کالج کی تعلیم بھی ضروری ہے مگر ۔ ۔ ۔ مکمل کالم


”اِس بات کا خیال رکھنا کہ کہیں اسکول تمہاری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن جائے۔“ یہ قول عموماً مارک ٹوئن سے منسوب کیا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ ایک لکھاری گرانٹ ایلن کا ہے۔ یہ قول سُن کر اگر کوئی سمجھے کہ گرانٹ ایلن بچوں کو اسکول میں داخل کروانے کے خلاف تھا تو اُس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ محض اسکول یا کالج کی ڈگری کافی نہیں ہوتی، زندگی میں عملی تجربات وہ کچھ سکھا دیتے ہیں جو تعلیمی اداروں میں نہیں سکھایا جا سکتا۔

گزشتہ ہفتے میں نے کالم لکھا کہ ”کیا واقعی کالج میں پڑھنا ضروری ہے؟“ تو اِس سے کچھ لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ میں کالج کی تعلیم کے خلاف ہوں اور چاہتا ہوں کہ ماں باپ بچے کو میٹرک کے بعد دکان پر بٹھا دیں تاکہ وہ کاروبار سیکھے کیونکہ آج کل کالج میں پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ حالانکہ میرا مدّعا یہ تھا کہ غریب اور متوسط طبقہ جس طرح اپنی زندگی کو اذیت بنا کر اِس امید پر مہنگے کالجوں کی فیسیں ادا کر رہا ہے کہ مستقبل میں اُن کا بچہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں نوکری کر کے اُن کے بڑھاپے کا سہارا بنے گا تو ایسا نہیں ہو گا، اِس لیے وہ خود پر یہ ظلم کرنا بند کریں۔

اگر کسی کو اِس بات سے اختلاف ہے تو وہ پچیس کروڑ آبادی کے اِس ملک پر نظر دوڑائے اور بتائے کہ پسماندہ طبقے کے نوجوان ڈگریاں لے کر کیا کرتے پھر رہے ہیں؟ کوئی پچاس ہزار کی نوکری کر رہا ہے تو کوئی پینسٹھ ہزار کی، اور نوکری بھی ایسی کہ دو ماہ بعد مالک پوچھتا ہے کہ برخوردار ہمارے لیے کیا بزنس لائے ہو، اگر انہیں لائے تو گھر بیٹھو۔ وہی داتا دربار والا لطیفہ یاد آیا جس میں ایک نوجوان نوکری کا اشتہار دیکھ کر انٹرویو کے لیے گیا تو مالک نے دو چار سوال پوچھ کر اسے نوکری پر رکھ لیا۔ نوجوان نے پوچھا کام کیا ہو گا تو مالک نے اطمینان سے جواب دیا کہ داتا دربار جا کر دو بندوں کے لیے کھانا لانا ہو گا، ایک اپنے لیے اور ایک میرے لیے۔

میں اِس سنگدلانہ تبصرے پر معافی چاہتا ہوں مگر حقیقت اِس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ مسئلہ صرف غریب اور متوسط طبقے کاہے، متمول طبقے کے بچے پڑھیں یا نہ پڑھیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، انہیں دنیا کو دکھانے کے لیے فقط ایک ڈگری چاہیے جو با آسانی مل جاتی ہے، یہ بچے باہر بھی چلے جاتے ہیں اور دو چار سال امریکہ کینیڈا میں گزارنے کے بعد سیدھا باپ کی گدی پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں، سو، میں اِس طبقے سے مخاطب نہیں ہوں، میرا مقدمہ اُن لوگوں کے لیے ہے جن کے لیے راستے محدود، مواقع کم اور ذرائع آمدن نہ ہونے کے برابر ہیں۔

جس وقت ہم اسکول میں پڑھتے تھے اُس وقت سرکاری اسکولوں کا معیار ابھی گرا نہیں تھا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سینٹرل ماڈل اسکول کا نتیجہ بہت سے مہنگے نجی اسکولوں سے بہتر نکلتا تھا۔ سرکاری کالجوں کا معیار اسکولوں سے بھی اعلیٰ تھا، جسے گورنمنٹ کالج یا ایف سی کالج میں داخلہ مل جاتا وہ فخر سے اِس کا اعلان کرتا۔ اور میڈیکل کالجوں کی تو دنیا ہی الگ تھی، اُن میں داخلے کے لیے اسی طرح محنت کی جاتی تھی جیسے آج کل آئی وی لیگ یونیورسٹی میں داخلے کے لیے کی جاتی ہے۔

یہ اسکول اور کالج آج بھی موجود ہیں مگر لوگ اِن کی بجائے مہنگے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ایک تو سرکار کا معیار اب پہلے جیسا نہیں رہا اور دوسرے کالجوں کو یونیورسٹیاں بنا دینے کے بعد اِن کی فیسیں بے تحاشا بڑھ گئی ہیں۔ اِس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ متوسط طبقہ جن چار چار کنال کے کالجوں میں اپنے بچوں کو دو گنا اور تین گنا فیسیں ادا کر کے بھیج رہا ہے، اُن سے یہ سرکاری کالج اب بھی بہتر ہیں، کم از کم یہاں کالج جیسا ماحول تو ہے۔

لیکن اصل سوال وہیں کا وہیں ہے کہ متوسط طبقے کا نوجوان، خاص طور سے لڑکی، کالج میں پڑھنے کے بعد کیا کرے گا/گی؟ میری رائے میں نوجوانوں کو ایسے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ لینا چاہیے جہاں پیشہ ورانہ مہارت پر مبنی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ جب وہ 14 یا 16 سال کی تعلیم کے بعد فارغ التحصیل ہوں تو اُن کے پاس کوئی ایسا ہنر یا ڈگری ہو جس کی منڈی میں مانگ ہو۔ اسی طرح بہت سے ایسے پروفیشنل ڈپلومہ کورسز ہیں جنہیں پاس کرنے کے بعد آسانی سے بیرون ملک ملازمت حاصل کی جا سکتی ہے، خاص طور سے طب کے شعبے میں اِن ڈپلومہ ہولڈرز کی بہت مانگ ہے۔

سو، اگر کوئی نوجوان کالج سے پروفیشنل ڈگری حاصل کرتا ہے تو اُس کے لیے ملازمت کے مواقع نسبتاً زیادہ ہیں، لیکن یہ نوکری بھی ایپل یا ایمزون میں نہیں ہوگی بلکہ ایسی ہوگی جس سے سفید پوش قسم کی زندگی گزاری جا سکے۔ اسی لیے میری رائے میں نوجوانوں کو کاروبار کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے، مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ تعلیم سے منہ موڑ لیں، وہ صرف مہنگے کالجوں سے جان چھڑائیں۔

موجودہ حالات میں اگر بچوں کو میٹرک یا کیمبرج کا امتحان دلوانے کے بعد کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کروا دیا جائے یا انہیں کسی کاروبار کے ساتھ نتھی کر دیا جائے تو وہ کالج کی ڈگری کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی سیکھ پائیں گے۔ اِس کاروبار کے ساتھ وہ اپنی تعلیم بھی جاری رکھ سکتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ کالج میں ہی داخلہ لیں، یونیورسٹی کا امتحان تو پرائیویٹ بھی دیا جا سکتا ہے، اِس سے وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہوگی۔

یہاں لڑکیوں کی بات کرنی زیادہ ضروری ہے جن کے لیے والدین فرض کر لیتے ہیں کہ انہیں بس اِن کی شادی کا فیصلہ کرنا ہے۔ لڑکیوں کے لیے کاروبار یا پیشہ ورانہ ڈگری حاصل کرنا اور بھی ضروری ہے کیونکہ یہ دنیا کا اصول ہے کہ جب آپ کسی پر انحصار کرتے ہیں تو پھر وہ شخص آپ کا استحصال بھی کر سکتا ہے اور ہمارے معاشرے میں یہی ہوتا ہے۔ شادی کے بعد لڑکی اپنے شوہر پر انحصار کرتی ہے، اگر وہ اچھا نکل آئے تو اُس کی قسمت لیکن اگر وہ برا نکل آئے تو اُس صورت میں لڑکی کے پاس سوائے اِس کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ اسے برداشت کرے۔

اگر وہ اسے چھوڑ کر ماں باپ کے واپس آجاتی ہے تو تب تک وہاں بھابیوں کا قبضہ ہو چکا ہوتا ہے، والدین بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں اور یوں اسے ایک مرتبہ پھر کسی مرد پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور اِس مرتبہ یہ مرد اُس کا بھائی ہوتا ہے، لہذا لڑکیوں کو با اختیار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مجبوری میں کوئی اُن کا استحصال نہ کرسکے۔ انہیں با اختیار بنانے کا ایک طریقہ آن لائن کاروبار ہے۔ آج کل یہ اِس قدر آسان ہو چکا ہے کہ لوگ اب اِسے مذاق سمجھنے لگے ہیں، ذاتی مثال دینا اچھا نہیں لگتا، مگر اِس وقت بتانے میں کوئی حرج بھی نہیں۔

میرے دونوں بیٹے جو آج کل کیمبرج کے امتحانات کے بعد فارغ ہیں، ( اور میرا کوئی ارادہ نہیں کہ انہیں کسی مہنگے پرائیویٹ کالج میں داخل کرواؤں الّا یہ کہ انہیں سکالر شِپ مل جائے جس کا امکان کم ہے، حالانکہ اصولاً مجھے کہنا چاہیے کہ وہ آئن سٹائن اور نیوٹن ہیں ) ، چند دن پہلے میرے پاس آئے اور بتایا کہ انہوں نے دس ہزار روپے کی ’خطیر رقم‘ سے آن لائن کاروبار شروع کیا ہے جس میں انہوں نے ٹین ایج بچوں کے لیے ٹی شرٹس کے ڈیزائن بنائے ہیں اور کراچی کی ایک کمپنی سے ’معاہدہ‘ کیا ہے کہ جو آرڈر آئے گا وہ کمپنی براہ راست اُس ڈیزائن کی ٹی شرٹ بنا کر گاہک کو بھجوا دے گی۔

انہوں نے بڑی خوشی سے مجھے بتایا کہ اب تک آٹھ دس آرڈر آ بھی چکے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ اُن کا یہ کام چلے گا یا نہیں مگر مجھے اِس بات کی خوشی ہے کہ وہ کوئی کام کر رہے ہیں، اِس سے کچھ دیکھیں گے او ر آئندہ اپنی غلطیوں کو سدھار کر اِس کام کو بہتر کر لیں گے۔ میرا سوال خود سے اور آپ سے یہی ہے کہ کیا اگلے چار برس تک دونوں بچوں کی پرائیویٹ کالج کی فیس ادا کروں یا اُن کے اِس ننھے سے کاروبار کی حوصلہ افزائی کروں اور کہوں کہ ساتھ میں پرائیویٹ گریجوایشن بھی مکمل کر لینا۔ یہ فیصلہ اب آپ کا ہے کہ بچوں کو بنے بنائے سانچے میں ڈھالنا ہے یا انہیں بدلتے ہوئے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہے!

کیا واقعی کالج میں پڑھنا ضروری ہے؟ (مکمل کالم)

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada