زمین کی عمر، کلیئر پیٹرسن اور سیسہ: کائنات (7)


کبھی ایک شخص تھا جو زمین کی حقیقی عمر کا کھوج لگانے نکلا۔ اس دریافت کی جدوجہد میں وہ ایک سنگین خطرے سے دوچار ہو گیا۔ دلکش بہار کا موسم تھا، پاساڈینا، کیلیفورنیا۔ کاروبار پھل پھول رہے تھے، زندگی بہترین تھی۔ سوائے ایک شخص کے، ایک ارضی کیمیا دان بنام کلیئر پیٹرسن جو پَیٹ کے نام سے مشہور تھا۔ وہ جانتا تھا کہ جن لوگوں کو وہ دیکھ رہا ہے، وہ سب ایک نادیدہ خطرے سے دوچار ہونے کے قریب ہیں۔ وہ اسے ختم کرنا چاہتا تھا چاہے جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

آپ پیٹرسن کی کہانی صحیح سے بیان نہیں کر سکتے جب تک آپ اس پورے وقت میں واپس نا جائیں جب زمین نہیں تھی۔ ہمارا گھر، تعمیر ہو رہا تھا جب ستارے اس کا مواد جمع کر رہے تھے۔

لوہا۔ سیارے کے پگھلے ہوئے کور کے لیے۔
آکسیجن۔ چٹانوں، پانی اور ہوا کے لیے۔
کاربن۔ ہیروں کے لیے اور زندگی کے لیے۔

ہمارا ستارہ پیدا ہوا۔ پہلے چند ملین سالوں تک معاملات صحیح اور ہموار چلتے رہے جب گرد کے ذرات آہستہ آہستہ بڑے اجسام میں ڈھل رہے تھے۔ لیکن جیسے جیسے یہ اجسام بڑے ہوتے گئے اور کشش ثقل حاصل کرتے گئے، انہوں نے ایک دوسرے کو مختلف مداروں میں اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔ اس زمانے کی زمین کا کوئی حصہ اپنی اس وقت کی حالت میں ہمارے جاننے کے لیے باقی نہیں بچ پایا۔ زمین کی پیدائش اور اس کی بلوغت کے سارا ریکارڈ اب مٹ چکا ہے۔ اب ہم پورے تیقن کے ساتھ اپنی دنیا کی عمر کیسے جان سکتے ہیں؟ قدیم زمانوں سے لوگ اس کے بارے میں سوچتے آئے ہیں۔

1650 میں آئرلینڈ کے آرچ بشپ جیمز اشر نے کچھ حساب کتاب کیا اور اپنے تئیں اس سوال کا جواب دے دیا۔ اپنے وقت اور دنیا کے تمام لوگوں کی طرح اس نے بھی انجیل میں درج تخلیق کے بیان کو مستند مانا۔ لیکن انجیل صحیح مدت نہیں بتاتی۔ اشر نے عہد نامہ قدیم میں کسی ایسے واقعہ کو ڈھونڈا جو تخلیق کے وقت سے مطابقت پیدا کرسکے۔ اسے بادشاہوں کی دوسری کتاب میں بابلی حکمراں نبوکدنظر (بخت نصر) کی موت کی تاریخ مل گئی، 562 قبل مسیح۔ اشر نے اس تاریخ میں تمام نبیوں، بزرگوں اور 139 نسلوں کو جمع کیا جو عہد نامہ قدیم میں آدم اور حکمراں  نبوکدنظر کے درمیان آئے۔ اس نے یہ دریافت کیا کہ ہماری دنیا بائیس اکتوبر 4004 قبل مسیح میں شروع ہوئی۔ چھ بجے شام اور ہفتے کے دن۔ آرچ بشپ جیمز اشر کی تاریخی ترتیب مغربی دنیا میں ایک صحیفے کی حیثیت رکھتی تھی۔ اب زمین کی عمر جاننے کے لیے ہم نے اپنی نظر اس کتاب کی طرف موڑ دی جو خود چٹانوں پر لکھی گئی ہے۔

گرینڈ کینین، امریکہ، کی چٹانی دیواروں کی زیادہ تر سطحیں اس تلچھٹ سے بنی ہیں جو اس وقت جمع ہوئی جب دنیا کا یہ حصہ سمندر تھا۔ قرنوں بعد ، یہ تلچھٹ اوپر آنے والی سطح کے وزن سے دب کر چٹانوں کی شکل اختیار کر گئی۔ سب سے پرانی سطح، سب سے نیچے۔

ایک پرت اٹھایے۔ کوئی ایک پرت۔

اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کہیں وقت میں بہت پہلے، یہاں اتھلا پانی رہا ہو گا۔ ماضی میں پری کیمبیرین دور مین، تقریباً ایک بلین سال پہلے، ایک ہی طرح کی زندگی رہی ہوگی۔ یہ نیلگوں سبز بیکٹیریا سورج کی روشنی جمع کرنے اور آکسیجن بنانے میں مصروف تھے۔ ان کے لیے تو آکسیجن فاضل مادہ ہوگی لیکن وہ جانور جو بعد میں ارتقاء پذیر ہوئے بشمول ہم، ان کے لیے وہ زندگی کا سانس تھی۔

اچھا۔
دوسری پرت اٹھایے۔

اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یہ روشن فرشتہ (برائٹ اینجل) پرت کہلاتی ہے۔ یہ پانچ سو تیس ملین سال پہلے وجود میں آئی۔ اگر آپ زمین کی عمر جاننا چاہتے ہیں تو صرف یہ سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ ہر پرت جمع ہونے میں کتنی دیر لگاتی ہے۔ اور پھر، بجائے اس کے کہ آپ نسلوں کو گنیں، صرف ان پرتوں کو جمع کر لیں۔

آسان ہے، ٹھیک؟ ہم اس عمل کا مشاہدہ کرنے سے جان پائے ہیں، کیونکہ یہ عمل سمندروں اور جھیلوں میں آج بھی ہوتا ہے۔ یہ تلچھٹ مختلف علاقوں میں مختلف تناسب سے جمع ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر بہت آہستہ ہوتی ہے، جیسے ایک ہزار سال میں ایک فٹ تلچھٹ۔ لیکن جہاں کوئی طوفان ہو، وہاں یہ جلدی ہوتی ہے، جیسے ایک فٹ چند دنوں میں۔ اکثر ماہرینِ ارضیات نے زمین کی عمر کا حساب لگانے کے لیے اس طریقہ کار کا استعمال کیا تھا۔ انہوں نے گرینڈ کینئن اور سیارے پر دوسرے تلچھٹ کے سلسلوں کا استعمال کیا۔ لیکن ان کے جوابات میں اتنا فرق تھا کہ وہ تین ملین اور پندرہ بلین کے درمیان کہیں بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ اس طریقہ کار کے ساتھ دوسرے مسائل بھی تھے۔ یہاں تک کہ سب سے گہری چٹانوں کی پرتیں بھی زمین پر سب سے پرانی چیزیں نہیں ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ چٹانیں بھی زمین کے پرتشدد بچپن میں قائم نہیں رہ پائیں۔

خلاء میں یہ دوسری کہانی ہے۔ کیا زمین کی پیدائش کے وقت کی یادگاریں موجود ہیں جو ہمیں ممکنہ طور پر زمین کی اصل عمر بتا سکیں؟ میں ایک ایسی جگہ جانتا ہوں جہاں پر ہمارے نظام شمسی کی تخلیق سے بچ جانے والا مسالہ اور اینٹیں مل سکتی ہیں۔ یہ مشتری اور زحل کے درمیان پایا جاتا ہے۔ یہاں پر نوزائیدہ زمین کا مواد اس زمانے سے بغیر تبدیل ہوئے سرد خانے میں تیر رہا ہے۔ دس لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ سال پہلے ایک بڑے اسٹرآئڈ نے اپنے سے چھوٹے کو جھٹکا دے کر اسے ایک نئے راستے پر لگا دیا۔

یہ ٹکراؤ کا عمل ایک رات پچاس ہزار سال پہلے ختم ہوا۔ اس نے گرینڈ کینین کے امن کو تباہ کر دیا ہو گا اور اس کے اوپر سے گزرنے کے بعد وہ گڑھا پیدا کیا جسے ایک دن ایریزونا کے نام سے یاد کیا جانا تھا۔ آہنی اسٹرآئڈ کے وہ ٹکڑے جو اس گڑھے کے بننے کا سبب تھے، بالکل صحیح حالت میں ابھی تک موجود ہیں۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ یہ لوہے کے ٹکڑے کب ڈھالے گئے تھے، ہمیں نظام شمسی کے ساتھ ساتھ زمین کی عمر بھی معلوم ہو جائے گی۔ لیکن یہ ہم کیسے جان سکتے ہیں؟

کوئی پتھر اٹھایے۔ کوئی بھی۔ اس پتھر میں کئی ایٹم تابکار ہوسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تیزی سے زوال پذیر ہو سکتے ہیں اور کوئی دوسرا عنصر بن سکتے ہیں۔ ایک یورینیم ایٹم پہلے تھوریم کا ایٹم بنتا ہے۔ اوسطاً اس میں کئی بلین سال لگتے ہیں۔ تھوریم زیادہ غیر متوازن ہے۔ ایک مہینے سے کم میں وہ پروٹیکٹینیم میں بدل جاتا ہے۔ ایک منٹ بعد پروٹیکٹینیم کچھ اور بن جاتا ہے۔ یہ ایٹم دس مزید جوہری منتقلیوں ( نیوکلیئر ٹرانس میوٹیشنز) سے گزرتا ہے اور بالآخر تنزل کی زنجیر کے آخری سرے پر پہنچ کر رک جاتا ہے۔ اور اب یہ ایک مستحکم سیسہ کا ایٹم ہے۔ یہ ابد تک سیسہ ہی رہے گا۔

بیسویں صدی میں دہائیوں تک جاری رہنے والی جدوجہد کی گئی کہ اس وقت کی پیمائش کی جا سکے جس میں ایک تابکار عنصر کسی دوسرے عنصر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ماہرین طبیعات نے یہ دریافت کیا کہ عنصر کا غیر مستحکم ایٹم مستقل شرح کے ساتھ تغیر پذیر ہوتا ہے۔ کسی بھی ایٹم کا نیوکلیئس ایک معبد کی طرح ہے جو اپنے ماحول کے جھٹکوں اور اتار چڑھاؤ کا عادی ہوتا ہے۔

اسے ہتھوڑے سے ماریے۔
تیل میں ابالیے۔
بخارات میں تبدیل کر دیں۔

نیوکلیئس کی گھڑی ٹک ٹک کرتی رہے گی اپنے مطلق پیمانے کو قائم رکھتے ہوئے اور کبھی سورج اور ستاروں کی طرف نہیں دیکھے گی۔ یورینیم ایٹم کے علاوہ زمین کی حقیقی عمر پانے کے لیے، اور کیا بہتر راستہ ہو سکتا ہے؟ اگر آپ یہ جانتے کہ کس گھڑی پتھر کی یہ چھوٹی سی یورینیم سیسہ میں تبدیل ہو گئی تھی، تو آپ یہ جان لیں گے کہ اس پتھر کو بننے میں کتنا وقت گزر چکا ہے۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے۔ وہ پتھر اور چٹانیں جو زمین کے بنتے وقت موجود تھیں وہ اب موجود نہیں ہیں۔ وہ تمام ٹوٹ گئیں، پگھل گئیں اور کسی دوسری چیز میں ڈھل گئیں۔

ایک راستہ ہے جس سے سیسہ کی اس مقدار کا حساب لگایا جاسکتا ہے جو شروعات سے موجود تھی۔ یہ آسمانوں سے ایک تحفہ ہے : شہاب ثاقب۔ ایک بڑے کا چھوٹا سا حصہ جس نے ایروزانا کا دیو قامت گڑھا بنایا۔

یہ شاندار ہے۔

اس شہاب ثاقب کے اندر سیسہ کی مقدار اتنی ہی ہے جتنی زمین نے بننے کے وقت تھی۔ جیسا کہ ہم یورینیم کے تغیر کی مستقل شرح جانتے ہیں، یہ ہمیں اس شہاب ثاقب کی عمر بتا دے گی، جو اسی وقت بنا تھا جب یہ زمین بنی تھی۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ ہم شہاب ثاقب میں سیسہ کی مقدار کی پیمائش کریں۔

آسان ہے، ٹھیک ہے؟

ایک سائنسدان بنام ہیریسن براؤن، شکاگو یونیورسٹی، 1947 میں اسے سمجھ گیا۔ اس نے کام کرنے کے لیے ایک نوجوان گریجوئٹ کلیئر پیٹرسن کو چنا۔ پیٹرسن ممکنہ طور پر نہیں سمجھ سکتا تھا کہ یہ کام اس کی زندگی کو بدل دے گا، اور ہماری بھی۔ جو سیدھی سادی خالص سائنسی تحقیق نظر آتی تھی کیسے وہ کسی اور چیز میں بدل گئی۔ کلیئر پیٹرسن آیووا کے ایک ڈاکیے کا بیٹا، فطرتاً باغی اور سکول میں اچھا نہیں تھا۔ لیکن وہ ایک پیدائشی سائنسدان تھا۔ ایک ماہر ارضیات ہیریسن براؤن نے پیٹرسن کو ظاہری طور پر ایک سیدھا سادا سائنسی کام دیا۔

”سب سے پہلے پَیٹ، تمہیں برا تو نہیں لگے گا اگر میں تمہیں پَیٹ بلاؤں؟ اب، میں جانتا ہوں کہ تم کوئی ماہر ارضیات نہیں ہو جو گرینائٹ اور چٹانوں کا فرق بتا سکے لیکن میں نے سنا ہے کہ ماس سپیکٹرو میٹر پر تمہارا ہاتھ کافی صاف ہے، پَیٹ۔

کیا تم شادی شدہ ہو پَیٹ؟ ”
”ہاں، لوری۔ ہاں وہ بھی ایک کیمسٹ ہے۔ ہم نے مین ہیٹن منصوبے پر ایک ساتھ کام کیا ہے، اوک رِج پر۔“

”بہت اچھے۔ اچھا، ایک چیز تمہیں جاننے کی ضرورت ہے : یہاں یہ چھوٹے کرسٹل زرکون کہلاتے ہیں۔ بہت چھوٹے۔ سوئی کے سرے کے برابر، ڈھول کی طرح تنے ہوئے اور مضبوط۔ کوئی ان کے اندر یا باہر نہیں جاسکتا۔ اور میں بلین سالوں کی بات کر رہا ہوں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ ذرات کتنے پرانے ہیں کیونکہ ہم نے ان چٹانوں کی تاریخ کی جانچ کرلی ہے جس سے یہ ہمیں ملیں ہیں۔ ہر چھوٹے زرکون کے اندر ایک ملینتھ فیصد یورینیم ہے۔ اور یہ یورینیم تغیر پذیر ہو کر اپنے سے چھوٹے سیسہ میں ڈھل رہی ہے۔ اب تمہیں یہ جاننا ہے کہ اس سیسہ کو کیسے ناپا جائے اور، اس سے تمہیں یہ شہاب ثاقب کے لیے بھی معلوم ہو جائے گا۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ تم کر پاؤ گے پَیٹ؟“

”ہاں۔ ہاں۔ میں نہیں سمجھتا کیوں نہیں۔“

” بہت اچھے۔ کیونکہ جب تم یہ کردو گے، تو تم زمین کی عمر جاننے والے پہلے شخص ہو گے۔ تم مشہور ہو جاؤ گے۔ یہ آسان ہو گا۔ بہت آسان۔“

جب پیٹرسن نے زرکون کے ذروں میں سیسہ کی مقدار کی پیمائش کرنے کی کوشش کی، ایک اور گریجوئیٹ طالب علم، جارج ٹلٹن، انہیں ذروں میں یورینیم کی مقدار کی پیمائش کر رہا تھا۔ پیٹرسن کو صرف ممکنہ درستگی کے ساتھ سیسہ کی مقدار کی پیمائش کرنی تھی۔ ٹلٹن کے نتائج ہمیشہ ایک جیسے تھے۔ لیکن اسی ذرے میں سیسہ کے مواد پر پیٹرسن کے نتائج بے حد متضاد تھے۔ یہ بہت ہی عجیب تھا۔ کیا لیبارٹری سیسہ کے ساتھ پچھلے تجربات سے آلودہ ہو سکتی تھی؟

ہو سکتا ہے کہ ماحول میں قدرتی طور پر زیادہ مقدار میں سیسہ تھا جو اس کے نتائج میں خلل ڈال رہا تھا۔ پیٹرسن نے کسی بھی سیسہ سے لیبارٹری کو صاف کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اب بھی ایک سو گنا زیادہ سیسہ تھا۔ وہ دو سال سے زیادہ عرصے اس پر کام کرتا رہا۔ پیٹرسن نے محسوس کیا کہ اسے اپنے کنٹینرز اور آلات کو تیزاب میں ابالنا پڑے گا اور اپنی لیب میں سیسہ کو مزید کم کرنے کے لیے اپنے تمام کیمیکلز کو صاف کرنا پڑے گا۔

پیٹرسن کی تمام جنونی رگڑائی اور صفائی نے ابھی تک مسئلہ حل نہیں کیا تھا۔ اسے اپنی لیب ڈیزائن کرنے اور اسے نئے سرے سے شروع کرنے کی ضرورت ہوگی۔ جلد ہی مراد بر آئی جب ہیریسن براؤن پاساڈینا میں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی چلے گئے اور پیٹرسن کو اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی۔ پیٹرسن اب اس معاملے میں چھ سال سے تھا، اس نے محنت سے سیسہ کے بہت سے ذرائع کا سراغ لگایا اور اسے ختم کیا جو اس کے آلات کو آلودہ کر رہے تھے۔

اس نے دنیا کا پہلا صاف ستھرا (الٹرا کلین) کمرہ بنایا تھا۔ وہ آخر کار یہ اندازہ لگانے میں کامیاب ہو گیا کہ چٹان میں اصل میں کتنا سیسہ تھا۔ وہ سیسہ جس کی عمر پہلے ہی طے ہو چکی تھی۔ اب، آخر کار، پیٹرسن زمین کی حقیقی عمر کو تلاش کرنے کے لیے، لوہے کے شہاب ثاقب سے نمٹنے کے لیے تیار تھا۔ وہ اپنے شہاب ثاقب کے نمونے کو واپس ارگون نیشنل لیبارٹری میں لے آیا جہاں دنیا کے سب سے درست ماس سپیکٹرومیٹر نے ابھی ابھی کام شروع کیا تھا۔ نمونے کو کسی بھی بیرونی سیسہ کی آلودگی سے الگ کرنے کے بعد ، پیٹرسن، آخر کار، نمونے میں سیسہ اور یورینیم کی مقدار کی پیمائش کرنے اور اس کے بننے میں سالوں کا حساب لگانے کے لیے تیار تھا۔ زمین کی حقیقی عمر۔

پہلے آنے والے تمام سائنسدانوں کا شکریہ۔
شکریہ، ماہرین ارضیات۔
شکریہ، چارلس لائل۔
شکریہ مائیکل فیراڈے۔ جے جے تھامسن۔ ارنسٹ ردرفورڈ۔
شکریہ ہیریسن براؤن۔
دنیا ساڑھے چار ارب سال پرانی ہے۔ ہم نے یہ کر دیا۔

ماں؟ ماں۔

پیٹرسن چاہتا تھا کہ اس کی ماں یہ جاننے والی پہلی ہستی ہو کہ اس نے زمین کی حقیقی عمر جاننے کے لیے کیا جدوجہد کی تھی۔ اس دریافت کا صلہ؟ مشکلات سے بھرپور دنیا۔ وہ نہیں جانتا تھا، لیکن وہ کرہ ارض کے کچھ طاقتور ترین لوگوں کے ساتھ تصادم کے راستے پر چل نکلا تھا۔

قدیم رومیوں کے لیے، شاندار دائرے والا سیارہ زحل کوئی حقیقی جگہ نہیں تھی، وہ دنیا نہیں، بلکہ ایک بادشاہ دیوتا تھا، جو آسمان اور زمین کے اتصال سے پیدا ہونے والا بیٹا تھا، سیسہ کا دیوتا۔ روم میں پہلی بار ڈھائی ہزار سال قبل زحل کے لیے مندر مخصوص کیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک مندر نے روم کے خزانے اور اوزان اور پیمائش کے ادارے کے طور پر بھی کام کیا۔ آج رات سیٹرنیلیا ہے، زحل کے اعزاز میں دسمبر کی چھٹی۔ اس میں روز مرہ زندگی کی الٹی گنگا بہنے لگتی ہے۔

آقا غلاموں کی خدمت کرتے ہیں۔ کسی جنگ یا پھانسی کی اجازت نہیں ہوتی۔ اور تحائف کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اب سے چند سو سال پہلے، جب ابتدائی چرچ کے پادری مزید کافروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا راستہ تلاش کر رہے تھے، تو انہوں نے سیٹرنیلیا کو کرسمس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے موسم سرما کی لمبی تعطیلات کو با مقصد بنایا گیا۔ زحل کا بلند و بالا لکڑی کے مجسموں کو سال کی صرف ایک رات سرخ اونی زیرجامہ میں ملبوس کیا جاتا ہے۔

لیکن قدیم روم میں، اس دیوتا کا ایک اور تاریک پہلو بھی تھا۔ وہ دوسرا زحل ایک سرد اور اداس، سست بھوت ہے، جو غصے کے غیر معقول جھگڑوں کو ہوا دیتا ہے۔ اس نے اپنے باپ کے خلاف تشدد کا ایک ناقابل بیان فعل کیا، اور اپنے ہی بچوں کو کھا لیا۔ قدیم لوگوں کو آنکھوں سے نظر آنے والے تمام سیاروں میں، زحل سب سے سست ہے، جو اس بات کی وضاحت کر سکتا ہے کہ اس کا نام سیسہ کے دیوتا کے نام پر کیوں رکھا گیا ہے۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زحل کی شخصیت کے زیادہ منفی پہلو سیسہ کے زہر کی علامات کے بارے میں نسلوں پرانے علم کی عکاسی کرتے ہیں۔

رومیوں کے بارے میں مضحکہ خیز بات۔

اگرچہ وہ جانتے تھے کہ سیسہ کے ساتھ رابطے نے ناگزیر طور پر لوگوں کو زہر آلود کر دیا ہے، انہیں جراثیم سے پاک کیا اور انہیں دیوانہ بنا دیا۔ لیکن انہوں نے ان نالیوں کو بنانے کے لیے کون سی دھات استعمال کی جو پانی کو ان کے افسانوی نالیوں کے ذریعے لے جاتے تھے؟ میں آپ کو ایک اشارہ دیتا ہوں۔

لفظ ”پلمبنگ“ سیسہ کے لیے لاطینی لفظ ”پلمبم“ سے نکلا ہے۔ وہ اپنے مشہور حماموں کو پانی پہنچانے کے لیے کون سی دھات استعمال کرتے تھے؟ اور انہوں نے اپنی کھٹی شرابوں کو کیسے میٹھا کیا؟ وہ اپنے کنستروں اور کھانا پکانے کے برتنوں پر نقش و نگار بنانے کے لیے کیا استعمال کرتے تھے؟ کچھ ایسے مورخین ہیں جن کا ماننا ہے کہ سیسہ کا وسیع پیمانے پر استعمال رومی سلطنت کے زوال اور خاتمہ کی ایک بڑی وجہ تھی۔ جب انہیں معلوم تھا کہ سیسہ زہریلا ہے تو انہوں نے اس کا استعمال کیوں جاری رکھا؟ یہ بہت سستا، بہت نرم اور کام کرنے میں آسان تھا، اور جو لوگ سیسہ کی انتہائی مہلک سطح پر اس پر کام کرتے تھے، ان کان کنوں اور کارکنوں کو ضائع کردینے میں معاشرے میں کوئی قباحت نہیں پائی جاتی تھی۔ ان کی زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ وہ غلام تھے۔

زمین کا زیادہ تر سیسہ زندہ چیزوں سے محفوظ فاصلے پر شروع ہوا تھا، سطح کے نیچے۔ لیکن تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار سال پہلے، انسانوں نے یہ معلوم کرنا شروع کیا کہ زمین کو کیسے کھودنا ہے اور چٹان سے دھاتیں کیسے نکالنی ہیں۔ صرف چند ہزار سال پہلے تک، رومی سالانہ اسی ہزار ٹن سیسہ حاصل کر رہے تھے۔ سیسہ ہمارے لیے اتنا زہریلا کیوں ہے؟ کیونکہ جب یہ ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے تو، سیسہ دیگر دھاتوں کی نقل کرتا ہے، جیسے جست اور لوہا، جن کی ہمارے خلیوں کو درحقیقت بڑھنے اور پھلنے پھولنے کیے لیے ضرورت ہوتی ہے۔

سیل میں موجود خامرے (اینزائمز) نقاب پہنے سیسہ سے بے وقوف بن جاتے ہیں، اور ناچنا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ موت کا رقص ہوتا ہے، کیونکہ سیسہ ایک جعل ساز ہے جو سیل کی اہم ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا۔ سیسہ نیورو ٹرانسمیٹر (عصبی ناقل) کو بھی جامد کر دیتا ہے جو خلیوں کے درمیان ایک مواصلاتی نظام ہوتا ہے۔ یہ مالیکیولر ریسیپٹرز (درآور) میں مداخلت کرتا ہے جو یاداشت اور سیکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ خاص طور پر بچوں کے لیے بہت نقصان دہ ہے، لیکن سیسہ کا زہر (لیڈ پوائزننگ) کسی کو نہیں بخشتا۔

لیکن 1920 کی دہائی کے اوائل تک سیسہ کی پیداوار بہت تیز نہیں ہوئی تھی لیکن جب کیمسٹ تھامس مڈگلی اور جنرل موٹرز سے موجد چارلس کیٹرنگ نے جانا کہ ٹیٹراتھیل سیسہ کو پٹرول میں شور کو بند کرنے کے اضافے کے طور پر فروخت کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایتھل کارپوریشن کے نام سے ایک نئی کمپنی بنائی۔ اسے کبھی امریکہ کے جنگی محکمہ نے زہریلی گیس کے طور پر استعمال کرنے پر غور کیا تھا۔ پینٹ میں سیسہ کے برعکس، ٹیٹراتھیل سیسہ چربی میں گھل جاتا تھا۔ آپ کی جلد پر اس کا آدھا کپ آپ کو مار سکتا ہے۔ پیداوار کرنے والوں نے حساب لگایا کہ وہ سالانہ ساٹھ ملین ٹن بیچ سکتے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ ڈیلاویئر اور نیو جرسی میں فیکٹریوں میں کام کرنے والے کچھ کارکن پاگل ہو رہے تھے، وہمی ہو رہے تھے، کھڑکیوں سے چھلانگیں لگا رہے تھے۔ وہ چیختے ہوئے مر گئے تھے۔

یہ فروخت کا کام تھا جس کے لیے ناچنے والے برقی قمقمے سے کہیں زیادہ کی ضرورت ہوگی۔ عوام کے خوف کو پرسکون کرنے اور سیسہ کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے سائنس کے آدمی کی ضرورت تھی۔ انہیں اس کام کے لیے صحیح آدمی مل گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب سائنس کو صحت عامہ اور ماحولیات کے لیے خطرہ چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ سنسناٹی کے ایک نوجوان ڈاکٹر رابرٹ کیہو کو جی ایم نے ملازمت دے دی۔ اس نے سیسہ کے خطرات کے بارے میں عوام کے ذہن میں سائنسی شکوک و شبہات کو جنم دیا۔

انہوں نے کہا کہ سیسہ قدرتی طور پر ماحول میں ہوتا ہے۔ جی ہاں، ان لوگوں کے لئے پیشہ ورانہ خطرات ہوسکتے ہیں جو سیسہ کے ساتھ کام کرتے ہیں، لیکن صنعت کے اپنے ضابطوں کی مدد سے بہترین طریقوں سے اسے بھی سنبھالا جا سکتا ہے۔ اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ سیسہ صارفین کے لیے کوئی خطرہ ہے۔

کئی دہائیوں تک کسی نے اسے چیلنج نہیں کیا جب تک کہ کلیئر پیٹرسن زمین کی عمر کی تلاش میں نہ نکلا۔ زمین کی عمر کے بارے میں کلیئر پیٹرسن کی تحقیق نے اسے سیسہ کی مقدار کی پیمائش کرنے کے معاملے میں دنیا کا معروف ماہر بنا دیا تھا۔ اور اس وقت باقی سب کی طرح، اس نے بھی فرض کیا کہ سیسہ کا پھیلاؤ قدرتی طور پر ہوا ہے۔ سچا سائنسدان تھا وہ۔ وہ دریافت کرنے کے لیے نکلا کہ ماحول میں سیسہ کیسے گردش کرتا ہے۔ امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کی امداد پر، اس نے گہرے اور اتھلے سمندری پانی میں سیسہ کے ارتکاز کو احتیاط سے ناپا۔

ایک بار پھر، پیٹرسن نے پایا کہ اس کے ابتدائی اعداد و شمار کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ گہرے سمندر کے پانی میں سیسہ کی انتہائی معمولی مقدار تھی۔ لیکن اتھلے پانیوں اور سطح پر، سیسہ کا ارتکاز سینکڑوں گنا زیادہ تھا۔ کسی بھی سمندر میں، اتھلے پانیوں کو گہرائی کے ساتھ گھل مل جانے میں چند سو سال لگتے ہیں۔ اس نے پیٹرسن کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ سطحی پانیوں میں سیسہ کی بڑی مقدار حال ہی میں پہنچی ہے۔ ورنہ وہ زیادہ یکساں طور پر تقسیم ہوتی۔ اتھلے سمندروں میں سیسہ کی مقدار اور اسے گہری تہوں میں ملانے کے لیے درکار وقت کو جانتے ہوئے، وہ سطح پر سیسہ کی آلودگی کی شرح کا اندازہ لگانے کے قابل ہوا۔ پیٹرسن نے اپنے آپ سے پوچھا کہ اس طرح کی شرح سے دنیا کے سمندروں کو کیا ممکنہ طور پر سیسہ فراہم کر سکتا ہے۔

”یہ سارا سیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟“
” مجھے لگتا ہے کہ میں جانتا ہوں، ہیریسن۔ یہ سیسہ ملے پٹرول سے ہے۔“
”ٹھیک ہے، پھر ہمیں ایک مسئلہ درپیش ہے، پیٹ، کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے پیسہ آتا ہے۔“

لیکن پیٹرسن ہار نہیں مانے گا۔ اس نے سائنسی مقالے کی اشاعت پر کام کرنا شروع کیا جو سیسہ ملے پٹرول کے خلاف مقدمہ بنائے گا۔ جب اس نے یہ مقالہ نامور سائنسی جریدے نیچر کو بھیجا تو پیٹرسن نے اپنا نام دوسرے نمبر پر رکھا۔ وہ اکثر اپنے طلباء کے ساتھ ان کی ساکھ کو آگے بڑھانے کے لیے ایسا کرتا تھا۔ اس نے شہرت اور اس کے ساتھ آنے والی مراعات سے دور رہنے کا ایک تاحیات اصول اپنایا تھا۔ اشاعت کے صرف تین دن بعد دباؤ کا ردِ عمل شروع ہوا۔

” ہیلو، ڈاکٹر۔ پیٹرسن۔ آپ سے ملنے کی خوشی ہوئی۔ آپ کے کام سے بہت متاثر ہیں۔ آپ کا کام پیٹرولیم اور کیمیائی صنعتوں میں ہمارے لیے بہت دلچسپی کا باعث ہے۔ “

”ہاں، یہ آپ کی فنڈنگ کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔“
” جی بالکل۔ اور بہت کچھ ہے جو ہم آپ کے لیے کرنا چاہیں گے۔ “

”ہاں، میں قطبی برف میں سیسہ کی پیمائش کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ سمندروں کی طرح کا نمونہ دکھاتا ہے۔“

”سیسہ؟ لیکن آپ یہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ دوسرے عناصر کی طرف بڑھیں۔ دراصل، ڈاکٹر۔ پیٹرسن، تحقیق کی کسی بھی دوسری جہت میں آپ کو فنڈ دینے کی ہماری صلاحیت عملی طور پر لامحدود ہے۔ “

”سیسہ ایک نیوروٹوکسن (اعصاب کے لیے زہر) ہے۔ جب آپ اپنے ٹیٹراتھیل سیسہ کو فیکٹری سے بھیجتے ہیں اس سے پہلے کہ آپ اسے پٹرول میں شامل کریں تو اسے کیمیائی ہتھیار کی طرح ہینڈل کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ وہ تمام سیسہ عقبی پمپوں سے نکلنے کے بعد کہاں جاتا ہے؟ اس کے بارے میں سوچیں کہ یہ ہمارے اور ہمارے بچوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ “

”ڈاکٹر۔ کیہو نے بتایا ہے کہ ماحول میں سیسہ کی سطح اتنی ہی قدرتی ہے جتنی دسمبر میں برف۔“
”پھر یہ گہرے پانی میں کیوں نہیں ہوتا؟ یہاں، مین آپ کو دکھاتا ہوں۔“
”آپ کے وقت کے لئے شکریہ۔“

”رکو، تم لاکھوں ٹن زہر کو ہوا میں ڈالتے رہو گے جس میں ہم سانس لیتے ہیں؟ اگر میری تحقیق تم کو کاروبار سے باہر نہیں کرتی ہے، تو مستقبل میں کوئی دوسرا سائنسدان کردے گا۔“

تیل کی صنعت سے پیٹرسن کی فنڈنگ راتوں رات ختم ہو گئی۔ درحقیقت انہوں نے اسے برطرف کرنے کی کوشش کی۔ لیکن امریکی حکومت، بری فوج، بحری فوج، اٹامک انرجی کمیشن، پبلک ہیلتھ سروس، اور نیشنل سائنس فاؤنڈیشن پیٹرسن کے ساتھ کھڑی رہی اور سیسہ کی آلودگی پر اس کی تحقیقات کی حمایت کرتی رہی۔

پیٹرسن کی تحقیقات اسے انتہائی شمال میں گرین لینڈ، دور جنوب میں انٹارکٹیکا اور درمیان میں دریاؤں، پہاڑوں اور وادیوں تک لے گئیں۔ یہاں تک کہ انتہائی مخالف او ر سخت حالات میں، پیٹرسن اور اس کی ٹیم نے صاف کمرے کے بے عیب ماحول کو نقل کرنے کے لیے بہت کام کیا۔ ان کے پلاسٹک کے سوٹ روزانہ بدلے جاتے تھے۔ زیر زیرو موسم میں دس سے بارہ گھنٹے کام کرتے ہوئے، انہوں نے انٹارکٹیکا کی برف میں دو سو فٹ لمبا شافٹ ڈالا۔ صنعتی انقلاب کے آغاز سے پہلے تین صدیاں قبل گرنے والی برف کی بازیابی کے لیے یہ وقت کے سفر ہی کی ایک شکل تھی۔ چار سخت ہفتوں کے محنت سے نمونے جمع کرنے کے بعد ، پیٹرسن لیب میں واپس جانے کے لیے تیار تھا۔

سمندروں کی طرح، اس نے پایا کہ چند سو سال پہلے کی برف میں سیسہ کی مقدار بہت کم تھی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اس نے زمین پر کہاں تلاش کیا، چاہے وہ وقت میں کتنا ہی دور کیوں نہ چلا گیا ہو، نتائج نے ہمیشہ ایک ہی کہانی سنائی: ماضی میں ہوا اور پانی میں قدرتی طور پر پائی جانے والی سیسہ کی سطح بہت کم تھی۔ ہزاروں سالوں سے، سیسہ دماغی نقصان، نشوونما کی خرابی، پرتشدد رویے، اور یہاں تک کہ موت کا سبب بنتا تھا۔

زمین کی عمر کی تلاش کرتے ہوئے، پیٹرسن کے سامنے بے مثال اور بڑے پیمانے پر زہر دینے کے ثبوت سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔ لیکن کیہو اور سیسہ کی صنعت کے ملازم دیگر سائنسدانوں نے عوام کو قائل کیا کہ انہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ایک آدمی نے توجہ دینا شروع کی۔ پیٹرسن بڑے پیمانے پر سیسہ کے بارے میں اپنی دریافتوں کے ساتھ عوامی سطح پر چلا گیا۔ اس نے اپنے نتائج کو ماحولیاتی صحت کے ایک بڑے جریدے میں شائع کرایا اور مختلف حکومتی رہنماؤں کو نقول بھیجیں، جن میں ایک انتہائی بارسوخ سینیٹر بھی شامل تھا۔

سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے فضائی اور آبی آلودگی کے چیئرمین : ایڈمنڈ مَسکی۔ 1966 میں انہوں نے سیسہ کے سوال پر سماعت کی۔ پہلا گواہ ڈاکٹر رابرٹ کیہو تھا، سیسہ ملے پٹرول کے دیرینہ سائنسی وکیل۔

ایڈمنڈ مَسکی : ”کیا یہ، آپ کا نتیجہ ہے کہ، 1937 سے موجودہ وقت تک، اوسط ٹریفک پولیس اہلکار، سروس اسٹیشن پر کام کرنے والے، یا موٹر سوار کے لیے ماحول میں سیسہ کی مقدار میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے؟“

ڈاکٹر رابرٹ کیہو : ”اس بات کا کوئی معمولی ثبوت نہیں ہے کہ اس وقت کے دوران اس تصویر میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ ذرا سا بھی نہیں۔“

سماعتیں اس وقت ہونے والی تھیں، جب سخت ترین نقاد، کلیئر پیٹرسن انٹارکٹیکا کے سفر پر تھا۔ لیکن وہ غیر متوقع طور پر گواہی کے پانچویں دن پیش ہوا۔

ایڈمنڈ مَسکی : ”ایسا لگتا ہے کہ ماحول میں کھلے رہنے کے نتیجے میں لوگوں میں سیسہ کے ارتکاز میں اضافہ ہوتا ہے۔ کیا یہ درست ہے؟“

پیٹرسن: ”یہ درست ہے۔“

ایڈمنڈ مَسکی : ”عام سیسہ کی سطح کی شناخت میں، آپ وہی پیمائش استعمال کرتے ہیں جو آپ نے فیلڈ میں لی ہیں؟“

پیٹرسن: ”جی ہاں۔“
ایڈمنڈ مَسکی : ”کیا یہ مشاہدات ان سے مختلف ہیں جن کے بارے میں ہم دوسرے گواہوں سے سن رہے ہیں؟“
پیٹرسن: ”نہیں، وہ ایک جیسے مشاہدات ہیں۔“

ایڈمنڈ مَسکی : ”آپ نے گواہی دی ہے کہ قدرتی سیسہ کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، کیا یہ درست ہے؟“

ڈاکٹر رابرٹ کیہو: ”یہ درست ہے۔“
ایڈمنڈ مَسکی : ”آپ کو اس کے بارے میں یقین ہے؟“
ڈاکٹر رابرٹ کیہو: ”بالکل۔“

پیٹرسن : ”آج ہم لوگوں میں جو سطحیں دیکھتے ہیں وہ عام ہو سکتی ہیں۔ لیکن وہ کسی بھی طرح سے قدرتی نہیں ہیں۔“

ایڈمنڈ مَسکی: تو آپ ڈاکٹر کیہو سے نا متفق نہیں ہیں؟ ”
پیٹرسن : ”نہیں، نہیں۔“
ایڈمنڈ مَسکی : ”آپ کہہ رہے ہیں کہ ایک ہی طرح کے اعداد مختلف نتائج کی طرف لے جا رہے ہیں؟“
پیٹرسن : ”جی ہاں۔“

ایڈمنڈ مَسکی : ”آپ جانتے ہیں، یہ اس قسم کی چیز ہے جس کی ہم وکلاء سے سننے کی توقع کرتے ہیں، سائنسدانوں سے نہیں۔“

پیٹرسن : ”میں اس سے اتفاق کروں گا، ہاں۔“
ایڈمنڈ مَسکی : ”ایسا لگتا ہے کہ آپ کو اپنے نتائج کا بہت یقین ہے، ڈاکٹر کیہو۔“
ڈاکٹر رابرٹ کیہو : ”ایسا ہے کہ مجھے اس شعبے میں کسی بھی زندہ انسان سے زیادہ تجربہ ہے۔“
پیٹرسن : ”ان سطحوں پر، سیسہ انسانی جسم کی شدید دائمی توہین ہے۔“
ڈاکٹر رابرٹ کیہو : ”اس بات کا کوئی طبی ثبوت نہیں ہے کہ سیسہ نے صحت عامہ کے لیے خطرہ پیدا کیا ہو۔“
پیٹرسن : ”لاکھوں ٹن زہریلے مواد کی کان کنی کرنا اور اسے ماحول میں منتشر کرنا غیر ذمہ دارانہ ہے! “
ڈاکٹر رابرٹ کیہو: ”اگر نقصان کا ثبوت ہوتا تو ہم اسے ڈھونڈ چکے ہوتے۔“
پیٹرسن : ”نہیں اگر آپ کا مقصد سیسہ فروخت کرنا ہے۔“

پیٹرسن مزید بیس سال تک انڈسٹری سے لڑا۔ آخر کار امریکہ میں صارفین کی مصنوعات میں سیسہ کے استعمال پر پابندی لگادی گئی۔

.

وہ شخص جس نے زمین کی عمر کا پتہ لگایا وہ بیسویں صدی کی صحت عامہ کے لیے سب سے بڑی فتوحات کا بھی ذمہ دار تھا۔ صرف چند سالوں میں، بچوں کے خون میں سیسہ کی اوسط سطح تقریباً 75 فیصد تک کم ہو گئی۔ آج، طبی اتفاق رائے ہے کہ انسانوں میں سیسہ کی غیر زہریلی سطح جیسی کوئی چیز نہیں ہے، چاہے وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔ آج، سائنسدان دیگر ماحولیاتی خطرات پر خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ ذاتی مفادات اب بھی اس مسئلے کو الجھانے کے لیے اپنے سائنسدانوں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن آخر میں فطرت کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکے گا۔

(نیل ڈی گراس ٹائسن، ایسٹرو فیزیسیسٹ، مصنف اور سائنسی رابطہ کار، کی مشہور دستاویزی فلم کوسموس کی ساتویں قسط کا ترجمہ جاوید صدیق نے کیا ہے۔ )

Facebook Comments HS