ماں بننے کے خواب اور عذاب


ڈاکٹر سارہ علی
ڈاکٹر خالد سہیل
۔ ۔
ڈاکٹر سارہ علی کا خط
۔ ۔
میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل،

کچھ دن پہلے ایکس (ٹویٹر ) پر میں ایک ایسے باپ کے متعلق خبر پڑھی جو امریکہ میں ایک میراتھون ریس میں حصہ لے رہے تھے اس ریس کا مقصد بوسٹن کے بچوں کے ہسپتال کے لیے فنڈ اکٹھے کرنا تھا کیونکہ یہ وہ ہسپتال تھا جہاں پیڑرک کلینسی کے بچوں کو ان کے آخری لمحات میں ’جب ان کی اپنی والدہ نے ان کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، آخری طبی امداد دی گئی تھی۔ ان کی والدہ لنڈزی کلینسی نے اپنے تینوں بچوں جو پانچ سال‘ تین سال اور چند ماہ کے تھے جان سے مارنے کا اقدام کرنے کے بعد اپنی نس کاٹ لی اور بیڈ روم سے نیچے چھلانگ لگا دی۔

ان کو بچا تو لیا گیا لیکن وہ گردن سے نیچے تک معذور ہیں۔ یہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق پوسٹ پارٹم سائیکوس کا کیس ہے اور اس میں سب سے دکھ کی بات یہ ہے کہ لنڈزی کلینسی خود ایک نرس ہیں اور گائنی وارڈ میں کام کرتی ہیں اس واقعہ سے ایک ہفتہ قبل بھی وہ مدد لینے کے لیے کرائسس سنٹر گئیں لیکن ان کو انگزائٹی کی دوائیاں دے کر گھر بھیج دیا گیا جس کے بارے میں ان کا اور ان کے خاوند کی رائے تھی کہ ان کے سائیڈ افیکٹ ان پر فوائد کی نسبت زیادہ تھے لیکن ان کو بغیر کسی تھیراپی کے گھر بھیج دیا گیا جس کے ایک ہفتے بعد یہ واقعہ رونما ہوا۔

اس واقعہ کے بعد بہت ساری مغربی ماؤں نے اپنی پوسٹ پارٹم سٹرگل شیئر کی۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر ماؤں نے اپنی اپنی کہانیاں بتاتے ہوئے لکھا کہ ان سب دوائیوں کے ساتھ جو ان کو پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے لیے دی جاتی تھیں ان کے لیے اپنے اور اپنے بچے کے کاموں کو سرانجام دینا کتنی بڑی جدوجہد بن جاتی تھی۔ اس میں سب سے زیادہ دکھی کر دینے والے ان ماؤں کے خطوط تھے جنہوں نے اپنے بچے پیدائش کے دوران یا فوراً بعد کھو دیے تھے اور ان کے لیے بچے کی پیدائش کے بعد کے یہ دن دو طرح سے مشکل تھے ایک تو انہوں نے اپنا بچہ کھو دیا دوسرا ان کے جسم میں پیدائش کے بعد ہونے والی ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے ان کو جس قسم کے ذہنی دباؤ کا سامنا تھا وہ اس سے الگ تھا اور اردگرد کے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ کیونکہ وہ اپنا بچہ کھو چکی ہیں اس لیے وہ پوسٹ پارٹم فیز میں نہیں ہیں۔

میرے لیے ان سب خطوط اور حقیقی کہانیوں کو پڑھنا بہت تکلیف دہ بھی تھا اور حیران کن بھی کہ یہ 2024 میں ہم ایک فرسٹ ورلڈ کے ملک میں ماؤں کی ذہنی حالت کے بارے میں پڑھ رہے ہیں کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک میں ماؤں کو زچگی کے بعد جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے میں بخوبی واقف ہوں لیکن فرسٹ ورلڈ کے ممالک کی ماؤں کے ان تجربات کو پڑھنا اور جاننا میرے لیے نیا تھا۔

جب میں نے اس موضوع پر کچھ تحقیق کی تو مجھے پتہ چلا کہ کینیڈا میں 7.5 فیصد مائیں اس کا شکار ہوتی ہیں جب کہ امریکہ میں ہر سات میں سے ایک ماں پہلے سال میں اس کا شکار ہوتی ہے۔ جب کہ اس کا علاج اس کی شدت کے اعتبار سے کیا جاتا ہے اور اس میں استعمال ہونے والی ادویات کا استعمال بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ آسان کام نہیں۔ اس سب کو پڑھتے ہوئے اور اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ مغربی ماؤں کو اس بات کا اظہار کرنے میں کہ ماں بننے کے عمل کے بعد انہیں ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑا کے اظہار میں 2024 میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے کیونکہ ماں بننے کے عمل کو اتنا گلوریفائی کر دیا گیا ہے کہ کسی بھی عورت کو جب یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ماں بن کر انگزائٹی کا شکار ہو رہی ہے یا اس کو اس کے بعد ڈپریشن کا سامنا ہے اور وہ بچے سے وہ تعلق محسوس نہیں کر پا رہی جس کی توقع رکھی جاتی ہے یا وہ بچوں کے کام کر کے اتنی تھک جاتی ہے کہ اس کے اندر کا انسان جینے کی حس کھو دیتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ وہ ایک بہت بڑا فیلیئر ہے ہر طرح سے۔

اس لیے کہ ماں بننے کے عمل کو اور ماں کو اتنا مقدس کر دیا گیا ہے کہ یہ انسانی نہیں آفاقی عمل بن گیا ہے اور عورتوں کے لیے اس کو لازم و ملزوم بنا دیا گیا ہے۔ اس میں عورت کی اتنی کم say ہے کہ چاہے عورت چاہے نہ چاہے سوشل پریشر اس کو ماں بننے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ عورت کی ذات کی تکمیل ہی ماں بننے سے ہوتی ہے۔ اس لیے وہ خواتین جو ماں بننے سے انکار کر دیتی ہیں ان کو اپنے رشتوں میں بہت تکالیف اور سوشل آئسولیشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی طرح سے وہ خواتین جو پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی وجہ سے اپنے بچوں کا خیال نہیں رکھ پاتیں ان کو ناشکری سست اور بد دماغ کا خطاب ملتا ہے۔

اگر ہم تیسری دنیا کے ممالک پر نظر ڈالیں تو صورتحال اس سے بھی گمبھیر ہے اور میرے لیے دکھ کا امر تھا جب میں نے ایشیائی ممالک میں پاکستان میں سب سے زیادہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی شرح دیکھی گئی جو کہ مغربی دنیا سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کی وجوہات بے شمار ہیں لیکن پاکستان میں اس کی وجوہات میں بہت بڑی وجہ اس کی دیہی آبادی میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے جس کی وجہ سے خواتین دوران حمل اور زچگی بے شمار صحت کے مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ

کم عمری میں شادی
اور بچوں کی پیدائش میں وقفے کا فقدان
اور بے شمار بچوں کی پیدائش،
بے تحاشا غربت کی وجہ سے کھانے کی اشیا ء کا فقدان

نئی ماؤں کو اس ذہنی جہنم میں دھکیل دیتا ہے اور سونے پہ سہاگہ ان کے اردگرد کوئی اسپورٹ سسٹم نہیں ہوتا جس میں وہ کسی سے بات کر کے اس سے اپنے دل کا حال بیان کر سکیں اس لیے اس صورتحال میں چاہے انگزائٹی ہو یا ڈپریشن وہ اکیلی اس صورتحال سے نبردآزما ہوتی ہیں کیونکہ جسم ان کا ہوتا ہے اور مرضی خاوند کی ہوتی ہے۔ شہری خواتین میں اگرچہ صحت کی سہولیات بہتر اور وقفہ اور کم بچوں کی پیدائش صورتحال کو کچھ بہتر کرتی ہے لیکن یہاں بھی معاشرتی پریشر اور معاشی مسائل خواتین کو پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں سے اکیلے گزرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ سائیکو تھراپی یا سائیکارٹسٹ کی سہولیات پرائیویٹ سیکٹر میں ہیں جو کہ عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں اور اس کے ساتھ جو خواتین نوکری کرتی ہیں ان کو اپنے آپ کو معاشرے کے سامنے اچھی ماں ثابت کرنے کا پریشر ہوتا ہے اور جو خواتین گھر میں ہیں ان کو ملازمہ سمجھ کر سارے گھر کا بوجھ ان پر ڈال دیا جاتا ہے اس کے ساتھ یہ پریشر کہ بیٹا ہو۔

بیٹی کی پیدائش پر زیادہ ڈپریشن کا باعث بنتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب مجھے لگتا ہے کہ اس میں سب سے زیادہ ضرورت ایک ہمدرد ڈاکٹر کی ہے جو خواتین کو اس مسئلے کے حل سے آگاہ کر سکے مجھے یاد ہے کہ اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے بعد مجھے انگزائٹی کی تکلیف شروع ہوئی اور جب میں نے اپنے گائناکالوجسٹ کو اس سے آگاہ کیا تو انہوں نے مجھے بالکل سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ بہت ہی مذاق اڑانے والے انداز میں میری باتوں کو رد کر دیا۔ جب میری امی نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو انہوں نے میرے ابو کے ساتھ مل کر میری مدد کی اور جہاں تک ممکن ہو سکتا تھا میرے ساتھ کام کو بانٹا اور میرے خاوند نے مجھے گھر سے باہر جانے اور کام کرنے کا مشورہ دیا جس سے میری ذہنی حالت بہتر ہوئی۔

لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ اتنے خوش قسمت ہوتے ہیں جن کے پاس ایسا اسپورٹ سسٹم موجود ہو بیشتر خواتین اکیلے اس تکلیف سے گزرتی ہیں اس لیے میں چاہتی ہوں کہ آپ اس موضوع پر قلم اٹھائیں اور لوگوں کو آگاہی دیں کہ آپ نہ صرف ایک انسان دوست سائیکارٹسٹ ہیں اور سیلف ہیلپ سکھانے کے ماہر ہیں بلکہ آپ نے خود گائنی وارڈ میں کام کیا ہوا ہے۔ آپ حمل اور زچگی کی جسمانی پیچیدگیوں سے بھی آگاہ ہیں اور ذہنی اثرات سے بھی۔ اس لیے آپ کا لکھا ہوا بہت سی مایوس زندگیوں کو نئی روشنی بخش سکتا ہے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اس حالت میں دوستوں کے چند الفاظ بھی نعمت ہیں۔

آپ کے جواب کی منتظر
ڈاکٹر سارہ علی
ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب
۔ ۔
محترمہ و معظمہ ڈاکٹر سارہ علی صاحبہ!

آپ کا خط ایک مکمل کالم ہے۔ اسے میرے جواب کی چنداں ضرورت نہیں لیکن چونکہ آپ کا دوستانہ اصرار ہے کہ میں اس کا جواب لکھوں تو میں فی البدیہہ اس موضوع پر اپنے خیالات کے اظہار کی جسارت کرتا ہوں۔

جب میں پش اور کے زنانہ ہسپتال میں کام کرتا تھا ان دنوں میری دو طرح کی مریضاؤں سے ملاقات ہوئی
پہلا گروہ ان عورتوں کا تھا جو
BABY BLUES

کا شکار تھیں۔ وہ زچگی کے بعد چند دنوں تک اداس و غمگین رہتی تھیں۔ ان کا نہ کھانے کو جی چاہتا تھا نہ سونے کو ۔ ان میں سے بعض بغیر کسی ظاہری وجہ کے رونے بھی لگتی تھیں۔ لیکن یہ ذہنی کیفیت یہ پریشانی یہ اداسی عارضی تھی اور وہ ایک یا دو ہفتوں کے بعد نارمل ہو جاتی تھیں۔ مسکرانے لگتی تھیں اور زندگی کی گہما گہمی میں مصروف ہو جاتی تھیں اور ماں بننے کے تجربے سے محظوظ و مسحور ہونے لگتی تھیں۔

دوسرا گروہ ان عورتوں کا تھا جو
CLINICAL DEPRESSION

کا شکار ہو گئی تھیں۔ یہ ڈپریشن بے بی بلوز سے زیادہ سنجیدہ بھی تھی اور دیرپا بھی۔ اس ڈپریشن میں عورتیں

۔ نہ سو سکتی تھیں
۔ نہ کچھ کھا پی سکتی تھیں
۔ ان کا وزن کم ہو جاتا تھا
۔ خود کشی اور بچوں کو بھی نقصان پہنچانے کا بھی سوچنے لگتی تھیں۔
بعض دفعہ ایسی ڈپریشن کئی مہینوں تک جاری رہتی۔
ڈاکٹر سارہ علی صاحبہ!
میں یہ سمجھتا ہوں کہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی تفہیم اور علاج کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ

کسی عورت کا اپنی نسوانیت سے کیا تعلق ہے۔ بعض خواتین نوجوانی سے حیض کے دوران پریشان رہتی ہیں اور بعض پی ایم ایس یعنی پری مینسٹرول سنڈروم کا شکار ہوتی ہیں۔

بعض عورتیں ماں نہیں بننا چاہتیں۔
بعض ایک یا دو سے زیادہ بچے نہیں پیدا کرنا چاہتیں۔
بعض کو اپنے شوہروں یا خاندانوں سے مانع حمل ادویہ کے استعمال کی اجازت نہیں ملتی۔
ڈاکٹر سارہ علی
جب میں خیبر میڈیکل کالج کا طالبعلم تھا تو ہماری پروفیسر ڈاکٹر ذکیہ منہاس نے
اسلام اور ضبط ولادت پر ایک سیمینار کیا

ہماری کلاس میں ایک سو چھ طلبا و طالبات تھے۔ دلچسپی کی بات یہ کہ ان میں سے ایک سو دو طلبہ و طالبات ضبط ولادت کے خلاف تھے اور ہم صرف چار طلبا و طالبات اس کے حق میں تھے۔

میں سوچا کرتا تھا کہ اگر ڈاکٹر ہی ضبط ولادت کے خلاف ہیں تو عوام کا کیا حال ہو گا۔

میری نگاہ میں جہاں عورتوں کو اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھنا سیکھنا ہو گا اور یہ جاننا ہو گا کہ خود خیالی خود غرضی نہیں ہے وہیں ان کے شوہروں ’دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی ماؤں کے جذبات کا احترام کرنا اور ان کی صحت کو برقرار رکھنے میں ان کی مدد کرنا سیکھنا ہو گا۔

ڈپریشن کے علاج میں
ادویہ بھی
سائیکوتھراپی بھی
سوشل سپورٹ بھی
اور ڈپریشن کے بارے میں جانکاری بھی اہم ہیں۔

پاکستان میں اس سلسلے میں پبلک ہیلتھ نرسز اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور زچہ و بچہ کی جسمانی اور ذہنی صحت بہتر کرنے میں عورتوں کی مدد کر سکتی ہیں۔

میری نگاہ میں ہمیں سکولوں اور کالجوں میں ایسے کورسز پڑھانے چاہئییں جس سے لڑکیوں اور لڑکوں کو اپنے جسموں سے تعارف کروایا جائے اور جسم اور ذہن میں نوجوانی سے بڑھاپے تک کی تبدیلیوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں تا کہ وہ اپنا خیال خود رکھ سکیں اور یہ جان سکیں کہ انہیں کس موقع پر کس سے دوستانہ اور پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر سارہ علی صاحبہ!

آپ نے تو اپنا خط لکھنے سے پہلے بہت تحقیق کی لیکن میں نے آپ کا خط پڑھ کر جو ذہن میں آیا لکھ دیا۔ امید ہے آپ کو مایوسی نہیں ہوئی ہوگی۔

یہ ایک اہم موضوع ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ آپ کے خط سے بہت سی خواتین کو بہت سا فائدہ ہو گا۔
آپ کا دوست
خالد سہیل

Facebook Comments HS