آپ نے پاکستان کیوں چھوڑا؟


وہ زمین جہاں آپ نے آنکھ کھولی ہو، روز صبح اسکول میں قومی ترانہ پڑھا ہو، بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتیاں بنا کے تیرائی ہوں، بیریوں کے پیڑ پہ پتھر مار کے رسیلے میٹھے بیر توڑے ہوں، چلچلاتی گرمی میں چھت پہ چڑھ کے پڑوس کے آم کے درخت سے چوری چھپے توڑ کے کچی کیریاں کھائی ہوں۔ یادوں کے ان گنت ذائقوں کو بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ نقل مکانی کے بعد یہ یادیں دل و دماغ میں ہلچل مچاتی رہتی ہیں۔ ناسٹیلجیا چین نہیں لینے دیتا۔

نقل مکانی کے بعد جب کبھی وطن واپسی ہو تو آپ کی شامت اس وقت آتی ہے جب آپ وطن کی زبوں حالی پہ آزردگی اور حکومت کی نا اہلی پہ اپنے غم و غصہ اور مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ سے کہا جاتا ہے کہ ”آپ تو کچھ بولیں ہی نہیں۔ ایسی محبت تھی تو پاکستان نہ چھوڑا ہوتا۔“

آپ وطن چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کرتے ہیں؟ ویسے تو اس سوال کے جواب میں ہر ایک کی اپنی ہی کہانی ہوتی ہے۔ لیکن ہم نے یہ سوال اپنی دوست رباب (فرضی نام) سے پوچھا۔ جن سے ہماری ملاقات پچھلے سال استنبول میں ہوئی۔ جہاں وہ اپنے میاں جواد (فرضی نام ) کے ساتھ گزشتہ پندرہ برس سے مقیم ہیں۔ جواد پاکستان کے ایک نامور تعلیمی ادارے میں پروفیسر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔ اور رباب ایک گھریلو خاتون ہیں۔ دونوں نے ہمیں پاکستان سے امریکہ واپسی سے قبل استنبول ٹھہرنے کی دعوت دی تاکہ وہ ہماری دیرینہ خواہش کو پورا کرتے ہوئے ترکی کے تاریخی مقامات دکھا سکیں۔

ہمارے اس سوال کے جواب میں کہ آپ نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا، رباب نے کہا۔ ”ویسے تو کئی بار میرے میاں کے ساتھ کبھی موبائل تو کبھی گاڑی روک کر کریڈٹ کارڈ اور پیسے چھینے کی وارداتیں ہوئیں لیکن دو واقعات ایسے ہوئے کہ جنہوں نے ہمیں ہلا کے رکھ دیا۔ اور ہم نے سنجیدگی سے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

ہوا یہ کہ میں اپنے میاں، اپنے بھائی اور چھوٹی بیٹی کے ساتھ اپنی بڑی بیٹی کو جو غیر ملک سے واپس آ رہی تھی، ائر پورٹ لینے گئی۔ واپسی میں تقریباً ساڑھے بارہ بجے کا وقت تھا۔ کہ سناٹے والی ویران جگہ پہ ایک گاڑی نے سامنے آ کے ہمیں روک لیا۔ اس میں دو آدمی تھے۔ جنہوں نے میرے میاں اور بھائی کو گاڑی سے اتار کے دوسری گاڑی میں بیٹھا دیا اور جواد سے چابی لے کر ان کی گاڑی خود چلانی شروع کردی۔ اب اس گاڑی میں، میں اپنی بیٹیوں اور اس آدمی کے ساتھ تھی۔

جو ایک کروڑ روپوں کا تقاضا کر رہا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہا تھا کہ میں تم لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا بس پیسے دے دو۔ ہمیں معلوم ہے کہ تم بہت پیسے والے ہو۔ اسے میری اس بات کا یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جواد یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ ہم اس وقت پیسے کی وجہ سے اپنے کو کسی مصیبت میں کیوں ڈالیں گے۔ اس رات بارش ہو رہی تھی گرمیوں کا زمانہ تھا۔ مجھے اپنے ساتھ بیٹھی اپنی نوجوان بیٹیوں کی عزت اور جان کی حفاظت کا خیال پاگل کر رہا تھا۔

میں اس آدمی کو اس کی بہن اور ماں کی عزت کا واسطہ دے رہی تھی۔ جو اپنی بات پہ مصر تھا کہ مجھے پیسے چاہیے۔ پھر اچانک ایک سناٹے میں اس آدمی نے گاڑی روکی۔ تھوڑی دیر میں دوسری گاڑی بھی رکی، جس میں میرے شوہر اور بھائی تھے۔ مجھے لگا کہ بس اب کچھ خطرناک بات ہونے والی ہے۔ انہوں نے بھائی اور جواد کو اترنے کا کہا اور ہم سے کہا گاڑی میں بیٹھی رہو۔ میں نے اس وقت تڑپ کے خدا سے دعا مانگی۔ میں زور زور سے کہہ رہی تھی کہ یا اللہ کوئی معجزہ کردے ان کے دل میں رحم ڈال دے کہ یہ ہم سب کو چھوڑ دیں۔ یہ کہتے ہوئے میری چیخیں نکل رہی تھیں۔ وہ لوگ میرے میاں اور بھائی سے پوچھتے رہے کہ تمھارا بینک کہاں ہے۔ جواد اور بھائی نے انہیں اپنے اے ٹی ایم کارڈ نکال کے دے دیے کہ ”جاؤ جو بھی ہے نکال لو مگر ان لوگوں کو جانے دو۔“ ان کا مطلب ہم خواتین سے تھا۔

وہ ایک پریشانی کا عالم تھا۔ میں بار بار کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی شاید کوئی غیبی امداد آ جائے۔ پھر اس آدمی نے ہماری ڈگی کھولی جس میں بیٹی کا بیگ تھا جس کو کھنگالا۔ اس میں نقلی زیورات تھے جو سونے کے لگتے تھے۔ اس نے وہ سب نکال لیے۔ یہ سب کرتے ہوئے جانے اچانک اس کے دل میں کیا آئی اس نے جواد کے ہاتھ میں چابی پکڑائی اور پشتو زبان میں اپنے ساتھیوں سے کہا ”انہیں جانے دو۔“

اس وقت بارش ہو رہی تھی اور اندھیری رات کا مہیب سناٹا۔ جواد نے بمشکل کیچڑ سے گاڑی نکالی اور پھر اسے مین روڈ پہ لائے۔ ہمیں نہیں پتہ تھا ہم کہاں ہیں۔ صبح کے سوا چار بج رہے تھے۔ ایک آدمی بنیان پہنے ہوئے نظر آیا۔ اس نے شہر کی جانب جانے والے راستہ بتایا۔ جواد نے تیز رفتاری سے گاڑی بھگائی۔ راستے میں گلشن معمار نظر آیا تو اندازہ ہوا کہ گھر کی طرف ہی جا رہے ہیں۔ اس پورے راستے ہم سب خوف کے مارے خاموش بیٹھے تھے لیکن گھر پہنچ کے میں پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی۔ یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ہم سب زندہ سلامت واپس گھر آچکے ہیں۔ بس یہ ایک جیتا جاگتا معجزہ تھا۔ اس تجربہ کے بعد میں انگزائیٹی کی مریضہ سی ہو گئی۔ ہر وقت ایسا لگتا کہ جیسے کوئی آ جائے گا۔

اسکے بعد ایک بار پھر ایسا ہی بھیانک تجربہ ہوا مگر شکر ہے کہ اس وقت بیٹیاں ساتھ نہیں تھیں۔ ہم رات کے گیارہ بجے ایک مذہبی محفل سے واپس آتے ہوئے حسن اسکوائر کے بارونق علاقے سے گزر رہے تھے۔ گاڑیوں کی قطار لگی ہوئی تھی کہ ٹریفک لائٹ پہ ہماری گاڑی رکی۔ ہم نے دیکھا ہمارے سامنے دو اسکوٹر سوار کچھ عجب انداز میں اپنی موٹر سائیکل کے ساتھ عجب سی حرکات کر رہے تھے۔ تب ان میں سے ایک آدمی اچانک ہمارے پاس آیا اس کے ہاتھ میں پستول تھی۔

اس نے دونوں طرف کے دروازے کھلوائے۔ مجھ سے کہا تم پیچھے آ جاؤ۔ اور جواد سے کہا کہ تم گاڑی چلاؤ۔ جواد سے موبائل اور پیسے اور مجھ سے بھی پرس اور موبائل لے لیا۔ اس نے بتایا کہ وہ فلاں جماعت (ایک لسانی جماعت) کا بندہ ہے۔ اس نے کہا تم نے ہمارے آدمی کا قتل کیا ہے اب میں بھی تمھیں ٹارچر سیل لے جا رہا ہوں، قتل کرنے کے لیے۔ ”دوسرا آدمی بھی اسکوٹر پہ ہماری گاڑی کے ساتھ ہی آ رہا تھا۔ وہ جواد کو تیزی سے گاڑی چلوا کے غریب آباد کی جانب لے جا رہا تھا۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک لسانی جماعت اپنے مخالفین کو قتل کرتی تھی۔ خوف سے میری جان نکل رہی تھی۔ ابھی تو ہم پہلے واقعہ سے ہی نہ سنبھلے تھے۔ اس کا خوف ہی دل سے نہیں نکلا تھا۔ میرے منہ سے دعا بھی بمشکل ہی نکل رہی تھی کہ خدا تو ہماری جان و عزت کی حفاظت کر۔ اتنی دیر میں پیچھے سے پولیس کی موبائل کی آواز آئی۔ جو عین ہمارے پیچھے تھی۔ اس آدمی نے گھبرا کے جواد سے کہا، جلدی گاڑی روکو۔ گاڑی رکی تو وہ تیزی سے اپنے ساتھی کی بائیک پہ سوار ہوکے چلا گیا۔

بعد میں پتہ چلا کہ جس وقت حسن اسکوائر پہ یہ واردات ہو رہی تھی کسی نیک دل آدمی نے ہماری گاڑی کا نمبر نوٹ کر کے پولیس کو اطلاع دے دی تھی۔ پولیس کی بروقت مدد سے ہماری جان بخشی ہو گئی۔ لیکن پے درپے ان واقعات نے ہمیں پاکستان چھوڑ کے ترکی میں بسنے کے فیصلہ پہ مجبور کر دیا۔ میرے میاں کی پی ایچ ڈی کی تعلیم بھی یہاں ہوئی تھی اور بیٹے نے بھی یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس طرح ہمیں یہاں بسنے میں آسانی ہوئی۔

جب سے یہاں آئی ہوں میری جان میں جان آئی ہے۔ سب خوف اور ہراس نکل گیا ہے۔ میں ایک غیر ملک میں رہتی ہوں مگر کسی نے مجھے کبھی تنگ نہیں کیا۔ کسی نے پستول رکھ کے پرس اور موبائل نہیں چھینا۔ پاکستان نے چیزیں ہی نہیں میرا اعتماد بھی ختم کر دیا تھا۔ جب سے ترکی آئی ہوں۔ مجھے لگتا ہے میں بہت کچھ کر سکتی ہوں۔ سچ پوچھیں تو یہاں کے سکون میں میں نے اپنا آپ تلاش کیا جو میں اپنی پریشانیوں میں کھو بیٹھی تھی۔ ”

Facebook Comments HS