مرے قلم میں تیری خوشبوئیں مہکتی ہیں


خیبر پختون خوا کا ایک اہم ادبی مرکز شہر فراز کوہاٹ بھی ہے۔ کوہاٹ میں اردو، پشتو اور ہندکو زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان تینوں زبانوں میں سخن سرائی ہو رہی ہے۔ یہاں کے سخن وروں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان ادیبوں میں میر عبد الصمد، جسٹس ایم آر کیانی، آغا برق کوہاٹی، رحیم گل، احمد فراز، ایوب صابر، احمد پراچہ، عزیز اختر وارثی، شجاعت علی راہی، سعد اللہ خان لالاؔ، سید عطوف شاہ، غلام حیدر پراچہ، انجم یوسف زئی، محبت خان بنگش، سورج نرائن، محمد جان عاطف، شاہد زمان اور ڈاکٹر یونس ندیم سمیت کئی دوسرے نام شامل ہیں۔ جدید آوازوں میں عارف شاہ، ارشد نعیم، جمیل سراج اور ہارون عدیل کے نام اردو شاعری کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں۔ ان چاروں کے شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ کتابوں کی چھپائی کے حوالے سے خیبرپختون خوا بد قسمت رہا ہے کہ یہاں کوئی نامی گرامی پبلشر نہیں بنا جو معیاری چھپائی کے ساتھ اٹک کے اُس پار اپنی مطبوعات پہنچانا بھی جانتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی آوازیں اٹک کے اِس پار ہی دب کر رہ گئیں۔ ہارون عدیل کا مجموعہ ”اچھا ہوا تم آ گئے“ کچھ عرصہ پہلے منظر عام پر آیا۔ جس کو کوہاٹ اور پشاور میں کافی پذیرائی ملی۔

شاعری شخصیت کا اظہار ہے یا اس سے فرار کا نام ہے یہ ایک معما ہے اور قطعی طور پر حل نہیں کیا جاسکتا۔ ادب میں کوئی قطعیت کے ساتھ ایسے معمے حل کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے البتہ ہارون عدیل کی شخصیت میں جو دھیما پن، ٹھہراؤ، رکھ رکھاؤ، عاجزی، خلوص اور شرمیلا پن پایا جاتا ہے اُس کا واضح عکس اُن کی شاعری میں نظر آتا ہے۔

مرے قلم میں تری خوشبوئیں مہکتی ہیں
سو میں نے یونہی تو لکھا نہیں گلاب تجھے
وہ اک معصوم سا چپ چاپ سا خاموش بندہ
سنا ہے آج کل محفل میں تم سے تُو ہوا ہے

ہارون عدیل کی شخصیت میں جو فطری پن ہے وہی اُن کی شاعری میں جابجا ملتا ہے۔ اُنھوں نے جو کہا ہے بے ساختگی سے کہا ہے۔ شعر کہنے کے لیے کوئی مصنوعی حصار اور کوئی ماورائی کیفیت خود پر طاری نہیں ہونے دی۔ اس بے ساختگی کی وجہ سے اُن کی شاعری میں بلا کی روانی عود آئی ہے۔ وہ فن کے بارے میں ایسا ہی نظریہ رکھتے ہیں۔

وہ بھی کیا فن ہے جو چمکا نہ سکے روح مری
وہ بھی کیا آگ ہے دل کی جو اُجالے نہ مجھے
کچھ زخم ہمارے بھی تھے خوش رنگ و حنائی
کچھ شعر ہماری بھی تو پہچان ہوئے ہیں

ہارون عدیل

ہارون عدیل کا کمال یہ ہے کہ وہ انفرادیت، جدیدیت اور نئی حسیت کے شوق میں اپنی شاعری کا جمالیاتی حسن اور شعریت کو قربان نہیں کرتے بلکہ وہ ان تمام رجحانات سے بے نیاز ہو کر قلبی واردات کو سپرد قلم کرتے ہیں اور مزے کی بات کہ یہی رجحانات غیر محسوس اور لاشعوری طور پر لہجے کی تازگی اور ندرت کے ساتھ اُن کی شاعری میں در آتے ہیں۔

خرد کی سردکاری زہر قاتل
جنوں کا دبدبہ ہیجان تک ہے
جدا ہر لفظ اُن کے لفظ سے ہے
کہ جن کا مسئلہ پہچان تک ہے

ہارون عدیل کی شاعری کی انفرادیت اسی میں ہے کہ اُنھوں نے غزل کی تازہ ترین چلن میں اپنی سخن گوئی کو پھیکا اور بے کیف نہیں ہونے دیا بلکہ کلاسیکی شاعری کا ذائقہ لے کر عصری حسیت کو واردات قلبی کا آئینہ دار بنا دیا۔ اُن کے مجموعہ کلام کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اُن کی شاعری میں چند حوالے وفا، دوست، محبت، حاکم وقت، دکھ، رویے اور زمانہ کثرت سے ملتے ہیں اور ان حوالوں پر قلبی کیفیات کی رومان پروری، تشنگی، ان دیکھا خوف، محرومیاں، بے وفائی کے زخم، دوست کی طوطا چشمی اور دائمی اُداسی غالب ہے۔

آپ تو شوخ سے گیتوں کے ہیں طالب اور ہم
بزم میں آئے ہیں کچھ دُکھ بھرے نغمات کے ساتھ
اُس کے رُخ پر بھی وہ رعنائی نہ اپنا وہ سُرور
کتنی تبدیلیاں آجاتی ہیں حالات کے ساتھ

ہارون عدیل کے ہاں ”دوست اور دوستی“ کا بڑا مضبوط حوالہ موجود ہے۔ اُنھوں نے اپنی وضع داری اور اقدار کا پاس رکھتے ہوئے محبوب کو دوست ہی رہنے دیا ہے۔ اُن کا پورا مجموعہ ”دوست“ کے حوالوں سے بھرا پڑا ہے۔ ایک ایک غزل میں کئی کئی اشعار میں یہ حوالے ملتے ہیں :

کسی موڑ پر مجھے دیکھ کر ترے دل میں جو بھی خیال ہو
مرے دوست اتنا خیال رکھ کہ وہ رنج ہو نہ ملال ہو
اے کاش عدیل عمر ِ رواں سے کبھی کٹ کر
ایک دوست وہی اور وہی سال نکل آئیں
اگر وہ کہیں زیادہ بے باک ہونے کی کوشش کریں تو دوست سے ”آپ“ تک کا سفر طے کرلیتے ہیں :
وہ جو خوشبوئیں تھیں گلاب تھے وہ تو آپ تھے
کہوں کیا کہ وہ مرے خواب تھے وہ تو آپ تھے

ہارون عدیل حاکم وقت کے رویوں پر کڑھتے ہیں، کہیں پر ہلکی طنز اور کہیں گہری چوٹ کے ساتھ بغاوت پر اُترتے ہیں۔ وہ سماج کے منافقانہ رویوں سے نالاں رہتے ہیں۔ وہ ایک ایسی دنیا تخلیق کرنا چاہتے ہیں جہاں امن ہو محبت ہو۔ اُن کی غزل کی فضا پر دُکھ درد کی ایک لہر ہے اور اس کا اظہار جابجا ملتا ہے۔ اُن کی شعری فضا پر بے چینی، کرب اور اُداسی چھائی ہوئی ہے یہ اُن کے ہاں ”ذات“ اور ”اجتماعی اُداسی“ کے استعارے ہیں جو معاشرتی ناہمواریوں سے جنم لیتے ہیں۔

اُس کے دکھ سے مرے چہرے کا سماں یوں ہے عدیل ؔ
جیسے ہچکی کی صدا ہو کسی بارات کے ساتھ
کیا بتاؤ گے اُسے فلسفہ ء درد عدیل ؔ
وہ تو بے چارہ محبت سے ہی انجانا ہے

ہارون عدیل بنیادی طور پر خوب صورت لب و لہجے کے غزل گو شاعر ہیں جن کے ہاں کلاسیکی و جدید رجحانات کے امتزاج نے خوب صورت شعری توازن قائم کیا ہے۔ وہ لفظوں کا قرینہ برتنا جانتے ہیں۔ وہ مطالعہ اور مشاہدہ کرتے ہیں ”نذر فیض“ نذر امجد اسلام امجد ”اور تضمین اس کا پتہ دیتے ہیں۔ وہ کوچۂ سخن کے آوارہ گرد ہیں اس لیے اسی ماحول کو پانے کے لیے ہر ہفتے میلوں سفر کر کے حلقہ ارباب ذوق پشاور کی نشست میں پہنچتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہارون عدیل نے اپنے پہلے مجموعے کے ساتھ شہر سخن میں اپنی بھرپور موجودگی احساس دلا یا ہے۔

اچھا ہوا تم آ گئے کچھ حوصلہ تو بن گیا
بارِ الم وہی سہی کچھ وسوسے تو کم ہوئے

Facebook Comments HS