خود نوشت، ”ریاض نامہ“ پر ایک نظر
آپ ملک کے اندر ہوں یا باہر، یادوں سے چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب گزرے شب و روز ”یادیں“ بن جاتی ہیں۔ ان یادوں کے بہت سے کردار بھی ہوتے ہیں کچھ زندہ ہوتے ہیں اور کچھ گزر گئے ہوتے ہیں۔ کچھ قریب ہوتے ہیں، کچھ ہزاروں میل دور ہوتے ہیں۔ بقول شاعر،
ہر طرف یوں تیری یادوں کا دھواں ہوتا ہے
تیری دوری میں بھی قربت کا گماں ہوتا ہے
ترک وطن کی زنجیروں میں جکڑے پردیسی کی یادوں کے دکھ و الم کو کوئی نہیں جان سکتا۔ یہ یادیں رنج و الم کے ساتھ دیار غیر میں کٹھن جدوجہد سے عبارت ہوتی ہیں۔ ”ریاض نامہ“ بھی ایک ایسی ہی خود نوشت ہے جو یادوں کے علاوہ متعدد کالموں، افسانوں اور تصاویر پر مشتمل ہے۔ مصنف نے بہت محنت کے ساتھ اپنی بکھری ٰ یادوں کو لفظوں کا روپ دے کر باتصویر کتابی شکل میں یکجا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ ہجرت کے سفر کی نصف صدی طویل کہانی ہے جو آزمائشوں، کڑے امتحانوں، مصائب کی یادوں پر مشتمل ہے کتاب کے ہر صفحہ پر روشن مستقبل کے لئے کی گئی ایک انتھک جدوجہد کی ایسی روئیداد لکھی موجود ہے جس میں آج کے نوجوان کے لئے سیکھنے اور سمجھنے کے لئے بہت کچھ موجود ہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ریاض نامہ کے اندر شیخ ریاض صاحب کی پاکستان سے باہر گزری 56 سالہ بھرپور اور فعال زندگی کی عکاسی ہوتی ہے اور ”ریاض نامہ“ یادوں کا ایک ایسا چراغ ہے جسے مصنف نے خود روشن کیا ہے۔ ترک وطن کے دوران زندگی کے نشیب و فراز، رنج و الم، جدائی اور عملی زندگی کے تجربات ہیں جن کا تذکرہ اس خود نوشت میں کیا گیا ہے۔ آج کل محترم شیخ ریاض جرمنی میں بطور انجینئر لمبا عرصہ کام کرنے کے بعد اب برلن میں ریٹائرڈ زندگی بسر کر رہے ہیں۔
انہوں نے لاہور سے ایف اے کرنے اور 1966 میں ملک کو خیر باد کہنے کے بعد ملکوں ملکوں، شہر شہر خاک چھاننے کے بعد جرمنی پہنچ کر بی ایس سی، ایم ایس سی انجینئرنگ تعلیم حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ”ریاض نامہ“ کا سرورق رنگین، دلکش اور دیدہ ذیب ہے اور اعلیٰ کوالٹی کے پیپر سے تیار شدہ ہے۔ انتساب میں کتاب کو ”انسانیت سے محبت کرنے والے ہر انسان کے نام“ منسوب کیا گیا ہے۔ میری رائے میں اس کی ابتداء شیخ ریاض کی اپنی ذات سے ہوتی ہے جو بذات خود ایک انسان دوست شخصیت ہیں۔
دیار غیر میں میرا ان سے تعلق ایک ہم وطن پاکستانی کا ہے لیکن ریاض صاحب نے اس کو بہت ہی عزت و احترام کے ساتھ سنبھال رکھا ہے۔ کتاب کی اشاعت سے قبل مسودہ عاجز کو پڑھنے کے لئے بھیجا تھا، یہ ان کا بڑا پن تھا کہ مجھے اس قابل سمجھا ورنہ حقیقت میں شیخ صاحب عمر، تعلیم اور زندگی کے تجربات میں مجھ سے کہیں آگے ہیں۔ کیونکہ جب وہ پرائمری سکول میں پڑھتے تھے اس وقت میری ابھی پیدائش بھی نہیں ہوئی تھی۔ شیخ صاحب نے زندگی کے ابتدائی اکیس سال باغبانپورہ لاہور کے نواحی محلہ چاہ میراں خورد اور گرد و نواح میں گزارے۔
چاہ میراں کے ایم سی ( میونسپلٹی کارپوریشن) کے سکول سے پرائمری تعلیم کا سفر جو شروع ہوا تو اس کا اختتام جرمنی میں ایم ایس سی انجینئرنگ ڈگری کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ مولف ہذا کتاب کو یہ اعتراف ہے کہ وہ خود کوئی معروف بڑی شخصیت نہیں ہے، جس کا اظہار انہوں نے ”عرض مصنف“ کے عنوان سے لکھی گئی سطور میں بھی کیا ہے کہ ”میں کوئی سیاست دان، کوئی عالم اور نہ ہی کوئی مشہور شخصیت ہوں“ ( صفحہ 13 ) ۔ لیکن اس کے باوجود مصنف نے اپنی خود نوشت میں اپنی جوانی کی جدوجہد کے تجربات کو معلومات کی شکل میں بیان کر کے ایک بڑا قلمی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
”ریاض نامہ“ جو 244 صفحات اور 23 ابواب کے علاوہ نو کالمز اور دو افسانوں پر مشتمل ہے جس کو پریس فار پیس فاؤنڈیشن برطانیہ نے گزشتہ سال شائع کیا ہے۔ پہلے باب ”پرائمری اسکول تک“ میں لاہور کی گمشدہ یادوں اور باتوں کا ذکر ملتا ہے جو اب تاریخ کا حصہ ہیں جیسے کہ نوری ڈاکو نامی کی دہشت کا ذکر، ماضی میں بہتے بڈھے دریا، مزار مادھو لال حسین کے میلہ چراغاں پر بچپن کے ساتھیوں کے ساتھ گزری یادیں۔ اسی طرح پاکستان منٹ کا تذکرہ بھی ہے جہاں مصنف کے والد سرکاری ملازمت کرتے تھے۔
والدین سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو دیار غیر میں جا بسنے کے نتیجہ میں عروج پر پہنچ جاتا ہے کچھ ایسا ہی مصنف کتاب کے ساتھ ہوا۔ لکھتے ہیں کہ میرے والد بہت سخت طبیعت کے تھے اور مجھے بہت ڈانٹتے تھے۔ میں آج سوچتا ہوں کہ شاید ان کی سختی سے ہی مجھے صحیح انسان بننے کی مدد ملی ہے۔ میرے والد مجھے پیار بھی بہت کرتے تھے۔ اس کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب میرے چھوٹے بھائی نے بتایا کہ ان کی وفات کے وقت ان کی جیب سے میری تصویر برآمد ہوئی تھی (صفحہ 18 ) ۔
اسی باب کا ایک غم ناک پہلو مصنف کی والدہ کی وفات کا ذکر ہے۔ صفحہ 21 کے مطابق ”میری والدہ 1953 میں ننھیال میں شدید بیمار ہو گئیں ان کو گنگا رام ہسپتال لاہور لے جایا گیا تھا، بعد ازاں میری نانی تانگے پر میری والدہ کو باغبانپورہ لے آئیں جہاں دو روز بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ مجھے اسکول میں محلے کے بچوں نے آ کر اطلاع دی تھی اور میں اس لئے خوش تھا کہ اسکول کی بجائے باغبانپورہ جا رہا ہوں۔ والدہ کی میت ایک چارپائی پر پڑی تھی اور ارد گرد کچھ عورتیں اور میری نانی بیٹھی رو رہی تھیں۔
ریاض نامہ کے دوسرے باب“ ہائی اسکول تک ”میں اسلامیہ ہائی سکول مصری شاہ میں داخلے ہونے کے بعد اسکول دوستوں کی یادوں و دیگر واقعات کو سپرد قلم کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ہمارے گھر سے سکول تک کا سفر تقریباً تین کلومیٹر تک تھا۔ میری خواہش کے باوجود میرے والدین مجھے سائیکل خرید کر نہ دے سکے اور مجھے پیدل، تانگہ یا پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سکول جانا پڑتا تھا۔ سکول کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ حسین شہید سہروردی وزیراعظم پاکستان بننے کے بعد پہلی بار لاہور آئے تو اسکول کے بچوں کو استقبال کے لئے لاہور کے پرانے ائرپورٹ پر لے جایا گیا۔
ہم بچوں نے ہاتھوں میں جھنڈیاں اٹھائی ہوئی تھیں جن پر ویلکم ( خوش آمدید) تحریر تھا۔ استقبال کے بعد بد انتظامی کے باعث ہم بچے بغیر کسی استاد کے رو رہے تھے، یاد نہیں کہ میں واپس چاہ میراں گھر کیسے پہنچا تھا۔ فلمیں دیکھنا، سائیکل پر پیچھے بیٹھ کر گھومنا پھرنا، لاہور ریلوے اسٹیشن کی سیڑھیوں پر دوستوں کے ساتھ گزرے وقت کی دلچسپ باتیں پڑھنے والے کی توجہ کھینچتی ہیں۔ پاکستان سے ہجرت کے عنوان کے باب میں سمندر پار عازم سفر ہونے کی جدوجہد کی ابتدائی کاوشوں کا ذکر ملتا ہے جبکہ“ ایران، عراق میں تجربات اور میونخ ( جرمنی) میں آمد جبکہ باب نمبر 4 میں پاکستان سے نکلنے کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کی ابتداء چار نومبر 1966 کو ہوئی تھی۔
کتاب ہذا کے چوتھے اور پانچویں باب سے جرمنی میں آمد قیام، تعلیم کی ابتدائی جدوجہد اور تجربات کا پتہ چلتا ہے۔ اس کے بعد کے ابواب میں جرمنی میں تعلیم کی تکمیل، ملازمت، کاروبار اور شادی اور جرمنی کے اہم شہروں، مقامات کی سیاحت وغیرہ کی روئیداد سپرد قلم کی گئی ہے جس میں انتھک محنت اور بھاگ دور کا پہلو نمایاں ہے۔ کتاب ہذا کے دسویں بعنوان ”بیوی بچوں کے اتھ بیتے لمحات“ میں مصنف فروری 1980 میں لاہور میں اپنی شادی اور پھر بیوی کی جرمنی میں آمد کے بعد جرمنی، یورپ میں ساتھ گزری زندگی کے دلچسپ واقعات لکھتے ہیں۔
جرمن شہریوں کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات ان کی شخصیت اور انسان دوستی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ریاض نامہ بلاشبہ کسی سفر نامے سے کم نہیں ہے کیونکہ اس میں جرمنی سے متعلق اہم ملکی قوانین بارے اہم معلومات، اہم تاریخی مقامات اور شہروں کے علاوہ جرمن معاشرے کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے جس سے پڑھنے والوں کو مفید معلومات ملتی ہیں۔ دیوار برلن اور جرمنی کا اتحاد کے عنوان سے مکمل باب پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ریاض نامہ کا ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ مصنف نے جرمنی کے علاوہ برطانیہ سمیت یورپ کے دیگر اہم ممالک کی سیاحت کے تجربات کو بطور سیاح اس طرح بیان کیا ہے کہ ان ممالک کی تاریخ، اہم مقامات اور وہاں کے ملکی قوانین اور سماجی کلچر بارے درست آگاہی ہوتی ہے۔
شیخ ریاض صاحب نے دوران قیام برلن میں اردو ادب کے ساتھ گہری وابستگی نہ صرف قائم رکھی بلکہ فروغ ادب اور تحفظ اردو زبان میں ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اور اردو انجمن برلن کے ساتھ وابستگی فعال رکھی۔ ”برلن میں اردو ادب کے تجربات“ کے عنوان سے کتاب کے انیسویں باب میں اپنی ادبی سرگرمیوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور بہت سے پاکستانی ادبی و صحافتی ساتھیوں کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح مختلف کتب کی تقاریب رونمائی۔ محافل شعر و سخن، ادبی اردو کانفرنسوں کی روئیداد بیان کی ہے۔
ریاض نامہ میں شامل دیگر قابل ذکر موضوعات جو علم و ادب اور سیاحت کے مداحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ان میں ”سفر نامہ ایتھنز اور سنیٹورین“ اور ”البرٹ آئن سٹائن کا گھر“ شامل ہیں۔ کتاب کے مطالعہ کے بعد میری آزادانہ رائے یہی ہے کہ شیخ ریاض صاحب دیار غیر میں بطور پاکستانی ایک بہترین سفیر پاکستان کا کردار ادا کرنے میں کامیاب رہے ہیں.


