امی جان

بازو دھوتے ہوئے ہائی نیک کی آستینیں اوپر چڑھ جاتی ہیں اور انھیں نیچے لانا خاصا مشکل امر ہوتا ہے۔ بچپن میں مجھے ہائی نیک پہننے سے سخت کوفت ہوتی تھی مگر بچوں کے لیے یہ سردی کا خاص تحفہ تھا۔ سردیوں میں کم از کم چار چیزوں ایک وقت میں ضرور پہنی جاتی تھیں۔ بنیان، ہائی نیک، شرٹ اور جرسی یا جیکٹ، شدید سردی میں جرسی اور جیکٹ دونوں کا اہتمام کرنا پڑتا تھا۔ میں امی جان سے ہائی نیک پہنتے ہوئے آستینوں کی وجہ سے شکایت کرتا تھا مگر اس کے باوجود اسے پہننا پڑتا تھا۔
امی جان بتاتی تھیں ”اسے نہ پہننے کی صورت میں سردی لگ جاتی ہے اور زیادہ سردی لگ جانے کی وجہ سے نمونیا ہو سکتا ہے“ ہمیں نمونیا کا بالکل نہیں پتا تھا البتہ یہ ضرور علم تھا کہ یہ کوئی خطرناک بیماری ہے۔ ہمارے بچپن میں سردی سے بچاؤ کا خاص اہتمام ہوتا تھا۔ ان دنوں شاید سردی زیادہ پڑتی تھی۔ سردی کے پکوان بھی بنائے جاتے تھے۔ پنجیری ہر گھر میں بنتی تھی اور ہم پنجیری کی وجہ سے سردیوں کا انتظار کرتے تھے۔ اب میں کئی دہائیوں سے پنجیری کے ذائقے سے محروم ہوں۔
رات دن انگیٹھی میں کوئلے دہکتے رہتے تھے۔ سونے سے پہلے انگیٹھی کسی پلنگ کے نیچے رکھ دی جاتی تھی اور اس کی تپش سے نیند کا مزا دوبالا ہو جاتا تھا۔ گھر کے درجن بھر افراد کے لیے چولہے پر روٹیاں پکانے میں زیادہ وقت لگتا تھا۔ چھت پر توی بنائی گئی تھی اور اس پر روٹیاں پکانے کا اہتمام ہوتا تھا۔ ایندھن کے لیے لکڑیاں، پتے اور کیاریوں کی شاخیں کام اتی تھیں۔ ہمارا سکول گھر کے قریب ہی واقع تھا اور والد صاحب وہاں پڑھاتے تھے سو توی کے لیے ایندھن کا اہتمام سکول میں درختوں، کیاریوں اور پودوں کی کٹائی سے بخوبی ہو جاتا تھا۔
سکول کا مالی یا سٹوڈنٹس یہ ایندھن گھر پہنچا دیتے تھے۔ اس ایندھن میں ایک قباحت یہ تھی کہ اس کا دھواں سخت ناگوار محسوس ہوتا تھا اور سانس کو متاثر کرتا تھا۔ میں نے اکثر اس دھوئیں کی وجہ سے والدہ صاحبہ کو کھانستے ہوئے دیکھا تھا۔ والد صاحب روٹیاں سینکتے تھے اور دھویں سے متاثر بھی ہوتے تھے۔ والدہ صاحبہ تمام دن گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی تھیں۔ میں نے بچپن میں کبھی انھیں دن کے اوقات میں آرام کرتے نہیں دیکھا تھا۔
سپیدہ سحر سے پہلے بیدار ہو جاتی تھیں اور رات کو سب سے آخر میں سونے کے لیے جاتی تھیں۔ ہمیں ہر چیز وقت پر مہیا ہوتی تھی۔ ان دنوں وسائل کم تھے اور ہمیں زیادہ کی بالکل طمع نہیں تھی۔ چھوٹے سے گھر میں زندگی مطمئن تھی اور وقت دھیرے دھیرے گزر رہا تھا۔ سب بہن بھائی زیر تعلیم تھے۔ جب سکول سے کالج میں پہنچے تو وقت کو پر لگ گئے۔ والدہ صاحبہ کی مصروفیت برقرار رہی مگر اب کام میں ہاتھ بٹانے کے لیے سب موجود تھے۔ اس کے باوجود وہ کام میں مصروف رہتی تھیں۔
وہ گزشتہ دو دہائیوں سے شوگر اور بلڈ پریشر کے عارضے میں مبتلا تھیں۔ سردیوں میں سانس کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا تھا مگر ادویات کھانے اور نیبولائز کرنے کے نتیجے میں شفا یاب ہو جاتی تھیں۔ باقی ادویات سارا سال کھائی جاتی تھیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی تو ادویات میں مزید اضافہ ہو گیا۔ کئی برسوں سے ہر مہینے ایک دو بار ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑتا تھا۔
میں اکثر ادبی تقریبات کی وجہ سے رائے گئے گھر آتا تھا۔ وہ اس بات پر سخت نالاں ہوتی تھیں۔ آہستہ آہستہ انھوں نے میرا تاخیر سے گھر آنا معمول میں شمار کر لیا۔ میں نے ماں کے حوالے سے منعقدہ مشاعرے میں ایک نظم پڑھی جس کی ریکارڈنگ ایک مقامی چینل سے ٹیلی کاسٹ ہوئی۔ انھوں نے نظم سنی تو کہنے لگی۔ ”وہ زمانہ ایسا ہی تھا، تم نے اچھی نظم لکھی ہے“ نظم دیکھیے
ماں مجھے بتاتی ہے
۔
تم بہت ہی چھوٹے تھے جب سکول جاتے تھے
واپسی پہ بستے میں پھول رکھ کے لاتے تھے
۔
بارشوں کے موسم میں تم بہت ستاتے تھے
کچّے گھر کے آنگن میں دیر تک نہاتے تھے
۔
جن نے شاہزادی کو قید کر کے رکھا تھا
تم اسی کہانی میں راجہ بن کے آتے تھے
۔
چاؤ جب نہ ہوتے تھے بے بسی کے لمحوں میں
رت جگے کے تکیے پر نین بھیگ جاتے تھے
۔
سارا دن تھکاوٹ کا ایک پل محبت کا
اور اسی محبت میں دن گزرتے جاتے تھے
اس دسمبر میں انھیں نمونیا ہو گیا۔ وہ ہمارے بارے میں سردی سے بچاؤ کے لیے متفکر رہتی تھیں مگر خود انھوں نے سردی کی بالکل پروا نہیں کی۔ ہفتہ بھر ادویات کے استعمال کے باوجود افاقہ نہ ہوا تو انھیں ہوسپٹل لایا گیا۔ ڈاکٹر نے کرونا کا خدشہ ظاہر کیا جو بعد میں ٹیسٹ کے ذریعے معلوم ہو گیا۔ آکسیجن کے مسلسل استعمال سے ان پر غنودگی طاری ہو گئی۔ ٹیسٹ کے ذریعے معلوم ہوا کہ آکسیجن تو پوری ہے مگر کاربن ڈائی آکسائڈ پوری طرح خارج نہیں ہو رہی ہے۔
پتا چلا کہ ایسا ان مریضوں میں ہوتا ہے جو دھویں سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ جیسے موجود آکسیجن کا زیادہ حصہ ہیٹر استعمال کرتا ہے اور قریب بیٹھنے والے پر کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار بڑھ جانے سے غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ سانس کی بحالی کے لیے بی پیپ مشین کا استعمال کیا گیا۔ وہ دس دن تک مسلسل موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہیں اور اکتیس دسمبر 2021 کو انتقال کر گئیں۔ میں دسمبر سے ہمیشہ خائف رہتا ہوں، دعائیں مانگتا رہا کہ یہ مہینہ خیریت سے گزر جائے۔ دسمبر کا آخری دن میری زندگی کا سب سے تاریک دن تھا۔
آج میرا چھوٹا بیٹا کہ رہا تھا ”مجھے ہائی نیک سے سخت الجھن ہوتی ہے، اس کی آستینیں اوپر چڑھ جاتی ہیں“ میں اسے حیرت سے دیکھتا ہوں اور میری آنکھوں میں نمی سی ابھرنے لگتی ہے۔

