شکست تخت پہلوی (2) – تخت و تاج
خزاں کی ایک سرد دوپہر 26 اکتوبر 1919 – نیم تاج نامی ایک نوجوان عورت تہران میں اپنے خاندانی گھر میں درد زہ میں مبتلا تھی۔ اس کا شوہر رضا خان ایران کی شاہی فوج کے خاص گروپ قزاق رجمنٹ میں بریگیڈیر تھا۔ باہر برآمدے میں بے چینی سے سگریٹ نوشی کرتا خبر کا منتظر تھا۔ رضا کی پہلی بیوی تاج ماہ ایک بچی کی پیدائش کے دوران فوت ہو گئی تھی۔ دوسری شادی اس نے اپنے کمانڈنگ افسر کی بیٹی نیم تاج سے کی۔ دونوں کی 1917 میں پہلے ایک بیٹی شمس ہوئی۔ رضا کو ایک بیٹے کی شدید خواہش تھی۔ انتظار ختم ہوا اور ایک سپاہی دوڑتا ہوا خوشخبری لایا ”بیٹا ہے“ ۔ باپ نے بے صبری سے اندرون خانہ جانا چاہا تو ایک دائی نے روکا ”صبر۔ ایک اور بچہ بھی آنے والا ہے“ ۔ پانچ گھنٹے بعد جڑواں بچی دنیا میں آئی۔ ایک ملا اندر آیا اور دونوں بچوں کی کانوں میں اذان دی۔ رضا خان نے بیٹے کو آغوش میں لیا اور دعا کی ”خدایا میں بیٹا تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ اس کا خیال رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا“ ۔
ان دونوں جڑواں بچوں کی قسمت ایک دوسرے سے بہت مختلف تھی اشرف پہلوی نے ایک بار کہا ”یہ کہنا کہ میں بغیر خواہش اور چاہت کے دنیا میں آئی شاید بہت سخت لگتا ہو گا لیکن یہ حقیقت سے دور بھی نہیں۔ میں اسی دن دنیا میں ٓآئی جس دن محمد رضا پہلوی نیا ولی عہد اور مستقبل کا بادشاہ دنیا میں آیا۔ مجھے ہمیشہ یہ احساس رہا کہ اپنے والدین کی شفقت پر میرا حق اتنا نہیں تھا“ ۔ لیکن بیٹے کے لیے تاج بھی منتظر تھا اور تخت بھی۔

آریائی قوم کا وجود وسطی ایشیا میں چھے ہزار سال قبل مسیح سے ثابت ہوتا ہے 550 قبل مسیح میں کوروش دوم نے شہنشاہیت کی ایک مضبوط حکومت قائم کی۔ اپنے زمینی علاقے محفوظ کرنے کے بعد سلطنت خلیج فارس سے لے کر بحیرہ کیسپین سی سے آگے جا کر ایشیا کوچک، بابل، مصر اور ترکی تک جا پہنچی۔ مشرقی بحیرہ قلزم کے ساحل بھی ان کے دسترس میں تھے۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت تھی۔ کوروش نے دنیا کا نقشہ بدل ڈالا۔ 539 قبل مسیح میں بابل کی فتح نے کوروش کو ایک نئی سوچ دی اور یہ سنہرے الفاظ کہے۔
”سب انسانوں کو آزادی ہے کہ وہ اپنے اپنے خداؤں کی پرستش کریں۔ کوئی کسی دوسرے کو اس پر تنگ نہ کرے۔ میرا حکم ہے کہ کوئی مکان گرایا نہیں جائے اور کوئی مکین نکالے نہیں جائیں۔ میرا حکم ہر ایک کے لیے امن اور آشتی ہے“ ۔
کوروش کو آج ایک سلطنت کے شہنشاہ کے طور پر ہی یاد نہیں کیا جاتا بلکہ ایک شخصی آزادی کا قائل اور سماجی مسائل پر انصاف اور انسانی حقوق کے رکھوالے کی حیثیت سے بھی اس کا بڑا نام ہے۔ کوروش کے بعد آنے والے بادشاہ داریوش نے اپنی سلطنت کو اور بھی وسعت دی۔ مغرب میں لیبیا، جنوب میں عرب جزیرہ نما اور مشرق میں دریا سندھ تک پہنچا۔ شہر شیراز کے باہر اس نے ایک نیا پائے تخت ’پاسار گاد‘ تعمیر کیا۔ 330 قبل مسیح میں ’ھخا منشی‘ سلطنت کا زوال ہوا جب سکندر اعظم نے حملہ کیا اور خود کو پرشیا کا شاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ سات سال بعد سکندر کی موت کے بعد مقدونیہ نے سر اٹھایا اور اس کے بعد پارتھیان سلسلہ آیا اور پانچ صدیوں تک اقتدار میں رہے۔ ساسانیوں نے انہیں اقتدار سے باہر کر دیا اور سلطنت وسیع تر ہو گئی یہاں تک کہ مقدس مقامات لیوانت اور یروشلم تک ان کی دسترس میں آ گئے۔ گو کہ ساسانیوں نے رومن حملوں میں بخوبی اپنا دفاع کیا لیکن 651 عیسوی میں عرب کے گھڑ سواروں نے جو اسلام کا سبز پرچم لے آ کر آئے ان کا دفاعی حصار توڑ ڈالا۔

پرشیا کے لوگوں نے اپنے مسلم حاکموں کے آگے سپر ڈال دی اور اپنا آبائی مذہب زرتشتی ترک کر کے اسلام قبول کر لیا لیکن پرشیا کے قوم پرستوں کو یہ بات توہین آمیز لگتی تھی کہ ان کی باگ ڈور عربوں کے ہاتھوں میں گئی جنہیں وہ ہمیشہ نسلی اور ثقافتی طور پر اپنے سے کمتر جانتے تھے۔ اپنی کم مائیگی کو دور کرنے کے لیے جب 1925 میں رضا خان شاہ منتخب ہوئے تو اپنے لیے ’پہلوی‘ نام کا انتخاب کیا جو ساسانی دور کی تحریر پہلوی کہلاتی تھی۔ رضا خان کے بیٹے محمد رضا کے خیالات اور رجحانات بھی یہی تھے۔ وہ قبل از اسلام کے پرشیا کی عظمت اور ورثہ کو مقدم جانتے تھے۔ وہ عربوں کی ایران آمد اور صدیوں تک قبضے پر بات ہی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ عربوں کی ایران پر حکومت کا خیال ہی ان کے لیے سخت ناگوار تھا انہوں نے اس کا اظہار بھی کیا کہ وہ بچپن میں ایرانی تاریخ پڑھتے ہوئے وہ اوراق پڑھنے سے انکار کر دیتے جن میں ایران کی ساتویں صدی میں عربوں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ وہ عربوں کی ساسانی پرشیا میں مداخلت کو پرشیا کے لیے تباہ کن سمجھتے تھے۔ ”میں اس خجالت کو برداشت نہیں کر پاتا تھا اور وہ صفحے کتاب سے پھاڑ کر نکلا دیتا تھا۔ ایسی منفی باتوں پر توجہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں“ ۔
بیسویں صدی کے آغاز سے ہی ایران میں شورش شروع ہو چکی تھی۔ غربت، زمیندارانہ اور جاگیردارانہ نظام سے تنگ آئے عوام اب قاجار بادشاہت کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے۔ قاجار شاہوں نے یورپین طاقتوں کو اجازت دی کہ وہ ملک کی معیشت کو کنٹرول میں لیں، املاک میں بھی حصے دار بن جائیں۔ کئی ماہ کی بدامنی کے بعد 1906 میں شاہ مظفر الدین نے ہتھیار ڈال دیے، ایک آئین کے تحت شاہی خاندان کے خرچے کم کیے۔ ایک پارلیمانی نظام کی کی بنیاد ڈالی جس میں حقوق اور بنیادی آزادی کے لیے قانون پاس کروائے۔ دستور سازی ایران کی تاریخ کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہوئی اور ملک کے مذہبی گروہ میں ایک گہری تبدیلی آئی۔ علما کی اکثریت نے ان نئے قوانین کو تحفظ دیا اور اس کے بدلے میں انہیں اس طرح نوازا گیا کہ انہیں حق ملا کہ وہ پارلیمان میں آ کر اجلاسوں کی نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی قانون شریعت اور اسلام کے خلاف نہ ہو۔ چند سخت گیر علما جو اقلیت میں تھے کبھی اس بات پر مفاہمت نہ کرسکے کہ ریاست کو مذہب سے جدا رہنا چاہیے۔

آئینی انقلاب نے نئی بدامنی کا سیلاب کھول دیا جو دو دہائیوں تک جاری رہا۔ 1907 میں شاہ پسندوں اور آئین پسندوں کے بیچ خانہ جنگی ہوئی۔ برطانیہ اور روس دونوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا اور چند علاقوں پر اپنی اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ برطانیہ نے زیادہ جارحانہ رویہ اپنایا وہ ایران کے نئے تیل کے ذخائر پر اپنی اجارہ داری چاہتا تھا۔ اگلی نصف صدی تک برطانوی حکومت نے پرشین آئل پروڈکشن پر پورا کنٹرول رکھا۔ اینگلو پرشین آئل کمپنی کے حصے اکثریت میں تھے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ بوسیدہ بادشاہی ملک طاقتور حکومتوں کے لیے ایک کھیل کا میدان بنا رہے۔ 1914 سے لے کر 1918 تک جنگ عظیم نے ایران کو بھی لپیٹ میں لیا۔ اس پر حملہ ہوا اور چار بیرونی طاقتوں کی افواج نے قبضہ کر لیا۔ ہرے بھرے علاقے کچرے کے ڈھیر بن گئے، بھوک بیماریاں پھوٹ پڑیں۔ اس وقت بریگیڈیر جنرل رضا خان ایک غیر تعلیم یافتہ، بہادر اور طاقتور کمانڈر تھے۔ ہمدان کے قزاق رجمنٹ سے تعلق تھا۔ فروری 1921 میں وہ اپنی رجمنٹ لے کر پائے تحت کی طرف بڑھے۔ پرشیا کی عوام نے بہت ہی کم مزاحمت کی بلکہ کئی مقام پر تو انہیں خوش آمدید کہا گیا۔ رضا خان کے پہلے کاموں میں فوج کو منظم کرنا اور صوبوں میں امن لانا تھا۔ قاجار بادشاہت کے دن پورے ہو چکے تھے۔
ایک نئی بادشاہت قائم ہوئی جس کے سربراہ رضا خان تھے۔ انہوں نے رضا شاہ پہلوی کے نام سے تاج پہنا اور سرکاری طور پر تخت طاوس کے وارث بن گئے۔ نئے شاہ نے یہ اعلان کر کے علما کو حیران و پریشان کیا کہ وہ ایران کو ایک ماڈرن ریاست بنانا چاہتے ہیں اور مذہبی طبقے کی طاقت کے سامنے جم کر کھڑے ہونے کا عندیہ دیا۔
محمد رضا شاہ پہلوی اپریل 1926 میں والد کی تاج پوشی میں ولی عہد بنے، انہیں پرشیا کے نئے حکمران کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ ابتدائی اشارے کچھ زیادہ امید افزا نہیں تھے۔ سیاہ بال، اداس آنکھیں اور کمزور جثے کی وجہ سے یہ نیا وارث سوگوار اور اپنی عمر سے کہیں زیادہ سنجیدہ لڑکا نظر آتا۔

فارسی کہاوت کے مطابق ولی عہد اپنے والد کی آنکھوں کا نور تھے۔ رضا شاہ نے اپنے دوسرے بچوں کو کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے بھائی کو ’شہزادہ عالم‘ کہا کریں۔ اس طرح انہوں نے واضح کر دیا کہ ولی عہد کا درجہ باقی بچوں سے اونچا ہے۔ دوسرے بچے اپنے بھائی اور باپ کی اتنی قربت پر حسد کرتے۔
شاہ کی والدہ نیم تاج جنہیں ’تاج الملوک‘ یعنی شاہوں کا تاج کا خطاب ملا ایک سخت گیر خاتون تھیں۔ تاج الملوک اپنے دوسرے بیٹے علی رضا پر بہت پیار نچھاور کرتی تھیں۔ ان کے خیال میں یہ بیٹا مضبوط کردار کا حامل تھا۔ ایک امریکی انٹیلجنس رپوٹ کے مطابق ”محمد رضا کو اپنی فیملی کی طرف سے عزت نہیں ملتی تھی۔ مادر ملکہ بھی اپنے بڑے بیٹے کو نااہل گردانتی تھیں۔“
رضا شاہ اور ملکہ دونوں ایک دوسرے سے خائف رہتے۔ تاج الملوک صاف دلی سے اعتراف کرتیں کہ ان کے شوہر انہیں کمرے میں آتا دیکھتے ہی فرار ہو جاتے۔ رضا شاہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے وہ حقوق استعمال کریں گے جو مذہب نے انہیں دیے ہیں۔ ایک مسلم مرد بیک وقت چار بیویاں رکھ سکتا ہے۔ اپنے دوسرے بیٹے علی رضا کی پیدائش کے فوراً بعد 1922 میں رضا شاہ نے توران سے شادی کر لی جس سے ان کا تیسرا بیٹا غلام رضا پیدا ہوا۔ 1924 میں توران کو طلاق دینے کے بعد رضا شاہ نے عصمت سے شادی کی جو عمر میں ان سے کافی چھوٹی تھی اور ان کی پسندیدہ بیوی بھی جس نے انہیں پانچ بچے بھی دیے۔ تاج الملوک نے حد درجہ تلخی سے ان حالات کا مقابلہ کیا اور اپنی رقیبوں کی زندگی بھی مشکل کر دی۔ دونوں میاں بیوی نے آخر کار اپنی جدا جدا زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔ تاج الملوک نے اس بات کو یقینی بنا لیا کہ ان کا مادر ملکہ کا لقب برقرار رہے اور ان کے دونوں بیٹے ہی تخت کے جائز وارث ہوں گے۔

رضا شاہ کو پریشانی تھی کہ ان کا بڑا بیٹا گھر کی عورتوں کے لاڈ پیار میں پل کر کمزور رہ جائے گا۔ چھے سال کی عمر کا ننھا شہزادہ ماں کی زیرنگرانی سے جدا کر دیا گیا اور ان کی اپنی رہائش گاہ میں کڑی نگرانی میں رکھا گیا۔ ایک ملٹری اسکول میں ان کا داخلہ کر دیا گیا تاکہ وہ ”مردانہ تعلیم“ حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ ان کے لیے الگ سے ایک فرانسیسی گورنس مادام ارفا کا انتظام بھی کیا گیا۔ شاہ مادام ارفا کی بہت تعظیم کرتے تھے اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ خاتون ان کی اس وقت کی زندگی میں واحد بالغ شخصیت تھی جس نے انہیں غیر مشروط شفقت دی۔
اپنی یادداشتوں میں محمد رضا مادام ارفا کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ”میں ان کا احسان مند ہوں کہ ان کی وجہ سے میں فرانسیسی زبان بول اور پڑھ سکتا ہوں۔ اور اس سے بھی بڑھ کے انہوں نے میرا ذہن کھول دیا، مغربی ثقافت سے مجھے روشناس کرایا“ ۔ یہ مادام ارفا ہی تھی جس نے اس کمسن لڑکے کے ذہن میں یہ سحر پھونک دیا کہ ایک بادشاہ اپنی سلطنت چلانے کے ساتھ ساتھ انقلابی بھی ہو سکتا ہے اور جمہوری بھی۔.
پائے تخت تہران ہمیشہ سے ایک مشکل شہر رہا ہے۔ 1723 میں افغانوں نے اسے تباہ و برباد کیا۔ تہران کچے گھروں کا ایک کمتر حیثیت کا شہر تھا۔ قاجار بادشاہت آئی اور تہران میں تخت نشین ہوئے۔ کوہ البرز کے دامن میں واقع یہ علاقہ ایک مناسب انتخاب تھا۔ لیکن تہران میں شان و شوکت اور طنطنے کی کمی تھی جیسی کہ سابق پائے تخت اصفہان میں تھی۔ یہاں آنے والے لوگوں کا خیال تھا کہ تہران کے لوگ قدرے غیر مہذب اور مفاد پرست تھے۔ تہران کے جنوب میں ’قم‘ تھا جہاں آیت اللہ اور دوسرے مذہبی رہنما تھے اور اہم مذہبی مدرسے ’قائم تھے۔ دوسرا بڑا مذہبی مرکز مشہد تھا ہر سال زائرین مشہد میں امام رضا کے مزار پر حاضری دیتے۔ جو آٹھویں امام تھے۔ اصفہان ایک شاندار شہر تھا اور سیاحوں کا مرکز نگاہ بھی۔ یہاں کی شاہ عباس مسجد دنیا میں اسلامی طرز تعمیر کا ایک بے مثال نمونہ۔ جنوب مغرب میں مشہور و معروف شہر شیراز ہے۔ اس کی وجہ شہرت اس کے شعرا، باغات اور شراب رہی ہے‘ پرشیا کے عظیم شاعر حافظ اور سعدی نے شیراز کی محبت میں بہت کچھ لکھا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ، میٹھی شراب اور گلاب کی خوشبو۔
ساٹھ کی دہائی میں شاہ نے ایک ارب ڈالر خلیج فارس کی بہبود پر لگائے اور تیل کی پروڈکشن تین گنا بڑھا دی اور ملک کی معیشت کو ایک بلندی پر لے گئے۔ خلیج فارس ایران کی شہ رگ تھا۔ شاہ نے بیرونی نقادوں کو نظرانداز کیا جو انہیں کچھ زیادہ ہی آگے بڑھنے پر معترض تھے۔ ایک امریکی صحافی نے جب یہ پوچھا ”ایران کا خلیج فارس میں دخل دینا کیا عربوں اور اسرائیل سے ان کے تعلقات خراب کرنے کا باعث نہیں بنے گا؟“ شاہ سختی سے جواب دیا ”ہم اس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں جو تاریخی طور پر ہماری ہے“ ۔
عوام نے اپنے شاہ کے اس فیصلے پر لبیک کہا۔ وہ اپنے ہمسایوں سے اپنی الگ شناخت رکھنا چاہتے تھے پرشیا میں مختلف ادوار میں مختلف اقوام کے زیر تسلط رہا۔ یونانی، عرب، منگول ان کی تہذیب پر منعکس ہوتے رہے۔ وہ سب سے پہلے پرشین تھے لیکن اس کے ساتھ وہ عرب، آرمینائی، کرد اور ترک بھی تھے۔ 90 فیصد آبادی مسلم تھی لیکن اقلیتی مذاہب کے یہودی، مسیحی، بہائی اور پارسی بھی ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ پرشین مہمانداری، تخلیقی ہنر اور ذاتی شناخت رکھنے کے ساتھ اکثر شاکی رہتے اور مبالغے کی حد تک اپنی توہین کو محسوس کرتے۔ اپنے سائنس، فلسفے اور ادب پر فخر کرتے تھے اہل فارس اپنی دنیا کو سازشوں میں گندھا دیکھتی تھی، اس سے انہیں یہ بھی حق مل جاتا کہ اپنی غلطیوں اور بد نصیبی کو دوسروں کے کاندھوں پر ڈال دیں۔
اپنے والد کے برعکس ولی عہد شہزادہ محمد رضا نے بچپن میں کبھی اپنے عقیدے پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ محل کی کنیزیں کم سن شہزادے اور ان کے بھائی بہنوں کو پیغمبر محمد کے خاندان، ساتھیوں اور اماموں کی المیہ داستانیں سناتی رہتیں۔ ان داستانوں اور بیانوں نے ننھے شہزادے پر گہرا اثر ڈالا۔ جب چھ سال کی عمر میں انہیں جان لیوا ٹائیفایڈ ہوا وہ بیماری میں ہوش اور بے ہوشی کی کیفیت میں تھے۔ ان کی والدہ ان کے گرد ہاتھ میں قرآن اٹھائے ان کی صحت کی دعائیں مانگتی رہیں۔ جب وہ روبصحت ہوئے تو انہوں نے اپنے والدین اور ڈاکٹروں کو یہ کہہ کر ششدر کر دیا کہ انہیں نے خواب میں پیغمبر محمد کے داماد علی کو دیکھا۔ انہوں نے اپنی صحت یابی کو علی سے منسوب کیا۔
ایسے ہی دو اور واقعات ہوئے دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے۔ جب ولی عہد ایک روز گھڑ سواری کرتے ہوئے گھوڑے سے گرے اور ان کا سر راستے میں پڑے ایک پتھر سے لگا۔ شہزادے نے اپنے ساتھی سے کہا کہ جب وہ گرنے لگے تو ایک فرشتے نے آ کر ان کے سر کو حفاظت میں لے لیا تاکہ سر پتھر پر نہ لگے۔ تیسرا واقعہ سب سے بڑا تھا کیونکہ یہ شیعہ عقیدے کے عین مطابق تھا۔ ایک روز ولی عہد کسی راستے سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دعوی کیا کہ انہیں ایک آدمی نظر آیا جس سے سر پر روشنی کا ایک ہالا تھا۔ ویسا ہی جیسا مغرب کے مصور عیسی کی شبیہ بناتے ہوئے دکھاتے ہیں۔ ”جیسے ہی ہم اس کے پاس سے گزرے میں نے ایک دم جان لیا کہ ہمارے عقیدے کے مطابق وہ پیغمبر محمد کے سلسلے کے ایک امام ہیں جو غائب ہو گئے تھے اور امید کی جاتی ہے کہ ایک دن وہ دوبارہ آئیں گے اور دنیا کو نجات دیں گے۔“ ۔ رضا شاہ نے اپنے بیٹوں کے نام امام کے ناموں پر رکھے لیکن وہ خود ایک مطلق العنان حکمران تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ طاقت انہیں بزور شمشیر ملی ہے خدا نے انہیں اور ان کے خاندان کو تخت طاوس کی حکمرانی نہیں بخشی۔ رضا شاہ اپنے وارث کے ان دعووں کو ان کی ایک اور کمزوری سمجھتے تھے۔ لیکن ولی عہد کو اس بات پر یقین تھا کہ ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں خدا کی جانب سے انصاف کا پیغمبر چنا گیا ہے۔
ایرانی ایک بیرونی قبضے کے نتیجے میں مسلمان ہوئے اپنی مرضی سے نہیں۔ 632 عیسوی میں پیغمبر محمد کی وفات کے دس سال بعد عرب فوج نے ایران کی ساسانی بادشاہت پر حملہ کر دیا اور اس سرزمین پر قبضہ کر لیا۔ نویں صدی تک مسلمانوں نے ایک ایسی سلطنت قائم کر لی جو سلطنت روما کے برابر تھی علاقے کے لحاظ سے بھی اور کامیابی کے لحاظ سے بھی۔

شیعہ ملائیت نے ایرانی سماج میں ایک اہم کردار سنبھال لیا اور سنی شیعہ میں اختلافات بڑھ گئے۔ علما نے خود کو عوام کا ضمیر اور ان کی آواز سمجھ لیا اور جہاں کوئی اور ذرائع کام نہ کر سکیں وہاں عوام کی رائے بھی بن جاتے۔ جب لوگ شاہی معاملات میں کوئی تبدیلی کا تقاضا کرتے علما ردعمل کے طور پر مساجد میں لوگوں کے مجمع کو سڑکوں پر لانے کی تحریک دیتے۔
پہلوی شہزادہ ابھی بارہ سال کا تھا جب اسے بحیرہ کیسپین کی بندرگاہ انزالی سے ایک روسی کروز جہاز میں سوار کر دیا گیا جو یورپ میں سوئٹزرلینڈ جا رہا تھا۔ رضا شاہ چاہتے تھے کہ ان کا وارث بیٹا مکمل ماڈرن اور مغربی سوچ اور طرز زندگی اپنائے۔ بیٹے کو اس بات کی بھی اجازت دی کہ وہ اپنے ساتھ دو ساتھی لے جائے۔ پہلا انتخاب مہرپور تیمورتاش تھا جو ایک وزیر کا بیٹا تھا۔ دوسرا محمد رضا کا دوست اور کھیلوں کا ساتھی حسین فردوست جو ایک سپاہی کا بیٹا تھا جس نے آگے چل کر تخت پہلوی کی شکست میں اپنا کردار ادا کیا۔ شہزادہ اس سے بہت شفقت سے پیش آتا تھا اور جہاں جاتا اسے اپنے ساتھ لے جاتا۔
شرمیلا سا لڑکا جس کا لقب شہزادہ تھا اپنے ہم جماعتوں میں کچھ الگ سا رہا۔ ’لی روسیے‘ ایک اعلی درجے کا بورڈنگ اسکول تھا جو جینوا جھیل کے ساحل پر واقع تھا۔ ایک امریکی رہائشی فریدریک جاکوبی جونیئر نے اس بارے میں نیویارکر میں لکھا۔ ”وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آئے، جن میں ایک ڈرائیور اور ایک خادم تھا۔ دونوں وردیوں میں ملبوس تھے۔ نیا لڑکا ہجوم میں قدم اٹھائے چلتا رہا۔ اس کے چہرے پر ایک شاہانہ تفاخر تھا لیکن ہم پر اس کا اثر نہیں ہوا“ ۔ ایک روز شہزادے نے فردریک جیکوبی کو دیکھا جو اپنے دوست چارلی چایلڈس کے ساتھ ایک بنچ پر بیٹھا تھا۔ دونوں لڑکے شہزادے کو دیکھ کر نہ کھڑے ہوئے نہ تعظیم دی۔ شہزادہ لپک کر چارلی چائلدس کے پاس گیا اور اسے گلے سے پکڑ لیا۔ چارلی نے جوابی وار کرتے ہوئے شہزادے کو کان پر ایک مکا مارا اور اسے زمین پر گرا دیا۔ یہ سب بہت جلدی ختم ہو گیا کیونکہ پہلوی شہزادہ زمین پر پڑا رحم کا منتظر تھا۔ اس کے سیاہ بال اس کے ماتھے پر گرے، منہ پر زخم تھے اور خون رس رہا تھا۔ پھر جو کچھ ہوا اس نے سب کو حیران کر دیا۔ شہزادہ مسکرایا اور چارلی سے دو بار ہاتھ ملایا اور کمر پر تھپکی دی۔
اسکول میں بات پھیل گئی کہ پرشیا کے شہزادے پر مکا پڑا لیکن جوابی وار کرنے کے بجائے وہ امن اور صلح پر آمادہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ لوگ اس کی تعظیم کرنے کے بجائے اسے پسند کریں۔ اسی چاہ میں شہزادے نے پوری زندگی گزار دی۔ آہستہ آہستہ شہزادے نے اپنے ہم جماعتوں کے دل جیت لیے۔ فٹ بال ٹیم کے کپتان کا انتخاب جیت جانے سے پہلی بار اسے لیڈرشپ کا مزا آیا اور جمہوریت کی مقبولیت کا عمل بھی دیکھا۔ پھر بھی شہزادے کو دوسرے عام مشغلوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔ نوجوان شہزادے کو سکھایا گیا تھا کہ اسے ایک مضبوط مرد بننا ہے اور پرشیا کی روایتی بادشاہت کا سبق پڑھایا گیا تھا۔ تنہا اور گھر سے دور اداس لڑکے نے اپنے ایمان اور عبادت میں پناہ تلاش کی۔ شہزادہ دن میں پانچ بار نماز ادا کرتا ایک بار کہا ”میں نے ٹھان لی تھی جب میں تخت سنبھالوں گا تو اپنے ہر قدم پر مذہب سے رہنمائی لوں گا“ ۔ اس نے یہ بھی طے کیا کہ شاہ بن جانے کے بعد پہلی اصلاح یہ کی جائے گی کہ عوام کی شکایات کے لیے ایک صندوق رکھا جائے گا تاکہ اسے اپنے لوگوں کی خواہشات کو علم رہے۔ شیعہ مذہب شہزادے کے دل کے قریب تھا۔ بچپن کی کئی بیماریوں کے دوران اسے یقین تھا کہ اس کے سامنے کوئی اہم مشن ہے۔ اپنے والد کی خواہشات کے برعکس شہزادہ نہ صرف یہ کہ مذہبی ہوتا گیا بلکہ سماجی طور بھی لبرل ہو گیا۔

بیٹا اسکول میں تھا ادھر رضا شاہ نے پرشیا کو جدیدیت کی راہ پر ڈالا رضا شاہ نے یہ تہیہ کیا ہوا تھا کہ وہ جدت لائیں گے اور ماضی کی ذلتوں کو دھو ڈالیں گے وہ جب طاقت میں آئے تو ملک میں حکومت صرف پائے تخت تک محدود تھی انہوں نے برطانیہ کی اینگلو۔ پرشین آئل کمپنی کو رضامند کر لیا کہ وہ حکومتی شیئر میں اضافہ کرے اور اس رقم سے انہوں نے ڈیم، ریلوے، بندرگاہیں، کتاب خانے، اسکول، جامعات اور اسپتال بنائے۔ ایران کا پہلا قومی بنک بنام بنک ملی قائم کیا۔ ناپ تول کے لیے میٹرک سسٹم لائے۔ بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین مہیا کیں۔ سینکڑوں نوجوان طالب علموں کو وظیفے جاری کیے کہ وہ امریکہ اور یورپ میں جا کر سائنس، ٹیکنولوجی اور طب کی تعلیم حاصل کریں۔ اور واپس آ کر نئی نسل کے نمائندے بن کر ملک میں ریفارم لائیں۔ 1935 میں پہلوی شاہ نے ملک کا نام پرشیا سے بدل کر ایران کر دیا اور واضح کر دیا کہ اب پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔ بادشاہ نے طے کر لیا تھا کہ وہ ترکیہ کے کمال اتاترک کی مثال اپنائیں گے کہ مذہب اور ماڈرن ازم ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے مذہبی درس گاہیں بند کر دیں، عوامی جگہوں پر جنس کی بنیاد پر امتیاز ختم کیا، مزدور قوانین میں تبدیلی کی جس سے عورتوں کو ملازمتیں مل سکیں۔ انہوں نے حکم دیا کہ ایرانی مغربی اطوار اپنائیں اور عورتوں کو اپنا سیاہ لبادہ جسے چادر کہتے ہیں اوڑھنے سے منع کیا۔ 1935 میں ان اقدامات سے مشہد شہر میں مزاحمت ہوئی لیکن اسے سختی سے دبا لیا گیا۔ ان سختیوں کی وجہ سے شیعہ ملاؤں نے خود کو عوام سے دور کر لیا کچھ نے ایران چھوڑ کر ہمسائے ملک عراق میں خود کو جلاوطن کر لیا۔ رضا شاہ نے پارلیمنٹ کے اختیارات بھی محدود کر دیے۔ ’مجلس‘ ایک ربر اسٹمپ بن گئی جس سے یہ توقع رکھی گئی کہ وہ ان کی خواہشات پر سر جھکا دے گی۔ سینکڑوں سیاستدان جو اس مطلق العنان حکومت پر احتجاج کرتے انہیں دھمکایا جاتا، جیل میں بھیجا جاتا یا ملک بدر کر دیا جاتا۔

اسکول میں شہزادہ اپنے ملک میں ہونے والے اقدامات سے باخبر بھی تھا اور ان میں دلچسپی بھی رکھتا تھا۔ ان سب تبدیلیوں میں سب سے زیادہ عورتوں کی آزادی اور خودمختاری شہزادے کے لیے اہم ترین تھی۔ اپنے والد کے فیصلے خواتین کے مردوں کے برابر حقوق کے فیصلے کے بارے میں یکم فروری 1936 میں اپنے والد کے نام ایک خط میں شہزادے نے لکھا۔
”میرے نایاب اور قابل احترام والد۔ یہ یقینی طور پر ایک عظیم انقلاب ہے۔ نئی پود کی بنیادی نشوونما اس کی ماں کرتی ہے جس میں اس کی تمام توانائی اور شفقت ہوتی ہے اور اس نشو و نما کے اہم جز یادیں اور اخلاق بھی ہیں اور میرے محب وطن، ترقی پسند اور عظیم والد اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ عورتوں کے لیے سائنس اور آرٹ کی تعلیم حاصل کرنا ہر ملک کے لیے ترقی کی کنجی ہے۔ ترقی کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش بے سود ہوگی اگر سماجی طور پر ایک طبقے کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے۔ اس لیے امید ہے کہ اس طرح کا پدرانہ رویہ اور توجہ ہمارے پیارے ایران کی معزز خواتین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا اور ایران ترقی اور خوشحالی کی راہ پر چلے گا اور سماج کے اس بدقسمت طبقے کو سہارا ملے گا۔ ”
11 مئی 1936 کو ایک کروز کشتی سے ولی عہد شہزادے کی واپسی ہوئی۔ بندرگاہ کا نیا نام ’پہلوی‘ رکھا گیا تھا جہاں شہزادے کی کشتی آنے والی تھی۔ پہلوی خاندان استقبال کے لیے موجود تھا۔ رضا پہلوی جیٹی پر تنہا کھڑے تھے اور پر سکون انداز میں بیٹے کے منتظر تھے۔ کشتی کنارے لگنے لگی۔ پانچ طویل برسوں کے بعد بیٹے سے ملنا ایک جذباتی لمحہ تھا فاخر باپ کسی اور کو اس لمحے میں شریک نہیں کرنا چاہتا تھا۔ شہزادہ چلتا ہوا ان کے نزدیک پہنچا تو لگا کہ وہ اسے پہچان نہیں پا رہے تھے۔ وہ بیمار اور کمزور سا لڑکا اب ایک حسین نوجوان بن چکا تھا۔ باپ بیٹے نے ہاتھ ملایا اور دیر تک گلے لگے پھر اندر بڑھے جہاں ملکہ اور شہزادیاں منتظر تھیں۔ سیاہ ڈھیلی چادروں کے بجائے مغربی لباس اور ہیٹ میں ملبوس۔ گاڑیوں کا قافلہ بندرگاہ پہلوی سے نکل کر البرز کے پہاڑوں سے گزرتا تہران کی سمت روانہ ہوا۔

ولی عہد شہزادے نے کہا ”مجھے لگا میں کسی اور ہی ملک میں آ گیا۔ مجھے کچھ بھی پہلے جیسا نہیں لگ رہا تھا۔ ایران کی کیسپین ساحلی پٹی جو پہلے ٹوٹی پھوٹی تھی اب جنوبی فرانس کا ایک ایرانی ماڈل نظر آ رہی تھی“ ۔ قافلہ چلتا رہا اور ساحل کے قریب بڑے بڑے بلند ہوٹل نظر آئے۔ ایک دہائی قبل تہران سفر کرنا عذاب تھا۔ گدھوں کی سواری، کئی دن کا سفر، راہ میں رشوتیں، افیون اور رکاوٹیں عام تھیں۔ اب ڈرائیور آرام سے جادہ چالوس پر گاڑی چلاتے۔ البرز پہاڑ کو کاٹ کر بنا یہ راستہ بہت شاندار تھا۔ پرانے سرائے مکان اب خوبصورت ہوٹل میں بدل گئے تھے۔ سب سے بڑی حیرت پہاڑوں کے دامن میں نظر آئی جب شاہی گاڑیوں کا قافلہ وہاں سے گزرا تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑک کے دونوں طرف استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ انہوں نے شہزادے کی کھلی گاڑی پر پھول اور گلدستے نچھاور کیے۔ شہزادے نے یہ دن یاد کرتے ہوئے ایک بار کہا ”میرے والد نے تہران کی بوسیدہ دیواروں کو گرا دیا۔ سڑکوں پر سیمنٹ اور اسفالٹ ہو گیا تھا۔ تہران اب کسی یورپی شہر کے جیسا نظر آتا تھا۔ مجھے لگا میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں“ ۔
ولی عہد نے تہران ملٹری کالج میں بطور کیڈٹ داخلہ لیا جہاں انہیں اگلے دو برس گزارنے تھے۔ یہ ادارہ فرانس کی اکیڈمی سینٹ سیر کے ماڈل پر بنایا گیا تھا۔ یہاں شہزادہ ملٹری حکمت عملی اور داؤ پیچ سیکھنے تھے۔ گریجویشن کے بعد بطور سیکنڈ لفٹیننٹ آرمی انسپکٹر ان کی تعیناتی ہو گئی۔ رضا شاہ نے خود بھی بیٹے کی تربیت کرنی شروع کردی دونوں ایک ساتھ ایران کے مختلف علاقوں کا سفر کرتے اور صوبائی افسروں سے ملاقاتیں کرتے۔ ولی عہد نے نوٹ کیا کہ افسران اپنے شاہ سے ملتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لیتے۔ بات چیت کے دوران وہ کچھ خائف نظر آتے۔ کھل کے بات نہیں ہوتی تھی۔ شہزادہ اپنے والد کی اس تنہائی سے فکرمند تھا۔ شہزادہ دیکھ رہا تھا کہ افسران شاہ کی توجہ مسائل پر مبذول کراتے ہوئے ڈرتے تھے اس وجہ سے شاہ تنہا اور عوامی رائے سے بے خبر رہے۔ آہستہ آہستہ افسران نے جان لیا کہ وہ شاہ کے بجائے ولی عہد سے اپنے مسائل کو بیان کر سکتے ہیں اور شہزادے نے بھی ڈپلومیسی اپنا لی اور دونوں کے درمیان وسیلہ بن گئے۔ رضا شاہ بڑے صبر اور تحمل سے بیٹے کی تجاویز سنتے اور بہت کم ایسا ہوتا کہ وہ اختلاف کرتے۔ ولی عہد کہتے ہیں ”۔ میں انیس سال کا نوجوان تھا۔ میں اپنا نکتہ نظر بیان کرتا اور اشاروں میں تجاویز بھی پیش کرتا وہ نہایت انہماک سے میری بات سنتے اور شاذ و نادر ہی میری رائے کو رد کرتے“
شہزادہ سیاسی قیدیوں کے بارے میں بھی دلچسپی رکھتا تھا۔ اپنے والد کو اس بات پر قائل کرتے رہے کہ جو سیاسی لوگ نا انصافی کا شکار ہوئے ان کو رہا کیا جائے۔ والد نے وضاحت کی کہ یوں جیل خالی کر دینے سے ایران کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اپنے دشمنوں سے نرمی برتنا کمزوری کی نشانی ہے۔ یہ کیسا لگے گا کہ جو شخص شاہ کے حکم سے گرفتار ہوا اسے اس کا بیٹا رہا کردے؟

ایران کے مقبول ترین سیاسی قیدی محمد مصدق جن کی شادی بے دخل قاجار خاندان میں ہوئی تھی۔ وہ 1925 میں پہلوی خاندان کے مخالف رہے اور رضا شاہ کو تنبیہ کی کہ وہ آمریت نہ اپنائیں اور 1906 کے آئین کی پاسداری کریں۔ مصدق کے بچوں نے ولی عہد سے رحم کی گزارش کی کہ ان کے والد عمر رسیدہ اور بیمار ہیں وہ جیل کی صعوبتیں برداشت نہیں کر سکیں گے۔ 1940 میں رضا شاہ نے بوڑھے مصدق کو آزاد کر دیا لیکن خبردار کیا کہ یہ فیصلہ ایک دن ولی عہد کو پشیمان کر دے گا۔
ساٹھ سال کی عمر میں رضا شاہ نے اپنی توجہ شاہی وراثت کی طرف مبذول کی۔ وہ خود کو تخت سے جدا کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے لیکن اس کی کوئی تاریخ یا وقت نہیں بتایا تھا۔ اس سے پہلے بھی وہ ایسا کرنے کے بارے میں خیال رکھتے تھے۔ 1941 کے موسم بہار میں اپنے قابل اعتماد مشیران سے حکومت کی منتقلی کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ رضا شاہ کی طاقت کمزور پڑنے لگی اور انہیں ریاست کے گرنے کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔
ایک نوخیز شاہی خاندان کے لیے پہلویوں کو تخت سنبھالنے والے جائز وارثوں کی کمی کا سامنا تھا۔ آئین کے لحاظ سے صرف ولی عہد شہزادہ محمد رضا اور ان کے سگے بھائی علی رضا ہی خونی رشتے کے تحت صحیح اور جائز وارث تھے۔ ان کے سوتیلے بھائی جو رضا شاہ کی دوسری بیویوں سے تھے ان میں قاجار خون کی آمیزش تھی اس لیے وہ تخت کی وراثت کے حقدار نہیں تھے۔ ولی عہد شہزادے سے بھی یہ توقع تھی کہ وہ ایک وارث پیدا کریں۔ رضا شاہ دونوں بیٹیوں شمس اور اشرف کی شادیاں کر چکے تھے۔ داماد انہوں نے خود چنے تھے۔ لیکن یہ دو شادیاں کسی ڈراما سے کم نہیں تھیں جب شمس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے امیدوار کے بجائے اپنی چھوٹی بہن کے امیدوار فریدون جام سے شادی کرنا چاہتی ہے جو وزیراعظم کا بیٹا اور فوج کا افسر تھا اور ایک خوش شکل جوان تھا۔ والد نے دونوں بیٹیوں سے کہا کہ وہ اپنے منگیتر بدل لیں۔ اشرف کی شادی علی قوان سے کر دی گئی جسے وہ سخت ناپسند کرتی تھی۔

رضا شاہ نے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے ولی عہد بیٹے کی شادی شہزادی فوزیہ سے طے کردی جو مصر کے بادشاہ فاروق کی بہن تھی۔ وہ مصر کے ساتھ تعلقات بڑھانا چاہتے تھے جو عرب ریاستوں میں سب سے طاقتور تھا۔ وہ پہلوی بادشاہت کو بھی ایک قانونی اور محکم مقام دینا چاہتے تھے۔ منگنی شدہ جوڑا شادی سے دو ہفتے قبل پہلی بار ملا اور یہ جانا کہ دونوں کے بیچ کچھ بھی مشرک نہیں۔ شادی 15 مارچ 1939 کو ہوئی۔ اپنے گھر کی لاڈلی اور بگڑی ہوئی خوبصورت فوزیہ نے اپنی ناپسندیدگی چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ وہ اپنے کاسموپولیٹن شہر قاہرہ کا مقابلہ تہران سے کرتی جو اس کی نظر میں ایک غیر مہذب شہر تھا۔ وہ تنہا تھی اور اکتا گئی تھی۔ پہلوی خواتین کے پرتجسس رویے تھکا دینے والے لگے۔ ایران کے عوام نے بھی دیکھ لیا کہ وہ ان میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ فوزیہ نے ایک بیٹی شہناز شاہی خاندان کو دی لیکن ولی عہد سے ان کی شادی کامیاب ثابت نہ ہو سکی۔ 1948 میں ان کی طلاق ہو گئی۔
رضا شاہ کا حکومت بیٹے کو منتقل کرنے کا منصوبہ ملتوی ہو گیا جب 25 اگست 1941 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی اور برطانیہ اور سوویت یونین کی فوجیں ایران میں داخل ہو گئیں اور شاہی راستے اور آئل ڈپو جانے والی ریلوے کو جرمنوں کے ہاتھوں میں جانے سے بچانا چاہا۔ اصلی مسئلہ یہ تھا کہ رضا شاہ غیرجانبدار رہنا چاہتے تھے اور ان بیرونی قوتوں کے سامنے جھکنا نہیں چاہتے تھے جنہوں نے ملک کو تقسیم کر کے آپس میں حصے بانٹ لیا تھا۔ جس دن بیرونی مداخلت ہوئی تمام شاہی خاندان دوپہر کے کھانے پر جمع تھا۔ شہزادی اشرف بتاتی ہیں ”کھانے کی میز پر ماحول بہت تنا ہوا تھا۔ تناؤ اتنا تھا کہ ہم میں سے کوئی بھی بات کرنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ جو مجھے علم تھا وہ یہ کہ ناممکن ممکن ہو چکا ہے۔“ والد نے انہیں بتایا ”اتحادیوں نے چڑھائی کر دی ہے، میرا خیال ہے یہ میرا انجام ہے۔ برطانوی یہی چاہیں گے“ ۔ اس ڈرامائی لمحے میں ولی عہد شہزادے نے ایک گن اپنی بہن کو دی ”اشرف اسے پاس رکھو اگر فوجی دستے تہران تک آ گئے اور ہمیں لے جانے کی کوشش کریں تو کچھ فائر کرنے کے بعد خود اپنی جان بھی لے لینا۔ میں بھی یہی کروں گا“ ۔ اگلے دن تہران کے آس پاس بمباری ہوئی۔ ملکہ اور شہزادیوں نے محل کے تہہ خانے میں پناہ لی جیسے ہی بمباری رکی اپنا سامان باندھ کر جنوبی اصفہان کی راہ لی۔

رضا شاہ اور ان کا بڑا بیٹا اپنے جنرلوں کی کمانڈ کرنے کے لیے وہیں رہ گئے۔ لیکن فوج ایک بڑے خطرے کے سامنے منظم نہیں تھی۔ 16 ستمبر 1941 کو رضا شاہ نے تخت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا اور ایک سرکاری دستاویز پر دستخط کر دیے۔ سویلین لباس پہنا اور اصفہان اپنی بیوی اور بیٹیوں کے پاس روانہ ہو گئے۔ انہیں برطانوی حکام سے یہ پیغام مل چکا تھا کہ انہیں ایران چھوڑ کر جلا وطنی میں اپنی باقی ماندہ زندگی گزارنا ہو گی۔ یہ انجام ہوا اس قزاق سپاہی کا جو نیپولین بونا پارٹ کو اپنا آئیڈیل سمجھتا تھا۔ شہزادی اشرف نے التجا کی کہ وہ بھی اپنے والد کے ساتھ جائے گی لیکن والد نے یہ کہہ کر منع کر دیا۔ ”میں چاہتا ہوں کہ تمہیں ساتھ لے جاؤں لیکن تمہارے بھائی کو یہاں تمہاری زیادہ ضرورت ہے۔ تم اس کے پاس رہو۔ کاش تم لڑکا ہوتیں تو تم اس کے لیے ایک بھائی ہوتیں“ ۔ تمام اعزازت، القابات اور دولت سے محروم رضا شاہ کو ایک برطانوی کروز شپ پر سوار کر دیا گیا اور کہا گیا کہ اس کی منزل ارجنٹائن ہے جہاں وہ جانا چاہتے ہیں۔ دوران سفر کشتی کے کپتان نے بتایا کہ معزول بادشاہ کو جنوبی افریقہ لے جایا جا رہا ہے جہاں وہ جلا وطنی کی زندگی گزاریں گے۔
محمد رضا ایران کے نئے شاہ بن گئے۔ بطور نئے شاہ اپنی پہلی تقریر میں محمد شاہ نے پارلیمان کو یقین دلایا کہ وہ آئین کی پاسداری کرنے کے پابند ہیں اور اپنے والد کی اسٹیٹ ملک کو واپس کر دیں گے۔ تقریر اچھی رہی لیکن وزرا اور اتحادی سفیر چاہتے تھے کہ پہلوی شاہ دوم کے پر ہلکے سے کاٹ دیے جائیں اور معمر شخصیات انہیں اپنے گھیرے میں لیے رہیں۔ آئین کی پاسداری ہو اور مطلق العنانی کو روکا جائے۔ نوجوان شاہ کو ہر بار خجالت سے گزرنا پڑتا جب اسے محل سے باہر جاتے ہوئے اپنی شناخت کے کاغذات گیٹ پر موجود روسی پہرے داروں کو دکھانے پڑتے۔ دو سال بعد جب روزویلٹ، سٹالن اور چرچل اپنے عزائم پر بات چیت کرنے تہران آئے تو صرف سٹالن نے 24 سالہ جوان بادشاہ کو وہ عزت و احترام دیا جس کا وہ بحیثیت ملک کا فرمانروا مستحق تھا۔

محمد رضا اب تقریباً اکیلے تھے۔ اپنے بیشتر مشیروں پر بھروسا نہیں تھا۔ وہ ایران میں جمہوری حکومت قائم کرنے کے لیے پوری سچائی سے کوششیں کر رہے تھے۔ وہ اتنی آسانی سے ٹوٹنے والے نہیں تھے۔ 1941 کے بحرانی حالات نے شاہ کو ایک کٹھ پتلی حکمران بنا کر رکھا۔
تخت پر بیٹھے انہیں سال بھر ہو چکا تھا جب سینیئر سیاستدانوں کا ایک گروپ انہیں ملنے آیا کہ بہتر اور مستحکم نتائج کیسے حاصل کیے جائیں۔ شاہ نے انہیں کہا ”ہمیں لازم ہے کہ ملک میں سوشل جسٹس قائم کریں“ سوئٹزرلینڈ میں شاہ نے یہی سیکھا تھا۔ ان کی گورنس مادام ارفا نے بھی تو ایسا ہی کچھ بتایا تھا کہ انقلابی بادشاہ بھی ہوتے ہیں۔ ”یہ کوئی انصاف نہیں کہ کچھ لوگ نقصان میں رہیں۔ اتنی دولت کا کیا کرنا جب لوگ بھوک سے مر رہے ہیں“ ۔ وزیروں نے شاہ کے انقلابی آئیڈیا کو رد کر دیا کہ یہ خالی باتیں ہیں اور ایک نوجوان کی احمقانہ سوچ ہے جس کے پاس بہت سا فالتو وقت ہے۔
چالیس کی دہائی کے آخر میں شاہ کی نوجوانی کا آئیڈل ازم اس وقت وضاحت سے سامنے آیا جب ایک بیٹھک میں شاہ نے علما سے کہا کہ وہ ملک کے اخلاقی رکھوالے ہیں۔ کوئی حکمران قانون سے بالا تر نہیں۔ ”اپنے حکمرانوں کے رویہ پر لوگ چپ نہ رہیں۔ غیر جانبدار بھی نہ رہیں۔ اگر حکومت ان کے حقوق سلب کرے یا خلاف قانون کوئی اقدام کرے تو لوگ اٹھ کھڑے ہوں۔ اور یہ علما کی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہی دیں اور حکومت کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ خطرناک اور غیر قانونی اقدام اٹھائیں۔“
(جاری ہے)






