بدو بدی ہی سہی مگر اب بھانڈ ہی ہمارا لیول ہیں!

حال ہی میں ستر کی دہائی میں گایا جانے والا ملکہ ترنم کا ایک سپر ہٹ پنجابی گانا ”اکھ لڑی بدو بدی“ مابدولت، زی احترام اور ابھرتے ہوئے نہایت ٹیلنٹڈ اور خوش گلو گلوکار چاہت فتح علی کی خوبصورت، مسرور کن اور دلنشین آواز میں سننے کو ملا۔ اس ابھرتے ٹیلنٹ کو ابھارنے میں سارا کریڈٹ یقیناً اس ذہین، فطین، اعلی پائے کا ویژن اور شعور رکھنے والی قوم کو جاتا ہے۔ ملکہ ترنم کی روح کو تو اس عزت افزائی اور پذیرائی سے قبر میں جو سکون ملا سو ملا پر میرے دماغ کے سب تار بھی ضرور جھنجھنا اٹھے۔
گانوں کے ری مکس ایک پرانا ٹرینڈ ہے۔ اور کئی پرانے گانے نئی دھنوں کے ساتھ کانوں کو بھلے بھی لگتے ہیں۔ پر چاہت فتح علی کا گانوں سے عشق اور انسیت کا یہ جنون دیکھ کر نہ پوچھئے میری تو آنکھوں میں فرط جذبات سے آنسو آ گئے۔ اور یہ نامراد آنکھیں پھٹی کی پھٹی اس وقت رہ گئیں جب نظر ان کے فالورز کی ایک نہ ختم ہونے والی گنتی پر پڑی۔ سوشل میڈیا ایک بلا ہے یہ اندازہ تو تھا ہی پر اس بلا نے اس قوم کا اتنا خانہ خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کا اندازہ اختر لاوا، کبھی نجی شادیوں میں کیے گئے کسی واہیات وائرل ڈانس، کبھی کسی بھانڈ اور کبھی حریم شاہ جیسی ٹک ٹاکرز سے متاثر ہو کر انہیں اپنا آئیڈیل بنانے والے لاکھوں فالورز کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
اب ہمارا لیول یہ ہے کہ علما کرام، سائنس دان، علم و ادب سکھانے والے، معیشت دان، سماجی ایشوز پر بات کرنے والے اور اس طرح کی سب سنجیدہ شخصیات جائیں چولہے میں کیونکہ جہاں اس بے سرے شخص کے ”بدو بدی“ گانے نے 20 ملین سے بھی زائد ویوز لے لئے ہوں وہاں مجھ اور آپ جیسے قوم کا درد دل رکھنے والوں کا فکرمند ہونا تو بنتا ہے۔ اس سے میں اور آپ بخوبی یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ یہ دور واقعی احمقوں اور بھانڈوں کی پذیرائی کا دور ہے۔
جس سوسائٹی میں آئیڈیل ناچ گانے والے۔ مسخرے، بھانڈ، ٹک ٹاکرز اور یو ٹیوبرز ہوں جو اسلام کے نام پر حاصل ہونے والی مملکت خداداد کو تماشا گاہ اور سرکس بنا چکے ہیں اس سوسائٹی کو اخلاقی گراوٹ اور تباہی و بربادی سے بھلا کون روک پائے گا؟ اس کو انتہائی درجے کی ذہانت کہیں یا پھر مقدر کی سکندری یا اس ہجوم نما قوم کی کند ذہنی کہ ان مٹھی بھر بھانڈوں نے سوشل میڈیا کی سائنس کے ذریعہ اس سوسائٹی کی ذہنی فریکوئنسی کو بہت مہارت سے استعمال کر کے تعمیری سوچ سے عاری، وقت کی قدر سے محروم اور اخلاقیات سے مبرا افراد کی ایک بڑی تعداد کو مینٹلی ٹریپ کر کے مزید ذہنی مریض بنا دیا ہے۔
اور المیہ یہ ہے کے ہر گزرتے دن کے ساتھ اس سرکس کے تماش بینوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں کسی نے کیا بم گرا کر مارنا۔ ہمارے یہی سماجی اور اخلاقی رویے ہمیں تباہ کرنے کے لئے کافی ہیں۔ تعلیمی نظام سے اقبال اڑا دیے گئے۔ ڈاکٹر اسرار جیسے مذہبی سکالرز کی جگہ اسلام سکھانے کا فریضہ فنکاروں نے سنبھال لیا۔ اشفاق میاں کی جگہ ”بدو بدی“ قاسم شاہ جیسوں نے لے لی جو یہ بات بتانے حتی کے ثابت کرنے کے دو لاکھ بٹور لیتے ہیں کہ بھائیو اصل خوشی پیسوں میں نہیں۔
ہر مسلک کے دین کے محافظ آپس کی تجارت میں بھائی بھائی لیکن مسجد اپنی اپنی۔ ٹی وی ڈرامے دیکھو تو بہو سسر کے ساتھ، ایک کا شوہر دوسرے کی بیوی اور بیوی سہیلی یا بہن کے شوہر کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھاتی دکھائی دے گی۔ ایسے میں مہنگائی، بیروزگاری، ملاؤں، سیاست دانوں اور گھریلو مسائل کی ستائی یہ بیزار قوم چاہت کی چاہت میں سر نہ دھنے تو اور کیا کرے۔ جو کام پہلے پیسے دے کر کیا کرتے تھے وہ کمی اب نجی شادیوں میں کزنز اور دوستوں کے وائرل شدہ لیگل مجروں نے پوری کر دی۔
ایک طرف مہنگائی کا رونا لیکن جب کسی بچے اور بچی کی شادی کی بات آئے گی تو شادی کی تیاریوں اور کارڈز سے لے کر ولیمے تک ہر طرح کے بیہودہ رسم و رواج اور اصراف میں مقابلہ امبانیوں سے لگائیں گے۔ اور بعد میں لڑکا لڑکی اپنی زندگی ”سیٹ“ کرنے کی بجائے اگلے دس سال قرضے ختم کرنے کے چکر میں ”اپ سیٹ“ رہیں گے۔ او میری قوم کے غیور لوگو اپنے ذاتی کرتوتوں کی ذمہ داری اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اخلاقی اور سماجی نقصان کی ذمہ داری ہمیں خود قبول کرنا ہو گی۔
آپ کی بچی اگر ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا رہی ہے تو اس وقت آپ خدانخواستہ مرے ہوئے نہیں تھے۔ پر یہاں تو ماں باپ خود موبائل ہاتھ میں پکڑ کر بھانت بھانت کے واہیات آئیڈیاز کے ساتھ اپنے بچوں کی ویڈیوز بنا کر ان کو مستقبل کا جوکر بنا رہے ہیں۔ مت بھولیں کہ اپنے بچوں اور جوانوں کے دین اور دنیا کی راہنمائی ہم نے کرنا ہے۔ اگر ہمارا بچہ کسی غلط ڈگر پر نکل پڑا ہے تو ذمہ دار سوسائٹی نہیں پہلے نظر اپنی تربیت پر ڈالنی ہوگی۔
بچوں کے کھیل کود، تفریحی سرگرمیوں اور دیگر تعمیری دلچسپیوں کو ختم کر کے پیدا ہوتے ہی ان کے ہاتھ میں موبائل پکڑانے کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ چاہت نے یہ لاکھوں فالورز دعوت نامے دے کر نہیں خریدے۔ نہ حریم شاہ کسی کو فون کر کے اپنی ویڈیو دیکھنے اور شیئر کرنے کی فرمائش کرتی ہے۔ اور نہ ہی کوئی اور تھرڈ کلاس وی لاگر اپنا چینل بندوق کی نوک پر سبسکرائب کراتا ہے یہ سب ہماری اپنی چوائسز ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے دودھ میں پانی گائے نہیں ملاتی۔ نہ خربوزے انجیکشنز کے ساتھ کھیتوں میں اگتے ہیں۔ اور نہ ہی مرغی خود سے چالیس دنوں میں بالغ ہو کر مارکیٹ میں آجاتی ہے۔ یہ سب دو نمبریاں ہماری اپنی ایجاد کردہ ہیں۔ پھر بعد میں کتنے ہی چھاپے مار لیں، جرمانے ڈال دیں یا پھر بلڈوزرز چلا لیں نقصان کی تلافی نہیں ہونے والی۔
آپ بھی سوچیں گے چاہت سے شروع ہونے والی بات کہاں بدو بدی دودھ، خربوزوں اور مرغیوں ہر پہنچ گئی۔ اب آپ ہی بتائیں چھری اوپر رکھیں یا نیچے گلا تو بکرے کا ہی کٹے گا نہ؟ تو نتیجہ یہ نکلا نقصان اس قوم اور اس کے معماروں کا ہی ہے۔ تو وہ بھلے چاہت کے ہاتھوں ہو، سیاست دانوں۔ ٹک ٹاکروں، دین کے محافظوں یا پھر نوسر بازوں کے ہاتھوں۔ کہیں ذہن خراب ہو رہے ہیں کہیں کردار تباہ، کہیں ایمان سولی پر اور کہیں صحت اور وقت برباد!

