یہ تقریب نہیں ہو سکتی
عجب ہفتہ تھا۔ نومبر 23 تا 29 سنہ 1983۔ شہر تھا دہلی۔ چار بہت نامور خواتین میں ایک طرح کی سمجھو جنگ ہو گئی۔ اب خواتین میں ایسی جنگ پنجاب کی مصلی عورتوں یا ممبئی کی دھراوی جیسے سلم (Slum) جو ہمارے اورنگی ٹاون سے چھوٹا اور میکسکو سٹی کے چائوداد سے بڑا ہے۔ وہ والی بیلنے چمٹے پیتل کی پرات بجانے والی ساڑھی بلائوز سے لاتعلق جنگ تو ہوتی نہیں۔ اس جنگ نے بہرحال افسروں کے چھکے چھڑا دیے۔
افسروں کی نیند اڑ جائے تو ہمیں اچھا نہیں لگتا۔ آپ کو کیا پتہ ایک طاقتور افسر تھے جن کی بیگم، سسر اور سالے کا شمار بھی مملکت کے طاقتور افسروں میں ہوتا تھا۔ بس رات آٹھ بجے ٹینچ بھاٹا سے ایک بلاوا آیا تھا۔ ان کی تو ایسی نیند اڑی کہ بے چارے آٹھ فروری کو بھول گئے کہ گنتی میں پنتالیس پہلے آتا ہے کہ سنتالیس۔
اب جن میں چار عورتوں میں جنگ لگی۔ ان کا احوال یوں تھا کہ ان میں ایک دنیا میں سب طویل عرصے یعنی دو سو کروڑ لوگوں کی ستر سال ملکہ رہنے والی کوئین ایلزبتھ جنہیں 32 ممالک میں Queen Regnant مانا جاتا تھا۔ دو وزیر اعظم یعنی مسزاندرا گاندھی اور مسز مارگریٹ تھیچر اور ایک عورتوں کی ولی اللہ، اماں تھریسا۔ اور یہ سب کے سب شہر دہلی میں بلی ماراں کے قریب ہی قیام پذیر تھیں۔
اس میں صرف اماں تھریسا کا معاملہ کچھ لوگوں کے نزدیک مشکوک ہے کہ وہ ولی اللہ تھیں کہ نہیں۔ ایک مشہور برطانوی ٹیلی ویژن چینل اس ولی اللہ پر ایک بہت بے توقیر کرنے والا پروگرام کرنا چاہتا تھا مگر اس منصوبے کے روح رواں Christopher Hitchens کو اجازت نہ ملی۔ اس چینل کا بورڈ اس توہین اولیا کا مرتکب نہ ہونا چاہتا تھا۔ سو ان نے1995 میں ایک کتاب لکھ ڈالی۔ کتاب کا نام The Missionary Position تھا۔ آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ قیام پاکستان سے یہ اس وقت تک وحشت وصال کے حوالے سے سب مقبول آسن تھا جب تک تحریم شاہ، میا خلیفہ اور سنی لیونے نے مسلمانوں کی گوگل کھوج میں ٹاپ مقام حاصل نہیں کیا تھا۔
ہچنز کی کتاب کا لب لباب یہ ہے کہ مدر تھریسا کو کلکتہ کے غریب غربا کی امداد اور بحالی میں کم اور اپنی کیتھولک عیسائی مشنری تبلیغ کے لیے انہیں بطور چارہ بھوسہ استعمال کرنے میں زیادہ دل چسپی ہے۔ خدمت کا فریبی لبادہ اوڑھ کروہ شہرت کی دلدادہ ہیں۔ وہ افلاس کی حامی اور بدترین امرا کی فیض یاب ہیں۔ ہچنز پکا دہریہ تھا۔ خدا کو نہیں مانتا تھا۔ پبلشرز نے اس کے باوجود یہ دل چسپ blurb کتاب کی پشت پر درج کیا تھا کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ ضرور اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ یہ کتاب لکھنے کے جرم میں مصنف ہچنز دوزخ کا ایندھن بنے گا۔
اب لوٹتے ہیں اس جنگ اور تصادم کی جانب جس کا ذکر اوپر کیا گیا۔ دولت مشترکہ کی سربراہی کانفرنس دہلی میں منعقد ہونی تھی۔ چالیس کے قریب سربراہان مملکت کی شرکت ہونی تھی بشمول ملکہ برطانیہ جن کا منصب ان تمام ممالک کی سربراہ کا تھا۔ ملاقاتوں اور دعوت کا ایک طویل سلسلہ ان کی جانب دراز تھا۔ ملکہ عالیہ اور ان کے شوہر پرنس فلپ کا قیام خصوصی طور پر راشٹرپتی بھون یعنی ایوان صدر میں تھا۔
کسی نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کو اطلاع دی کہ ملکہ برطانیہ کا ارادہ ہے کہ وہ راشٹرپتی بھون میں ایک تقریب برپا کریں جہاں مدر تھریسا کو برطانیہ کا اعلی ترین سول ایوارڈ آرڈر آف میرٹ دیا جائے۔ اس کے لیے برطانیہ میں بکنگھم پیلس کی اسٹیشنری پر دعوت نامے جاری ہونا بھی شروع ہوگئے ہیں۔
شریمتی اندرا گاندھی بہت کمال کی خاتون تھیں۔ اکتوبر 1977 میں ہماری ان کی ایک گھنٹہ ملاقات ہوئی تھی۔ افسروں کا ایک چھوٹا سا گروپ تھا۔ جنہیں سنجے گاندھی کی ضد پر انہوں نے اپنی رہائش گاہ چارصفدر جنگ روڈ پر چائے پر مدعو کیا تھا۔ تب وہ ممبر پارلیمنٹ نہ تھیں۔ ایمرجنسی کے نفاذ نے انہیں اپنے سیاسی اقتدار بلکہ لوک سبھا کی سیٹ تک سے محروم کردیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک ماہ بعد وہ چکمہ گلور(کرناٹک) سے ضمنی چناﺅ جیت کر دوبارہ پارلیمنٹ میں پہنچ گئی تھیں اور ٹھیک سات سال بعد اس ڈرائینگ روم کے باہر اپنے محافظین کے ہاتھوں ہلاک کر دی گئیں۔
شریمتی اندرا گاندھی کا ذکر یہاں جم کر کیے بغیر بات نہیں بنتی۔ یہ قصہ، تقریب کی اجازت سے انکار ان کی شخصیت کی اصول پرستی، انانیت اور خود اعتمادی کا مظہر ہے۔ اس وقت ہر چند کہ بھارت کے صدر گیانی ذیل سنگھ تھے۔ وہ خود بھی اپنی ذات میں انجمن تھے۔ امرتسر اور جاتی امرا میں سب کا اگاڑی پچھاڑی بہت کس کر جانتے تھے مگر وہ راشٹر پتی بھون کی اس تقریب کے پروٹوکول اور محل برمحل سے لا تعلق تھے، سو آئیں، اندرا گاندھی کی بات کریں۔
اندرا گاندھی کے دفتر کی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ افسر بطور ایک ٹیم کام کرتے تھے۔ ان کے پرنسپل سیکرٹری پی این ہکسر جن کا تعلق گجرانوالے اور بھارتی فارن سروس سے تھا، بہت قابل افسر تھے۔ شریمتی گاندھی میں سیاسی سمجھ بوجھ کمال کی تھی۔ ذہانت بھی بلا کی تھی اور دنیا بھر میں ہونے والی نت نئی ایجادات کے علاوہ ادب، فنون لطیفہ اور سائنس کی سمجھ بہت کمال تھی۔ مطالعہ بھی بہت وسیع تھا۔ انٹرنیٹ کا زمانہ نہیں تھا اس لیے پرنٹ میڈیا اور کتابوں سے بہت لگاﺅ تھا۔ عملے کو ہدایت تھی کہ وہ انہیں اہم معاملات پر کٹنگ بھیجا کرے۔ وہ ان سب کو بغور پڑھتی بھی تھیں۔ کتابوں اور فائلوں میں دل چسپی رکھنے والے آخری وزیر اعظم کی طرح ان کٹنگز پر ان کے ریمارکس بھی درج ہوتے تھے۔ ان ریمارکس میں ان کی بلا کی حس مزاح اور نت نئی اصطلاحات سے رغبت ظاہر ہوتی تھی۔
ہم نے اپنی ملاقات میں جب ان سے پوچھا کہ وہ تو ایک ایسے خانوادے اور منصب سے تعلق رکھتی ہیں۔ جہاں ان کا کسی سے متاثر ہونا نہیں بنتا۔ کیا وہ بھی کسی سے متاثر ہوتی ہیں؟ بہت ممتا بھری آنکھ سے سنجے کی جانب اشارہ کر کے کہنے لگیں ہم سنجے بابا کو کل ہی بتا رہے تھے کہ ”دنیا میں کوئی ایسا فرد نہیں جس سے آپ کچھ سیکھ نہ سکھیں اور کوئی ایسا شخص نہیں جسے آپ کچھ سکھا نہ سکیں تو ہمارا آپ نوجوان افسروں کو بھی یہی سبق ہے“۔
سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے چار کارناموں میں تین کا براہ راست تعلق پاکستان ہے سے۔ وہ ہم سے مشرقی پاکستان جدا کرنے کی سرخیل تھیں۔ را ان کے دور میں ہی بنی تھی (1968)۔ سکم اور سیاچین بلا جنگ و فساد بھارت میں شامل کرنے میں ان کی سوچ اور خدمات سب سے نمایاں تھیں۔ ایٹمی دھماکا کرکے وہ بھارت کو چھٹی ایٹمی طاقت بنانے میں کامیاب ہو گئیں۔ مہاراجوں اور نوابین کے عیش و عشرت کو انہوں نے مستقل طور پر نذر آتش کردیا اور وہ اب بھارت کے عام شہری کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان خوبیوں کے ساتھ چند برے کام بھی ان سے منسوب ہیں۔
ذکر تھا کہ ملکہ برطانیہ کی جانب سے اپنے قیام کے دوران مدر تھریسا کو برطانیہ کا اعلی ترین سول ایوارڈ آرڈر آف میرٹ دینے کا پروگرام تھا۔ اس کے لیے برطانیہ میں بکنگھم پیلس کی اسٹیشنری پر دعوت نامے جاری ہورہے تھے۔ اس تقریب کو Investiture کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی جب سالانہ تمغے لٹائے جاتے ہیں۔ گورنر، وزیر اعلی اور اپنے کسی دوسرے ہوتے سوتے سے سفارش کروا کر نام ڈلوایا ہوتا ہے، چیف سیکرٹری کی منتیں ترلے ہوتے ہیں کہ ہو نگاہ کرم۔۔ ہم فقیروں کے دن بھی بدل جائیں گے۔ ہم بھی معتبر ٹھہریں گے۔ اس سے پہلے ان کے لیے سپاس نامہ لکھا جاتا ہے۔ جب کیبینٹ ڈویژن سے حتمی فہرست کی منظوری ہوتی ہے تو تمغہ کے طلب گاروں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔

اصل مسئلہ ہوتا کہ انہیں اپنی کارکردگی کا خود بھی کچھ خاص یقین نہیں ہوتا سو وہ سپاس نامے میں وہ وہ محاسن کارستانیاں ڈالنا چاہتے ہیں کہ لگے آئن سٹائن، منٹو، اے آر رحمان، سمیتا پاٹل، ودیابالن، ’’کامل تغافل کی اک رات“ کے نام والی کانز فلم فیسٹیول میں اودھم مچانے والی پائل کاپڑیا، ٹیلر سوئفٹ اور ستار ایدھی نے تو ابھی اپنے مطلوبہ میدان کارزار میں قدم ہی نہیں رکھا۔ ابھی تو وہ کوئی شے مذکور ہی نہیں۔ ابھی کیسا تمغہ، کونسا سپاس نامہ۔
ہمارے اس حوالے سے بطور ایڈیشنل سیکرٹری اس تعلق میں تین دل چسپ مراحل آئے۔ سندھ کے ایک صوبائی سیکرٹری کی مرضی نہ تھی کہ ہڈیوں کے ایک بڑے ڈاکٹر کو تمغہ حسن کارکردگی ملے۔ ظفر اللہ جمالی صاحب وزیر اعظم تھے۔ ان کے دفتر سے خط آیا کہ ڈاکٹر صاحب کی Citation (سپاس نامہ) جلد از جلد وزیر اعظم ہاﺅس بھیجا جائے۔ خط ملا تو سیکرٹری صاحب نے اس پر لکھا۔ ’’Never“۔
اس جسارت کی اطلاع انہیں یعنی ڈاکٹر صاحب کو مل گئی۔ ان کی ذات والے کئی افسر محکمہ صحت کے ملازم تھے۔ یوں بھی سرکار کے ہاں ٹوائلٹ پیپر کے علاوہ کوئی کاغذ سیکریٹ نہیں ہوتا۔ رات گئے تک سیکرٹری صاحب کو بھی غلطی کااحساس ہوچکا تھا کہ انہوں نے کس ہاتھی کو دم سے کھینچنے کی گستاخی کی تھی۔ رات دس بجے ہمیں سیکرٹری صاحب کا فون آیا کہ صبح پہلی فرصت میں ان کے گھر ناشتے پر وہ خط لے کر آئیں۔

ہماری بھی کمر میں درد تھا۔ سو اس ’’Never“ کے نیچے سیکرٹری صاحب سے ان الفاظ کا اضافہ کرایا کہ until he removes your back pain with his healing touch
جب ہم یہ خط لے کر ان کے پاس سول ہسپتال پہنچے تو وہ درویش منش یہ خط اور اس پر تحریر دیکھ کر کہنے لگے۔ لوگ بڑے حرامی ہیں۔ مجھے سیکرٹری سے لڑانا چاہتے تھے۔ کہتے تھے سیکرٹری نے ڈی او لیٹر پر ”Never.“ لکھا ہے۔ ان کی مرضی نہیں کہ آپ کو تمغہ ملے۔ ہم نے بات بنائی کہ ہمیں تو حکم ملا ہے کہ سرجن صاحب کو پیشگی مبارکباد بھی دو۔ ان کی مرضی کی Citation بھی لکھو۔ یہ خط ہے آپ خود دیکھو کیا لکھا ہے۔ حروف سپاس میں ان کے کوائف کے ساتھ ہم نے ایک جملہ یہ لکھا کہ یہ ڈاکٹر صاحب ان نابغہ روزگار ہستیوں میں سے ہیں جن کے لیے مشہور شاعر آنند بخشی نے کہا تھا
زمانے میں اجی ایسے بھی کچھ نادان ہوتے ہیں
وہیں لے جاتے ہیں کشتی جہاں طوفان ہوتے ہیں
تو پھڑک اٹھے۔ یہ شعر ایوان صدر میں پڑھا بھی گیا تھا۔ حالانکہ یہ ایک ہندوستانی فلم جیون مرتیو کے ایک مجرے کا انترا ہے مگر آپ نے بھی ہماری طرح سنا دیکھا ہوگا کہ جنرل مشرف کا صدراتی محل کوئی خانہ تقدیس تو تھا نہیں۔ کبھی ایف بی آر کا چیئرمین مارکیٹ سے اٹھایا ہوا یوسف عبداللہ سانوں نہر والے پل پر بلا کر پر کولہے مٹکا لیتا تھا تو کبھی ایشوریا رائے تال سے تال ملا کر صدر کے جذبہ حب الوطنی کو گدگدا لیتی تھی۔
خود صدر جنرل مشرف صاحب نے ایک دفعہ کراچی میں جناح ہسپتال کے پلاسٹک سرجری کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر فیض محمد خاں کو بھی تمغہ حسن کارکردگی دینے کا فیصلہ کیا۔۔ ہمارے ایک واقف کار ان دنوں کراچی کے بڑے ڈان مانے جانے تھے۔ ان سے پروفیسر صاحب کی یاد اللہ اور شاید دور پرے کی رشتہ داری بھی نکلتی تھی۔ ان سے فون کرا کے چیف سیکرٹری کے دفتر آ گئے۔ کہنے لگے ہماری Citation بھی آپ نے لکھنی ہے۔ خان صاحب نے کہا ہے کہ ہم سے بہتر یہ حق تعریف و توصیف کوئی اور نہیں نبھا پائے گا۔
خود بھی بڑے خوش اطوار، خوش لباس اور چھیل چھبیلے (Dapper) تھے۔ سپاس نامہ پڑھا تو خوش ہوگئے کہنے لگے، ایک دن آ جائیں آپ کی پلاسٹک سرجری کرکے آپ کو شاہ رخ خان بنا دیتے ہیں۔
ایسی وحشیانہ پیشکش ہمیں کئی لوگوں نے بطور محنتانے کے بارہا کیں۔ ہم نے ٹالتے ہوئے یہ کہا کہ آپ کی قابلیت اور ہنرمندی پر ہمیں ذرہ برابر شک نہیں مگر ہمارے نصیب مور کے پاﺅں جیسے ہیں۔ دیکھ کر رونا آتا ہے۔ شاہ رخ خان بن بھی گئے تو کونسی مادھوری ڈکشٹ ہمارے لیے ”ارے ارے یہ کیا ہوا“ ناچنے گانے آجائے گی۔ اور جوہی چاولہ کہ کہ کرن سننے آجائے گی۔
Now let’s get serious
بات اماں تھیریسا کی Investiture Ceremony کی تھی جو ملکہ ایلزبتھ بطور کامن ویلتھ سربراہ کے بھارت کے راشٹرپتی بھون میں سنہ 1983 میں کرنا چاہتی تھیں۔ شریمتی اندرا گاندھی کی اس وقت کی برطانوی وزیر اعظم مسز گاندھی سے بہت اچھی دوستی تھی۔ دونوں کے ہاں ایک دوسرے کی قابلیت اور اصول پرستی کا بہت اہتمام تھا۔ دونوں ہی بہت No Non-sense ہستیاں تھیں۔
جب اس تقریب کی تفصیلات بھارت کے سیکرٹری خارجہ نٹور سنگھ کو ملیں اور ملٹری سیکرٹری ٹو پریزیڈنٹ نے بھی اس کی تصدیق کردی تو ایک ہنگامہ ہوگیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ہیماونتی نندن بھوگنا قائد حزب اختلاف کو جب یہ خبر ملی تو انہوں نے لوک سبھا میں اپنا نقطہ اعتراض بھی جمع کرا دیا۔ وزیر اعظم اندرا گاندھی اور بھوگنا جی اس نقطے پر متفق تھے کہ بھارت کا صدر وہ واحد مجاز ہستی ہے جو ایسی کسی Investiture Ceremony راشٹرپتی بھون میں کرنے کا مجاز ہے۔ اس کے لیے جو بھی ہستی منتخب ہوگی اس کا انتخاب ایک شفاف عمل اور کابینہ کی منظوری سے ہوگا۔ یوں یہ تقریب بھارت کی خود مختاری اور آئین کا صریحاً تمسخر ہے۔
مسز گاندھی کی ہدایت پر بھارت کے سیکرٹری داخلہ جو پاکستان میں بھی بھارت کے سفیر رہے کنور نٹور سنگھ نے برطانوی ہائی کمشنر راپرٹ ویڈ گیری سے رابطہ کیا اور انہیں جتایا کہ ملکہ برطانیہ کینیڈا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی ملکہ ضرور ہیں مگر بھارت میں ان کی موجودگی محض ایک محترم مہمان کی ہے۔ اس سے زیادہ نہیں۔
بہت تکا فضیحتی کے بعد ایک حل یہ نکالا گیا کہ ملکہ برطانیہ اماں تھیریسا کو خاموشی سے صدارتی محل کے مغل گارڈن میں چائے پر بلائیں اور باتوں باتوں میں ایک لفافہ بڑی بی کو تھما دیں جس میں سپاس نامہ اور تمغہ دونوں موجود ہوں مگر اس کے لیے کوئی تقریب منعقد نہیں ہوگی۔
یوں یہ سارا بکھیڑا انگریز اور بھارتی سفارت کاروں کی مدد سے بلا کسی تلخی اور بدمزگی کے اختتام کو پہنچا۔










بہت ہی دلچسپ۔۔۔