کہانی ایک نظم کی


ٹی ایس ایلیٹ کے اُس لخت لخت مسودے کہ کہانی کسی ناول سے کم دلچسپ نہیں ہے جو 1915 ء سے بھی پہلے سے ٹکڑوں میں لکھا جا رہا تھا اور کہیں 1922 ء میں ایک شاندار ماڈرنسٹ نظم ”دا ویسٹ لینڈ“ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ ”دا ویسٹ لینڈ“ کی اشاعت کو ایک صدی سے بھی زیادہ کا دورانیہ بیت چلا ہے مگر اس کے بھید اب بھی توجہ کھینچتے ہیں بہ طور خاص جس طرح ایذرا پاؤنڈ نے مسودے کو بے رحمی سے کاٹ چھانٹ کے عمل سے گزارا اور ایلیٹ نے کوئی چوں چرا کیے بغیر کمال تحمل سے قبول کر لیا۔

اس کہانی کے کئی کردار ہیں خود ٹی ایس ایلیٹ مرکز میں ہے۔ حسن عسکری کے مطابق انگریزی شاعری کو ایلیٹ نے اس وقت زندہ کیا تھا جب وہ پھسپھسی اور بے جان ہو گئی تھی۔ ”کہانی ایک نظم“ ڈاکٹر صفدر رشید کی سنجیدہ ادبی قامت کو بلند کرنے والی ایک اور اہم کتاب ہے۔ وہ شمس الرحمن فاروقی پر بہت اہم کتاب دے چکے ہیں اور یوجین آئنسکو کے شہرہ آفاق ڈرامے ”دا چیئرز“ کا اردو ترجمہ ”خالی کرسیاں“ بھی ان کا ایک اہم کام مانا گیا ہے۔ ایلیٹ کی اس شاہکار نظم کی طرف وہ دس سال پہلے متوجہ ہوئے تھے یوں کہ وہ افتخار عارف کی لائبریری میں تھے۔ کچھ اور ڈھونڈتے ہوئے ان کی نظر والیری ایلیٹ کے فیکس سملی ایڈیشن پر پڑی۔ وہ اسے اچک کر گھر لے آئے کہ انہیں اس پر کام کرنے کا منصوبہ سوجھ گیا تھا۔

ٹی ایس ایلیٹ کی طرف اردو والے بہت پہلے سے متوجہ تھے۔ صفدر رشید نے اس ضمن میں ہونے والا کام، اور ادبی جدیدیت کی ذیل میں ہونے والا سب کام بھی پڑھ ڈالا۔ ”دا ویسٹ لینڈ“ کے اردو تراجم ”خراب آباد“ (عزیز احمد) ، ”اجڑا دیار“ (رفیق خاور) ، ”ارض ویراں“ (سید سراج الدین) ، ”دی ویسٹ لینڈ“ (انیس ناگی) اور ”ویرانہ“ (ڈاکٹر محمد خاں اشرف) کو دیکھا۔ یہاں وہاں سے ریزہ ریزہ معلومات بٹوریں اور سملی فیکس ایڈیشن، خطوط، سوانح عمری اور میتھیو ہولس کی کتاب ”دا ویسٹ لینڈ: اے ببلوگرافی آف اے پوئم“ کو نگاہ میں رکھ کراس نظم کی یہ دلچسپ کہانی لکھ ڈالی۔

ڈاکٹر صفدر رشید کے مطابق یہ ایلیٹ ہی تھا جس نے چند امیجز کی مدد سے وہ سب اڑا کر رکھ دیا جو جدید مغرب نے گزشتہ تین صدیوں میں حاصل کیا تھا۔ یہی کہ:

1۔ انسان کو کسی مابعد الطبیعیاتی سہارے کی حاجت نہیں رہ گئی۔
2۔ یہ کائنات مسخر کر کے سائنس انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے گی۔

T S Eliot

ان کا مزید کہنا ہے کہ ان قضایا کو بیسویں صدی کے آغاز میں چیلنج کرنے والے رسکن، ہائیڈیگر، گارڈ، جوزف کانرڈ، جیمس جوائس، ورجینیا وولف، ڈی ایچ لارنس، ایذرا پاؤنڈ اور ایلیٹ جیسے لکھنے والے تھے اور ان میں سے کچھ کو ایلیٹ کی ماڈرنسٹ نظم کی اس کہانی میں ایک کردار کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً جیمس جوائس ہی کو لے لیجیے کہ ماڈرنسٹ ادب میں ”یولیسس“ کا بہت اہم اور بنیادی حوالہ ہے۔ یہ جوائس ہی تھا جس نے دبے لفظوں میں ایلیٹ پر سرقے کا الزام لگایا تھا۔ یہ ایک حد تک درست بھی تھا کہ ایلیٹ نے اپنی نظم پر ”یولیسس“ کے اثرات قبول کیے تھے۔ ناول یولیسس، ایلیٹ نے پڑھ رکھا تھا اور اس سے متاثر ہونے کا اعتراف بھی کر چکا تھا۔

خیر، لطف کی بات یہ ہے کہ ایذرا پاؤنڈ دونوں میں بہت دلچسپی لے رہا تھا، دونوں کو ساتھ لے کر چل رہا تھا کہ دونوں ماڈرنسٹ تخلیق کار تھے اور دونوں ہی اس باب میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے تھے۔

ایذرا پاؤنڈ کی اپنی تخلیقی شناخت بہت مستحکم تھی۔ اس نے 1917 ء میں ایک طویل نظم لکھنا آغاز کی آنے والے برسوں میں ایک ضخیم کتاب بن گئی۔ جب یہ نظم ’پوئیٹری‘ میگزین میں چھپنے لگی تو وہ جدید نظم کا صف اول کا شاعر ہو چکا تھا۔ کپلنگ کے مطابق انگریزی شاعری میں پاؤنڈ کو وہی اہمیت حاصل ہو گئی ہے جو جدید مصوری میں پکاسو کو ہے۔ پاؤنڈ محض اس پر قناعت کرنے والا نہ تھا اور یہیں سے اس کا کردار اس نظم کی کہانی میں سب سے موثر اور منفرد ہو جاتا ہے ۔

وہ جدید حسیت والے ادب کا فروغ چاہتا تھا۔ اس نے آنک لیا تھا کہ ’یولیسس‘ اور ’دا ویسٹ لینڈ‘ ایسے فن پارے ہو سکتے تھے جو اس باب کی عمدہ مثال بن جاتے۔ اس نے جہاں ایلیٹ کے مسودے کو ایک شاہکار ماڈرنسٹ نظم میں ڈھالنے کے لیے اپنی تخلیقی اور تدوینی صلاحیتیں جھونک دیں وہیں یولیسس کو مقبول بنانے کے لیے جو ممکن ہو سکا، وہ کیا تھا۔

James Joyce

ایلیٹ پر وہ زمانہ بھی آیا تھا کہ وہ تارک الدنیا یا راہب ہونے کا تصور باندھے ہوئے تھا وہ جسم اور روح کے تقاضوں کے درمیان سعی کر رہا تھا اور اپنی زندگی میں جسم کی بجائے روح کی پاکیزگی کی کارفرمائی دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ ایسے ہی خیالات کے زیراثر عورت کو اپنی منزل کے حصول میں رکاوٹ سمجھنے لگا تھا۔ اس نے اپنی نظموں میں ادھیڑ عمر عورتوں کا خاکہ اڑایا۔ 1909 ء کی بہت سی نظموں کا مقصد عورت کے ذہن کو پست دکھانا تھا۔

اس کا باپ بھی جنس کو گندگی کہتا تھا شاید یہ نفرت ایلیٹ کو گھر سے ملی تھی۔ اسے شدت سے احساس ہونے لگا تھا کہ ’مادی حقیقتیں روح کو کچل رہی تھیں ؛ بے تکے مکانات، گلی میں بجتا پیانو، بوڑھا نابینا جو کھانستا اور تھوکتا تھا، گندگی، مشت زنی ؛جسم، مادہ، دنیا اور حواس کے جھگڑے، اس دور کی نظموں میں یہ سب ہے۔ ‘ یول لافورگ سے متاثر ہونے کے بعد اس کی شاعری کا رُخ بدلا تھا۔ ایلیٹ کے مطابق، ’لافورگ سے ہی اس نے اپنے رنگ میں بات کرنے کا ڈھنگ سیکھا تھا۔‘ 1910 ء میں نظم ”سائیلنس“ شائع ہوئی جس میں وہ ہمیں شانتی اور خامشی کا متلاشی نظر آتا ہے۔ پاؤنڈ نے بھی اس کا قبلہ درست کیا، بہ طور خاص 1914 ء کے بعد جب وہ ایلیٹ کو ادبی اور اشاعتی حلقوں میں ایک ماڈرنسٹ شاعر کے طور پر متعارف کروانے کے جتن کر رہا تھا اور ”دا ویسٹ لینڈ“ کی ایڈیٹنگ ہو رہی تھی۔

1917 ء میں امریکہ کے جنگ میں کودنے پر، ایلیٹ کے من میں بھی آیا کہ اس میں اپنا حصہ ڈالے۔ اس نے لندن میں دیکھا تھا کہ بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کو چھوڑ کر سب جنگ میں شریک ہونے کے لیے جا چکے تھے۔ وہ پیچھے رہ جنے والوں میں شمار نہ ہونا چاہتا تھا عین ایسے وقت میں جب کہ اس کی والدہ جو شاعرہ تھی، اس نے بھی جوانوں کو جنگ میں شریک ہونے کی اپیل کر دی تھی۔ ستمبر 1918 میں اس نے بینک سے رخصت لی جہاں وہ بینک میں ملازم تھا اور آرمی اور نیوی کے دفاتر میں اپنا نام لکھوایا۔

ہرنیا اور دوسرے جسمانی عارضوں کے سبب اس کو جنگ میں شرکت کے لیے نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ وہ شاعری کی وجہ سے لندن میں رک گیا تھا مگر جنگ نے اس کے اندر کا امریکی جگا دیا تھا۔ خیر، پاؤنڈ نے ایلیٹ کے جنگ میں کودنے کی مخالفت کی۔ وہ باقاعدہ سفارت خانے گیا اور انہیں بتایا کہ ”ایلیٹ ان چھ سات افراد میں شامل ہے جو لفظ کی حرمت کو سمجھتے ہیں اگر وہ مارا گیا تو یہ امریکہ کا بڑا نقصان ہو گا۔“ یہ پاؤنڈ ہی تھا جو ہر صورت میں ماڈرنسٹ شاعر کو بچانا چاہتا تھا اور اس نے اسے بچا کر امر بھی کر دیا تھا۔

Ezra Pound

یہ نظم کیسے تخلیق ہوئی اور پھر کن کن مراحل سے گزر کر اپنی آخری صورت میں سامنے آئی؛صفدر رشید اس کھوج میں رہے ہیں۔ انہوں نے کئی ٹوٹی ہوئی کڑیاں ملا یا اور ایک کہانی بنالی ہے۔ اس کہانی میں ایلیٹ کی محبوبہ ایملی ہیل اور اس کی بیویوں ووین ہائی وڈ اور والیری ایلیٹ کا کردار بھی اہم ہے۔ ایملی سے ایلیٹ کی ملاقات 1912 ء میں امریکہ میں ہوئی تھی۔ دونوں ایک دوسرے میں کشش محسوس کر رہے تھے اور یوں جو رومانوی ٖماحول بنا، وہ ایلیٹ کی کچھ نظموں میں بھی منعکس ہوا تاہم ان نظموں میں ملنے اور جدا ہو جانے کے لیے ملنے کی سی کیفیت پائی جاتی ہے۔ کہہ لیجیے ایمیلی بھی اس نفرت کو کم نہ کر پائی تھی جو جنس اور عورت سے ایلیٹ کے اندر کہیں رچ بس گئی تھی۔

”دا ویسٹ لینڈ“ کی کہانی میں ووین اور ایذرا پاؤنڈ کا کردار بہت اہم ہے۔ کہہ لیجیے انہوں نے ایلیٹ کی آئندہ کی زندگی کا رخ متعین کر دیا تھا۔ ایمیلی کی طرح ووین میں ایلیٹ کو کشش محسوس ہوئی یا اس خاتون نے ڈورے ڈال کر اسے پھانسا تھا، کچھ نہ کچھ ایسا تھا کہ وہ قریب آتے چلے گئے حالاں ووین، ایمیلی کی طرح جاذب نظر نہ تھی۔ پاؤنڈ نے ایلیٹ کے ذہن میں بٹھا دیا تھا کہ وہ امریکہ واپس چلا گیا تو محض وہاں کا ایک مقامی شاعر بن کر رہ جائے گا۔

ایلیٹ کو لندن ہی میں رہنا تھا۔ آکسفرڈ میں ٹرینی کالج کی فیلو شپ ختم ہو رہی تھی، لندن میں رک رہنے کی صورت نظر نہ آتی تھی۔ ایسے میں پاؤنڈ نے ووین کے ذہن میں ڈالا کہ مستقبل کے ایک اہم شاعر کو بچانا ہے۔ ووین جو پہلے ہی اپنی ایک محبت کھو بیٹھی تھی، ایلیٹ کے قریب ہو گئی۔ دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے اور یوں ایلیٹ کا لندن میں قیام ممکن ہو گیا تھا۔

یہ ووین ہی تھی جو ایلیٹ کی زندگی میں ایک بڑے جھٹکے کی صورت آئی تھیں۔ وہ کئی طرح کے جسمانی اور نفسیاتی عارضوں میں مبتلا تھی۔ اسے اعصابی دورے پڑتے، اس نے خود کشی کی کوشش بھی کی۔ یہ ”دا ویسٹ لینڈ“ کے لیے وہ ’سازگار ماحول‘ تھا جو ووین کے آنے پر ایلیٹ کو میسر ہو گیا تھا۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد ایلیٹ جان چکا تھا کہ اس کی زندگی جہنم بن چکی تھی۔ اسے اپنی محبوبہ ایمیلی یاد آئی اور اسے لکھ بھیجا:

” میں پورا آدمی کبھی نہیں تھا۔ اذیت والی زندگی نے مجھ سے کچھ حقیقی شاعری نکلوا لی۔ یقیناً اگر میں خوش ہوتا تو ایسی شاعری نہ کر پاتا۔ اس لحاظ سے شاید میرے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ مجھے وہی زندگی ملی جس کی مجھے ضرورت تھی۔“

T. S. Eliot and Vivien Eliot

یہ وہ مرحلہ ہے کہ اس کہانی میں برٹرینڈ رسل کا داخلہ ہوتا ہے۔ یوں تو وہ اس کہانی میں پہلے سے موجود ہے کہ ایلیٹ نے طالب علمی کے زمانے میں، جب وہ امریکہ میں تھا، ہاورڈ میں رسل کے لیکچر سنے تھے۔ تاہم اب جو کہانی میں رسل آیا تو یوں کہ وہ ایک طرف اپنی محبوبہ کو صفائی پیش کر رہا تھا کہ وہ ایلیٹ کو اپنے بیٹے کی مانند پیار کرتا ہے، تو دوسری طرف عین اسی وقت ووین ایلیٹ پر ڈورے ڈال رہا تھا اور اسے اس وقت ڈنر پر لے جاتا جب ایلیٹ شہر میں نہ ہوتا تھا۔

”دا ویسٹ لینڈ“ میں ووین کی بے وفائی کی جانب بھی اشارے موجود ہیں۔ تاہم صفدر رشید کی کتاب میں اس ووین کا ذکر بھی ہے جو شاعر ایلیٹ کی قدر دان تھی، اسے حقیقی جینئس سمجھتی تھی۔ ادبی کاموں میں اس کی مددگار تھی اور اس کی راہ کے کانٹے چن رہی تھی۔ 1933 ء میں دونوں میں علیحدہ ہو گئی۔ ووین کونرسنگ ہوم منتقل ہونا پڑا کہ اس کی بیماری پاگل پن کو چھونے لگی تھی یہیں 1947 میں وہ مر گئی تھی۔

اپنی سیکرٹری والیری فلچر کو ایلیٹ نے 1957 ء میں شادی کر کے والیری ایلیٹ بنالیا اور یہ خاتون بھی اس کہانی کا یوں اہم کردار بن گئی ہیں کہ ”دا ویسٹ لینڈ“ کا ”فیکس سملی ایڈیشن“ جس میں پاؤنڈ کی تجاویز، ہدایات، ترامیم اور تدوین کو دیکھا جاسکتا تھا، اسی کی بدولت منظر عام پر آیا۔ یوں ایلیٹ کی پوری نظم کا مسودہ، والیری ایلیٹ کے نوٹس کے ہمراہ پہلی بار ادبی دنیا میں زیر بحث آ رہا تھا اور پاؤنڈ کی ایڈیٹنگ کی پوری کہانی بھی۔

اب دیکھا جا سکتا تھا کہ نظم کے شائع شدہ متن اور ایلیٹ کے مسودے میں بہت فرق تھا۔ پاؤنڈ ایڈیٹنگ کرتے ہوئے بہت بد لحاظ ہوا اور اس نے مسودہ ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک ماڈرنسٹ نظم کا ایک خاکہ تھا اس راہ میں جو جو لائنیں مزاحم ہو رہی تھیں انہیں وہ قلم زد کرتا گیا تھا؛ گویا پاؤنڈ پتھر کے اندر سے مجسمہ نکال رہا تھا۔

Valerie and Eliot

’دا ویسٹ لینڈ‘ کی اس کہانی میں ایلیٹ کی نجی زندگی اور تخلیقی زندگی کے الجھے دھاگوں کو تانے بانے کی صورت بہت خوبی سے باہم بُن لیا گیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں بار بار پاؤنڈ کا ذکر آتا ہے۔ پاؤنڈ نے جس طرح ایلیٹ کے لخت لخت مسودے کو جدید نظم میں ڈھالا اس کا اعتراف خود ایلیٹ کو بھی رہا مگر جب نظم چھپی تو سب ایلیٹ کی طرف متوجہ تھے اور پاؤنڈ لگ بھگ نظر انداز ہو رہا تھا۔ پاؤنڈ کو سراہے جانے کی چاہ بھی نہیں تھی کہ جو وہ چاہتا تھا وہ بہ خوبی ہو گیا تھا اور یہی بہت تھا۔ ایلیٹ کے لیے یہ کافی نہ تھا؛ وہ کھل کر سامنے آیا اور پاؤنڈ کو اس وقت کے زندہ شاعروں میں سب سے زیادہ اہم شاعر قرار دیا۔ جب ایلیٹ کی نظم کو انعام سے نوازا جا رہا تھا تو بھی وہ کہہ رہا تھا کہ اس اعزاز کا سب سے زیادہ حق دار پاؤنڈ تھا۔

میں مکرر کہے دیتا ہوں کہ صفدر رشید کی نیشنل بک فاؤنڈیشن سے چھپنے والی یہ کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ میں نے اسے ناول کی طرح پڑھا ہے۔ اس کہانی کا اختتام پاؤنڈ کی ”دا ویسٹ لینڈ“ کے تعلق سے اس جذباتی واقعے پر ہوتا ہے جو میتھیو ہولس ریکارڈ پر لایا۔ یہ واقعہ اسے یونیورسٹی آف ٹیکساس کے ریفرنس سیکشن کے انچارج نے سنایا تھا اور اس کی تصدیق پاؤنڈ کے بیٹے نے بھی کر دی تھی۔ (پاؤنڈ نے اپنے بیٹے کا نام، عمر خیام کی شاعری سے متاثر ہو کر عمر شیکسپئیر پاؤنڈ رکھا تھا۔)

(میتھیو ہولس کے مطابق: ’جنگ عظیم دوم کے دوران پاؤنڈ اٹلی میں تھا۔ جب اسے پتہ چلا کہ فوج اسے گرفتار کرنے آ رہی ہے تو اس نے اپنی بیوی ڈور تھی (ناول نگار اولیویا شیکسپیر کی بیٹی) کو کہا کہ جہاں وہ اس وقت کھڑا ہے، وہیں‘ داویسٹ لینڈ ’کا ایلیٹ کا دیا ہوا نسخہ زمین میں دبا دے۔ ایلیٹ نے یہ نسخہ اپنے دستخط کر کے اسے پیش کیا تھا۔ گرفتاری پر کتابیں بھی تحویل میں چلے جانی تھیں۔ ایسے موقع پر پاؤنڈ نے صرف ایک چیز کو سب سے قیمتی گردانا۔ دا ویسٹ لینڈ۔ یہ تاریخی نسخہ اب یونیورسٹی آف ٹیکساس امریکہ میں محفوظ ہے۔ ‘)

۔

Facebook Comments HS