خاموشی کا درد اور ٹوٹتی آوازیں
مستقل بولتا ہی رہتا ہوں
کتنا خاموش ہوں میں اندر سے
کہتے ہیں کہ زندگی خاموشی کو بھی خاموش کہاں رہنے دیتی ہے۔ درد کو کو بھی وقت بن کر کہاں گزر جانے دیتی ہے۔ یہ عجیب طرح سے چپ توڑتی ہے۔ عجیب طرح سے ٹیس بن بن کر ابھر اٹھتی ہے۔ یہ خاموشی کا درد بڑا خطرناک ہوتا ہے اور شاید کسی بڑے المیے کا پیش خیمہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ پھر درد اگر روز کی بات بن جائے تو درد سہنے والا نا امیدی تلے دب کر خاموش سا ہوتا محسوس ضرور ہو گا اور اس کی درد سے اٹھنے والی آوازیں اور فریادیں رفتہ رفتہ دم توڑتی لگنے لگتی ہیں۔
دوسری جانب شاید سننے والا بھی اس خاموشی کو درد میں کمی تصور کر کے خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یاد رہے آوازوں کا ٹوٹنا کبھی درد میں کمی کی علامت نہیں ہوتا۔ خاموشی درد سہنے اور برداشت کرنے کا صلاحیت اور ہمت بڑھنے کی علامت کے ساتھ ہمدردی اور مدد سے نا امیدی کا اظہار بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ ہمیں اگر غزہ کے فلسطینیوں کی آوازیں سنائی نہیں دے رہی ہیں یا ہم تک پہنچنے نہیں دی جا رہی ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ خاموش ہیں یا پھر باقی دنیا بھی خاموش ہے۔
اور نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ غزہ کے فلسطینوں پر ظلم و بربریت میں کوئی کمی آئی ہے۔ درحقیقت وہ دنیا بھر کو مدد کے لیے اس قدر پکار چکے ہیں کہ ان کی آواز چلا چلا کر مدہم پڑتی جا رہی ہے اور شاید ان کے گلے بیٹھ چکے ہیں۔ وہ عرش کی جانب بس خاموش نگاہوں سے تکتے ہیں۔ ان کی آہ و زاری تو پہلے ہی آسمان چیر کر ان کے رب تک پہنچ چکی ہے۔ اس مستقل درد اور کرب پر دلوں سے نکلنے والی خاموش آوازیں ہر روز ہی امید کی شمع روشن کرتی جاتی ہیں۔
انہیں یقین ہے کہ اللہ کی غیبی مدد ایک دن ضرور ان تک پہنچے گی۔ اس سیاہ رات کا بڑھتا ہو یہ گھپ اندھیرا شاید اس بات کی علامت ہے کہ ان کی زندگی اور آزادی کی ایک روشن صبح ضرور طلوع ہونے والی ہے۔ خاموشی اور بے حسی کی اس سیاہ رات کا خاتمہ نزدیک تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آج فلسطینیوں کے لیے سب سے بڑی کامیابی اور جیت یہی ہوگی کہ دنیا کو بیدار کر کے ان کی خاموشی کو توڑ دیا جائیے۔ کہتے ہیں مظلوم کی خاموشی بے شمار آوازوں کو جنم دیتی ہے۔
امریکی عوام تو پہلے ہی سراپا احتجاج ہیں لیکن تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ ہوا ہے کہ خود اسرائیلی عوام اپنی حکومت اور وزیر اعظم کے ان ظالمانہ اقدامات کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے بلکہ جنگ بندی کے ساتھ ساتھ اپنی ہی حکومت اور وزیر اعظم سے مستعفی ٰ ہونے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔ جسے ایک بہت بڑی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔
گو غزہ کے فلسطینوں پر سے درد و کرب کے بادل کچھ کم نہیں ہوئے بلکہ بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ آج غزہ اور فلسطین دنیا کی سب سے بڑی جیل اور پناہ گاہ بن چکا ہے اور یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اس تاریخی محاصرہ کو جاری ہوئے چھ ماہ ہو چکے ہیں۔ جو اس تہذیب یافتہ دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ان کی بھوک اور پیاس بڑھ بڑھ کر شاید بمباری اور گولیوں سے بھی زیادہ اموات اور شہادتوں کا باعث بن رہی ہے۔ ان پر روزانہ بمباری اور آگ برسانے کا سلسلہ جاری ہے۔
آج تک بے گناہ فلسطینی مسلمانوں کی شہادتوں کی تعداد پینتیس ہزار تک جا پہنچی ہے۔ جن میں بیس ہزار معصوم اور بے گناہ بچے شامل ہیں۔ ایک لاکھ فلسطینی مرد۔ خواتین۔ بوڑھے اور بچے زخموں سے چور چور طبی امداد کے منتظر ہیں۔ معذوری کی شرح میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ وہاں نہ ہسپتال ہی باقی بچے ہیں اور نہ کوئی طبی عملہ سلامت ہے اور نہ ادویات ہی پہنچ پا رہی ہیں۔ ان مظلوموں کی نسل کشی کے لیے ظلم اور جبر کا وہ کون سا حربہ ہے جو اب تک ان پر آزمایا نہ جا سکا ہو؟
گولیاں، بم، میزائل، بھوک پیاس، طبی امداد پر بندش، قید و بند، بدترین جسمانی، ذہنی اور جنسی تشدد تو اب معمول بن چکا ہے۔ ان کی آہ و بکا انٹرنیشنل میڈیا بھی آج دنیا کو دکھانے سے قاصر ہے کیونکہ غزہ صحافیوں کے لیے موت کی وادی بن چکا ہے۔ بے شمار صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی میں جانیں گنوا چکے ہیں۔ ایک جانب امریکہ اسرائیل کی امداد اور حمایت کا کھلا اظہار کر رہا ہے ان کی جنگی امداد میں تازہ ترین بڑا اضافہ کر کے اپنی سرپرستی اور حمایت کا کھلم کھلا اظہار کر رہا ہے اور دوسری جانب اسرائیل اس کی پشت پناہی میں فلسطینی مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم دوہرا رہا ہے اور رفح کی جانب پوری دنیا اور اقوام متحدہ کے روکنے کے باوجود بڑھ رہا ہے جہاں بے شمار پناہ گزین پہلے ہی بھوک سے مر رہے ہیں۔
جس کو تاریخ کی سب سے بڑی خونریزی سمجھا جا رہا ہے اور تیسری جانب اقوام عالم اور اربوں مسلمانوں کی بے حسی اور خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے۔ گو ایران کے میزائل، ڈرون کے حملے ان نہتے فلسطینیوں کے لیے کچھ امید کی کرن ضرور بنے تھے مگر وہ ان کے مسائل کا حل تو ہرگز نہ تھے۔ اس قدر طویل جدوجہد اور جذبے نے ان کے صبر کو کندن بنا دیا ہے۔ ایک وڈیو دیکھی ہے جہاں ایک بے بس باپ اپنے بیٹے کا جنازہ خود اکیلا پڑھنے پر مجبور نظر آتا ہے اجتماعی قبروں کے مناظر بہت ہولناک ہیں۔
ان واقعات اور دردناک وڈیوز نے ایک تہلکہ مچا دیا ہے۔ پوری دنیا سراپا احتجاج ہے۔ لیکن اب پیاس سے بلکتے بچوں کی بے بسی سے دنیا بھر کی بے حسی اور خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔ سب سے بڑھ کر امریکہ اور خود اسرائیل کے اپنے اندر اس ظلم و بربریت کے خلاف نفرت اور احتجاج میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب امریکہ بھر کی تمام یونیورسٹیز میں طلبا کا اسرائیل کے خلاف احتجاج قابو سے باہر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ان یونیورسٹیز میں ہارورڈ، کولمبیا، یو۔
سی۔ ایس، یونیورسٹی آف ٹیکساس وغیرہ شامل ہیں اب تو وہاں کی کئی یونیورسٹیز نے احتجاج روکنے کے لیے آن لائن کلاسز شروع کردی ہیں۔ ان طلبا کا یہ احساس اور احتجاج کچھ حوصلہ افزاء علامت ضرور ہے وہیں دنیا بھر کے آزاد ذہنوں کے لیے ایک سوال بھی ہے کہ خاموشی توڑنے نے کا وقت آ چکا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی نوجوان نسل کوس بارے میں احساس ہونا اور خاموشی توڑنا دنیا بھر کے لوگوں کے لیے پیغام ہے کہ بس بہت ہو چکا ہے اب اور نہیں؟
امریکہ اور اسرائیل کی جنتا انسانیت کے خلاف اس جنگ سے نفرت کرتی ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ خود یہودی اور عیسائی طلبا ان مظالم پر احتجاج کر کے نفسیاتی میدان میں بازی مار گئے ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کے اثرات باقی دنیا اور خصوصی اسلامی ممالک پر بھی نمودار ہوں گے؟ اور ان انسانیت سوز واقعات پر خاموشی کے بت ٹوٹ سکیں گے؟ اس وقت امریکہ اور اسرائیل سمیت پوری امریکی لابی کے ممالک کو اپنے ہی اندر اپنے ہی عوام کی مخالفت اور احتجاج کا سامنا اس بات کا اشارہ ہے کہ چند لوگوں کی سوچ کو دنیا بھر کے امن پسند لوگوں اور عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔
وہ لوگ اب اس بربریت اور حیوانیت پر مزید خاموش نہیں رہیں گے وہ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ دنیا کے اس امن کی بربادی میں نہ تو وہ حصہ دار ہی ہیں اور نہ ان کا کوئی کردار ہی ہے۔ یاد رہے ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز ہمیشہ ہتھیاروں کی کسی بھی ٹیکنالوجی سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ مظلوم کے خلاف اٹھائی گئی آواز کی رسائی کسی بھی ہتھیار سے زیادہ دور تک ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ چاہے کسی کی بھی ہو ہر وہ سوچ اچھی اور بڑی ہوتی ہے جو انسانیت کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے۔

