ ناکو اپنے مخصوص انداز سے لوگوں کو جلدی گرویدہ بناتے تھے۔ ان کے گائیکی دوران ان کی سادگی، جوش، ولولہ، اور رقص لوگوں کو پرجوش بناتی تھی۔

انہوں نے ابتدائی موسیقی اپنے والد سے سیکھی۔ تقریباً 46 سال کے عمر روزگار کے سلسلے میں ایرانی بلوچستان سے ترک وطن کر کے کراچی کو مسکن بنایا۔ مزدوری کے ساتھ وہ موسیقی بھی سیکھنے لگے۔ بلوچی موسیقی میں تنبورہ میں انتہائی مہارت حاصل کی۔ اور بلوچی موسیقی میں ایک نئی جدت کو متعارف کرایا، اور بلوچی موسیقی میں ایک انقلاب برپا کیا۔

انہوں نے موسیقی استاد نوری، استاد خیر محمد سے سیکھی اور ان کا کلاسیکل موسیقی کا استاد رمضان تھا۔ ان کو بلوچی موسیقی پر دسترس حاصل تھی۔ اگرچہ انہوں نے تعلیم حاصل نہیں کی لیکن وہ موسیقی استادوں سے سیکھتے رہے۔ انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز بھی ملا جو ان کی صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔ ناکو فیض محمد ریڈیو پاکستان کے منسلک ہونے کے بعد کراچی سے کوئٹہ چلے گئے اور 1980 میں کوئٹہ میں انتقال کر گئے، ان کو وہی سپرد خاک کیا گیا۔

ناکو فیض محمد کی بلوچی موسیقی میں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Facebook Comments HS