آخر سیکس اتنا مقدس اور اہم کیوں ہے؟


عورت اور مرد کے درمیان جنسی تعلق کا موضوع ہمیشہ سے ہی ہمارے لیے اہم رہا ہے لیکن ہم نے جنسی عمل یعنی ”سیکس“ پر گفتگو کو فحاشی، بے حیائی کے زمرے میں ڈال دیا اور پھر اس عمل کے مرتکب یا اس سے متعلق گفتگو کرنے والے انسان کو بدکردار قرار دے کر قابل نفرت بنا دیا۔

منافقت کی حد دیکھیں کہ پھر اسی سیکشوئل تعلق کے قیام کے لئے شادی کا ادارہ بنایا اور بقول ”پی کے“ ڈھول تاشے بجا کر ”آئی ایم گوئنگ ٹو ہیو سیکس ود دس وومین“ کا اعلان کرتے ہیں، دعوتیں اڑاتے ہیں لیکن کرتے وہی سب کچھ ہیں جسے خود ہی فحاشی، بے حیائی اور بدکرداری قرار دے چکے ہیں۔

لیکن بات ہو اہمیت کی تو اگر ہر کوئی کسی نہ کسی حال میں یہی سب کچھ کر رہا ہے اور سب کو کرنا بھی یہی کچھ ہے تو پھر اسے بدکرداری کہیں، بے حیائی کہیں یا پھر فحاشی کہہ لیں لیکن آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ کہیں نہ کہیں یہ سیکس کوئی بہت ہی توپ چیز ہے کہ ناپسندیدگی کے باوجود بھی اسے کرنے کے لئے آپ کو کوئی نہ کوئی جواز تلاش کرنا پڑتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سیکس واقعی میں اتنا اہم ہے؟ کیا واقعی یہ انسان کے لئے بہت ضروری ہے؟

اب اس کا کوئی جواب تو لازم بنتا ہے لیکن اس کا بہتر جواب ڈاکٹر خالد سہیل یا ان جیسا کوئی ماہر نفسیات، علم و ادب کا دلدادہ اور تجربات و مشاہدات کے دریا عبور کرنے والا کوئی شخص ہی دے سکتا ہے۔

میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے لیکن میں نے جواب جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ سیکس انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر بنانے میں معاون و مددگار ہوتا ہے۔ کلئین (Klein 2019 ) کہتے ہیں کہ سیکس امیون سسٹم کو مضبوط بنا کر درد کش ہارمون جاری کرتا ہے اور تناؤ (stress) کو گھٹانے میں مددگار ہوتا ہے جبکہ ایک اور ماہر ایلن (Allen، 2018 ) کا خیال ہے کہ روز مرہ سیکس کرنے سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے اور یہ عمل نیند کے دورانیے اور عمر میں اضافہ کرتا ہے۔

کاس فیلڈ (Kosfeld 2013 ) کا خیال ہے کہ سیکس سے انسانی جسم میں اوکسیٹوسن جاری ہوتا ہے جو کہ جذبات، لگاؤ اور قربت کے احساس میں شدت کا سبب بنتا ہے۔ ہیرس (Harris 2017 ) سمجھتے ہیں کہ جنسی تعلق قائم کرنے سے ڈپریشن اور اینزائٹی کی علامات میں کمی واقع ہوتی ہے۔

رائٹ (Wright 2018 ) کا ماننا ہے کہ جنسی تعلق جوان لوگوں (اولڈر اڈلٹز) میں کاگنیٹو (شعوری/لاشعوری آگاہی کے ) فنکشنز کو بہتر بناتا ہے۔

شمٹ (Schmitt 2012 ) کا ماننا ہے کہ مجموعی زندگی میں حاصل اطمینان اور خوشی جنسی تعلق سے ملنے والی تسکین سے جڑی ہوئی ہے۔ گلیلینڈ (Gilliland 2018 ) سمجھتے ہیں کہ جنسی تعلق، جذبات کی انٹیمیسی، روابط (کمیونیکیشن) اور رشتوں میں اطمینان پیدا کرنے میں معاون ہوتا ہے۔

وئیڈرمن (Wiederman 2018 ) کہتے ہیں کہ روزمرہ جنسی تعلق کا قیام کسی شخص میں خود اعتمادی، باڈی امیج اور خودی (سیلف ایسٹیم) کے احساس کو بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خاجیہی (Khajehie 2018 ) کا خیال ہے جنسی تعلق کا قیام اینڈورفنس جاری کر کے دباؤ اور تناؤ کو کم کرتا ہے اور کارٹیسول کی سطح میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

لینڈاؤ (Lindau 2018 ) کے مطابق سیکس یعنی جنسی عمل جوان لوگوں میں جسمانی پھرتی اور نقل و حرکت کی صلاحیت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

دیگر بھی کئی آراء موجود ہیں، کئی ماہرین ہیں جو اس مسئلے پر سائنسی تحقیق سے اخذ شدہ نتائج شیئر کرتے ہیں۔ وہ تمام ماہرین کچھ باتوں پر متفق ہیں کہ جنسی تعلق بڑھتی عمر کے اثرات میں کمی کا سبب بنتا ہے، جذبات کو ریگولیٹ کرتا ہے، ایمپتھی اور ایموشنل انٹیلی جنس کے اضافے اور خطرناک بیماریوں سے بچانے میں بھی معاون و مددگار ہوتا ہے۔

اب اتنے سارے فوائد جاننے کے بعد تو کفیوژن اور بڑھ جاتا ہے کہ کیا واقعی یہ سیکس اتنا کوئی اہم معاملہ ہے؟

کافی سارے پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ سیکس اتنی بھی کوئی اہم چیز نہیں ہے جسے ہم تقدس کی چادر ڈھانپ دیں اور سیکس کے بعد خود کو فاتح عالم ٹائپ کوئی چیز سمجھنا شروع کر دیں۔

سیکس انسانی زندگی کے دیگر روزمرہ امور کی طرح ایک عام اور سطحی سا کام ہے جس کی اوور مارکیٹنگ نے اسے ایک ”پراڈکٹ“ بنا دیا ہے اور اس کا سب بڑا نقصان عورت کو ہو رہا ہے کہ وہ جنسی تسکین کا ایک سامان بن کر رہ گئی ہے۔

اول تو دیکھیں سیکس جنسی عمل ہے اور جنسی عمل کے لئے جنس مخالف کی ضرورت پر آج کے دور میں سوالیہ نشان لگ چکا ہے اور دنیا اس پر ہم سے بہت آگے تک کے فیصلے کر چکی ہے اور معاشرتی سطح پر ان کی قبولیت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے لہٰذا عورت کو سیکس کا سامان اور اپنی ملکیت سمجھ کر قید میں رکھنے کا نظریہ اب زیادہ ٹک نہیں پائے گا۔

لے دے کر اگر مرد اور عورت کے درمیان سیکس کا کوئی بہت ہی تیس مار خان قسم کا کوئی فائدہ ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ یہ نسل انسانی بڑھانے میں معاون و مددگار ہے باقی سب مارکیٹنگ ہے۔

نسل بڑھانا بھی ہر پیدا ہونے والے انسان کے لئے ضروری نہیں ہے۔ دنیا میں آج کے انسان یعنی ہومو سیپیئنز سے پہلے انسانی پرجاتیوں سمیت دیگر کئی جانداروں کی پرجاتیاں معدوم ہو چکی ہیں۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ نسل انسانی بڑھانے کے لئے کتنا جنسی تعلق قائم کرتے ہیں، فطرت آپ کو صرف سروائیول آف فٹیسٹ کی کسوٹی پر پرکھے گی۔

دوسری طرف اگر بات ہے سیکس کے فوائد کی اور اس کا مقصد مذکورہ بالا ذہنی اور جسمانی فوائد کا حصول ہے تو پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سب فوائد صرف سیکس کے ذریعے ہی حاصل نہیں ہوتے بلکہ کئی اور چیزیں ہیں جنہیں اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے سے آپ سیکس کے بغیر بھی یہ تمام فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

ماہرین نے سیکس کے فوائد گنواتے ہوئے کچھ ہارمونز اور کیمیکلز کا تذکرہ کیا ہے جو کہ درحقیقت ان تمام فوائد کے حصول کے لئے اصل محرک بنتے ہیں۔ ان کیمیکلز میں اوکسیٹوسین (Oxytocin) ، اینڈورفنز (Endorphins) ، کورٹیسول (Cortisol) ، ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone) ، ایسٹروجن (Estrogen) ، ڈوپامائن (Dopamine) ، سیروٹونین (Serotonin) ، ایڈرینالین (Adrenaline) ، ویسوپریسن (Vasopressin) اور نیوروٹرانسمیٹرز (Neurotransmitters) سمیت دیگر شامل ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے ان کیمیکلز یا ہارمونز کے رلیز کے لئے اور بھی بہت سارے آسان کام ہیں جن کے کرنے سے نہ صرف آپ کو ذہنی اور جسمانی فائدہ پہنچے گا بلکہ آپ سماج کے لئے بھی ایک کارآمد انسان بن سکیں گے، مجموعی طور پر فائدہ آپ کے سماج اور معاشرے کو بھی پہنچے گا جبکہ سیکس سے صرف چند لمحوں کی لذت حاصل ہوگی اور فوائد صرف آپ کی ذات تک محدود رہ جائیں گے۔

اب آپ بھی کنفیوژ ہو رہے ہوں گے کہ بات کیا تھی اور میں لے کر کہا جا رہا ہوں۔
تو جناب بات وہی ہے کہ کیا واقعی سیکس اتنا مقدس یا اہم ہے جتنا کہ ہم نے اسے بنا دیا ہے؟

خود ہی دیکھ لیں، سیکس نہ بھی کریں لیکن جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے دل کو لبھانے والی کسی پیاری چیز کو چھو لیں، سماجی وابستگی (سوشل بانڈنگ) پیدا کر لیں، اپنے پیاروں کو گلے لگائیں اور انہیں چومیں تو بھی آپ اوکسیٹوسین حاصل کر سکتے ہیں۔ اینڈورفنز کے حصول کے لئے آپ کو تھوڑی ورزش، تھوڑی جسمانی سرگرمی، تھوڑی دوڑ لگانی پڑے گی، تیر کر بھی اسے حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے آس پاس قہقہے بانٹ کر بھی آپ اینڈورفنز حاصل کر سکتے ہیں۔

کورٹیسول کی سطح کم کرنی ہے تو خود کو وقت دیں، میڈیٹیشن کریں، یوگا کریں، لمبی سانسیں لیں، موسیقی سنیں تو مقصد حاصل ہو جائے گا۔

آپ کے جسم کو ٹیسٹیوسٹیرون چاہیے تو کامیپیٹیشن کا حصہ بن جائیں، وزن اٹھائیں، نیند پوری کریں، اپنی سماجی حیثیت منوانے کی کوشش کریں تو یہ بھی حاصل ہو جائے گا۔

ایسٹروجن چاہیے تو اپنے بچے کو دودھ پلائیں، سماجی تعلق کو مضبوط بنائیں۔

آپ کو ڈوپا مائن چاہیے تو ایسا کچھ کریں جس سے آپ خود کو لائق انعام سمجھیں، نئی چیزیں سیکھیں، خود کو اپنے ارد گرد کے لوگوں سے جوڑیں، اپنے گول بنائیں اور انہیں حاصل کرنے کی کوشش کریں، خود کو تخلیقی کاموں میں مصروف کر دیں اور اس دنیا کو آرٹ، ڈانس، موسیقی ادب اور سائنس کے نئے نئے شاہکاروں اور انسان دوست تخلیقات و ایجادات سے بھر دیں۔

آپ کو سیروٹونین چاہیے تو باہر نکلیں فطرت کے پاس جائیں سورج کی شعاعوں کو اپنے جسم میں اترنے دیں، ہوا کے لمس کو محسوس کریں اور اگر آپ کے جسم کو ایڈرنالین چاہیے تو ایڈوینچر کریں، دیکھیں دنیا میں کتنا کچھ پڑا ہے آپ کے کرنے کے لئے۔ اپنے تجسس کو اپنی بچپنے کی ایکسائمنٹ کو اپنے اندر کے تہ خانوں نکال کر باہر لائیں۔ خود کو زندہ انسانوں کی طرح جی کر دکھائیں خود کو بتائیں کہ ”ادئے، ابھی ہم زندہ ہیں“ ۔

اور اگر ویسپریسنن کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تو اپنی لگی بندھی روٹین کو تبدیل کریں، محدود حلقوں کو وسیع کریں، باہر نکل کر سماجی تعلقات کا دائرہ بڑھائیں۔ اعتماد سازی کی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ اعتماد کی حرمت بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنے آس پاس لوگوں کے ساتھ، فطرت اور ماحول کے ساتھ جذباتی وابستگی پیدا کریں تو یہ بھی آپ ہی کا جسم آپ کو مہیا کر دے گا۔

مجھے لگتا ہے کہ اب بھی اگر کسی کے لئے سیکس کوئی بہت ہی اہم چیز ہے کیونکہ اس سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت بہتر ہوتی یا پھر سمجھتے ہیں کہ سیکس مقدس ہے کیونکہ اس سے ان کی نسل آگے بڑھتی ہے تو پھر یقین کیجیے وہ کتنے لبرل، کتنے ہی پارسا اور مذہبی کیوں نہ ہوں لیکن عورت ان کے لیے بس جنسی تسکین کا ایک سامان رہے گی۔

مجھے بھی یہ بات تب سمجھ آئی جب تیس کا ہندسہ عبور کرنے کے باوجود سیکس سے محروم رہنے پر دوستوں کے طعنوں سے تنگ آ کر اپنے لیے جنسی تسکین کا سامان خرید کر لایا تھا۔ تب احساس ہوا تھا کہ میرے سامنے جنسی تسکین کا کوئی سامان نہیں بلکہ ایک حسین لڑکی بیٹھی ہوئی ہے، وہ جتنی خوبصورت ہے اس کہیں زیادہ بہترین ماں ہے کیونکہ وہ بیٹھی ہوئی تو میرے سامنے ہے لیکن اس کی روح اپنی 8 سالہ بیٹی کے بستر پر نظریں جمائے کھڑی ہے۔ جسے اپنے بابا کی دواؤں کی فکر ستا رہی تھی کہ جلدی گھر پہنچنا ہے پتا نہیں بابا نے دوائیں لی ہیں کہ نہیں۔ اس خوبصورت لڑکی کو یہ ڈر بھی تو تھا کہ اگر بابا کو یہ سب معلوم ہوا تو وہ نہ جانے کیا کر گزریں گے۔

یہ ہمارے تقدس اور سیکس کو بہت ہی اہم چیز بنانے کے چکر نے اس خاتون اور اس جیسی نہ جانے کتنی معصوم عورتوں کو ایک ایسے احساس جرم میں مبتلا کر دیا ہے جو دراصل ان کا جرم ہی نہیں ہے۔ دراصل ہم نے انہیں جنسی لذت کے سامان کے سوا کچھ سمجھا ہی نہیں اس لیے انہیں یہ احساس جرم رہتا ہے کہ انہوں کچھ قیمتی چیز گنوا دی ہے اور اسی چکر نے ہمیں عورتوں کا خریدار بنا رکھا ہے۔ یہ تو خرید و فروخت کا معاملہ ہی نہیں یہ تو دل سے دل تک کا راستہ ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ عورت تسکین کا سامان نہیں ہے بلکہ وہ تمام کام آپ کو روحانی، جسمانی اور ذہنی آسودگی بخشیں گے جن سے نہ صرف آپ کی ذات بلکہ آپ کے آس پاس موجود لوگوں، حیاتیات اور ماحول کو فائدہ پہنچتا ہے۔

ہمیں اوائلی انسانی معاشروں کے خاندان اور ذاتی ملکیت کے تصورات سے نکل کر جدید خطوط پر نئے سماج کی تخلیق کرنا ہوگی ورنہ یاد رکھیں کہ ارتقا کے اصولوں کے تحت جدید معاشرہ اور نیا سماج تو ایک نہ ایک دن ضرور بن جائے گا لیکن ہم نیندرتھال سے کمزور جسامت والے لوگ اپنی صحت بنانے اور اپنی نسلوں کو بڑھانے کی ہزار کوششوں کے باوجود فنا ہو چکے ہوں گے۔

Facebook Comments HS

3 thoughts on “آخر سیکس اتنا مقدس اور اہم کیوں ہے؟

  • 13/05/2024 at 3:17 صبح
    Permalink

    Completely different perspective and feels like it is written by a healthcare expert . A great depth. Salute Mureed Sahab.

  • 13/05/2024 at 9:14 صبح
    Permalink

    Amazing 👏 thankyou for choosing this topic which is considered a taboo and is most important for this generation tbh🙏👏🙌

  • 21/05/2024 at 4:11 شام
    Permalink

    good

Comments are closed.